عجب کرپشن کی غضب کہانی
30 اگست 2019 2019-08-30

یہ بات تو لاہور کی محترمہ ڈپٹی کمشنر ہی بتا سکتی ہیں کہ کاچھا سبزی و پھل منڈی میں ہونے والی لاکھوں اور کروڑوں روپوں کی کمائی کہاں جا رہی ہے، توبہ توبہ، میں نے یہ کب کہا کہ یہ کمائی یا اس کا کچھ حصہ ان کے پرس میں جا رہا ہے مگر یہ بات تو طے شدہ ہے کہ دبئی سٹائیل میں بنی ہوئی سبزی منڈی میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ اس سے لاعلم نہیں ہوسکتیں کیونکہ وہی وہاں کام کرنے اور دکھانے والوں کی ’بگ باس‘ ہیں یا کسی حد تک یہ معاملات ایگریکلچر مارکیٹنگ کے منسٹر اور سیکرٹری کے علم میں ہوں گے۔ میں نے جو کچھ دیکھا ہے اس کی بنیاد پر بلاخوف تردید کہہ سکتا ہوں کہ وہاں لاکھوں روپوں کی دیہاڑیاں لگ رہی ہیں مگر یہ سب کچھ بتانے سے پہلے آپ کو اس منڈی کے بیک گراونڈ کے بارے میں بتانا بہت ضروری ہے۔

لاہور کے گندے ترین روہی نالے کے کنارے پر اس منڈی کو شہباز شریف نے دوسری مرتبہ وزیراعلیٰ بننے کے ساتھ ہی بنانے کا حکم دیا تھا کیونکہ ماڈل ٹاون میںا ن کے گھر سے بہت قریب کوٹ لکھپت کی عشروں پرانی سبزی منڈی تھی جو ارفع کریم ٹاور اوراتفاق ہسپتال کے ساتھ بدصورت بھی لگتی تھی اور سیکورٹی رسک بھی ۔منطق یہ بھی تھی کہ ماڈل ٹاون سے ملحقہ اور ماڈل ٹاون کچہری کے سامنے یہ علاقہ اب شہر کا حصہ بن گیا تھا اور منڈیا ں بہرحال شہروں کے اندر نہیں ہونی چاہئیں لہذا اسے مجوزہ رنگ رو ڈ کے ساتھ ڈیزائن کیا گیا۔ اس منڈی میں دو سوا دوسو رجسٹرڈ آڑھتی اور کاروباری تھے جن کے پاس اپنی دس ، دس مرلے کی دکانیںتھیں۔ وہا ں راتوں رات بلڈوزر بھیجے گئے جنہوں نے علاقے کی مسجد کے علاوہ سب کچھ ملبے کا ڈھیر بنا دیا۔

اس امر سے انکار نہیں کہ کاہنا کاچھا کے قریب اس نئی سبزی منڈی کے لئے اربوں روپوں کے فندز رکھے گئے مگر جب تاجر وہاں منتقل ہوئے تو وہاں سب کچھ زیر تعمیر تھا۔ وہاں ایک ارب پینسٹھ کروڑ روپوں سے شیڈ تعمیر ہوئے جہاں پھڑیوں نے بیٹھنا تھا۔ میں گذشتہ اتوار کی صبح وہاں سبزی اور پھل منڈی کے تاجروں کے عہدیداروں کی دعوت پر وہاں پہنچا تو منڈی کا ایک کشادہ، بلند و بالا گیٹ تھا، کوئی آٹھ ،دس لین کی سڑک اندرباہر آجا رہی تھی۔ میرے سامنے ایک خوبصورت مسجد اپنے شاندار میناروں کے ساتھ سر فخر سے بلند کئے کھڑی تھی۔ وسیع پارکنگ کے ایریاز تھے،رہنمائی کے لئے خوبصورت نیلے رنگ کے بورڈ ہر جگہ لگے ہوئے تھے، پھڑیوں کی مارکیٹ کے ساتھ الیکٹرانک بورڈ بھی نصب تھے جن پر قیمتیں گردش کر رہی تھیں، وہاں پولیس چوکی بھی تھی اور ڈسپنسری بھی، مارکیٹ کمیٹی کے دفاتر سے لے کر ہر وہ شے موجود تھی جس کی آپ ایک جدید سبزی منڈی میں ضرورت محسوس کر سکتے ہیں۔ بلندو بالا شیڈ تھے اور کھلے راستے مگریہ سب خالی اورویران تھے، ہاں، ان کے ایک حصے میں کچھ لوگ ضرور موجود تھے کہ انہیں وہاں نیلامی کرنے کی ڈپٹی کمشنر آفس سے اجازت ہے اور ان کے علاوہ بھی کچھ لوگ تھے جو بتا رہے تھے کہ وہ روزانہ سو سے پانچ سو روپے دے کر وہاں ٹھیا لگانے کی خصوصی اجازت لیتے ہیں۔

آپ بھی جا کر دیکھ سکتے ہیں کہ اس اربوں روپوں سے بنی ہوئی سبزی اور پھل منڈی میں کاروبار نہیں ہو رہا بلکہ اس کی دیوار کے ساتھ کچی جگہ پر آڑھتی خریدوفروخت کرتے ہیں جہاں مچھروں سے بھرے غلیظ پانی کے جوہڑ ہیں،راستے کیچڑ سے بھرے ہوئے ہیں،کچی جگہیں غیر ہموار ہیں اور سب سے بڑھ کر اس سبزی منڈی کی بجلی اس نہیں بلکہ اس سے بھی پچھلے رمضان سے کٹی ہوئی ہے کیونکہ تاجروں کے مطابق مارکیٹ کمیٹی نے ان سے بل تو وصول کر لئے مگر وہ آگے جمع ہی نہیں کروائے بلکہ بجلی کٹ جانے کے بعد اخراجات اورنذرانے کے نام پر بھی وصولیاں ہوئیں مگر وہ بھی ہضم ہو گئے۔ جہاں سے لاہوریوں کو سبزیاں سپلائی ہوتی ہیں شاید وہ لاہور کی گندی ترین جگہ ہے کہ ضلعی انتظامیہ نے اس مرتبہ فیصلہ کیا ہے کہ قربانی کے جانوروں کی شہر بھر سے جمع کی جانے والی آلائشیں بھی اسی سبزی منڈی میں ڈمپ کی جائیں گی لہذا وہاں گندگی کے علاوہ بدبو بھی ہے جو بجلی کے پنکھوں وغیرہ کی عدم موجودگی میں ایک الگ ہی ماحول بناتی ہے۔

میں نے پوچھا، یہ تو عملی طور پر ایک نہیں دو پاکستان ہیں، ایک پاکستان وہ ہے جہاں اربوں روپے لگے اور وہ دوبئی سٹائل میں ہے اور ووسرا پاکستان غلاظت کا ڈھیر ہے تو علم ہوا کہ جولائی 2011ءسے لے کر اب تک پانچ مرتبہ مختلف ڈی سی اوز نے آڑھتیوں اور تاجروں کی سکروٹنی کی کہ انہیں نئی منڈی میں الاٹ منٹ کی جا سکے مگر ہر مرتبہ ہر ڈی سی او لسٹ پر دستخظ کئے بغیر ہی چلا گیا۔ میں احد چیمہ، نورالامین مینگل، کیپٹن عثمان اورصالحہ سعید جیسے ناموں پر کوئی الزام نہیں لگا سکتا مگر سوال یہ ہے کہ عدالت کے احکامات کے باوجود یہ منتقلی کیوں نہیں ہوئی۔ ایک جواب تو یہ ہے کہ اس وقت وہاںایک سے پانچ سو روپے کا جگا ٹیکس ہے جو باقاعدہ الاٹمنٹ کی صورت میں ختم ہوجائے گا کہ سینکڑوں کاروباریوں سے لی جانے والی اس’ فیس‘ کی کوئی رسید بھی نہیں ہے۔ یہ لاہور کی وہ جگہ ہے جہاں آپ کو سائیکل سے ٹرک تک انٹری کے لئے بیس سے پانچ سو روپوں تک الگ دینا پڑتے ہیں اور پھر اس کے بعد پارکنگ فیس الگ ہے ۔ مختلف ذمہ داروں کاکہنا ہے کہ وہاں ٹھیکے ہیں مگر دنیا میں کون سے ٹھیکے ہیں جن کے ٹھیکیدار بغیر رسید کے فیس لیتے ہیں اور بغیر رسید کے ہی ہزاروں روپوں کے جرمانے کر دیتے ہیں۔ اب یہ کوئی ماہر علم نجوم ہی بتا سکتا ہے کہ اگر آپ کو آمدن کا حساب ہی نہ ہو تو آپ ٹھیکے کی مالیت کس طرح طے کر سکتے ہیں۔ کہاجا رہا ہے کہ نئی الاٹمنٹ کم و بیش دس کروڑ روپے کی دیہاڑی ہے کہ چار سو سے زائد بیوپاری جب الاٹمنٹ کروائیں گے تو دو ، چار لاکھ روپے فی کس نذرانہ تو دینا پڑے گا لہٰذا ا وہ الاٹمنٹ رکی ہوئی ہے۔

میں نہیں جانتا کہ وہاںآڑھتیوں سے جو روزانہ وصولی ہوتی ہے وہ کس قانون کے تحت ہوتی ہے اور پھر کس قانون کے تحت اس کی رسید نہیں دی جاتی۔ پھل منڈی والے تو یہ بھی بتاتے ہیں کہ اکثر و بیشترمتعلقہ حکام کے ساتھ ٹرالی آتی ہے جس میں پھل زبردستی لوڈ کر لیاجاتا ہے۔ اب مجھے معلوم ہوا کہ سرکاری عہدیدار اپنے بڑوں اورپیاروں کو پھلوں کی ٹوکریاں کیسے بھیج دیتے ہیں۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ کراچی کی بھتہ خوری کی کہانیاں تو سب سناتے ہیں مگر جو بھتہ خوری کاچھا کی سبزی اور پھل منڈی میں ہے وہ کراچی والوں کوبھی شرماتی ہے۔ موٹے موٹے حساب کتاب سے اندازہ ہوا کہ انٹری فیس اور پارکنگ سے آڑھتیوں اور مختلف جرمانوں کی مد ات میں روزانہ لاکھوں روپے کی کمائی ہے مگر چونکہ اس کی کو ئی رسید نہیں، کوئی ریکارڈ نہیں لہٰذا وہ کہاں جا رہی ہے وہ میرے شہر کے ذمہ دار اور بااختیار ہی بتا سکتے ہیں، یہ میرے شہر کے چھوٹے چھوٹے سیسلین مافیا ہیں اوران سے ایک غیر ضروری ضمنی سوال یہ ہے کہ شہر کو اتنے غلیظ اور گندے ماحول سے جب آپ پھل اور سبزیاں سپلائی کریں گے تو کیا آپ انہیں ہائی جینک کہہ سکیں گے؟


ای پیپر