پاکستان کی جنگی و عسکری مختصر تاریخ
30 جنوری 2019 2019-01-30

پاکستان کی جنگی و ملٹری تاریخ میں ہر چیز ملتی ہے۔ ہر ایکشن ملتا ہے۔ ہر ری ایکشن ملتا ہے۔ جنگ و جدل اور کشت و خون سے بھری یہ تاریخ پڑھ کر نہ صرف قرون اولی اور قرون وسطیٰ کے فوجی معرکے یاد آ جاتے ہیں بلکہ بے ساختہ ان بہادر فوجی سپاہیوں اور دلیر فوجی افسروں کی جانب دھیان جاتا ہے۔ جنہوں نے ستر سال کی اس تاریخ میں ان اوپر تلے کے معرکوں میں نہ صرف حصہ لیا۔ داد شجاعت دی بلکہ اپنی زندگیاں قربان کر دیں اور زخمی ہو کر ہمیشہ کے لیے اپاہج ہو گئے لیکن اپنے وطن پر انچ آنے نہیں دی۔ ملک کی جنگی تاریخ ملٹری آپریشنز اور مکمل جنگوں سے لے کر روزمرہ سرحدی جھڑپوں اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں سے بھری پڑی ہے۔ ہم نے آج تک مندرجہ زیل ملٹری آپریشنز کیے اور تقریباً سب میں کامیابی حاصل کی ۔ ان میں سے کچھ ملٹری آپریشنز کا ذکر پہلے آ چکا ہے لیکن یاد دہانی کے لیے ان کا دوبارا زکر کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔

1۔ آپریشن گلمرگ۔ 1947 ، کشمیر کی پہلی جنگ 2۔ آپریش جبرالٹر ، 1965 ، کشمیر کی دوسری جنگ 3۔ آپریش گرینڈ سلام ،1965، کشمیر کی دوسری جنگ 4۔ آپریشن کارگل، 1999، کشمیر کی تیسری جنگ 5۔ آپریشن سرچ لائٹ ، 1971، مشرقی پاکستان کی جنگ 6۔ آپریش سائیکلون ،1979۔ افغانستان کی پہلی جنگ 7۔ آپریشن اینڈیورنگ فریڈم، 2000، افغانستان کی دوسری جنگ 8۔ آپریش راہ حق، 2007، سوات کی پہلی جنگ 9۔ آپریش راہ راست ، 2009، سوات کی دوسری جنگ 10۔ آپریشن سن رائز ، 2007، لال مسجد 11۔ آپریش بلیک تھنڈر سٹارم ، 2009، اینٹی طالبان 12۔ آپریشن راہ نجات ، 2009، جنوبی وزیرستان 13۔ آپریشن ضرب عضب ، 2014، شمالی وزیرستان 14۔ آپریشن رد الفساد ، 2017، 15۔ آپریشن خیبر 2017۔ 16۔ آپریش ال میزان ، 2002سے 2006، فاٹا، اس آپریشن میں تقریباً 1200 سے 1500 سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔ جو بہت بڑا نقصان تھا۔ 17۔ آپریشن شیر دل،2008، بیجا پور 18۔ آپریش زلزلہ ، 2009، ساؤتھ وزیرستان، بیت اللہ محسود کے خلاف19۔ آپریشن صراط مستقیم، 2008، خیبر ایجنسی 20۔ آپریشن کوہ سفید ، 2011 ، کرم ایجنسی 21۔ آپریشن بریکھنا ، 2009 ، مہمند ایجنسی 22۔ آپریش ابا بیل ، 1987، سیاچن گلیشیئر، بریگیڈئیر پرویز مشرف 23۔ آپریشن قائدانہ، سیاچن گلیشیئر 24۔ آپریشن جانباز ، 2009 ، جب دہشت گردوں نے جی ایچ کیو روالپنڈی پر قبضہ کیا۔ 25۔ آپریشن بلیو فاکس ، 1992، متحدہ کے خلاف آپریشن کلین اپ 26۔ آپریشن لیاری 2012۔27۔ کراچی آپریش 2013 ء

یہ ستائیس ملٹری آپریشنز آخری تعداد نہیں ہیں۔ ان آپریشن کے علاوہ ہم نے کشمیر پر تین جنگیں لڑیں۔ 1948، 1965 اور اور 1999 کارگل کی جنگ ، ایک جنگ ہم نے سیاچن پر لڑی جو 1984 سے 2003 تک جاری رہی۔ دنیا کی واحد جنگ جو اتنی بلندی پر ہوئی اور جہاں کا سرد موسم سب سے بڑا دشمن تھا۔ ایک مکمل جنگ ہم نے 1971 میں مشرقی پاکستان میں اپنے ہی لوگوں اور بھارت کے خلاف لڑی۔ اس کے علاوہ پہلی افغان جنگ کا ہم حصہ رہے۔ جو سوویت روس کے خلاف افغانستان میں 1979 سے 1989 تک ہوئی۔ پھر ہم دوسری افغان جنگ میں بھی شامل ہیں۔ جو دہشت گردی کے خلاف 2002 میں شروع ہوئی اور ابھی تک جاری ہے۔ روس کی شکست کے بعد افغانستان کی پہلی خانہ جنگی میں ملوث رہے۔ اور اب امریکی انخلاء کے بعد دوسری خانہ جنگی ہوتی نظر آ رہی ہے۔ ہم سرد جنگ میں روس کے خلاف امریکہ کے اتحادی بھی رہے۔ان عسکری معرکوں کے علاوہ بلوچستان میں جاری بغاوت نے بھی ہمیں کافی مصروف رکھا ہوا ہے اور اب تک بلوچستان میں 1948، 1953، 1963، 1973، 2004 اور 2012 سے اب تک جاری تقریباً چھ بغاوتیں ہو چکی ہیں۔ بلوچ اپنے حقوق نہ ملنے پر ناراض ہیں۔ اور ہم مسلح جدوجہد پر نا خوش ہیں۔

ان ملٹری آپریشنز اور جنگوں کے علاوہ ہم ملک میں چار بار مارشل لاء لگا چکے ہیں۔ہمارے دو وزرائے اعظم قتل ہو چکے ہیں۔ ایک کو ہم نے پھانسی لگا دیا تھا جبکہ ایک وزیراعظم کو چوتھی بار جیل میں ڈالا ہوا ہے جبکہ تمام 18 وزرائے اعظم برطرف ہوئے ہیں۔ اس شدید ترین خون آلود جنگی تاریخ سے ایک بات واضح ہے۔ ہمارے دشمن بے شمار ہیں جو ہماری قومی سلامتی اور مفاد کو نقصان پہنچانا چاھتے ہیں۔ اس وجہ سے ہم باوجود لڑنے کے کشمیر نہیں لے سکے۔ ہمارا ملک دولخت ہو گیا۔ سیاچن ہم سے چھن گیا اور کارگل ہم سے نکل گیا۔ لیکن ہم نے ہمت نہیں ھاری۔ ایٹم بم ہم بنا چکے ہیں اور قومی مفاد میں سیاست اور جمہوریت کو ہم کنٹرول کر رہے ہیں جس کے لیے ہم نے کبھی مارشل لاء لگایا۔ کبھی صدارتی نظام اپنایا۔ کبھی بنیادی جمہوریت لے کر آئے۔ کبھی پاور شیئرنگ کی ۔ کبھی پارلیمانی نظام پر مجبور ہوئے۔ کبھی 58 ٹو بی کو آزمایا اور کبھی نظریہ ضرورت کا جادو چلایا تو کبھی عدلیہ سے سیاستدانوں کو نااہل کروایا۔ اور کبھی پورے الیکشن کا ہی صفایا کروایا۔ ہم گزشتہ ستر سال سے حالت جنگ میں ہیں۔ اس ماحول میں ایک ویلفیئر یعنی فلاحی ریاست کا تصور ویسے ہی فیل ہو جاتا ہے۔ سکیورٹی ریاست ہماری مجبوری ہے اور ایک سکیورٹی اسٹیٹ میں جنگی معیشت ناگزیر ہے۔ جنگی معیشت وہ چیز ہے جب ریاست کے تمام ذرائع امدن جنگی مشینری اور لاجسٹک اور جنگی خرچوں پر استعمال ہوتے ہیں اور ریاست کے پاس ترقی بجٹ یا عوامی فلاح و بہبود کے کاموں کے لیے پیسہ نہیں بچتا لیکن یہ سکیورٹی اسٹیٹ اور جنگی معیشت قومی مفاد اور سلامتی کے لیے ضروری ہے اور ہماری قوم بخوشی یہ قربانی دے رہی ہے اور ان تمام سیاستدانوں کو گالیاں نکال رہی ہے۔ جن کی کرپشن کی وجہ سے ملک ترقی نہیں کر سکا۔


ای پیپر