ذکر ”پھر“ پری وش کا
30 اگست 2020 2020-08-30

دربار حکمت کی بیٹھک سجی ہوئی تھی کرونا کے ٹھنڈا پڑتے ہی لوگوں کی توجہ پھر سے چیتھڑے اُڑی ملکی معیشت کے خدوخال پر ٹکنے لگی تھی اگلے موضوع کی تلاش میں درمیانی ذہانت سر پٹک رہی تھی.... نوازشریف کو واپس لانے کا ”رولا“ ڈالتے ہیں.... مگر اس میں سے اب کیا نکلے گا رہی ایون فیلڈ وہی اقامہ لوگوں کے کان پک گئے اور میڈیا ہی شاید زیادہ دلچسپی نہ لے ”کرونا“ جیسے ہاٹ ٹاپک کے بعد نوازشریف کا پھیکے شلجم جیسا موضوع تھرل نہیں پیدا کر سکے گا.... ملبہ کس پر ڈالنا ہے صدا بلند ہوئی ”ڈاکٹروں“ پر.... برا ہو دنیا والوں کاجنہوں نے کرونا پر فتح یاب ہونے والے پاکستانی ڈاکٹروں کو لاکھوں کی تنخواہ پر بھرتی کر لیا ہے.... ایسے نایاب ڈاکٹر تو پوری دنیا میں نہیں پائے جاتے اور پھر بھرپور کارروائی کر لینے کے بعد پائلٹوں کا کیا بگڑ گیا دنیا بھر میں مانے ہوئے پائلٹ ہیں پاکستان کے.... اچھا تو پھر نوازشریف کس کی غلطی سے باہر گیا ہماری ہمدردی یا لیب رپورٹ.... مگر جی لیب رپورٹیں تو اعلیٰ حضرت کے قریبی ڈاکٹرز اور ڈاکٹر صاحبہ کی سرٹیفائیڈ ہیں.... شام کو چینلز پر بیٹھنے کے لئے غیرمنطقی دلیلوں اور چور چور کی رٹ لگانے کی ریہرسل کی جائے.... مگر مہینہ بھر سے زیادہ یہ موضوع نہ چل سکے گا.... اگلی بیٹھک کراچی کے ڈوبنے پر.... اس کا کوئی مسئلہ نہیں اسے سندھ حکومت پیپلز پارٹی کی ناقص کارکردگی اور اٹھارہویں ترمیم پر ڈالنا مناسب رہے گا.... زیادہ مسئلہ ہے تو 3 رکنی کمیٹی بنا دی جائے پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی تینوں کے اختلاف میں پانی پلوں کے نیچے سے گزر جائے گا کتنی دیر ٹھہرے گا کرونا نہیں منہ چھپا کر اپنے آپ چلا گیا پانی بھی اُتر جائے گا.... اچھی بھلی ریاستی بیٹھک میں کھلبلی مچ گئی.... پانی تو اتر جائے گا مگر نوازشریف کا رولا ”نِما نِما ہی ڈالا جائے.... وجہ.... او جی اگر وہ واپس آ گیا تو دوبارہ.... پلیٹ لٹس.... ڈاکٹرز.... ہسپتال جیلیں.... ججوں کی وڈیوز.... ”کھلارا“ پڑ جائے گا.... فضا سہم گئی.... دوبارہ جیل میں ڈالنا دہرائے ہوئے منظر تازہ کرنا ستر سالہ بیمار کی آئے دن رپورٹنگ وقت تو نکال دے گی مگر نوازشریف کو فائدہ ہو گا اگر وہ جی دار بن کر واپس آ گیا تو پنجابی سوچ ”چھج بتاشے“ بانٹے گی نہ آیا تو جتنی بدنامی کے ڈھول بج چکے ہیں اس سے زیادہ خدمت بچے کیا کریں؟ سوشل میڈیا پر گالیوں میں دلیلیں تو نہیں ڈالی جا سکتیں....

ٹائیگر فورس کدھر ہے باریک سی آواز ابھری.... اتنی گھوریاں پڑیں کہ آواز نے رستہ بدل لیا....؟یہ کرونا کیا بل گیٹس نے بھگایا؟ تاریخ ٹائیگر فورس کو یاد رکھے گی ”نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پرواہ“ ایسے کرماں والے لوگ ہیں۔ چھپ کر خدمت کر کے واپس سلیمانی ٹوپی میں پناہ لے لی.... بیٹھک ختم.... کام شروع.... نوازشریف.... چائے کا مگ.... سڑک پر واک نتیجہ وہ صحت مند ہے مگر واک تو زیادہ تر مریضوں کو کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے صحت مند تو جوگنگ کرتے ہیں.... بابر اعوان صاحب بتائیں گے بلکہ ثابت کریں گے نوازشریف صحت مند ہے.... سوالات شروع نوازشریف کو واپس لانا تھا تو بھیجا کیوں تھا.... ہمدردی میں.... ہمدردی کی ایکسپائری ڈیٹ آ گئی کیا؟.... نہیں وہ تو سڑکوں پر مٹرگشت کر رہا یعنی اگر وہ ان ڈور گیمز کرتا تو پھر کوئی پریشانی نہیں تھی!.... یہ کیسے ثابت ہوا کہ وہ صحت مند ہے؟ وہ جی اُس نے لاہور میں دو تین میڈیا پرسن سے گفتگو کی ہے.... یہ ایویں ہو جاتی ہے جب تک بندہ صحت مند نہ ہو.... اور؟ اور اُس نے مولانا فضل الرحمن سے رابطہ کیا.... بس ثابت ہوا ایک صحت مند انسان ہی یہ سب کر سکتا ہے.... یعنی ٹوٹل چار شواہد ہیں.... سڑک پر واک سوری مٹر گشت لاہور کے دو میڈیا پرسن کو فون اور مولانا فضل الرحمن سے بات چوتھا ریسٹورنٹ میں چائے.... مجھے تو کافی لگ رہی تھی.... یہ سب کوئی مریض کر سکتا ہے؟.... سوال بلند ہوا جب آپ نوازشریف کی شکل نہیں دیکھنا چاہتے ہیں تو واپسی کے شور کا رسک کیوں لے رہے ہیں سکون کریں؟ وہ خزانے کو تباہ و برباد کر گیا.... واپسی سے خزانہ بھر جائے گا؟ کتنی دیر تو رہا آپ کی تحویل میں کچھ نکلوایا یا اس سے مقدمات میں بدنامی قطری خط، اقامہ، یہ ہیں ذرائع.... نیب.... قید اور چور چور کے علاوہ ٹھوس مقدمہ کیوں سامنے نہیں آیا حالانکہ اس دور میں اتنے منصوبے بنے موٹروے میں کیوں گھپلا نہیں ثابت ہوا بجلی کے بیسیوں منصوبے لگے سڑکیں پل.... کراچی والے پل کی طرح گرے بھی نہیں.... وہ جی اُس نے اپنے خاندان میں دولت کی صحیح تقسیم نہیں کی آپس میں تحائف بانٹیں کبھی بیٹا باپ سے پیسے لے رہا کبھی باپ کو واپس دے رہا یہ کوئی طریقہ ہے؟.... بھائی باہر رکھنا چاہتا بیٹی واپس لانا چاہتی ہے ان کی تو سوچ ہی نہیں ملتی.... مگر یہ تو آگے کی خاندانی سیاست ہے اس سے ریاست کو کیا....؟

ایک دن دو دن.... ٹاک شوز.... نوازشریف کو واپس لاﺅ.... کون لائے.... برطانیہ کا قانون فرق ہے وہاں ان باتوں پر سزا نہیں قانون دان بھی جواب دے گئے.... نوازشریف کے آنے کا ایک ہی طریقہ بچا ہے کیا؟ وہ خود ہی ترس کھا کر آ جائے اور ملکی میڈیا سکرین پر پہلے جہاز دکھانا شروع کیا جائے ٹکٹ کی تاریخ پٹواریوں کے نعرے پی کے فلائٹ نمبر.... نوازشریف کی آمد.... اتنے منٹ رہ گئے ....اب اتنے....

مندرجہ بالا سیاسی بیٹھکوں کی تنزلی اور ہاہاکار میں نسرین انجم بھٹی کی معروف نظم یاد آ گئی.... پانڈے پونڈے دھو بیٹھے آں.... ہن کیہہ کریئے.... پڑچھتی تے دھر بیٹھے آں ہن کیہہ کریئے.... موضوعاتی پہیہ جب گھوم کر وہیں نشان بناتا ہے جسے وقت بوریت میں مٹا چکا ہوتا ہے تو وقت ختم ہونے کی گھنٹی بج جاتی ہے نعروں، تقریروں اور کردارکشی کرنے سے وقتی گزارہ تو ہو جاتا ہے مگر ثابت نہ کر سکنے کی صورت میں سارا کوڑا کرکٹ واپس جھولی میں گرتا ہے نوازشریف کی دوبارہ ڈھنڈیا مچی تو.... اپنا شعر یاد آیا....

خیال گھوم کے واپس وہیں پہ آیا ہے

اسی کو ڈھونڈنے نکلے جسے بھلایا ہے

کہتے ہیں ضدی انسان بے وقوف ہوتا ہے اپنی انا کا قیدی سوچ کے مخصوص دائرے میں بند....اُسے دستکیں سنائی نہیں دیتیں .... اُسے روشنی دکھائی نہیں دیتی.... سندھ ڈوب رہا پنجاب ڈوب رہا لائٹ ٹاور سے شہادتیں مل رہیں پنجاب میں قیادت کے لئے ایک سے ایک دماغ موجود مگر.... کیا کیجئے؟....”بدی کرتا ہے دشمن اور ہم شرمائے جاتے ہیں“ کے مصداق ہم اپنی تعلیمی قابلیت و اسلاف کی تمام تر ڈگریوں سمیت زمین میں گڑے جاتے ہیں کہ اگر اس ماتحتی میں کام کرنا تھا تو کیا ضرورت تھی ہزاروں پی ایچ ڈیز، ڈاکٹرز، سائنسدان اور ذہین و فطین علماءو فقہا کی جو اس قیادت تلے سانس لے رہے ہیں کہ سانسوں پر بھی شرمندگی ہو.... پورا پنجاب ایک طرف اور ڈھولن ماہی ایک طرف حکومت کی تو خیر ہے کاش ایسی طرف داری ہمیں بھی نصیب ہوتی.... بھلے ایک دن کے لئے ہی سہی.... حکومت تو آنی جانی چیز ہے مگر جو بلامشروط حمایت اور حسن انتظام کو رعایتیں بزدار صحب کو میسر ہوئیں ہیں لوگوں کو پوری عمر گنوا کر بھی ایسے سہارے نہیں ملتے.... اُن کی قسمت میں ایسی شفقت نقش تھی کہ اُن کی فطانت کی گواہیوں پر لوگ مامور ہوں اُن کے معصوم بیانیے سے نکتہ آفرینی کریں اُن کی بات بات سے ذہانت کشید کریں.... اُن کی لاعلمی کو معصومیت اور انتظام کو حسنِ انتظام سے منطبق کیا کریں.... اور صنعت تضاد کے طور پر سندھ حکومت کی انتظامی برائیوں کو سامنے رکھ دیا جائے.... آخرش عرض یہ کہ پچھلی برائیوں پر ہی اکتفا بہتر ہے کہ ان کی جگہ نئی برائیاں لیتی ہیں

کمی ہوئی ہے ذرا سی نئے غموں کے بعد

ہماری پچھلی پریشانیوں میں اب جا کر


ای پیپر