غیر فطری سیاسی کنٹرول
30 دسمبر 2018 2018-12-30

سیاست دانوں کی اور رہنماوں کی ایک نسل ہوتی ہے جو تحمل مزاج ، برد بار ، با تمیز ، با لحاظ، پر امن ، صلح کن ، مددگار ، معاون اور قوم پرست ہوتی ہے۔ آپ اس نسل کوہٹا دیں، ختم کر دیں، مٹا دیں یا عملی سیاست سے منفی کر دیں۔ جیل میں ڈال دیں۔ اس سے جو خلا پیدا ہو گا۔ وہ اسی نسل کے سیاستدانوں یا رہنماؤں جیسے میٹیریل سے نہیں بھرے گا۔ ان کی جگہ جو لوگ آئیں گے۔ وہ تیز مزاج ، متشدد ، جارح ، بدتمیز ، بد لحاظ ، کینہ پرور ، انتقامی ، ہنگامہ خیز ، پر جوش ، غیر مفید اور مرکز گریز ہوں گے۔ آپ اس سلسلے کو بڑھاتے جائیں یعنی سیاستدانوں اور رہنماؤں کی ایک کے بعد ایک نسل کو ہٹاتے جائیں اور ایک دن وہ نسل سامنے آئے گی جس پر آپ کا اختیار نہیں ہو گا جو اپنی من مانی کرے گی جو آپ سے ڈرے گی نہیں۔ بے خوف ہو گی اور اپنے جوش اور جارحیت سے کچھ بھی کر گزرے گی۔ اس کا سامنا بلوچستان میں ہے۔ کے پی کے اور فاٹا میں ہے۔ کراچی اور سندھ میں ہے اور اب پنجاب میں نعرے لگ رہے ہیں۔خوف ٹوٹ رہا ہے اور فلائٹ کی جگہ فائٹ سامنے آ رہی ہے۔ نسلوں کی یہ تنزلی اور یہ نقصان تب ہوتا ہے۔ جب آپ غیر فطری طور پر سیاستدانوں اور رہنماؤں کو بناتے ہیں۔ اسی عمل کو فطری رنگ دے دیں۔ قدرتی طور پر نشو و نما ہونے دیں۔ خوف کو ختم کر دیں تو نتائج مثبت ہو جائیں گے اور سیاستدانوں اور رہنماؤں کی اعلیٰ نسل تیار ہو کر سامنے آئے گی جو ہر لحاظ سے ملک و قوم کے لیے بہتر ہو گی۔ 

اچھا یہ خوف کیا ہے ؟ ظاہر ہے کسی خطرے کا احساس اور اس سے بچاؤ کی تدبیر اور کوشش۔ خوف دل کی دھڑکن بڑھا دیتا ہے۔ پسینے کے بہاؤ میں اضافہ ہو جاتا ہے اور گردے کی کلوی رطوبت بہت بڑھ جاتی ہے جو اس خوف کی کیفیت کا مقابلہ کرتی ہے۔ فلائٹ یعنی بھاگ کر اور یا پھر فائٹ یعنی لڑ کر اور یہی خوف کی ایک مثبت خاصیت ہے۔ ہمارے اباو اجداد نے خوف کی وجہ سے مزاحمت کی اور زندہ رہے اور ترقی کی جو خوف سے مر گئے۔ ان کا تذکرہ نہیں جنہوں نے جانوروں کا خوف ، جنگلوں کا خوف ، بھوک کا خوف ، آگ کا خوف ، بے رحم موسموں کا خوف اور ظالم حکمرانوں کا خوف تسخیر کر لیا۔ وہ انسانی تہذیب کی ترقی اور معراج کے سرخیل اور فاتح ٹھہرے۔ انہوں نے فلائٹ کی بجائے فائٹ کی اور یہ فائٹ آج بھی جاری ہے۔ خوف ایک مثبت قوت ہے۔ ان فائٹ کرنے والوں کے لیے۔ چنانچہ آپ ڈرائیں مت ، نہ ہی ڈریں۔ مل بیٹھ کر حل نکالیں۔ اچھا غیر فطری طور پر تبدیل کردہ سیاستدانوں اور رہنماؤں کے ساتھ ایک ایشو اور بھی ہے اور وہ ہے۔ اقدار ، تہذیب اور شخصیت کا تنزل۔ پچاس کی دہائی کے جن سیاستدانوں کو آپ نے ایبڈو کا قانون لگا کر فارغ کر دیا۔ یہ وہ تھے جنہوں نے انگریزوں اور ہندوؤں سے لڑ کر یہ ملک حاصل کیا۔ ساٹھ کی دہائی میں آپ نے فاطمہ جناح کو بھی فارغ کر دیا اور ایک اور وطن پرست مجیب الرحمن کو جیل میں ڈال دیا۔ نتیجہ یہ نکلا۔ سیاست ان سیاستدانوں کے ہاتھ میں چلی گئی جو اب آپ کے کنٹرول میں نہیں تھے جو آپ سے نفرت کرتے تھے۔ نتیجہ سب نے دیکھ لیا۔ ستر کی دہائی کے سیاستدان اپنے قد کاٹھ، بردباری اور تحمل مزاجی میں پچاس کی دہائی کے سیاستدانوں سے کم نہ تھے۔ انہوں نے پاکستان کو ایک متفقہ آئین دیا اور سیاسی شعور دیا۔ ضیاء الحق نے اس نسل کو ختم کر دیا۔ محمد خان جونیجو، بے نظیر بھٹو ، نوازشریف اور اکبر خان بگٹی اور یوسف رضا گیلانی اور شاہد خاقان عباسی کو جنرل ضیاء الحق اور جنرل مشرف اور اس کے حواریوں نے ختم کر دیا اور ختم کر رہے ہیں اور ظلم یہ ہے۔ مریم نواز ، حمزہ شہباز ، بلاول بھٹو اور بختاور بھٹو کی شکل میں نوجوان سیاستدانوں کی جو نسل مستقبل میں سامنے آ رہی ہے۔ آپ نے ابھی سے اس کا قلع قمع شروع کر دیا ہے جبکہ ان کی سیاست کا فیصلہ کرنا عوام کا حق ہے جبکہ آپ کی قسمت میں شیخ رشید، چوہدری فواد ، فیصل ووڈا ، اور ذلفی بخاری رہ گئے ہیں اور جو وزیراعظم ہے اسے روپے کی قیمت میں کمی کا خبروں سے پتہ چلتا ہے جو ہمیں بتاتا ہے۔ اگر گیس لیک نہ کر گئی تو پچاس سال چلے گی اور جس کا معاشی ویژن قرض لینے تک محدود ہو گیا ہے اور ان سب کی زبان اور گفتگو پر غور کریں۔ کیا مارکیٹ میں نئی متعارف کروائی جانے والی سیاستدانوں کی کھیپ پچاس ، ستر ، نوے کے سیاستدانوں کے کسی بھی طرح برابر ہے اور جو لوگ ان کے فالوورز ہیں۔ ان کے سیاسی شعور اور انفرمیش پر کوئی دوسری رائے ہو سکتی ہے۔ تنزلی ، رزالت اور بونے پن کی یہ حالت ہو گئی ہے۔ ہماری حکومتی سیاسی قیادت کو پوری دنیا میں کوئی پوچھتا نہیں۔ کوئی قرض یا مدد دینے کو تیار نہیں اور آپ کو خود دورے کرنے پڑ رہے ہیں اور جو قرض مل رہا ہے۔ اسے خرچ کرنے کی اجازت نہیں۔ البتہ اس پر سود دینا پڑے گا۔ ملک سیاسی ، سماجی اور معاشی طور پر نیچے جا رہا ہے۔ تباہی نظر آ رہی ہے اور ہم آج بھی ان سیاستدانوں کو ٹھکانے لگانے میں مصروف ہیں جو ہماری بالادستی کو چیلنج کرتے ہیں جو اپنا آئینی اختیار مانگتے ہیں جو ووٹ کی عزت کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ہماری ترجیحات کیا ہونی چاہیں لیکن ہماری ترجیحات کیا ہیں۔ ہم نے ستر سال میں سیاست اور سیاستدانوں کو گالی بنا دیا ہے تاکہ ہم نمبر ون رہیں لیکن اس چکر میں ہم نے اپنے ملک و قوم کے ساتھ بہت برا کیا ہے۔ ایک زوال ہے۔ جو ہر سو ناچ رہا ہے اور ہم اس ناچ کو اپنی کامیابی سمجھ رہے ہیں لیکن نہیں سمجھ رہے کہ ایک بہت بڑا طوفان ہماری جانب امڈا چلا آ رہا ہے۔ یہ طوفان ابھی بے سمت ہے۔ ٹکڑیوں میں تقسیم ہے لیکن سمت ملتے اور مجتمع ہوتے دیر نہیں لگنی اس طوفان کو 


ای پیپر