تماشا گیری
30 اگست 2018 2018-08-30

ماضی میں جو ہوتا رہا وہی پاکستان کو ’’ریاست مدینہ‘‘ بنانے والے کر رہے ہیں۔ وہی رونا دھونا، وہی سیاپا، وہی پسند کے افسر یہ خراب ، وہ ٹھیک نہیں پرانی حکومت نے بیڑا غرق کر دیا۔ دیکھئے آگے کیا ہوتا ہے۔ ابتدا ہو گئی ہے دعویٰ ایک سینیٹ کے ممبر نے کر دیا عمران خان کھمبے کو کھڑا کر دیتے وہ بھی جیت جاتا۔ یہ دعویٰ درست نہیں کتنے کھمبے ہیں جو کراچی اور سندھ میں بری طرح ہارے۔ کامیابی میں ’’آرٹی ایس‘‘ سسٹم بیٹھنے یا بٹھائے جانے کا بھی تو حصہ ہو گا۔ پھر فارم 45 کی کرشمہ سازی ہے۔ سب کو معلوم ہے کھمبوں کو کس کس نے الیکشن میں سہارا نہیں مضبوط سہارا دیا۔ الیکشن سے پہلے مدد دی اور خوب دی۔ کس طرح نواز شریف کو نکالا۔ الیکشن سے پہلے سزا دینا ضروری تھا دے دی گئی۔ باہر ہوتے ایک طرف نواز میدان سجاتے دوسری جانب مریم کی للکار بہت سے لوگوں کو پریشان کرتی۔ دونوں کو جیل میں بند کر نا ضروری تھا کر دیا پھر بھی ستم سہتی ہوئی (ن) لیگ نے جی ٹی روڈ سے کرارا جواب دیا۔ کس طرح آزاد ساتھ ملے یا ملائے گئے۔ یہ ساری کہانیاں نہیں کچھ تو حقیقت ہو گی۔ اس انتخاب میں ہماری تاریخ میں’’آر اوز‘‘، اعلیٰ عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کا نام کس طرح لکھا جائے گا مگر یہاں تو قائداعظم کا پاکستان بنانے والوں کو خاندانی اور موروثی سیاست دان جن کے کپتان دشمن تھے کیسے ملے ۔ ان لوٹوں کی بارات کو بنی گالہ کا راستہ کس نے دکھایا۔ یہ کپتان کی پارٹی پر بدنامی کا داغ ہے۔ پنجاب اور مرکز کی حکومت مل چکی ایک ماہ ہونے کو ہے۔ ایک سے بڑھ کر ایک تماشا ہو رہا ہے۔ پاکستان کی مثالی جمہوری پارٹی کی بنیادیں کتنی مضبوط ہیں۔ اگر مضبوط ہیں تو سمجھ لیجیے دیوار سے پہلی اینٹ سرک چکی۔ جب کہیں کی اینٹ اور کہیں کے روڑے سے پارٹی بنے گی یہ تو ہو گا۔ عامر لیاقت ہمارے موجودہ سیاسی کلچر کی مثال ہے جیسی سیاست ویسے لوگ۔ عامر لیاقت نے وزارت کے لیے بغاوت کی ہے۔ ہو سکتا ہے اب عامر لیاقت نے جو کچھ کیا ہے اس سے معذرت کر لی ہو کیونکہ ان کا فائدہ اسی میں ہو گا مگر عامر لیاقت ہوشیار آدمی ہے وہ کپتان کی موجودہ پوزیشن کو سمجھتا ہے اس کو اندازہ ہے کہ کپتان کی حکومت کو گرانے کے لیے 5 ووٹوں کی کتنی اہمیت ہے مگر عامر لیاقت تو کافی بڑا دعویٰ کر رہے ہیں۔ کراچی تنظیم سے ان کے اختلافات ہیں سب سے مضبوط سمجھنے جانے والے فیصل واوڈا کی اپنی سیٹ کافی خطرے میں ہے اگر دوبارہ گنتی ہو جاتی تو ان کا معاملہ خطرے میں پڑ جاتا خطرہ تو اب بھی ہے۔ اب عامر لیاقت کا معاملہ کراچی تنظیم سے ختم نہیں ہو گا۔ گورنر کا ایک خاص حلقہ احباب ہے جس میں عامر لیاقت اجنبی ہے۔ دوسری جانب تحریک انصاف کی گڈ گورننس کا سوال ہے۔ پاکستان کا اہم معاشی مسئلہ گردشی قرضہ ہے جس پر موجودہ وزیر خزانہ اسد عمر کافی تنقید کرتے رہے ہیں یہ قرضہ اب 1188 ارب تک جا پہنچا ہے اہم بات یہ ہے کہ حکومت کے آتے ہی اس قرضے میں 36 ارب کا اضافہ کیا ہے۔ کاشت کاروں کی قسمت بدلنے کی جو منظر کشی ہمارے وزیراعظم نے کی تھی کھاد کی قیمت میں اضافہ ہونے سے کسان تو مارا جائے گا یوٹیلٹی سٹور کے ملازمین بھی پریشان ہیں کہ اس ادارے کے بارے میں اچھی خبریں نہیں آ رہیں۔ احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے عمران خان سے ملاقات کی ہے انہیں وزیراعظم بننے پر مبارک باد دی ہے۔ حکومت احتساب کے بارے میں جو نقطہ نظر رکھتی ہے جسٹس جاوید اقبال کی ملاقات سوالیہ نشان ہے اس پر تنقید تو ہو گی خود وزیراعظم کا ہیلی کاپٹر استعمال کرنے میں قومی خزانے کو جو نقصان ہوا ہے وہ معاملہ اس ملاقات کے بعد کیسے آگے بڑھے گا گزری حکومت کے ساتھ اُن کا رویہ ایسا مثالی کیوں نہیں تھا۔ اے این پی نے تو چیئرمین نیب کے بارے میں پارٹی مؤقف واضح کر دیا ہے کہ وزیراعظم سے ملاقات کے بعد ایسا تاثر ملا ہے یہ ادارہ اپوزیشن کے خلاف استعمال ہو گا۔ پنجاب کا سپیکر، سینئر وزیر نہ جانے کتنے پارلیمنٹیرین ہیں جن کے اپنے مقدمات نیب کے پاس ہیں۔ نیب کے چیئرمین کو ایسے حالات ہیں ملاقات نہیں کرنی چاہیے یہ جناب موجودہ چیئرمین نیب ہی ماضی کے چیئرمین نیب بھی ایسا ہی کرتے رہے تھے اگر ماضی کے کچھ چیئرمین کا جابر سلطان سے پوچھ کر وہ نیب کے ادارے کو چلاتے رہے تو سابق چیئرمین نیب جنرل شاہد عزیز کی کتاب ’’یہ خاموشی کب تک‘‘ ضرور پڑھیں۔ ایک چیئرمین نیب تو اتنا ’’ڈمی‘‘ تھا کہ چیئر مین نیب کے سارے اختیار ایک جرنیل دوسرے آفس میں بیٹھ کر نمٹا رہا تھا۔ بہرحال کڑا وقت تو سیاست دانوں پر ہی آتا ہے۔
آصف زرداری کافی مشکل میں آ گئے ہیں ۔ این آر او کے مقدمے میں ایف آئی اے نے زرداری اور ان کی ہمشیرہ کی جو رپورٹ جمع کرائی ہے اس میں ایف آئی اے نے کافی محنت کی ہے جعلی اکاؤنٹس کیس میں مبینہ طور پر زرداری سے جڑی ہوئی دبئی میں ’’اومنی‘‘ گروپ کی 2 مزید کمپنیوں کے انکشاف کے بعد ملٹری انٹیلی جنس اور آئی ایس آئی سمیت 7 رکنی ’’جے آئی ٹی‘‘ بنانے کی سفارش کی ہے محسوس ہوتا ہے کہ ایف آئی اے نے کافی محنت کی ہے جو اس کے خلاف ماضی کی حکومتوں نے تحقیقات کی تھیں وہ بھی اوپن ہو گئی ہیں۔ آصف علی زرداری نے سپریم کورٹ میں اپنے وکیل فاروق ایچ نائیک کے ذریعے جو حلفیہ بیان داخل کرایا تھا اس میں حیران کر دینے والا انکشاف یہ تھا کہ زرداری کا تو بیرون ملک کوئی اکاؤنٹ نہیں ہے۔ جس سے عام آدمی کے لیے اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ زردری کا یہ حلفیہ بیان درست ہے یا نہیں۔ آج جو بابر اعوان صاحب ہیں یہ زرداری کی مونچھ کا بال ہوا کرتے تھے۔ بینظیر بھٹو نے سابق امریکی وزیر خارجہ کونڈا لیزا کے ذریعے مشرف سے جو این آر او کیا تھا وہ مشرف اور بینظیر بھٹو دونوں کی ضرورت تھا این آر او لینے کے لیے بینظیر بھٹو نے دبئی میں بیٹھ کر سارے معاملات طے کیے تھے۔ اس این آر او کو اسٹیبلشمنٹ کی پوری حمایت حاصل تھی ایک ایک نکتہ اور شق واضح کی گئی تھی۔ این آر او سے سب سے زیادہ فائدہ بینظیر بھٹو اور ان کے شوہر آصف علی زرداری کو ہی ہوا تھا۔ بینظیر بھٹو تقریباً دس سال سے خود ساختہ جلا وطنی گزار رہی تھی وہ ہر صورت میں پاکستان آنا چاہتی تھی۔ بینظیر بھٹو کا یہ خواب تو پورا ہو گیا مگر کس قیمت پر 18 اکتوبر 2007ء کو لاکھوں جیالوں کے استقبال میں آنے والی بینظیر بھٹو کو ایک پیغام ملا ڈرا دینے والا کہ پاکستان نہ آئیں آپ کی جان کو خطرہ ہے مگر وہ پروا کیے بغیر پاکستان آئیں وہ پاکستان آنے کے بعد صرف دو ماہ ہی زندہ رہ سکیں اور لیاقت باغ میں قتل ہو گئیں۔ قسمت نے آصف علی زرداری کو جن کو محترمہ پارٹی معاملات سے کافی حد تک الگ کر چکی تھی ۔ وصیت کے ذریعے پارٹی کی قیادت سنبھال لی۔ پاکستان میں سب سے بڑی
جماعت کہلانے والی جماعت پر وصیت سے زردواری کی حکمرانی قائم ہو گئی این آر او سے آصف علی زردری کے خلاف کرپشن کے تمام مقدمات ختم ہو گئے اور وہ پاکستان کے سب سے بڑے منصب صدارت پر آن بیٹھے۔ سوئس عدالت میں منی لانڈرنگ کا مقدمہ جس کو ثابت کرنے کے لیے ایک بیورو کریٹ وسیم افضل نے بڑی محنت کی تھی ختم کر دیا گیا۔ اس وقت کے اٹارنی جنرل ملک قیوم نے ایک خط لکھ کر 6 ارب روپے کرپشن کا یہ مقدمہ ختم کرا دیا۔ افتخار محمد چوہدری چیف جسٹس کے عہدے پر بحال ہوئے تو اس وقت یوسف رضا گیلانی وزیراعظم اور آصف علی زرداری صدر پاکستان بن چکے تھے مشرف استعفیٰ دینے کے بعد خود ساختہ جلا وطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔ این آر او سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دیا تو سارے مقدمات اوپن ہو گئے۔ اہم سوال تو یہ تھا کہ سوئس عدالتوں میں چلنے والا یہ مقدمہ وہیں سے شروع ہو جہاں سے یہ ختم ہوا تھا۔ عدالت عظمیٰ کا حکم وزیراعظم ایک خط سوئس عدالتوں کو لکھیں کہ سوئس مقدمہ کو کھولیں مگر یوسف رضا گیلانی پر زرداری کا رعب ودبدبہ ایسا تھا کہ وہ خط لکھ کر مقدمہ اوپن کرانے کو آئین کی خلاف ورزی قرار دینے لگے۔ ایسے رویے سے جو ہونا تھا ہو کر رہا۔ وزیراعظم اپنے عہدے سے فارغ ہو گیا اور 5 سال تک نا اہلی کی سزا بھگتی مگر کپتان کی ٹیم کے اہم کھلاڑی بابر اعوان نیا پاکستان بنانے والی ٹیم کا حصہ ہیں مگر اس وقت آصف زرداری کے ساتھی سپریم کورٹ کا
حکم مانا مگر ایسے موقع پر سیکرٹری قانون کے ذریعے خط لکھا گیا کہ حکومت زرداری کے خلاف مقدمہ نہیں کھولنا چاہتی۔ یہ خط سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی بلکہ جعل سازی تھی۔ سوئس قانون کے مطابق مقدمہ کے خلاف اپیل کا وقت گزرگیا اس طرح 6 ارب روپیہ ان اکاؤنٹ سے نکل گیا جس کو ایک آف شور کمپنی کے ذریعے چلایا جا رہا تھا۔ یہ سارا معاملہ اب سپریم کورٹ نے نئے سرے سے کھول دیا ہے۔ نہ صر ف آصف علی زرداری بلکہ صدر مشرف بھی بے پناہ دولت رکھنے کے الزام میں گرفت میں آچکے ہیں۔ یہ وہی مشرف صاحب ہیں جنہوں نے دو سو سے زائد دہشت گرد گرفتار کر کے امریکہ کے حوالے کیے تھے مال کس کو ملا یہ ابھی راز ہے۔
چیف جسٹس پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے مشرف اور آصف علی زرداری کا بیان مسترد کر دیا ہے اور دونوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنا نیا بیان جمع کرائیں جس میں گزرے دس سالوں کی خرید و فروخت بینک اکاؤنٹس اور بچوں کے اثاثوں کی تفصیلات ہوں۔ آصف علی زرداری کی جماعت ایسی پوزیشن میں ہے اگر وہ ایسی سیاست کریں جس سے پی ٹی آئی کے لیے قانون سازی کرنا مشکل نہ ہو، ایسا ہونا ممکن بھی ہے۔ سیاست اسی کا نام ہے۔ دوسری جانب موجودہ حکمرانوں کے بارے میں مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ وہ تو آئین توڑنے کے ملزم پرویز مشرف پر سنگین غداری کا مقدمہ چلانے کا ارادہ ہی نہیں رکھتی اگر ایسا ہوا تو کپتان کا ایک اور یوٹرن ہو گا کہ وہ انصاف سب کے لیے برابر کا نعرہ مردہ ہو جائے گا۔ گڈ گورننس کی مثالین بھی قطار اندر قطار آ رہی ہیں۔


ای پیپر