نیدرلینڈ میں گستاخانہ خاکوں کا مقابلہ کیسے رکوایا جاسکتاہے؟
30 اگست 2018 2018-08-30

نیدرلینڈشمال مغربی یورپ کا ایک خوبصورت اور ترقی یافتہ ملک ہے۔ نیدرلینڈ کا دوسرا نام ہالینڈ بھی ہے۔ یہ بالکل ایسے ہے جیسے یوکے کو انگلینڈ کہا جاتا ہے۔ 26جولائی 1585ء کو نیدر لینڈ سپین سے آزاد ہوا جسے، 30 جنوری1648ء میں باقاعدہ ملک تسلیم کر لیا گیا۔ 5جون 1806ء کو نیدرلینڈ میں بادشاہت کا آغاز ہوا۔ 16 مارچ 1815ء کو نیدر لینڈ نے فرانس کی بادشاہت سے آزادی حاصل کی۔ اِس وقت نیدر لینڈ میں بادشاہت اور جمہوریت دونوں نظام قائم ہیں۔ نیدرلینڈ کے بادشاہ کا نام ولیم الیگزینڈر اور وزیراعظم کا نام مارک روٹ ہے۔ نیدرلینڈ حکومت کو وزیراعظم چلاتے ہیں، جب کہ بادشاہ کا بھی ملک کے انتظام میں استحقاق تسلیم کیاجاتاہے۔ نیدرلینڈ کاکل رقبہ 42 ہزار 508 کلو میٹر ہے۔ نیدر لینڈ کے صوبوں کی تعداد 12 اورکل آبادی 1کروڑ70لاکھ سے زائد ہے۔ نیدرلینڈ میں 50فیصد لوگ لامذہب (ملحدین)، 43فیصد عیسائی، 5فیصد مسلمان اور ایک عشاریہ ایک فیصد ہندو اور دیگر مذاہب کے ماننے والے ہیں۔ نیدر لینڈ یورپ کا قدیم اور یورپ کے دیگر ممالک میں انتہائی اثرورسوخ رکھنے والا ملک ہے۔پہلی جنگ عظیم میں نیدر لینڈ اگرچہ نیچرل رہا، مگر دوسری جنگ عظیم،یورپ میں سرد جنگ،بوسنییا سربیا جنگ، امریکا کوریا جنگ، امریکا افغانستان جنگ، امریکا عراق جنگ سمیت دیگر جنگوں میں یورپ اور امریکا کا مضبوط اتحادی بھی رہ چکاہے۔

معیشت کے لحاظ سے نیدرلینڈ یورپ کا مضبوط ترین ملک ہے۔ چنانچہ اکانومی کے اعتبار سے نیدر لینڈ یورپ کا چھٹا بڑا ملک، جب کہ دنیا کا 18واں بڑا ملک ہے، جس کی GDP 825.745 بلین ڈالر ہے۔ ایشیا سے باہر دنیا کی دوسری بڑی پورٹ اور یورپ کی سب سے بڑی پورٹ نیدرلینڈکے شہر روٹ ڈرم میں ہے۔سنگاپور سے پہلے دنیا کی سب سے زیادہ استعمال ہونے والے پورٹ یہی نیدر لینڈ کی پورٹ تھی۔ نیدرلینڈ کی اکانومی کا زیادہ تر انحصار، زراعت، انڈسٹریز، تجارت، کیمیکل،اسلحہ سازی، شپنگ، کاسمیٹک، فوڈز اور سیاحت وغیرہ پر ہے۔ صرف سیاحت کی مد میں نیدرلینڈ 15بلین ڈالرز سے زائد کی رقم سالانہ کماتا ہے۔ زراعت،انڈسٹریز،فوڈ،شپنگ اور تجارت میں آمدنی بے تحاشاہے۔ نیدرلینڈ کی چاربڑی کمپنیاں دنیا کی ٹاپ کمپنیوں میں شمارہوتی ہیں۔جن میں " ڈچ شیل آئل اینڈ گیس کمپنی "دنیا کی 5ویں بڑی کمپنی ہے۔ یورپ، امریکا،ایشیا اور افریقا کے بیشتر ملکوں میں یہ کمپنی اپنی مصنوعات بیچتی ہے۔اس کمپنی کے ملازمین کی تعداد 97ہزار سے زائد ہے۔جس کے اثاثوں کی مالیت 407,097ارب ڈالر،سالانہ منافع 12,977.0، ریونیو 311، 870 ارب ڈالر ہے۔پاکستان کے 5ائیرپورٹ سمیت ملک بھر میں ہزار سے زائد شیل پٹرول اسٹیشن ہیں۔ملک بھر سے بے پناہ منافع کمایا جاتاہے۔2017میں بہاولپور کے قریب احمد پور شرقیہ میں شیل پٹرولیم کمپنی کی گاڑی حادثے میں 150سے زائد لوگ جاں بحق ہوئے تھے جب کہ درجنوں زخمی ہوئے۔نیدر لینڈ کی دیگر مشہور کمپنیوں میں ایگزر ((Exor،ائیربس((Aribus،یونی لیور((Uniliverاور آئی این جی بنک((INGشامل ہیں۔اس کے علاوہ ایگریکلچرل آئیٹم ایکسپورٹ کرنے میں نیدرلینڈ امریکا کے بعددنیا کا دوسر ا بڑا ملک ہے ۔2017ء میں نیدرلینڈ نے 92ارب یورو کی ایگریکلچر اشیاء ایکسپورٹ کیں۔ ہندوستان میں مسلمانوں کی 800 سالہ حکومت کو ختم کرنے میں مرکزی کردار ادا کرنے والی برطانیہ اور نیدرلینڈ ہی کی ایسٹ انڈیا کمپنی تھی جو 17ویں صدی کے آغاز میں بنائی گئی۔اس وقت بھی دنیا کے ہر ہر گھر میں یونی لیور کمپنی کی

مصنوعات ہیں،یہ کمپنی بھی نیدرلینڈ میں بنائی گئی تھی جو اب نیدر لینڈ اور برطانیہ کی مشترکہ کمپنی ہے۔ دنیا کے 68سے زائد ممالک کے ساتھ نیدرلینڈ کے مضبوط تجارتی تعلقات قائم ہیں۔

بین الاقوامی تعلقات میں نیدر لینڈیورپ کے دیگر اہم ممالک، فرانس، جرمنی، برطانیہ کی طرح اہم ترین کردار رکھتاہے۔نیدرلینڈاقوام متحدہ،سیکورٹی کونسل، نیٹو،یورپی یونین اور امریکا سمیت دیگر دنیا کی کئی اہم تنظیموں کا نہ صرف رکن بلکہ اہم ترین رول پلے کرنے والا ملک ہے۔دنیا کے اکثر ممالک کے ساتھ نیدرلینڈ کے بہترین تعلقات ہیں جس کی وجہ سے نیدر لینڈ کی دنیا سے تجارت بہت زیادہ ہے۔دنیا کی پانچ بڑی بین الاقوامی عدالتیں نیدر لینڈ میں واقع ہیں،جن میں عالمی عدالت برائے انصاف نیدر لینڈ کے شہر ہیگ میں واقع ہے۔اسی عالمی عدالت میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کلبھوشن یادیو کیس چل رہاہے،جس کی روزانہ سماع�آآئندہ سال سے شروع ہوگی۔

پاکستان اور نیدر لینڈ کے تعلقات کاباقاعدہ آغاز 1947ء میں قیام پاکستان کے بعد ہوا۔اگرچہ اس سے پہلے 17ویں صدی میں نیدرلینڈ کے تاجر سندھ کے شہر ٹھٹھہ میں تجارت کی غرض سے آچکے تھے۔ نیدرلینڈ نے 1955میں پہلی بار کراچی میں ڈچ ایمبیسی کھولی جو دس سال بعد اسلام آباد شفٹ ہوگئی۔اس وقت نیدرلینڈ کی اسلام آباد میں ایمبیسی، جب کہ لاہور اور کراچی میں قونصل خانے قائم ہیں۔بعدازاں نیدرلینڈ کی ائیرلائن نے کراچی میں "مِڈوے"کے نام سے ہوٹل کھولا جو اب رمادا پلازا ہوٹل کے نام سے کراچی ائیرپورٹ پر موجود ہے۔1948میں نیدرلینڈ کی کمپنی "فلپس" نے پاکستان میں کام کاآغاز کیا،جس کے بعد یونی لیور،شیل آئل اینڈ گیس کمپنی سمیت دیگر بہت ساری کمپنیوں نے پاکستان میں اپنے ہیڈکواٹر کھول لیے۔ نیدرلینڈ برطانیہ،جرمنی،اٹلی، سپین کے بعد پاکستان کا پانچواں بڑی تجارتی شراکت دار ہے۔ ڈیری مصنوعات،رنگ وروغن، سرجیکل آلات، پھول، خوشبو، کاسمیٹک، الیکٹرانکس، اشیاء ،معدنی تیل، پٹرول، گیس اور زرعی مصنوعات سمیت دیگر کئی اشیاء نیدرلینڈ کی کمپنیاں بیچ کر پاکستان سے لاکھوں ڈالر منافع کمارہی ہیں۔سال 2017 میں ہالینڈ کی کمپنیوں نے پاکستان سے30کروڑ 25لاکھ ڈالر منافع کمایا ،جب کہ پاکستان نے ہالینڈ سے کم وبیش ساڑھے 90لاکھ ڈالر کی اشیاء درآمد کیں،جن میں 63لاکھ ڈالر کی صرف ڈیری مصنوعات تھیں۔پاکستان کے زرعی شعبے میں نیدرلینڈ کی مشہورکمپنی RIESLAND COMPINAپاکستان میں اینگرو یوریا،سونا یوریا، سمیت دیگر کئی قسم کی کھادیں اور فصلوں کی ادویات سمیت ڈیری مصنوعات بیچ کربھاری منافع کمارہی ہیں۔

جنوری 2017میں نیدرلینڈ کی پاکستان میں سفیر جین سیفن نے سی پیک منصوبے میں نیدرلینڈ کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا نیدر لینڈ میرین شعبے میں بے پناہ تجربہ رکھتاہے۔ نیدرلینڈ کی خواہش ہے کہ وہ گوادر اور کراچی پورٹ میں سرمایہ کاری کرکے نیدر لینڈ کی کمپنیوں کو پاکستان میں آنے کی دعوت دے ۔انہوں نے مزید بتایا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت 1بلین ڈالرز سے زائد کی ہورہی ہے۔2004میں پاکستان کے 100کے قریب جونئیر ڈپلومیٹس نے نیدرلینڈ کی یونیورسٹی Netherlands Institute of International Relations Clingendaelسے تعلیم حاصل کی۔

نیدرلینڈ کے مذکورہ تعارف کا مقصد10 نومبر2018میں نیدر لینڈ میں ہونے والے گستاخانہ خاکوں کے مقابلے کے حوالے سے حقیقت حال واضح کر کے ان مقابلوں کو رکوانے کے لیے لائحہ عمل بتانا تھا۔مقدس شخصیات کی توہین قول وفعل کے ذریعے، خاکوں ،کارٹونز کے ذریعے یا کسی بھی طریقے سے کرنا دنیا کے ہر مذہب میں ادنیٰ درجے میں غیر اخلاقی گردانا جاتاہے،بلکہ بعض ممالک میں بادشاہوں یا وزراء یا دیگر حکومتی عہدیداروں کی توہین،کسی ملک کی عدالت،جج،جھنڈے،فوج وغیرہ تک پر بات کرنا قابل جرم سمجھا جاتاہے۔چنانچہ دنیا کے 21 سے زائد مسلمان ممالک میں مقدس شخصیات کی توہین قابل سزا جرم ہے،جن میں سعودی عرب، قطر، دبئی، بحرین، کویت، اردن، لبنان، عمان، ترکی، مصر، مراکش، الجزائر، سوڈان، صومالیہ، مغربی، صحارا، ملائیشا، انڈونیشیا، ایران، افغانستان پاکستان،مالدیپ وغیرہ شامل ہیں۔جب کہ یورپ اور دیگر دنیا کے 10کے قریب غیرمسلم ممالک میں بھی مقدس شخصیات کی توہین پر سزا دی جاتی ہے،جن میں فن لینڈ، جرمنی، اٹلی، یونان، آئرلینڈ، پولینڈ، سنگاپور، انڈیا، چین، نائیجریا وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا کے 87ممالک ایسے ہیں جہاں نفرت انگیز تقریر یا نفرت انگیزسرگرمیاں قابل سزا جرم ہیں۔دنیا کے بہت سے ملک ایسے بھی ہیں جہاں مقدس شخصیات کی توہین قابل سز ا جرم نہیں ہے۔ان میں فرانس،سوئیڈن، ناروے، ڈنمارک، نیدرلینڈ ، آئس لینڈ اور مالٹا جیسے ممالک شامل ہیں۔ اگر کوئی مقدس شخصیات کو گالی دے،یا خاکے بنائے،یا کسی بھی طریقے سے مقدس شخصیات کا مذاق اڑائے یا توہین کرے تو ان ممالک میں اسے آزادی اظہار رائے میں شمارکیا جاتاہے۔حالاں کہ دنیا کے تقریباً ہرملک میں بغاوت قابل سزا جرم ہے،جس پربہت سارے ممالک میں لوگوں کو قتل کی سزا دی جاتی ہے۔حیرت ہے مقدس شخصیات کی توہین پر اگر کوئی سزا کی بات کرے تواسے آزادی اظہاررائے کے خلاف سمجھا جاتاہے۔اصل سوال یہ ہے کہ یورپ میں گستاخانہ خاکوں کی تاریخی،اہداف اور مقاصد کیا ہیں؟ نیدرلینڈ میں ہونے والے گستاخانہ خاکوں کا مقابلہ ہم کیسے رکواسکتے ہیں؟ (جاری ہے)


ای پیپر