Ambassador, Pakistanis, Greece, Minhaj-ul-Quran International
30 دسمبر 2020 (12:44) 2020-12-30

خلقیدہ جاتے ہوئے سفیرصاحب نے بتایاکہ یونان میں ادارہ منہاج القرآن بھی سرگرم عمل ہے اور ان لوگوں نے بھی سفیرصاحب سے رابطہ کرکے اس خواہش کا اظہارکیاہے کہ ہم ان کے ادارے کا بھی دورہ کریں ۔چونکہ زمانہء قیام ِیونان میں ہمارے تمام شب وروز بندھے ہوئے تھے اس لیے سفیرصاحب نے ان کی خواہش کی تعمیل کی یہ صورت نکالی کہ ہم جس روز خلقیدہ جائیں گے اس روز خلقیدہ جاتے ہوئے پہلے ارباب ادارہ منہاج القرآن کی دعوت کی تعمیل ہوگی ۔اس پر ارباب ادارہ نے اس ملاقات کو ناشتے کی شکل دے ڈالی اور راقم سے خطاب کی فرمائش اس پر مستزاد ہوئی ۔یہ ادارہ دوسرے ہم مزاج اداروں کی طرح ایک اسلامک سنٹرکی طرزپر قائم ہے چونکہ یونان میں مسجدبنانے کی اجازت نہیں ہے اس لیے یہاں مسلمان بالعموم اسلامک سنٹربناکر اس کے ایک حصے کو مسجدکے طورپر استعمال کیاکرتے ہیں۔سفیرصاحب نے بتایاکہ یونان میں قانونی طور پر سترہ ہزارپاکستانی مقیم ہیں۔ آٹھ ہزارمن موجی ان پر مستزادہیں۔یہاں پرایسے متعدد اسلامک سنٹر قائم ہیں جن کے ناموں ہی سے ان کے مسالک کا پتہ چل جاتاہے مثلاً گلزار مدینہ،فیضان مدینہ،دعوت اسلامی،المرتضیٰ،سلطان باہو،غوثیہ محمدیہ اورمنہاج القرآن وغیرہ۔یونان میںمنہاج القرّن والوں کی آٹھ مساجد ہیں،باہوٹرسٹ کی پانچ اور دعوت اسلامی والوں کی تین ۔یہ تمام بنیادی طورپر اسلامک سنٹرزہیں جن کے ایک حصے کے طورپران میںمساجد بھی قائم ہیں۔ ادارہ منہاج القرآن پہنچنے پر ارباب ادارہ نے ہمارا استقبال کیا۔ چودھری محمداسلم،منہاج القرآن یونان کے صدر ہیں اوران کی سنٹرل کمیٹی کے ارکان میں؛ ڈاکٹرمحمداصغر، محمداسلم چودھری، مرزاامجدخان، کیپٹن محمداشرف، عادل شہزادہ، محمدشاہدبٹ،حاجی محمدبشیرعاصی،طارق شریف اعوان،محمدآصف قادری، ذوالفقارعلی، اسد الٰہی، ناصرچودھری، محمدمنیر، محمدبوٹاتاس، محمدسعیدظفر، واجدعلی قادری، سجادحسین قادری، یاسر عمران،ظفراقبال اعوان تیمور،عابدکھوکھرشامل ہیں۔ ارباب ادارہ نے ہمیں مسجد، لائبریری اوردرس گاہ دکھائیں اور اپنی سرگرمیوں کے دوسرے شعبوں سے آگاہ کیا۔تعارفی دورے کے بعد پرتکلف ضیافت کا دورچلا ۔اگرچہ پاکستان ہائوس سے روانہ ہونے سے پہلے عاصمہ بھابی نے ہمیں بغیرناشتے کے نہیں آنے دیاتھا اس کے باوصف ہم مقدور بھر ان حضرات کی اس پر تکلف ضیافت میں شریک ہوئے جس کے بعد باقاعدہ تقریب کا آغاز ہوا۔راقم کو چونکہ پہلے سے اس بات کی خبرنہیں تھی کہ یہاں بھی اسے اظہارخیال کرناہوگا۔ابوالکلام آزادنے کہاتھا کہ وہ حاضرین کی پیشانیوں سے تقریرکا موضوع چنتے ہیں راقم نے آغازتقریب میں کی گئی تلاوت سے تقریرکاموضوع چن لیا ۔خوش الحان قاری صاحب نے سورئہ احزاب کی کچھ آیات تلاوت کی تھیں ۔میںان کی قرات اور ان آیات کے مضامین سے متاثرہوااوریہی آیات اس روزکاموضوع سخن قرارپائیں۔اسے آپ فطرت کی غلامی یااس کی تکمیل کے عنوان سے معنون کرسکتے ہیں۔

محترم جناب سفیر پاکستان ،جناب ناظم ادارہ اورعلماء کرام! ابھی ابھی ہمارے سامنے قرآن حکیم کی جو آیات تلاوت کی گئی ہیں ان کی سماعت سے میری طبیعت پر گہرااثرمرتب ہواہے۔ ایک تو حسن ِتلاوت کے باعث دوسرے ان آیات کے مضامین کے باعث۔ جن آیات کی تلاوت کی گئی ہے ،ان آیات میں جو مضامین بیان کیے گئے ہیں ان میں ایک تو جناب رسولؐ خدا کے مردوں میں سے کسی کے باپ نہ ہونے کا مضمون آیاکہ حضرت زیدؓکے قصے میں جنھیں لو گ آپؐ کا منہ بولا بیٹا ہونے کے باعث حقیقی بیٹے کا منصب دینے لگے تھے اور ان کی سابقہ اہلیہ سے آپؐ کے نکاح پر ہونے والے اعتراض کا جواب دیاگیاہے دوسری بات جو اِن آیات مبارکہ میں آئی ہے وہ ختم نبوت کا مضمون ہے کہ وہ اگرچہ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں لیکن وہ اللہ کے رسول اور نبیوں کے سلسلے کو ختم کرنے والے ہیں۔

آپ اہلِ علم ہیں اور جانتے ہیں کہ نبی ؐ کے بارے میں اللہ نے واضح طورسے کہاہے کہ انھیں جہانوں کے لیے رحمت بناکر بھیجا گیا ہے  وَمَا أَرْسَلْنَاکَ إِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْنَ…جب نبوت ایک رحمت ہے توپھر ختم نبوت کیوں …؟اس طرح تو گویا ختم نبوت، سلسلۂ رحمت کو منقطع کرنے کاباعث بن گئی ؟ یہ نہایت اہم بات ہے اور کج ذہنوںنے اسے تضاد قراردے کر خلط مبحث پیداکیاہے ۔بات دراصل یہ ہے کہ جس طرح انسان اپنی زندگی کے ارتقائی مراحل طے کرتاہے اسی طرح انسانیت نے بھی اپنی زندگی کے ارتقائی مراحل طے کیے ہیں ۔وہ سلسلہ جو جناب آدمؑ سے شروع ہواتھا مختلف مرحلوں سے ہوتا ہوا اپنی تکمیل کی جانب گام زن رہا یہاں تک کہ اس عمارت کی آخری اینٹ رکھ دی گئی اور یوں یہ عمارت مکمل ہوگئی۔ اب عمارت مکمل ہوجانے کے بعد اس کے اوپر رکھاجانے والا کوئی بھی عمارتی مسالہ یا اینٹ اس کے حسن کے خلاف ہے ۔نبی آکر معاشرے کو ثواب و ناثواب کے بارے میں بتاتاتھا وہ سب کچھ جسے معاشرہ فراموش کرچکاہوتاتھا اس کی تجدید کرتا تھا، نبی کی آمد سے سوسائٹی دو حصوں میں بٹ جایاکرتی تھی، یہ ختم نبوت کا فیضان ہے کہ انسانی سوسائٹی کو مزیدتقسیم ہونے سے بچاکر ایک انسانی معاشرے کی جانب راہ نمائی کردی گئی :

حرفِ بی صوت اندرین عالم بدیم 

از رسالت مصرعہ موزون شدیم

ہم اس دنیامیں ایک بے صداحرف کی طرح تھے، رسالت نے ناصرف ہمیں آوازعطاکی، ہم میں معنی پیداکیے بلکہ اس حرف بے صوت کو فنکارانہ لمس عطاکرکے ایک مصرعہء موزوں بھی بناڈالا۔ یہ ایک جدید طرزفکر ہے اب دوبارہ سلسلہ نبوت کا اجرا انسانی معاشرے کو ماضی کی جانب دھکیلنے کے مترادف ہے ۔وقت کا پہیہ آگے بڑھ چکاہے، اب اسے پیچھے گھمانے کی کوشش، سعی لاحاصل ہے ۔جو شے اپنے کمال کو چھولے وہ اپنی نہایت کو پالیتی ہے ۔نبوت، انسانوں کو ہدایت کی جانب راہ نمائی کا ایک سہارافراہم کرتی تھی۔ اب انسانی شعور کے پختہ ہوجانے اور زندگی کے آگے بڑھ جانے کے باعث انسانیت کو اس سہارے سے بلند کردیاگیا، اب اس کی قوت تمیز کوتسلیم کرلیاگیا اور اسے اس اعتماد سے مشرف کردیاگیاکہ انسان اب اپنی صلاحیتوں اور توانائیوں سے کام لے کر آگے بڑھے ۔ کسی قسم کی پیشوائی، کسی قسم کی موروثیت، کسی قسم کی خاندانی بادشاہت کا تصور نہیں دیاگیا۔ سب کچھ میرٹ پر چھوڑ دیاگیا ۔فطرت اور تاریخ کے سرچشمے انسانوں کے سامنے کھلے پڑے ہیں جائیںاور ان سے استفادہ کریں۔ فطرت کے مقاصد کی نگہبانی کریں۔ فطرت بے ذوق نہیں ہے لیکن ’’جو اس سے نہ ہوسکا وہ تو کر‘‘ کا پیغام عام ہے۔ مظاہر فطرت کو تنقیدی نگاہ سے دیکھیں اور اس کے pitfallsکو دورکریں ۔ایسے میں کوئی شخص اگر اٹھ کر اپنے کسی ذاتی تجربے کومجموعہ انسانیت پر منطبق کرناچاہتاہے تو اس کا مطلب ہے وہ انسانیت کو رجعت قہقری کی راہ دکھانا چاہتاہے ،ریورس گیئر میں لے جانا چاہتا ہے، کسی شخص کی ذاتی واردات ،دوسروں کے لیے حجت نہیں بن سکتی اور پھریہ بھی تو ہے کہ ’’صاحبِ سازکو لازم ہے کہ غافل نہ رہے+گاہے گاہے غلط آہنگ بھی ہوتاہے سروش‘‘۔

 جیسے جیسے زندگی ترقی کی شاہراہ سے پیچھے ہٹتی ہے ویسے ویسے اس میں ایسے الہامات اور کشوف جنم لینے لگتے ہیں جو معاشرے کو آگے کی بجائے پیچھے لے جانے والے ہوتے ہیں ۔وہ نظام جو انسان کو وہ مقام دیتاہے کہ وہ فطرت کی تخلیقات کو ایک نقاد کی نگاہ سے دیکھے، اس نظام میں انسان کو صدیوں پیچھے کی سمت لے جانا کہاںکی دانش مندی ہے؟  اس لیے ختم نبوت کی ضرورت تھی اور ختم نبوت ایک رحمت ہے جس کے باعث انسانیت ، پختگی کی منزل کو پانے کے قابل ہوسکی ہے۔ ہم اس وقت یونان میں بیٹھے ہیں۔یہاںکے لوگوں نے مظاہر فطرت سے متاثرہوکر انہیں معبودبنایا یامظاہرفطرت کے مطابق معبود تراشے ۔مسلمان کو اس کے کلمۂ توحیدنے یہ سبق دیاکہ وہ مظاہر کی الوہیت کا انکار کرے، یہی نہیں ان پر تنقیدوتحقیق کی نگاہ ڈالے ۔

أَفَلَا یَنظُرُونَ إِلَی الْإِبِلِ کَیْْفَ خُلِقَتْo  وَإِلَی السَّمَاء  کَیْْفَ رُفِعَتْo وَإِلَی الْأَرْضِ کَیْْفَ سُطِحَتْ… یہ کہہ کر مظاہر کی الوہیت کی بیخ کنی کردی گئی ہے انہیں معبود سمجھناتو ایک طرف، الٹا انہیں موضوع تحقیق بناکران کی حقیقت کو دریافت کرنے کی دعوت دی گئی۔ آپ کو ان پر حکمران بنا دیاگیا ۔

اقبال کے مطابق نبوت ایک Socio-Political Institutionہے جس کا مقصد ایک نئے معاشرے، ایک نئی اخلاقیات اور نئی سماجیات کی تشکیل ہے اور یہ سلسلہ اگر جاری رکھاجاتاتو قیامت تک کوئی پختہ معاشرہ وجودمیں نہ آتا۔انسان کو گہوارے سے نکال کر اپنی صلاحیتوں اور قوتِ تمیز پر اعتمادعطاکرنے کے لیے نبوت کے سلسلے کو ختم کیاگیا ۔ اقبال کے الفاظ میںLife cannot for ever be kept in leading strings  انسان ہمیشہ سہاروں پر زندگی بسرنہیں کرسکتا۔ اپنے اس جملے کی وضاحت کرتے ہوئے انھوںنے کہاتھا کہ اس سے میری مراد Leading strings of religion نہیں بلکہ لیڈنگ سٹرنگز آف فیوچر پرافٹس آف اسلام ہے ۔گویا ایک کامل الہام ووحی کی غلامی قبول کر لینے کے بعد کسی اور الہام اور وحی کی غلامی حرام ہے اور الہام بھی وہ جس کے بارے میں خود انہوں کہا کہ ’’محکوم کے الہام سے اللہ بچائے+ غارت گرِ اقوام ہے یہ صورتِ چنگیز ‘‘۔

 لطف یہ کہ جس ایک غلامی کی بات کی جارہی ہے ،درحقیقت وہ تمام غلامیوں سے نجات عطاکرنے والی ہے’’ وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتاہے+ ہزارسجدے سے دیتاہے آدمی کو نجات…‘‘ یہ غلامی، غلامی نہیں آزادی ہے کیونکہ یہ آپ کو فطرت کی جانب لے جانے والی ہے۔ انسان کو فطرتِ الہیہ پر پیداکیاگیاہے،’’ مرابرصورت ِخویش آفریدی‘‘ …یہی دین ِفطرت ہے اور دین فطرت کو فطرت صحیحہ خود بخودقبول کرتی ہے۔ فطرت ِصحیحہ کا اسے خود بخود قبول کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ تصور زندگی کی گہرائیوں سے پیداہواہے ۔

آپ اس تصور کے وارث ہیں۔دنیاکو یہ بتاناہے کہ اسلام نے انسانیت کی وحدت کا پیغام دیاہے، انسانیت کو تقسیم درتقسیم کے عمل سے بچایاہے اور پوری انسانیت کو ایک خانوادہ قراردیاہے ۔ہم اس پیغام کے ساتھ دنیاکی سمت بڑھیں گے تو وہ غلط فہمیاں اور دوریاں جو عصری سیاسی منظرنامے کی پیداکردہ ہیں دورہوں گی اور اسلام کا عطاکردہ وحدتِ انسانیت کا پیغام عام ہوسکے گا    ؎ 


ای پیپر