مقبوضہ کشمیر ۔۔۔ رنگ لائے گا شہیدوں کا لہو؟
30 اگست 2019 2019-08-30

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جبر و استبداد اور مظالم کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ وادی میں کرفیو کے نفاذ کو چار ہفتے ہونے کو ہیں۔ بھارتی فوج نے مزید مورچے قائم کر لیے ہیں اور اس کی طرف سے فائرنگ اور شیلنگ کا سلسلہ جاری ہے جس میںکتنے ہی معصوم کشمیری جانوں سے ہاتھ ہی نہیں دھو بیٹھے ہیں بلکہ درجنوں کے حساب سے بے گناہ کشمیری ادویات اور خوراک کی قلت اور علاج معالجے کی سہولتیں میسر نہ ہونے کی بنا پر شدید زخمی حالت میں پڑے اور سسک سسک کر جان دے رہے ہیں۔ 5اگست کے بعد اب تک کتنے لوگ شہید اور زخمی ہو چکے ہیں اس کے صحیح اعداد و شمار دستیاب نہیں کہ بھارتی فوج نے شہداء کے جنازوں میں شرکت پر جہاں پابندی لگا رکھی ہے وہاں مقبوضہ وادی کے تمام ہسپتالوں کی انتظامیہ کو شہید ہونے والوں کے Death Certificate ـ(اموات کے سرٹیفکیٹ)جاری نہ کرنے کی ہدایات بھی دے رکھی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی اس حد تک بڑھ چکی ہیں کہ اقوامِ متحدہ کو بھی بھارت سے کہنا پڑا ہے کہ وہ انسانی حقوق کے ماہرین کو کشمیر جانے دے۔دوسری طرف بھارت نے لائن آف کنٹرول پر بھی اشتعال انگیز کاروائیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ لائن آف کنٹرول کے اس پار آزاد کشمیر میں سویلین آبادی کو گولہ باری کا نشانہ بنانا اس کا روز کا معمول بن چکا ہے۔مبصرین کے مطابق اس سے بھارت کا یہ مقصد ہو سکتا ہے کہ لائن آف کنٹرول کے اس طرف سول آبادی گولہ باری کا نشانہ بنائے جانے کی صورت میں انخلا ء پر مجبور ہو جائے گی اور بھارت کو ان علاقوں پر قبضہ جمانے کا موقع مل سکے گا ۔ لیکن ایں خیال است ، محال است و جنوں است کہ پاکستانی جانباز اور دلیر مادرِ وطن کے دفاع اور اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لیے ہمہ دم چوکس،مستعد اور ہوشیار اپنی چوکیوں میں موجود ہیں۔ ان کی مجبوری یہ ہے کہ وہ بھارتی مقبوضہ علاقے میں کھل کر گولہ باری نہیں کر سکتے کہ ادھر کشمیر ی مسلمان بھائیوں اور جانبازوں کا جانی نقصان ہوگا۔ تاہم وہ بھارت کی اشتعال انگیز کاروائیوں سے صرف نظر نہیں کرتے اوربھارتی چوکیوں، بینکروں اور ان کے گولے بارود کے چھوٹے بڑے ذخیروں کو نشانہ بنا کر بھارت کا کہیں زیادہ جانی اور اسلحے و گولے بارود کا نقصان کرکے بھارت کو مسکت جواب دیتے رہتے ہیں۔

یہاں مجھے 54سال قبل اگست ، ستمبر 1965 کے مہینے یاد آرہے ہیں کہ جب کشمیر کے مسئلے پر پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی حد سے بڑھی ہوئی تھی۔ لائن آف کنٹرول کے اُس پار مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین کی کاروائیاں زور پکڑے ہوئے تھیں۔ انہیں مقامی آبادی کا تعاون بھی حاصل تھا اور آئے روز بھارتی فوج کے کیمپ اور ان کے اسلحے کے ڈپو مجاہدین کی گوریلا کاروائیوں کا نشانہ بن رہے تھے۔ ان حالات میں یکم ستمبر 1965 کو پاکستان کے مسلح دستوں نے چھمب جوڑیاں سیکٹر میں لائن آف کنٹرول کو عبور کرکے مقبوضہ کشمیر میں پیش قدمی شروع کی۔ پاکستان کے مسلح دستے کامیابی کے جھنڈے گاڑھتے دریائے توی کو بھی عبور کرگئے۔ بھارتی مسلح دستے انتہائی بے بسی اور شکست خوردگی کے عالم میں پسپائی ہی اختیار نہیں کیے ہوئے تھے بلکہ وہ مغربی ممالک برطانیہ ، فرانس اور امریکہ وغیرہ سے چین سے مقابلے کے نام پر ملنے والا پیٹیوں میں بند اسلحہ اور گولہ بارود بھی چھوڑ کر بھاگ رہے تھے ۔ اس دوران بھارتی بریگیڈ کمانڈر نے اپنی ہائی کمان کو Send Whisky کے کوڈ ورڈ میں پیغام بھیجا۔جس کا مطلب تھا کہ پاکستان کے مسلح دستوں کی پیش قدمی روکنے کے لیے اُسے فضائیہ کے طیاروں کی کمک بھیجی جائے۔ پاکستان فضائیہ کے اس وقت کے کمانڈر ان چیف ائیر مارشل نورخان جو ایک بڑے دلیر، جری اور نڈر کمانڈر اور ماہر ہوا باز تھے اپنی اعلیٰ کمانڈ کی مخالفت کے باوجود ایک چھوٹے غیر مسلح طیارے میں جنگ کے علاقے میںفضا میں موجود تھے ۔ خیر Send Whisky کے پیغام کے جواب میں بھارت کے کم از کم چار ہنٹر اور مسٹیر لڑاکا طیارے پاکستان کے مسلح دستوں کی پیش قدمی روکنے اور انھیں نشانہ بنا نے کے لیے جنگ کے علاقے میں پہنچ گئے۔ پھر کیا ہوا کہ ہمارا ایک F104 سٹار فائٹر طیارہ جو پہلے سے فضا میں موجود تھا وہ بھارتی ہنٹر اور مسٹئیر طیاروں کا استقبال کرنے کے لیے آگے بڑھا اور چشمِ زدن میں دو بھارتی طیارے آگ کے گولوں کی شکل میں زمیں پر آن گرے اور دوسرے طیارے دم دبا کر بھاگ گئے۔ ایئر مارشل نورخان مرحوم نے فضامیں اپنے چھوٹے طیارے میں یہ معرکہ آرائی دیکھی اور کچھ ہی دیر میں سٹار فائٹر طیارے کے سرگودھا ائیر بیس پر لینڈ کرنے سے قبل وہ سرگودھا ائیر بیس پر پہنچ گئے اور سٹار فائیٹر کے اپنے جانباز پائلٹ کا اپنی اعلیٰ کمان کے ساتھ گرم جوشی سے استقبال کیا۔

یکم ستمبر کی رات 8بجے کی ریڈیو پاکستان کی خبروں میں دو بھارتی طیاروں کے مار گرائے جانے کی خبر سپر لیڈ کے طور پر شامل تھی۔ 54سال گزرنے کے بعد آج بھی مجھے لگ رہا ہے جیسے پاکستان کے مایہ نازریڈیو نیوز ریڈر شکیل احمد مرحوم کے اس خبر کو سنانے کے پرجوش الفاظ میرے کانوں میں گونج رہے ہیں۔ اب کیا تاریخ ایک بار پھر اپنے آپ کو دہرائے گی اور بھارتی چوکیوں ، فوجیوں، گولہ بارود کے ذخائر اور ان کے طیاروں کو پاکستان فضائیہ اور پاکستان کے مسلح دستوں کے ہاتھوں نشانہ بنانے کی خبریں اور تصویری رپوٹیں دیکھنے اور سُننے کو ملیں گی۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم ضرور رنگ لائیں گے لیکن اب کی با ر شاید ایسا نہیں ہوگا کہ جو پہلی جنگوں میں ہوتا رہا ہے۔ اب تو بٹن دبانے کی دیر ہے اور ایٹمی وار ہیڈ اور میزائل آن واحد میں اپنے تارگٹ کو نشانہ بنا کر صفحہ ہستی سے اس کے نام و نشان کو مٹا کر رکھ دیں گے۔

تقریبا ً نصف صدی قبل اگست، ستمبر 1965 کی یادوں اور باتوں کا سلسلہ بڑا طویل ہے اس کا تذکرہ ہوتا رہے گا ۔ اس وقت یعنی وقت موجود میں گھڑی کی ٹک ٹک کی صورت میں جو لمحات گزر رہے ہیں اور جوالم ناک حالات و واقعات ہر لمحے ایک نیا روپ اختیار کیے ہماری نگاہوں کے سامنے آرہے ہیں ان کاکچھ تذکرہ کرلیتے ہیں ۔کون ہے جوبزرگ کشمیری رہنما بطل حریت سید علی گیلانی جو پیرانہ سالی کے باوجود بھارت کے تسلط سے کشمیر کو آزاد کروانے کے اپنے مقصد اور نعرے کو ایک لمحے کے لیے بھی فراموش کرنے کے لیے تیار نہیں ہے کی پکار کو نظر انداز کر سکتا ہے۔ بزرگ حریت رہنما نے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کے مسلسل نفاذ اور دیگر پابندیوں اور بھارتی مظالم کے خلاف اپنے احتجاج کو جاری رکھتے ہوئے کشمیریوں سے کہا ہے کہ اُٹھ کھڑے ہوں اور پاکستان اور اُمہ ان کا ساتھ دے۔اپنے گھر میں نظر بند بزرگ کشمیری رہنما نے کشمیریوں کے نام اپنے خط میں لکھا ہے کہ کشمیری عوام بہادری سے بھارتی مظالم کے خلاف کھڑے ہیں ۔ بھارتی فوج مارنے کے لیے اور کشمیری احتجاج کے لیے تیار ہیں ۔ بھارت اپنی پوری فوج بھی مقبوضہ کشمیر میں لے آئے تب بھی کشمیری عوام اپنے حقوق اور آزادی کی جدوجہد سے دستبردار نہیں ہونگے۔

بزرگ کشمیری رہنما کے یہ خیالات بڑے واضح ہیں اور ان میں کوئی اگر مگر ، کوئی ہیر پھیر اور کوئی ابہام نہیں ۔ انھوں نے ایک بار پھر اپنے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ کشمیری عوام بھارت سے آزادی تک اپنی جدوجہد سے دستبردار نہیں ہونگے لیکن سوچنے کی با ت یہ ہے کہ انھوں نے پاکستان اور مسلم اُمہ کو جو اپیل کی ہے اس کا کیا جواب ان کے سامنے آیا ہے یا آئے گا ؟یقینا جو جواب سامنے آیا ہے وہ ہمارے لیے لمحہ ِ فکریہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستانی حکومت اور عوام جیسے بھی ہے کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ وہ آج ہی سے نہیں جب سے کشمیر کا مسئلہ پاکستان اور بھارت کے درمیان وجہ تنازعہ بنا ہے کشمیریوں کی ہر فورم پر بھر پور حمایت ہی نہیں کرتے چلے آرہے ہیں بلکہ کشمیر کے لیے جانی مالی اور ہر طرح کی قربانیاں بھی دیتے چلے آرہے ہیں۔یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ کشمیر کی وجہ سے پاکستان اور بھارت کے درمیان کم از کم تین جنگیں ہی نہیں ہوچکی ہیں بلکہ پاکستان کو دنیا میں ہر فورم پر بھارتی دشمنی ، تنگ نظری اور انتہا پسندی کا نشانہ بھی بننا پڑا ہے۔ پاکستان کی کشمیریوں کے ساتھ ایک کمٹ مٹ ہے اور پاکستان ہر حال میں اس کو پورا کرنے کی راہ پر گامزن رہا ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ ہم سے کچھ کوتاہیاں بھی ہوئیں، کچھ غلطیاں بھی ہوئیں اور کشمیر کو بھارتی تسلط سے آزاد کروانے کے کئی بہتر مواقع بھی ضائع ہوئے لیکن اس سب کچھ کے باوجود پاکستان کا کردار ایسا نہیں ہے جس پر کوئی انگلی اُٹھائی جا سکے۔ تاہم کشمیر کے حوالے سے مسلم امہ بالخصوص متحدہ عرب امارات ، بحرین اور سعودی عرب کا کردار ایسا نہیں ہے جس کی برادر اسلامی ممالک سے توقع کی جاسکتی ہو۔ امارات جیسے دولت کے نشے میں مخمور کم ظرف ملک کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ایران جیسا حریف ملک اس پر چڑ ھ دوڑے تو اس میں چند گھنٹوں تک مقابلہ کرنے کی سکت نہیں ۔ سعودی عرب پاکستان کو خصوصی برادر ملک سمجھتا ہے اورپاکستان پر اس کے احسانات بھی ہیں لیکن اس کا حالیہ رویہ ایسا نہیں ہے جس کو قبول کیا جا سکے۔ شام، مصر ، کویت، مراکش، سوڈان، لیبیا اور الجزائر جیسے ممالک شاید اپنے مسائل میں اتنے الجھے ہوئے ہیں کہ انہیں پاکستان جیسے عالمِ اسلام کے لیے سپر کا کردار ادا کرنے والے ملک کی پرواہ نہیں ہے۔ اور نہ ہی کشمیری عوام کے جذبات کا انہیں کچھ پاس ہے۔ترکی کا رویہ بہرکیف حوصلہ افزاہے۔ اللہ کرے گا یہ کڑا وقت بھی گزر جائے گا لیکن اسلامی ممالک کے حکمران اس دنیا میں اور کل آخرت میں ساتی کوثرؐ کے حضور کیا جواب دے سکیں گے کہ انھوں نے اپنے جسم کی مانند مسلمان بھائیوں پر توڑے جانے والے مظالم سے آنکھیں چُرائے رکھیں ۔

اچھا ہوا ہے پاکستانی فوج نے 6ستمبر کو یومِ شہداء (یوم ِ دفاع) کو دن کے وقت منانے اور" کشمیر بنے گا پاکستان" کو یوم دفاع کی تقریبات کا حصہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے یقینا کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو نیا حوصلہ اور جذبہ ملے گا ۔


ای پیپر