تیر ہ ہز ا ر میگا وا ٹ بجلی کی ا ضا فی مو جو د گی اور لو ڈ شیڈ نگ
30 اگست 2018 2018-08-30

لکھنا تو اس با ر میں ہفتے کے رو ز کی چھٹی کے ا غرا ض و مقا صد اور نقا ئصِ و فو ا ئد کے با ر ے میں چا ہ رہا تھا، تا ہم عید سے پہلے والے یعنی ستر ہ اگست کی را ت کو کر ا چی اور حیدر�آبا د میں ہو نے والے بجلی کے تا ریخی بر یک ڈا ؤ ن پہ وہا ں کے قارئین کی جا نب سے اس قدر شکا ئتی مرا سلے مو صو ل ہو چکے تھے کہ انہیں نظر اندا ز کر دینا میر ے لیئے ممکن نہیں ر ہا تھا۔ ہفتے کے رو ز کی چھٹی پہ بشر طیکہ ز ند گی اگلے ہی کا لم میں ضر و ر رو شنی ڈا لو ں گا۔ تو کر ا چی اور حید ر �آبا د بجلی کے اس شدید بر یک ڈاؤن نے سا بقہ حکو مت کے اس د عو ے کی قلعی کھو ل کر رکھ دی جس میں اس نے نیشنل گر ڈ میں مو جو د تیر ہ ہزا ر میگا وا ٹ کی اضا فی مو جو د گی کی ا طلا ع دی تھی۔ اس سے تو ثا بت ہو تا ہے کہ و طنِ عز یز کو در پیش مسا ئل میں سے سب سے بڑا مسلۂ بلا تعطل بجلی کی فر ا ہمی کا ہے۔ اس مسلئے کا اگر با ریک بینی سے جا ئز ہ لیا جائے تو ہم دیکھتے ہیں کہ توانائی کے مختلف النوع پیچیدہ تکنیکی معاملات، بجلی کی معطلی، کم پیداوار، تقسیم، کنڈا سسٹم سمیت اوور بلنگ اور لوڈ شیڈنگ بدستور درد سر بنے ہوئے ہیں۔ تاہم ان سے ہٹ کر بجلی کے بریک ڈاؤن نے صورتحال کو سوالیہ نشان بنادیا ہے، بجلی کے مستحکم اور مربوط نظام کی عدم موجودگی میں پاور بریک ڈاؤن کا ملک گیر عذاب اکثر شہریوں کے لیے اعصاب شکن اور انتہائی تکلیف دہ ثابت ہوتا رہا ہے۔ میڈیا کے مطابق ستر ہ اگست کو کے الیکٹرک کی ایکسٹرا ہائی ٹینشن لائن ٹرپ کرنے سے شہر میں بجلی کا بڑا بریک ڈاؤن ہوگیا۔ کئی علاقے تاریکی میں ڈوب گئے جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ شہریوں نے پوری رات جاگ کر گزاری۔ جمعے کی شب ساڑھے 10 بجے شہر میں بجلی کے بڑے بریک ڈاؤن کی وجہ سے شہر کا بڑا علاقہ تاریکی میں ڈوب گیا، بریک ڈاؤن کی وجہ سے 5 صنعتی علاقوں سمیت شہر کے رہائشی علاقوں میں بجلی معطل ہوگئی۔ کے الیکٹرک حکام کے مطابق جام شورو سے کراچی آنے والی ایکسٹرا ہائی ٹینسن لائن ٹرپ کرگئی جس کی وجہ سے نیشنل گرڈ اسٹیشن سے کے الیکٹرک کو ملنے والی 600 میگاواٹ بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی۔ جس رات ملک میں اقتد ا ر کی منتقلی کا مر حلہ سر انجا م پا رہا تھا اسی رات کے الیکٹر ک کا عملہ فالٹ کی تلاش اور مرمت کر نے میں مشغو ل تھا۔ بجلی کے اس بڑے بریک ڈاؤن کی وجہ سے گورنر ہاؤس اور وزیر اعلیٰ ہاؤس سمیت شہر کے دیگر علاقے بجلی سے محروم رہے۔ بجلی کے طویل بریک ڈاؤن کی وجہ سے شہر کا 80 فیصد علاقہ تاریکی میں ڈوب گیا جس کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور انہوں نے پوری رات جاگ کر گزار دی۔ واضح رہے نیشنل گرڈ سے صرف 600 میگاواٹ بجلی آتی ہے جبکہ 1700 میگا واٹ کے الیکٹرک اپنے پاور پلانٹ سے پیدا کرتی ہے۔ کسی او ر کے متعلق مجھے با ت کر نے کی ضر ورت نہیں

کیو نکہ خو د حیسکو کے مطابق حیسکو ریجن کے 21 گرڈ اسٹیشنز بند ہوگئے جس کی وجہ سے بدین، ٹنڈو محمد خان، ڈگری، میر پور خاص اور ٹنڈو جام میں بجلی کی فراہمی معطل ہے جبکہ حیدر آباد سمیت اندرون سندھ کے بھی کئی اضلاع تاریکی میں ڈوب گئے۔ ٹنڈو آدم میں بجلی کی بندش کا دورانیہ 14 سے 16 گھنٹے تک جا پہنچا۔ یہی لوڈ شیڈنگ کراچی کے قدیم علاقے لیاری ٹاؤن میں صبح، دوپہر ، سہ پہر اور رات گئے جاری رہتی ہے۔ ذرائع کے مطابق پاور ڈویژن کے اس انکار سے پاور سیکٹر کا بحران مزید شدید ہونے کا امکان ہے۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں اربوں روپے کی مقروض ہیں اور قرضوں کی ادائیگی اور سود کی ادائیگی کے لیے مزید قرضے لیے جارہے ہیں، جس سے پاور سیکٹر اور بحران کا شکار ہے۔ ادھر سینٹ قائمہ کمیٹی برائے گردشی قرضے میں انکشاف کیا گیا کہ ملک کا گردشی قرضہ ایک ہزار 148 ارب روپے تک پہنچ گیا، جس میں سے پاور ڈویژن نے مختلف سرکاری و نجی اداروں سے 817.5 ارب وصول کرنے ہیں۔ اجلاس میں سیکرٹری پاور ڈویژن، سیکرٹری خزانہ اور وزارت توانائی کے دیگر حکام نے شرکت کی ۔ پاور ڈویژن حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ پاور ہولڈنگ کمپنی کو 618 ارب روپے قرض دیا گیا جبکہ پاور ہولڈنگ کمپنی کے ذمہ 582 ارب 86 کروڑ روپے واجب الادا ہیں اور پاور ہولڈنگ کمپنی کے ذمہ 153 ارب سود بھی واجب الادا ہے۔ پاور ہولڈنگ پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی بنانے کا واحد مقصد گردشی قرضے ختم کرنا تھا، بلوں کی عدم ادائیگی کے باوجود لوڈ شیڈنگ نہ کرنے سے گردشی قرضوں میں سالانہ 150 ارب کا اضافہ ہوا۔ ستر ہ اگست ہی کو لاہور کامرس رپورٹر کے مطابق ملک میں جمعہ کو بدترین لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری رہا، حبس کے باعث بجلی کی ڈیمانڈ میں مزید اضافہ ہوجانے کے باعث شارٹ فال مزید بڑھ گیا۔ شہروں میں رات کو بھی لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری رکھا گیا، جس کے باعث لوگ رات کو دو گھنٹے بھی سکون کی نیند نہ لے سکے۔ بار بار کی لوڈ شیڈنگ کے باعث بیشتر علاقوں میں پانی کی بھی قلت ہوگئی۔ میڈیا کے مطابق ایف آئی اے اسلام آباد زون سمیت چاروں زونز نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے ملک بھر میں بجلی و گیس چوری کے خلاف بھرپور کارروائیوں کا دیا گیا ٹاسک پس پشت ڈال دیا جبکہ اس ضمن میں تشکیل دی گئی ٹیمیں غیرفعال ہوکر رہ گئیں۔

حقیقت یہ ہے کہ توانائی بحران کے کنٹرول کے بعد ہی ملکی اقتصادی اور سماجی ترقی کو یقینی بنایا جاسکتا ہے، مگر افسوس ہے کہ بجلی کی پیداوار، تقسیم، بجلی کے بے محابا ضیاع، انتظامی و فنی نیٹ ورک کی اوور ہالنگ اور فالٹ فری بلنگ سسٹم کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں بجلی کی فراہمی کے مستقل شفاف نظام کے میکنزم کا فقدان ارباب اختیار کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ پورے ملک میں کنڈا سسٹم موجود ہے، پوش علاقوں میں بجلی کی ’’سائنٹفک چوری‘‘ معمولات زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ بجلی چوروں کے کے خلاف کارروائی ہوتی ہے تو بجلی چور اہلکاروں پر کھلم کھلا فائرنگ کرتے ہیں۔ بجلی محکمے کنڈا سسٹم کے خاتمہ کے لیے زون وائز سٹریٹجی تیار کرنے کی سنجیدہ کوشش کریں تو بلنگ میں باقاعدگی لانے سے ملک کو اربوں روپے کی ادائیگی ممکن بنائی جاسکتی ہے۔ بجلی وری انتظامی تساہل کا نتیجہ ہے۔ یہا ں اگر تیر ۃ ہز ا ر میگا وا ٹ کی اضا فی مو جو دگی کو در ست مان لیا جائے تو لو ڈ شیڈنگ کا تسلسل تعجب خیز ہی لگتا ہے، جبکہ پاور بریک ڈاؤن کے گزشتہ اور اس سے پیوستہ برسوں میں کئی بار پاور بریک ڈاؤن ہوئے جس سے پنجاب، کراچی، خیبر پختونخوا اور بلوچستان شدید متاثر ہوئے۔ دن بھر بجلی معطل رہی، پنجاب اور دیگر علاقے ’’پاور لیس‘‘ بنے رہے۔ ادھر ماہرین عرصہ دراز سے بجلی کی پیداوار اور تقسیم میں مضمر خرابیوں کے ازالے کے لیے انتظامی سطح پر ٹھوس اور شفاف اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے رہے۔ ان کا استدلال یہی تھا کہ بجلی کے تکنیکی شعبوں میں اسی شعبہ کی گہری معلومات اور علمی وفنی تجربے سے معمور افراد کا تقرر ناگزیر ہے۔چنا نچہ ضر و ر ت اس امر کی ہے کہ اقربا پروری کے خاتمہ کو بجلی کی مستقل فراہمی کے سسٹم کی اصلاح کی جانب موڑا جائے جبکہ بڑے بریک ڈاؤنز رونما ہونے پر ذمہ داری قبول نہ کرنے والوں کا فوری احتساب بھی ہو۔


ای پیپر