پاکستان کا محدود،مربوط اور جامع ایٹمی پروگرام
30 دسمبر 2018 2018-12-30

دنیا کا ہر باشعور اور باخبر شہری جانتا ہے کہ بھارتی میزائل تجربات پاکستان کی سلامتی کے لئے واضح خطرہ اور بھارت کی غیر ذمہ داری کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ یہ حقیقت بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ بھارت بحر ہند کے علاقے میں ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ شروع کررہا ہے اور اس نے نیو کلیئر سب میرین کا بھی تجربہ کیا جب کہ 2016ء کے بھارتی میزائل تجربات پاکستان کی سلامتی کیلئے واضح خطرہ ہیں، ایسے تجربات بھارت کی غیر ذمہ داری کا منہ بولتا ثبوت ہیں، پاکستان کو ان تجربات پر نہ صرف تشویش ہے بلکہ اس سے خطے میں طاقت کا توازن بھی بگڑ رہا ہے۔ تاہم ریاست پاکستان کا ہر شہری مطمئن ہے کہ پاکستان ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل ہوئے بغیر اپنی دفاعی صلاحیت میں اضافہ کرتا رہے گا۔ پاکستان کے ارباب اختیار کی جانب سے بھارت کو ایٹمی ہتھیاروں کے حوالے سے ہمیشہ باقاعدہ مذاکرات کی دعوت دی گئی لیکن بھارت نے کبھی پاکستان کی دعوت کا مثبت جواب نہیں دیا۔

کون نہیں جانتا کہ بھارتی حکمران روز اول سے پاکستان کے خلاف جنگی جنون میں مبتلا رہے ہیں۔ وہ ایک سے زائد بار برصغیر کو دوبارہ اکھنڈ بھارت بنانے کے جنگی جنونی عزائم کا اظہار کرچکے ہیں۔ بھارتی جنگی جنونی حکمرانوں نے پاکستان پر چار بار مذموم جارحانہ جنگیں مسلط کیں۔ایک میں تو پاکستان کو دولخت کرنے کے بعد بھارت کی وزیر اعظم آنجہانی اندرا گاندھی نے اظہار تفاخر کرتے ہوئے یہاں تک کہا تھاکہ ’’بھارت نے دوقومی نظریہ کو آج خلیج بنگال میں غرقاب کردیا ہے‘‘۔ 1974ء میں بھارت نے پہلا ایٹمی دھماکہ کیا اور دنیا کو پیغام دیا کہ وہ خطے میں غیر روایتی ہتھیاروں کی دوڑ شروع کرچکا ہے۔ردعمل میں پاکستان کے پہلے منتخب جمہوری وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا آغاز کرتے ہوئے بھارت پر واضح کردیا کہ ’’ہم گھاس کھالیں گے لیکن ایٹم بم بناکر دم لیں گے‘‘۔ بعد ازاں جب بھارت نے پوکھران کے مقام پر 13 مئی 1998ء کو ایٹمی دھماکے کئے تو 28 مئی 1998 ء کو ان ایٹمی دھماکوں کے جواب میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور اُن کے ساتھی سائنسدانوں نے منتخب وزیراعظم نوازشریف کے فیصلے کے تحت اور ان کی قیادت میں چاغی کے مقام پر 6 ایٹمی دھماکوں کا تجربہ کیا۔ اس تجربہ کا بنیادی مقصد دشمنانِ پاکستان پر یہ واضح کرنا تھا کہ پاکستان خطے کا ایک نا قابل تسخیر ملک ہے اور اسے اب آنے والی صدیوں میں کبھی بھارت کی نومبر 1971ء ایسی برہنہ جارحیت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔نامور ایٹمی سائنسدان ڈاکٹرثمرمبارک مند نے28مئی2008ء کو 10ویں یوم تکبیر کے موقع پر واضح کیا تھا : ’’اگر پاکستان ایٹمی دھماکے نہ کرتا توبھارت حملے کیلئے تیارتھا، فوج ایٹمی پروگرام کی محافظ ہے، کسی بھی ایٹمی اورمیزائل پروگرام کومنجمد نہیں کیاگیا، ایٹمی پروگرام کوئی بندوق نہیں جو غلط ہاتھوں میں چلی جائے،ان کے خصوصی کوڈزہوتے ہیں 

جوکسی کو معلوم نہیں جبکہ ڈلیوری سسٹم کے بغیر ایٹم بم بے کار ہے اس لئے ایٹم بم پروگرام کو ہم نے مزید ترقی دی ہے،کروزمیزائل کی ٹیکنالوجی جدید ترین ہے جبکہ برصغیر کاایک ایک انچ ہمارے میزائلوں کی پہنچ میں ہے‘‘۔

پاکستانی حکام متعدد بار عالمی برادری کو باور کراچکے ہیں کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے تاہم وہ بھارت کے ایٹمی تجربات کے بعد اپنی سلامتی اور سا لمیت کے تناظر میں بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر کم سے کم ایٹمی دفاعی صلاحیت برقرار رکھنے پر مجبور ہے تاہم پاکستان ایٹمی عدم پھیلاؤ اور تخفیف اسلحہ کیلئے پرعزم ہے لیکن اس کے برعکس بھارت کا ایٹمی آبدوز کا بیڑہ اور کولڈ سٹارٹ اور پیشگی حملوں کی ڈاکٹرائن خطے کیلئے بڑا خطرہ ہیں۔ایسے جارحانہ اقدامات نے پاکستان کو کم سے کم ایٹمی صلاحیت برقرار رکھنے پر مجبور کیا۔جوہری تنصیبات کی حفاظت پاکستان کی قومی ذمہ داری ہے اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی اس حوالے سے انتظامات کا جائزہ لے کر اقدامات اٹھاتی رہتی ہے۔ پاکستان کا میزائل سسٹم دور یا قریب تک نشانہ بنانے والے میزائل کسی بھی جارحیت کو روکنے اورجنگ سے تحفظ کے لئے ہیں۔سچ تو یہی ہے کہ بھارت کی جانب سے کسی بھی ممکنہ خطرات کا توڑ کرنے کے لیے پاکستان اپنی ایٹمی صلاحیت کو برقرار اور مستحکم رکھنا چاہتا ہے۔

جنوب مشرقی ایشیا کے امور کے ماہرین اس امر کی نشاندہی کرچکے ہیں کہ ’’خطے میں بھارت نے یک طرفہ طور پر روایتی اور غیر روایتی ہتھیاروں کی دوڑ شروع کی، پاکستان کبھی اس میں شامل نہیں ہوا تاہم اس نے بھارت کے اسلحہ جمع کرنے کے خبط کا نوٹس ضرور لیا، اپنے وسائل کے مطابق پاکستان کا دفاع مضبوط بنانے کی کوشش کی‘‘۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے ناقدین بھی تسلیم کرنے پر مجبور ہیں کہ یہ بھارت ہی تھا ،جس نے پرامن پاکستان کو ایٹمی ہتھیار بنانے پر مجبور کیا۔ بحمد للہ! آج بھارت ، مغرب اور روس کے غیر جانبدار نیو کلیئر ماہرین کو اقرار و اعتراف کرناپڑرہا ہے کہ پاکستان کا محدود،مربوط اور جامع ایٹمی پروگرام ’’بھارت کے لامحدود ایٹمی پروگرام کے مقابلے میں محدود ہونے کے باوجود نتائج کے حوالے سے برتر ہے‘‘۔ یہ حقیقت پیش نظر رہے کہ پاکستان میں 40 سال سے جاری جوہری پروگرام میں ایک بھی حادثہ یا حفاظتی اقدامات کی خلاف ورزی نہیں ہوئی۔ پاکستان دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں ایٹمی حادثات سے زیادہ محفوظ ملک ہے۔ پاکستان کی جانب سے اپنے ایٹمی مواد اور جوہری تنصیبات کے تحفظ اور سلامتی کے لئے کئے گئے اقدامات کا اعتراف امریکا اور ایٹمی توانائی کے بین الاقوامی ادارے بھی کرتے ہیں۔ پاکستان کے پاس جوہری مواد کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے نیو کلیئر ایمرجنسی مینجمنٹ نظام سمیت ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لئے مؤثر میکنزم موجود ہے۔واضح رہے کہ مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے مئی کے پہلے ہفتے میں اسلام آباد میں پاکستان کی جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کی کوششیں اور سٹرٹیجک ایکسپورٹ کنٹرول سسٹم کے موضوع پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’’ پاکستان کا ایٹمی پروگرام انتہائی محفوظ ہے اور ہر قسم کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے‘‘۔خیال رہے کہ اکتوبر2015ء میں پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کا واشنگٹن کا سرکاری دورہ ابھی شروع بھی نہیں ہوا تھا کہ امریکی پریس میں پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام کے بارے میں بظاہر متنازع خبریں شائع ہوئیں جِن میں کہا گیا کہ ’ پاکستان جلد دنیا کی تیسری بڑی ایٹمی قوت بن سکتا ہے‘۔اِس پر بحث و تمحیص کا سلسلہ شروع ہوا تو دفتر خارجہ نے اِس عزم کا اعادہ کیا کہ ’ پاکستان کا ایٹمی پروگرام صرف دفاع کے لیے ہے‘۔

ارباب دانش کے نزدیک تین باتیں اہم ہیں:

(1) موجودہ ارباب حکومت اور وزارت خارجہ کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ پہلی فرصت میں بحر ہند کو نیو کلیئر بنانے کے لیے عالمی رائے عامہ ہموار کریں اور اس ضمن میں سفارتی کوششوں کو تیز تر کیا جائے۔اس معاملے میں روایتی تغافل کی روش کو اب فی الفور ترک کیا جائے ۔نیز جنرل اسمبلی میں پیش کرنے کے لیے ایک جامع قرار داد کا مسودہ تیار کرکے پارلیمان کے سامنے رکھا جائے ۔ (2) دنیا کو واضح الفاظ میں آگاہ کردیا جائے کہ بھارت کی جانب سے2016ء میں کیے گئے سپر سانک میزائلوں کے تجربات سے خطے کے 32 ممالک متاثر ہونے کا قوی خدشہ ہے۔ (3) عالمی برادری اور بھارت کو باالخصوص بتادیا جائے کہ پاکستان کے چاق و چوبند سائنسدان اور بیدار و ہوشیارفوجی جوان اور افسران صورت حال کو لمحہ لمحہ اور پل پل مانیٹر کر رہے ہیں۔ ان کا عزم ہے کہ وہ بہر صورت پاکستان کے دفاعی نظام کو اَپ گریڈ کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے اور ہر قسم کے متوقع خطرے کا بھرپور اور دنداں شکن جواب دینے میں ایک لحظہ کی تاخیر روا نہیں رکھیں گے۔

مقام حیرت ہے کہ وہ عالمی طاقت اور مغربی ممالک جو غیر روایتی ہتھیاروں کے مواد اور تخفیف اسلحہ کے لیے بلند بانگ دعوے کرتے ہیں، وہ بھارت کے جنگی جنون پر کیوں خاموش ہیں؟ کیا وہ نہیں جانتے کہ بھارت کی میزائل تجربات کی یہ روش اشتعال انگیزانہ ہونے کے ساتھ ساتھ خطے میں طاقت کا عدم توازن پیدا کرنے کا موجب بن رہی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بھارت اپنے جوہری مسل کس ملک کو دکھا رہا ہے؟ صاف ظاہر ہے کہ اس حوالے سے بنگلہ دیش، سری لنکا، میانمار، بھوٹان، نیپال اور مالدیپ کبھی بھارت کا نشانہ نہیں رہے۔ اس کے جنگی جنون کا واحد نشانہ ہمیشہ پاکستان رہا ہے لیکن بھارت کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ موجودہ پاکستان 1948ء، 1965ء یا 1971ء کا پاکستان نہیں، یہ 2018ء کا جوہری توانائی سے لیس پاکستان ہے، جس کا دفاع ناقابلِ تسخیر ہے۔دنیا کی کوئی طاقت اس کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرأت نہیں کرسکتی۔ 


ای پیپر