پارلیمنٹ ! ایک ہنگامہ شب و روز بپا رہتا ہے
30 جنوری 2019 2019-01-30

پارلیمنٹ وہ ادارہ ہے جہاں منتخب عوامی نمائندے ملک و قوم کو درپیش مسائل کے حل کے لیے جمع ہوتے ہیں۔ لیکن آج تک چند ایک مواقع ہی ایسے ہونگے جہاں پارلیمنٹ نے اپنا حقیقی کردار ادا کیا ہو۔ ارکانِ پارلیمنٹ کی تقسیم حکومتی ارکان اور حزبِ اختلاف کے ارکان پر مشتمل ہوتی ہے ۔ ایک تیسرا گروہ بھی ہر پارلیمنٹ میں ہوتا ہے جو طاقتور کے ساتھ اپنے الحاق رکھنا چاہتا ہے ۔ یہ گروہ ہر اہم موقع پر اپنی رائے دینے کی بجائے واک آوٹ کا سہارا لیتے ہوئے خاموش تماشائی بنا رہتا ہے ۔قومی انتخاب میں سیاسی انجینئرنگ نے پوری کردی جس کے سبب حکومتی ارکان اور حزب اختلاف کے ارکان کی تعداد میں معمولی فرق رکھا جاتا ہے ۔ لیکن کسی بھی حزب اختلاف نے کبھی کسی حکومت کو آسانی سے حکومتی معاملات چلانے نہیں دیے ہیں۔ حزبِ اختلاف کے وجود کا جواز بھی اس وقت تک ہی رہتا ہے جب تک وہ اپنا مؤثر کردار ادا کرتے ہوئے حکومت کو پارلیمنٹ کے سامنے جواب دہ ہونے پر مجبور نہ کردے۔ لیکن ہر حزبِ اختلاف نے حکومتی پالیسیوں پر تیکنیکی تنقید کرنے کی بجائے ہلڑ بازی اور شور شرابے کا راستہ اختیا ر کیا ہے اور جواب میں حکومتی ارکان نے بھی یہی وطیرہ رکھا ہے ۔ جس کا حالیہ مظاہرہ ہماری موجودہ پارلیمنٹ میں اس

وقت دیکھنے میںآیا جب حکومت نے 23 جنوری کو اپنی زمامِ اقتدار سنبھالنے کے پانچ چھ ماہ میں ہی دوسر ا منی بجٹ پیش کیا۔ بجائے اس کے کہ حزبِ اختلاف منی بجٹ میں موجود نقائص ، کمزوریوں اور خامیوں پر مضبوط دلائل دیتی انہوں نے پارلیمنٹ میں شور شرابے اور ہنگامہ آرائی کو ترجیح دی۔ پارلیمنٹ میں حکومتی ارکان بشمول وزیراعظم عمران خان بھی پارلیمنٹ مین زبان بندی پر تلملاہٹ کا شکار ہیں۔ اس بے بسی کا اظہار عمران خان نے نمل یونیورسٹی کی تقریب میں خطاب کے دوران کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ پارلیمنٹ میں ان کو بولنے نہیں دیا جاتا اس لیے وہ اپنے نمل یونیورسٹی کی اس تقریب میں اپنے سیاسی مخالفین کو جواب دے رہے ہیں۔ یہ ہیں ہمارے وزیراعظم جو پارلیمنٹ کی بجائے ایک تعلیمی ادارے کی تقریب میں اپنے سیاسی مخالفین کو کوس رہے ہیں۔

پارلیمنٹ میں جو طبقہ موجود ہے اسے عوام کے مسائل سے کوئی سروکار نہیں ہے ۔ یہاں ذاتیات کی سیاست ہوتی ہے ۔ یہاں الزامات اور جوابی الزامات کی جنگ جاری رہتی ہے ۔ شاذ ہی ایسا ہوا ہو کہ کوئی سنجیدہ گفتگو یا بحث ہوئی ہو۔وجہ یہی ہے کہ عوام کے ووٹ سے منتخب ہونے والے عوام کی بجائے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے جمع ہوتے ہیں۔ پاکستان ایسا ملک جو غیر ملکی قرضوں میں بری طرح جکڑا ہوا ہے جس کی معیشت کی حالت پتلی ہے اس کے ارکان اپنی سہولیات کے لیے فکر مند رہتے ہیں اور اپنی انتخابی مہم میں کروڑوں روپے خرچ کرنے والے اربوں روپیہ سہولیات کی مد میں عوام کی خون پسینے کی کمائی سے ادا کئے جانے والے ٹیکس سے حاصل کرتے ہیں۔

گرامی قدر سید سردار احمد پیرزادہ نے اپنے گزشتہ کالم میں یہ تجویز پیش کی کہ آئین میں یہ ترمیم کرنی چایئے کوئی بھی پاکستانی شہری اپنی زندگی میں دو سے زائد بار قومی اسمبلی یا سینٹ کا رکن نہیں بننا چاہیے۔ ان کے مطابق سیاست اور اقتدار پر قابض ان طبقات سے جان چھڑانے کا یہ ایک مناسب طریقہ ہے ۔ تجویز مناسب بھی ہے لیکن اس پر عمل اتنی آسانی سے ممکن نہیں ہے ۔ کیسے ممکن ہے کہ سیاست پر اپنے پنجے گاڑھے رکھنے والا یہ گروہ اپنے پَر خود کاٹ لے۔ اس کے لیے پیرزادہ صاحب ایسے دانشوروں کو بھر پور کردار ادا کرنا ہوگا جو عوام میں اس شعور کو اجاگر کریں کہ مسائل تب ہی حل ہونگے جب وہ لوگ پارلیمنٹ میں پہنچے گے جن کے مسائل ہیں۔اس نظریے اور سوچ کو اتنی وسعت ملنی چاہئے کہ ہر سیاسی جماعت اس ترمیم کی تجویز کو اپنی انتخابی مہم کا حصہ بنانے پر مجبور ہو جائے۔

یہ عشق نہیں آساں اتنا ہی سمجھ لیجیے

اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے


ای پیپر