30 اگست 2019 2019-08-30

حکومت اقتصادی کامیابی پر مطمئن نظر آرہی ہے۔ ٹیکس وصولی کے لئے نت نئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ سعودی عرب سے ادھار تیل اور خلیجی ریاستوں سے ادھار قرضے کی مدد ، آئی ایم ایف سے رقم کی فراہمی۔ امریکہ سے بہتر تعلقات کی صورت میں بعض رقومات کی آمد کا آسرا ہے۔ مالیاتی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام خطرناک زون میں داخل ہوچکا ہے۔زمینی حقائق کچھ مختلف ہیں۔ معیشت کا پہیہ ذرا بھی آگے کی طرف نہیں گھوم سکا ہے۔بتایا جاتا ہے کہ رواں مالی سال کے دوران صوبے مطلوبہ ریونیو سرپلس جمع کرنے میں ناکام رہے ہیں، یہی وجہ ہے آئی ایم ایف فنڈ پروگرام رواں مالی سال کی دوسرے ششماہی کے دوران کسی بھی وقت معطل ہونے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔ حکومت ’وصولی‘ کی مہم کے دوران روز نئے نسخے اور وجوہات سامنے لے آتی ہے۔ اب ایف بی آر کے چیئرمین شبر زیدی نے فرمایا ہے کہ پاکستانیوں کے ایک سو نوے کھرب روپے بیرون ملک میں پڑے ہوئے ہیں۔ تاہم یہ رقم لانا مشکل کام ہے۔ یعنی چیئرمین وہ چورن بیچنا چاہ رہے ہیں جو دستیاب ہی نہیں۔ صرف آئیڈیا سیاسی مارکیٹ میں پھینکنا سیاسی عمل ہے۔ چیئرمین ایف بی آر سیاستدان نہیں وہ ٹیکنوکریٹ ہیں انہیں وہ اقدامات اور سفارشات پیش کرنی چاہئیں جو قابل عمل ہوں بلکہ جن پر وہ خود عمل کراسکیں۔

صوبوں کے حصے میں یہ بات ڈال دی گئی ہے کہ رواں مالی سال 2018 کے دوران اگر صوبے 139 تقریباًاعشاریہ87ارب روپے کا ریونیو سرپلس اکٹھا کرنے میں ناکام ہوجاتے تو پاکستان کا بجٹ خسارہ یقینی طور پر جی ڈی پی کے 9فیصد سے تجاوز کرجاتا۔وزیراعظم عمران خان کے دور حکومت کے پہلے سال میں بجٹ خسارہ 3444ارب روپے ہوا ہے جو کہ مجموعی قومی پیداوار کا تقریبا 9فیصدبنتا ہے ۔ آئی ایم ایف کے 6ارب ڈالرز کے بیل آئوٹ پیکج کے تحت حکومت نے بنیادی خسارے کو 2018-19کے جی ڈی پی کے 3اعشاریہ6فیصد سے کم کرکے رواں مالی سال کے دوران اعشاریہ6فیصد کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ لیکن یہ رقم کہاں سے آئے گی؟ اس کی دو تین صورتیں ہو سکتی ہیں۔ اول یہ کہ حکومت ترقیاتی اخراجات منجمند کردے۔ باقی اخراجات میں بڑے پیمانے پر کمی کردے، اور کفایت شعاری کی مہم کا صرف اعلان ہی نہ کرے بلکہ اس پر باقاعدہ عمل کرے۔ ایسا کرنا ممکن نظر نہیں آتا، کیونکہ پی ٹی آئی حکومت کو اعلانات اور تقاریر سے آگے بڑھ کر کچھ عملی کام بھی دکھانا ہے۔ یہ وہ عملی کام ہے جس کے لئے حکومت کو ترقیاتی منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنی پڑے گی۔ انتظامی یا حکومتی اخراجات میں بھی کفایت شعاری نہیں کی جاسکتی۔ عمران خان حکومت نے اقتدار میں آتے ہی کچھ اعلانات کئے، تھوڑی بہت کوشش کی لیکن پتہ چلا کہ کاروبار حکومت میں یہ طریقہ روا رکھا گیا تو انتظام چلانا حکمران جماعت کے عہدیداروں، اور بیورکریسی کے لئے کم پر کشش ہو جائے گا لہذا یہ تحرک ادھورا چھوڑ دیا گیا۔ یا پھر نئے نوٹ چھاپے، نوٹ چھاپ کر افراط زر یعنی مہنگائی میں بے پناہ اضافہ ہو جائے گا۔ اضافی نوٹ چھاپنے کے لئے مطلوب شرائط پورے نہیں ہوسکتے لہٰذا حکومت ملک میں زیر گرش کرنسی میں خفیہ طور پر اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب سو روپے کا سکہ جاری کر کے کچھ ریلیف لینا چاہتی ہے۔

وفاقی حکومت کی نظر صوبوں کی آمدن پر بھی ہے۔ سپریم کورٹ نے بحریہ ٹائون کراچی اراضی الاٹمنٹ سے متعلق کیس میں ایک خطیر رقم ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کی پہلی قسط کے 25 ارب روپے کی رقم سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے ہیں۔ وفاقی حکومت آئین سے بالاتر اقدام کے ذریعے یہ رقم لینا چاہتی ہے۔وہ عدالت سے فیصلہ لینا چاہتی ہے۔ اس مقصد کے لئے وفاق نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ اس کیس میں سندھ حکومت بھی فریق ہے لہٰذا وفاق کی فرمائش پر یہ رقم یوں اس کے حوالے نہیں کی جاسکتی۔ سندھ حکومت نے بھی سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی ہے جس میںیہ موقف اختیار کیا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے بجٹ خسارے میں ہیں وفاقی حکومت کی جانب سے ملنے والے حصے میں خسارے کے باعث کٹوتی کی گئی، جس کے باعث ترقیاتی امور میں خلل پڑ رہا ہے لہذا بحریہ ٹائون کراچی کی جانب سے جمع کرائے گئے 25 ارب سندھ حکومت کو دیے جائیں۔25 ارب کے علاوہ بھی آئندہ کی رقوم سندھ حکومت کو ارسال کی جائے تمام رقوم سندھ حکومت ترقیاتی امور پر خرچ کرے گی ساری رقوم پر سندھ کا ہی حق ہے کیونکہ بحریہ ٹاون کی مذکورہ اراضی جس پر عدالت عظمیٰ فیصلہ جاری کیا وہ سندھ میں ہی واقع ہے۔آئینی طور پر زمین کی فروخت صوبائی معاملہ ہے۔ اگر وفاق کو کسی بھی صوبے میں زمین رفاہ عامہ مقصد یا قومی مفاد کے لئے مطلوب ہوتی ہے تو وہ متعلقہ صوبے سے درخواست کرے گا۔لیکن یہاں پر اس آئینی و قانونی شق کو ایک طرف رکھ کر زمین کے معاوضے کی رقم وفاق خود رکھنا چاہتا ہے۔ اگر سندھ کے کھاتے سے وفاق بحریہ ٹائون والی یہ رقم لے بھی لیتا ہے، باقی صوبوں سے یہ حصہ کس طرح سے وصول کرے گا؟

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی گرفتاری کی ’افواہیں‘ تھمی نہیں۔ ان کے خلاف جعلی بینک اکائونٹس کیس کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں اور وہ پابندی کے ساتھ نیب میں پیشیاں بھی بھگت رہے ہیں۔ جعلی بینک اکائونٹس کیس سے منسلک تقریباً تمام بڑے سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری گرفتار ہوچکے ہیں۔وفاقی حکومت، بلدیہ کراچی اور ایم کیو ایم کراچی کے کچرے کی صفائی کا معاملہ محض اس وجہ سے سندھ حکومت کے گلے میں ڈالنے کے لئے کوشش کر رہی ہے۔ صوبے میں بلدیات کا محکمہ ہے ، جبکہ قانون کے مطابق کچرے اور نالے صاف کرنا ڈسٹرکٹ میونسپل کارپوریشنز کی ذمہ داری ہے اور وہ یہ کام بعض سیاسی مقاصدحاصل کرنے کے لئے نہیں کرنا چاہ رہی ہیں۔ بہرحال وفاقی حکومت اور ایم کیو ایم کے زیراثر میڈیا منظم انداز سے صوبائی حکومت کے خلاف مہم چلانے میں کامیاب نظر آتاہے۔ اب ملک بھر میں کراچی کے متعلق بدترین تاثر پھیل رہا ہے ۔ دوسری طرف وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ وہ گرفتاری سے قبل ضمانت کے مخالف ہیں۔جبکہ پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو کا موقف ہے کہ جیل کے اندر یا ہو یا باہر، وزیراعلیٰ مراد علی شاہ رہیں گے، انہیں تبدیل نہیں کیا جائے گا۔ سندھ میں صورتحال کچھ یوں بن رہی: ’تم اپنے تیر آزمائو، ہم اپنا جگر آزمائیں گے‘۔


ای پیپر