روہنگیا مسلمانوں پر بہیمانہ مظالم اور آنگ سان سوچی کا نوبل انعام
30 اگست 2018 2018-08-30

30اگست 2018ء کو اقوامِ متحدہ میں انسانی حقوق کے سبکدوش ہونے والے سربراہ زید رعد الحسین نے کہا کہ’ میانمار کی رہنما آنگ سان سوچی کو فوج کی جانب سے روہنگیا مسلمان اقلیت کے خلاف پرتشدد مہم چلانے پر مستعفی ہو جانا چاہیے تھا‘۔زید رعد الحسین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امن کے لیے نوبیل انعام حاصل کرنے والی سوچی نے وہاں بہانے بنائے جہاں مذمت کی جانی چاہیے تھی۔ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ میانمار کی فوج پر قتلِ عام کا مقدمہ چلنا چاہیے۔میانمار نے اسے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جاتی۔بودھ اکثریتی ملک کی فوج پر منظم نسل کشی کا الزام ہے۔ میانمار کی فوج کہہ چکی ہے کہ اس نے کبھی کچھ غلط نہیں کیا۔
27 اگست 2018 کو سامنے آنے والی اقوامِ متحدہ کی رپورٹ میں واضح الفاظ میں کہا گیا ہے کہ ’ ایک طوریل عرصے سے جمہوریت کے لیے مہم چلانے والی آنگ سان سوچی اس تشدد کو روکنے میں ناکام رہیں۔بی بی سی سے بات کرتے ہوئے زید رعد الحسین کا کہنا تھا کہ ’وہ کچھ کرنے کی پوزیشن میں تھیں، وہ خاموش رہ سکتی تھیں یا اس سے بھی بہتر کہ وہ مستفی ہو جاتیں،انہیں برما کی فوج کے ترجمان کے طور پر بولنے کی ضرورت نہیں تھی، انہیں یہ نہیں کہنا چاہیے تھا کہ یہ سب درحقیقت جو ہو رہا ہے اس کی محض معمولی غلط معلومات ہیں اور یہ کہ یہ سب من گھڑت ہے ،وہ یہ کہہ سکتی تھی کہ میں ایک نارمل رہنما بننے کے لیے تیار ہوں لیکن ایسے حالات میں نہیں‘۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے میں جب یہ واضح تھا کہ 73 سالہ رہنما فوج کو کنٹرول نہیں کر سکتی ان پر فوج کے مبینہ مظالم کی مذمت کے لیے دباؤ تھا۔ایک دہائی تک انسانی حقوق کی برادری میں ان کی بطور ہیروئین پذیرائی ہوتی رہی بطور خاص جب وہ 16 سال تک فوجی آمریت کے دنوں میں گھر پر نظر بند رہیں۔ 2012 ء میں نسلی فسادات شروع ہوئے تو اس وقت بی بی سی سے بات کرتے ہوئے آنگ سان سوچی نے کہا ’ مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا تو بودھوں کو بھی تشدد کا شکار کیا گیا، یہ خوف ہی ہے جس نے مشکلات پیدا کی ہیں‘۔ 2015 میں ان کی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی پارٹی کی انتخابات میں بڑی جیت کے بعد وہ ملک کی رہنما بنیں لیکن اس کے باوجود روہنگیا بحران جاری رہا۔اس وقت سوچی کے اس پر بیان نے یہ تاثر دیا کہ علاقے میں تشدد کی شدت کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا جا رہا ہے۔آخری بار اپریل 2017 میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’میرا نہیں خیال کہ وہاں نسلی کشی ہورہی ہے، میرا خیال ہے جو کچھ ہو رہا ہے اس کے لیے نسل کشی سخت لفظ ہے‘۔اگست 2017 میں تشدد شروع ہونے کے بعد آنگ سان سوچی نے عوامی سطح پر اس حوالے سے بات کرنے کے کئی مواقع ضائع کیے جن میں گذشتہ برس ستمبر میں اقوامِ متحدہ کے جنرل اسمبلی کا اجلاس بھی تھا۔جس کے بعد انھوں نے کہا کہ اس بحران کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا اور یہ ’اصل صورتحال سے متعلق
بہت کم اور غلط معلومات ہیں۔‘ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ تنازع کے باعث لوگوں کی مشکلات کی وجہ سے فکر مند ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ’میانمار ریاست میں موجود تمام برادیوں کے لیے مستقل حل کے لیے پر عزم ہے۔
یہ امر پیش نظر رہے کہ 4روز قبل اقوام متحدہ کی جانب سے میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف ہونے والی کارروائی پر کی جانے والی تحقیقاتی رپورٹ جاری کی گئی جس میں بتایا گیا ہے کہ’ ملک کے اعلی ترین فوجی افسران سے ' روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی' اور 'انسانیت کے خلاف جرائم' کے حوالے سے تفتیش کی جانی چاہیے۔اقوام متحدہ کی رپورٹ 100 سے زائد تفصیلی انٹرویوز پر مبنی ہے اور عالمی ادارے کی جانب سے میانمار کے حکام کے خلاف اب تک روہنگیا مسلمانوں کے معاملے میں کی گئی سب سے کڑی تنقید ہے۔رپورٹ میں میانمار کی فوج کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ان کی جنگی حکمت عملی 'مستقل طور پر سیکورٹی خدشات سے غیر متناسب حد تک بڑھ کر جارحانہ تھی۔' اس رپورٹ میں فوج کے چھ اعلی افسران کے نام دیے گئے ہیں جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ان پر مقدمہ چلنا چاہیے۔اس رپورٹ میں امن کا نوبل انعام جیتنے والی میانمار کی رہنما آنگ سان سوچی پر بھی سخت تنقید کی گئی تھی اور کہا گیا کہ وہ روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کو روکنے میں ناکام رہیں۔اس رپورٹ میں تجویز دی گئی کہ یہ معاملہ انٹرنیشنل کرمنل کورٹ میں بھیجا جائے‘۔ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ میانمار کی حکومت کی جانب سے مسلسل یہ موقف اختیار کیا جاتا رہا ہے کہ فوجی کارروائی شدت پسندوں کے خلاف کی جاتی ہے۔ لیکن اس دعوی کے برعکس اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ’ ان کی تفتیش کے مطابق جو جرائم مرتکب ہوئے ہیں، وہ 'اس لیے اتنے حیران کن ہیں کہ ان کی بڑے پیمانے پر نفی کی جاتی رہی ہے، ان جرائم کو معمول کی کارروائی سمجھا گیا ہے اور بیدریغ کیا گیا ہے،'فوجی کارروائیاں، چاہے وہ کتنی ہی ضروری کیوں نہ ہوں، ایسا کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے کہ اندھا دھند لوگوں کو قتل کیا جائے، خواتین کا گینگ ریپ کیا جائے، بچوں پر حملہ کیا جائے یا گاؤں جلائے جائے، تفتیش سے یہ معلوم ہوا ہے کہ 'ریاست رخائن میں لوگوں کو ان کے گھروں سے نکالے جانے کا سلسلہ اسی طرز کا ہے جیسا اور مقامات پر نسل کشی کرنے کے حوالے سے ہوتا ہے، حالات اس نہج پر 'دہائیوں سے درپیش صورتحال' کے بعد پہنچے ہیں اور 'خاص منصوبہ بندی، اور پیدائش سے لے کر موت تک کیے جانے والا جبر' اس کی بڑی وجہ ہیں،میں کچن، شان اور رخائن میں ہونے والے جرائم کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہاں قتل و غارت، قید، اذیت، ریپ، جنسی قیدی اور دیگر ایسے جرائم شامل ہیں جو کہ 'بلاشبہ بین الاقوامی قوانین کے تحت گھناؤنے ترین جرائم میں تصور کیے جاتے ہیں۔'
گذشتہ سال کے آپریشن کے بعد سے اب تک سات لاکھ روہنگیا مسلمان ملک چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں‘۔خیال رہے کہ کہ ماضی میں اقوام متحدہ نے میانمار کی فوجی کارروائیوں کے بارے میں کہا تھا کہ وہ 'ان کی کارروائیاں نسل کشی کی بالکل کتابی تشریح کی مانند ہیں۔'
واضح رہے کہ اقوام متحدہ کا خود مختار بین الاقوامی فیکٹ فائنڈنگ مشن برائے میانمار مارچ 2017 میں قائم کیا گیا تھا تاکہ وہ ملک کی ریاست رخائن میں روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والے مبینہ مظالم کی تفتیش کر سکے۔اس مشن نے اپنا کام میانمار کی حکومت کی اْس کارروائی سے پہلے شروع کیا تھا جب اْس نے رخائن میں روہنگیا شدت پسندوں کی جانب سے کیے گئے حملوں کے جواب میں آپریشن شروع کیا۔اقوام متحدہ نے واضح کیا کہ رپورٹ کی تیاری میں انھیں میانمار جانے کی اجازت نہیں تھی لیکن انھوں نے عینی شاہدین سے انٹرویو کیے جبکہ سیٹلائٹ سے لی گئی تصاویر سے بھی مدد لی۔اقوام متحدہ کے مشن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ تفصیلی رپورٹ اگلے ماہ کی 18 تاریخ کو شائع کریں گے۔ میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف تشدد کے باعث اگست 2017 سے اب تک سات لاکھ سے زائد افراد نقل مکانی کر کے بنگلہ دیش جا چکے ہیں جبکہ ہزاروں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔
اس تناظر میں میانمار کی رہنما آنگ سان سوچی سے نوبیل انعام واپس لینے کے لیے بین الاقوامی سطح پر اٹھنے والی آوازیں زور پکڑتی جا رہی ہیں اور برطانیہ میں گارڈین سمیت کئی مقتدر اخبارات نے روہنگیا مسلمانوں پر بہیمانہ ریاستی مظالم پر آنگ سان سوچی کے موقف پر مضامین شائع کیے ہیں اور سوچی کے موقف کو انتہائی مایوس کن قرار دیا ہے۔گارڈین نے ' سوچی سے نوبیل انعام واپس لے لینا چاہیے وہ اب اس کی حقدار نہیں رہیں' کے عنوان سے مضمون شائع کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سوچی نے روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے بارے میں اس سال فروری میں شائع ہونے والی اقوام متحدہ کی رپورٹ نہیں پڑھی ہے۔ روہنگیا مسلمانوں کو اقوام متحدہ دنیا کی سب سے پسی ہوئی اور مظلوم اقلیت قرار دے چکا ہے لیکن سوچی یہ حقیقت تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور نہ صرف وہ میانمار کی فوج کی مذمت کرنے کو ہی تیار ہیں بلکہ ان کی طرف سے روہنگیا مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کو بھی جھوٹ قرار دیتی ہیں۔نوبیل انعام وصول کرنے کے بعد آنگ سان سوچی نے کہا تھا کہ جب ظلم سے صرفِ نظر کیا جاتا ہے تو تصادم کے بیج بوئے جاتے ہیں کیونکہ ظلم لوگوں کی تذلیل کرتا ہے، تلخی اور غصے کو جنم دیتا ہے۔اخبار کہتا ہے کہ ان روہنگیا افراد جنہوں نے فوج کے خلاف ہتھیار اٹھا لیے ہیں ان کے غصے کو بہانہ بنا کر روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کی کارروائیوں کو تیز کر دیا گیا ہے۔ برطانوی اخبار انڈیپنڈنٹ نے سوچی کی ایک مداح اور مصنف صوفیہ احمد کا مضمون شائع کیا ہے۔ انہوں نے بھی سوچی کے رویے پر شدید مایوسی کا اظہار کیا ہے کہا ہے کہ مایوسی کے لفظ میں وہ شدت نہیں جو سوچی کے رویے پر ان کے جذبات کا اظہار کر سکے۔صوفیہ لکھتی ہیں کہ آنگ سان سوچی اکیسویں صدی میں ایک استعارہ تھیں جمہوری آزادیوں اور انصاف کا لیکن ان کی خاموشی سے لگتا ہے وہ یہ حقوق صرف اپنے لیے چاہتی تھیں روہنگیا کے لیے نہیں جنھیں وہ 'دوسرے' سمجھتی ہیں۔


ای پیپر