تبدیلی کا خواب اور زمینوں پر قبضے
30 جنوری 2019 2019-01-30

تحریک انصاف نے جولائی 2018 ء کے عام انتخابات سے قبل لوگوں کو تبدیلی کا خواب دکھایا تھا۔ تحریک انصاف کی قیادت کے نزدیک تبدیلی کا مطلب اور امن کے خدو خال کچھ بھی ہوں مگر عام لوگوں کے نزدیک تبدیلی کا مطلب یہ تھا اور ہے کہ تھانوں میں ایف آئی آر درج کروانے کے لیے دھکے نہ کھانے پڑیں اور نہ ہی رشوت دینی پڑے۔ پولیس کے کے ساتھ سے پیش آئے۔ انہیں فوری انصاف میسر ہو۔ ان کو کسی بھی سرکاری ادارے میں بغیر رشوت کے جائز کام کروانے میں کوئی مسئلہ یا رکاوٹ پیش نہ آئے۔طاقتور طبقات اور افراد کمزوروں کو بے دریخ استحصال نہ کریں۔ ان کی زمینوں اور مکانوں پر قبضے نہ ہوں۔ ان کا جان و مال اور عزت محفوظ ہو۔ چیئر مین تحریک انصاف اور موجودہ وزیر اعظم عمران خان مسلم لیگ (ن) کی حکومت پر مسلسل تنقید کرتے تھے کہ یہ جمہوریت نہیں ہے بلکہ خاندانی بادشاہت ہے۔ اس حکومت میں طاقتور کی حکمرانی تھی۔ لوگوں کی زمینوں پر قبضے ، ہوتے تھے اور پولیس یا تو مدد گار ہوتی تھی یا پھر خاموش تماشائی۔ راتوں رات محکمہ مال کا ریکارڈ تبدیل ہو جاتا تھا اور پٹواری مادر جس کو چاہتے تھے زمین کا مالک بنا دیتے تھے۔ عمران خان نے وعدہ کیا تھا کہ جب ان کی حکومت آئے گی تو نا انصافی، دھونس، دھاندلی اور خلاف قانون کا موں کا خاتمہ ہو گا ۔ قانون کی حکمرانی قائم ہو گی۔

مگر ایک کے بعد دوسرا واقعہ مسلسل یہ یاد دہائی کروا رہا ہے کہ سب کچھ پہلے کی طرح ہے ۔ کچھ بھی تبدیل نہیں ہوا۔ سرکاری اداروں میں پہلے کی طرح رشوت ستانی کا بازار گرم ہے۔ تھانے اب بھی عقوبت خانے بنے ہوئے ہیں۔ پٹواریوں اور تھانیداروں کا راج اب بھی قائم ہے۔ ساہیوال کے واقعہ نے اگر پولیس کے پورے نظام کو بے نقاب کر دیا تھا تو دوسری طرف جو کچھ پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر اور سابق وفاقی وزیر قمر الزمان کائرہ کے قریبی رشتے داروں کے ساتھ ہوا ہے اس نے محکمہ مال کی کارکردگی اور اس میں موجود رشوت اور دھاندلی کے نظام کی قلعی کھول دی ہے۔ قمر الزمان کائرہ کا شمار پاکستان کے ان چند سیاسی رہنماؤں میں ہوتا ہے جو کہ حقیقی معنوں میں خالص سیاسی ورکر ہیں۔ ان کا شمار ان راہنماؤں میں ہوتا ہے جو کہ گالی اور ذاتی الزامات کی بجائے پالیسیوں پر مدلل گفتگو کرتے ہیں۔ ایسے سیاسی رہنما اب کم ہی رہ گئے ہیں۔

انہوں نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے یہ الزام عائد کیا ہے کہ ان کے قریبی رشتے دار کی زمین پر تحریک انصاف کے ممبر قومی اسمبلی فیض الحسن شاہ نے زبر دستی قبضے کی کوشش کی۔

قمر زمان کائرہ اگر ایک با اثر سیاسی خاندان سے تعلق نہ رکھتے اور قومی سطح پر جانے پہچانے سیاسی رہنما نہ ہوتے تو ان کے کزن کی زمین پر تحریک انصاف کے ایم این اے قابض ہو چکے ہوتے۔ تحریک انصاف کے ایم این اے پر اس زمین کے حوالے سے سنگین الزامات لگائے گئے ہیں۔ قبضے کی یہ کوشش اس کے با وجود ہوئی ہے کہ یہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے اور عدالت نے اس پر حکم امتناعی جاری کر رکھا ہے جبکہ بورڈ آف ریونیو کے ممبر جوڈیشل نے بھی اس زمین کے حوالے سے حکم امتناع جاری کیا ہوا ہے کہ یہ زمین دریائے جہلم کے کنارے واقع ہے۔ جہاں قمر الزمان کائرہ کے کزن چوہدری شریف نے ایک نہایت خوبصورت ہوٹل تعمیر کیا ہوا ہے۔ یہ زمین ہوٹل والی تو نہیں ہے مگر اس کے نزدیک ہی واقع ہے۔

قمر الزمان کا ئرہ اگر اچھی خاصی جان پہچان رکھنے والے سیاسی راہنما نہ ہوتے تو سوچیے ان کے کزن کے ساتھ کیا ہوتا۔ مقامی پولیس اور انتظامیہ نے اس وقت تک مداخلت نہیں کی اور اس قبضے کو رکوانے کی کوشش نہیں کی جب تک یہ معاملہ میڈیا پر نہیں آیا۔

تحریک انصاف کے ممبر قومی اسمبلی اس سے پہلے پرانے پاکستان کے بھی ایم این اے رہے ہیں۔ وہ مسلم لیگ (ن) اور ( ق ) دونوں میں رہے ہیں۔ وہ مفادات کی سیاست کرنے والے روایتی سیاستدان ہیں جو کہ وقت اور حالات کے مطابق وفاداریاں بدلتے رہتے ہیں۔ عمران خان پرانے پاکستان کے انہی کل پرزوں کے ذریعے نیا پاکستان بنانے اور تبدیلی برپا کرنے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ تحریک انصاف کے رہنما اور وزراء جتنے چاہیں بیانات دیں ۔ ٹی وی چینلز پر نیا پاکستان اور تبدیلی کے دعوے کریں مگر اس سے زمینی حقائق تبدیل نہیں ہوں گے۔ زمینی حقائق جوں کے توں ہیں۔ محنت کش عوام کو نیا پاکستان میں بھی انہی مشکلات ، تکالیف اور مسائل کا سامنا ہے جو کہ پرانے پاکستان میں در پیش تھے۔

ایم این اے اور ایم پی اے حضرات کی واضح اکثریت اب بھی اپنے آپ کو اپنے علاقوں کے مالک اور آقا سمجھتے ہیں۔ تھانوں سے پٹوار خانوں تک ان کی حکمرانی ہے۔ ارکان اسمبلی کا میں ذاتی طور پر بہت احترام کرتا ہوں مگر حقیقت یہی ہے کہ ارکان اسمبلی کی بڑی تعداد اس لیے منتخب نہیں ہوتی کہ انہیں قوانین بنوانے میں بہت دلچسپی ہے یا پھر وہ پالیسیاں بنانے میں اہم کردار ادا کرنا چاہتے ہیں بلکہ وہ اس لیے منتخب ہوئے ہیں تاکہ اپنے حلقوں اور علاقوں پر اپنی سیاسی اجارہ داری یا تو بر قرار رکھ سکیں یا پھر قائم کر سکیں۔ ان کے چہرے بدلتے رہتے ہیں مگر مخصوص بالائی طبقات کا تسلط اور اجارہ داری بر قرار رہتی ہے۔ ان ارکان کی اکثریت سیاسی جماعتیں بھی بدلتی رہتی ہے۔ حکمران جماعت بدل جاتی ہے مگر یہ مستقل حکمرانی کے مزے لوٹتے ہیں۔

میں ان سب سیاستدانوں کی عزت کرتا ہوں جو کہ محض مفادات اور کسی مخصوص دباؤ یا اشارے پر اپنی سیاسی وفاداریاں تبدیل نہیں کرتے۔ وہ محض انتخاب جیتنے کے لیے سیاسی وفاداریاں تبدیل نہیں کرتے۔ قمر الزمان کائرہ بھی انہی معدودے چند لوگوں میں سے ہیں۔ وہ چاہتے تو پیپلز پارٹی چھوڑ کر تحریک انصاف میں چلے جاتے تو وہ بھی آج رکن قومی اسمبلی ہوتے اور غالباً وفاقی وزیر بھی۔ مگر انہوں نے سیاسی اور جمہوری روایات کی پاسداری کی اور پیپلز پارٹی میں ہی رہنے کو ترجیح دی۔ ان کی اصولی سیاست کی ان کو سزا مت دیں۔ ان کو سیاسی مخالف پر سبق سکھانے کی کوشش نہ کریں۔ قمر الزمان کائرہ جیسے لوگ تو اس سیاست کی عزت ہیں۔ ان کو دھونس، دھاندلی اور غنڈہ گردی کے ذریعے خرچ کرنے کی کوشش مت کریں۔

وزیر اعظم عمران خان کو چاہیے کہ وہ اس معاملے کی آزادانہ تحقیقات کروائیں اور حقائق کو منظر عام پر لائیں۔تحریک انصاف کے ممبران اسمبلی کے اس قسم کے کارنامے تحریک انصاف کے لیے نیک نامی کا باعث نہیں بنیں گے۔ اس سارے معاملے میں جہاں مقامی انتظامیہ کارویہ درست نہیں ہے ۔ وہیں پر محکمہ مال، تحصیلیدار اور پٹواری نے زمین پر قبضے میں تحریک انصاف کے ایم این اے کی مدد کی۔ جب تک پٹوار خانے اور تھانے قبضہ گروپوں کے معاون مدد ار رہیں گے تب تک زمینوں پر ناجائز قبضے ہوتے رہیں گے۔ وزیر اعظم عمران خان کو چاہیے کہ وہ پنجاب حکومت کے معاملات کا بغور جائزہ لیں۔ اس وقت تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پنجاب میں برائے نام ہی حکومت ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب ابھی تک معاملات پر اپنی گرفت کو مضبوط نہیں کر پائے ہیں۔ وہ اچھے انسان ہیں مگر انہیں اپنی کارکردگی بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔پنجاب کو اچھی حکمرانی کی ضرورت ہے۔ اگر سابق وزیر اعلیٰ پنجاب نے 10 سالہ دور حکومت میں حکمرانی کو بہتر بنایا ہوتا اور بنیادی نوعیت کی اصلاحات کی ہوتیں۔ پولیس کے نو آباد دہاتی نظام کو تبدیل کیا ہوتا اور پولیس سے سیاسی مفادات کے حصول کا کام نہ لیا ہوتا اور پٹوار خانے کے ڈیڑھ سو سالہ نظام کو تبدیل کیا ہوتا تو آج پنجاب کے حالات مختلف ہوتے۔ مگر سابق وزیر اعلیٰ نے خود کو ہی تمام اختیارات کا مرکز بنائے رکھا۔

قمر الزمان کائرہ کے کزن چوہدری شریف کے ساتھ ہونے والی زیادتی اور نا انصافی کا ازالہ ہوتا چاہیے۔ ان کے ساتھ انصاف ہونا چاہیے اور جنہوں نے زمین پر قبضے کی کوشش کی ان کے خلاف بھر پور قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔


ای پیپر