30 جنوری 2020 2020-01-30

ٹرانسپیرنسی انٹر نیشنل ایک ایسا ادارہ ہے جو دنیا کے ملکوں میں ہونے والی کرپشن کی شرح کی درجہ بندی کرتا ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹر نیشنل کی حالیہ رپورٹ بہت سے سوالات چھوڑ گئی ہے۔ یہ رپورٹ ایسے وقت میں منظرِ عام پر آئی جب عالمی اقتصادی فورم میں وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان خطاب کرنے گئے ہوئے تھے۔ عالمی اقتصادی فورم ایک آزاد، غیر جانبدار اور اپنی نوعیت کی واحد بین الاقوامی تنظیم ہے جو کسی بھی سیاسی، کاروباری یا ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر کام کرتی ہے۔ دنیا کے حالات میں بہتری کا عزم رکھنے والی یہ بین الاقوامی تنظیم بہت محتاط اور متوازن انداز میں عالمی، علاقائی اور صنعتی ایجنڈا متعین کرنے کے لئے سیاسی، کاروباری اور دیگر شعبے سے تعلق رکھنے والی نمایاں شخصیات کا امتزاج بناتی ہے۔ ایسے میں جب ملک مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے اور علاقائی صورتحال کے پیشِ نظر وزیرِ اعظم عمران خان کی اس بڑے عالمی فورم میں شرکت ایک اہم پیش رفت تھی۔ ڈیووس میں وزیرِ اعظم عمران خان کو بہت اہمیت دی گئی اور تیسری دنیا کے واحد لیڈر ہیں جن کے لئے گفتگو کی ایک پوری نشست مختص کی گئی تھی۔ دنیا کی نمایاں شخصیات کے سامنے پاکستان میں سرمایہ کاری کے امکانات پر بات کرنے کا وزیرِ اعظم کے پاس سنہری موقع تھا۔ کرپشن اور منی لانڈرنگ نے ہماری معیشت کی جڑیں ہلا کر رکھ دی ہیں اور عمران خان عالمی اقتصادی فورم کے شرکاء کو کرپشن کے مقابلے کے لئے اپنائی گئی پالیسی سے آگاہی دینے کے علاوہ کرپشن سے پاک ملک، معاشی استحکام اور افراد کی تعمیر سے متعلق اپنے وژن سے آگاہ کر رہے تھے کہ ٹرانسپیرنسی انٹر نیشنل کی رپورٹ جاری ہو گئی۔ ابھی عالمی اقتصادی فورم میں ان کی تقریر کی گونج ختم نہیں ہوئی تھی کہ ٹرانسپیرنسی انٹر

نیشنل کی رپورٹ کی بنیاد پر اپوزیشن اورمیڈیا کے کچھ لوگوں نے واویلا شروع کر دیا کہ دوسروں پر کرپشن کا الزام لگانے والے خود زیادہ کرپشن میں مبتلا ہیں۔ حکومت کے تمام مخالفین برسنے لگ پڑے۔ اسی دوران ٹرانسپیرنسی انٹر نیشنل کے پاکستان کے سربراہ کا بیان آ گیا کہ پاکستان میں کرپشن میں اضافہ نہیں ہوا اورموجودہ حکومت کے بد عنوانی کے خلاف اقدامات قابلِ ستائش ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ رپورٹ میں کہیں نہیں کہا گیا کہ 2019ء میں پاکستان میں کرپشن بڑھی ہے اور پاکستان کا سکور ایک درجہ نیچے جانا کرپشن میں اضافے کی نشاندہی نہیں کرتا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے ادارے کی ساکھ کو بدنام کرتے ہوئے ہمای رپورٹ جو دنیا بھر کے اداروں تک پہنچائی جاتی ہے کو غلط انداز میں پیش کیا گیا اور یہ کہ مذکورہ رپورٹ 2019ء کی نہیں ہے یہ پچھلے سالوں کی ہے۔ ڈیووس فورم کے اتنے اہم موقع پر اس طرح رپورٹ کا آنا اور اس کو غلط رنگ دینے کے پیچھے کیا محرکات ہیں یہ تو آنے والے دنوں میں معلوم ہو گا لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ یہ رپورٹ اندرونی یا بیرونی دشمنوں کی ملی بھگت سے دانستہ طور پر وزیرِ اعظم کے عالمی اقتصادی فورم کی تقریر کے موقع جاری کی گئی ہو اور بعد میں انہی لوگوں نے اس کی تردید بھی کر دی۔180 ممالک میں سے پاکستان کو 120 ویں نمبر پر دکھایا گیا جس پر اپوزیشن نے حکومت کے خلاف پوائنٹ سکورنگ کرتے ہوئے خوب واویلا مچایا جب کہ کچھ سیاستدانوں سمیت میڈیا کے کچھ چینلز نے بھی حکومت پر کڑی تنقید کی جس سے فطری طور پر پاکستان کا عالمی سطح پر امیج متاثر ہوا۔ اس تناظر میں ٹرانسپیرنسی انٹر نیشنل کے چیئر مین سہیل مظفر کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹ 2019ء سے متعلق نہیں قانون کی بالادستی کا ڈیٹا مئی سے نومبر 2018ء تک جمع کیا گیا۔ آر ایل آئی 2018ء کا ڈیٹا مئی تا دسمبر 2017ء تک جمع کیا گیا۔ ڈیٹا سے اسکور میں 3 نمبر کی کمی آئی اس کے لئے 2015ء، 2016ء اور 2017ء کا ڈیٹا سامنے رکھا گیا جس سے 2019ء کے رولز آف لاء میں سکور 2 نمبر کم ہوا۔ درحقیقت بی ایس ٹی انڈیکس 2020ء کا ڈیٹا پبلک نہیں کیا گیا، ڈیٹا کو 2020ء میں ظاہر کیا جائے گا۔

ہمارے ہاں بد قسمتی سے معاملہ کی چھان بین کئے بغیر ہی ایک دوسرے پر تنقید شروع کر دی جاتی ہے اور اس بات کا ہر گز خیال نہیں رکھا جاتا کہ اس تنقید سے بیرونِ ملک وطنِ عزیز کی بدنامی ہو سکتی ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ بد عنوانی اور رشوت ستانی کے خلاف پاکستانی حکومت کو خاطر خواہ کامیابی ملی ہے جسے بڑی مہارت سے کرپشن میں اضافہ کی شکل میں بدل دیا گیا۔ ٹرانسپیرنسی انٹر نیشنل کی رپورٹ پڑھے اور اس کا تجزیہ کئے بغیر اسے حکومت کے خلاف سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا گیا۔ اس پر در اصل تحقیق اور خود احتسابی درکار نہیں، خود میڈیا کو بھی سوچنا ہو گا کیونکہ میڈیا معاشرے میں جھوٹ پھیلانے کا ذریعہ بن جانے کی گالی ہم سب کو سننا پڑتی ہے۔ پاکستان کے مقبول ترین اینکر اور کالم نویس اپنے ہی ذہن کی پیدا کردہ دنیا میں مقیم دکھائی دیتے ہیں جو حقیقت پسندانہ سوچ اور فکر کے یکساں منافی عمل ہے۔ بریکنگ نیوز کی دوڑ کی وجہ سے خبر کو تصدیق کی چھاننی سے گزارنے اور شائع ہونے سے قبل مختلف مراحل میں اس کی چھان پھٹک کرنے کا وقت شائد آج کے خبر نگاروں کے پاس نہیں رہا ۔ خبریں ان دنوں چینلوں اور اخبارات میں کم اور خواہشات پر مبنی گھڑی ہوئی کہانیاں زیادہ معلوم ہوتی ہیں۔ چند برس قبل تک خبر کی تردید اسے شائع کرنے والے میڈیا گروپ کے لئے سبکی اور شرم کا باعث ہوتی تھی۔ اب نہ تردید کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے نہ شرمندہ ہونے کی۔ خبر دینے سے پہلے اس کی تصدیق کرنا اس پیشے کے بنیادی اصولوں میں سے ایک ہے۔ کسی بھی خبر نگار کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ خبر میں حقائق کی بجائے اپنی خواہشات شامل کر دے۔


ای پیپر