ادائیں چال بازوں کی ۔۔۔
30 اگست 2018 2018-08-30

’’حاجی صاحب ۔۔۔ السلام علیکم‘‘ ۔۔۔ وہ میں نے موٹر سائیکل ٹریفک اشارے پر کھڑی کی تو میرے ساتھ آ کر رکا ۔۔۔ اور بولا ۔۔۔ (بڑی اپنائیت کے ساتھ مسکراتے ہوئے ۔۔۔ سر جھکاتے ہوئے) ۔۔۔
’’حاجی صاحب‘‘ ۔۔۔؟
’’حاجی صاحب‘‘ ۔۔۔ میرے دماغ میں یہ الفاظ گھومنے لگے ۔۔۔ کاش میں نے حج کیا ہوتا اور میں آگے سے کہتا ۔۔۔ ’’جی فرمائیے‘‘ مگر اس نے مجھے حاجی صاحب کیوں کہا ۔۔۔! نہ میں نے داڑھی رکھی ہے ۔۔۔ میں نے کافی غور کیا ۔۔۔ وہ مسکراتا ہوا ۔۔۔ مجھے دیکھتا رہا ۔۔۔؟
’’نہیں بھائی میں نے حج نہیں کیا ہوا‘‘ ۔۔۔ میں نے کچھ دیر سوچ سمجھ کر جواب دیا ۔۔۔ دعا کرنا اللہ مجھے توفیق دے یہ مقدس فرض ادا کرنے کی ۔۔۔ ’’آمین‘‘ وہ بولا ۔۔۔ پھر گویا ہوئے ۔۔۔ ’’اوہو ۔۔۔ جناب میں نے حاجی صاحب نہیں چوہدری صاحب کہا ہے ۔۔۔ ٹریفک کا شور ہے ناں آپ اس لیے سمجھے نہیں‘‘ ۔۔۔ ویسے ناموں میں کیا رکھا ہے چوہدری جی ۔۔۔
میرا تعلق مغل فیملی سے ہے ۔۔۔ اور چوہدری تو ہم نے کبھی نہیں کہلوایا ۔۔۔ وہ پھر سے بولا ۔۔۔
’’اکبر صاحب ۔۔۔ ہیں ناں ۔۔۔ آپ ۔۔۔؟‘‘
’’ارے نہیں بھائی میں نہ اکبر ہوں نہ اصغر ہوں ۔۔۔ حافظ مظفر محسنؔ ہوں‘‘ ۔۔۔
’’جی جی وہی ۔۔۔ حافظ صاحب‘‘ ۔۔۔ اس نے میرا فقرہ اچک لیا ۔۔۔ مدتوں پرانے دوست کی طرح بے تکلف ہو گیا ۔۔۔ پرانے ملنے والوں سے بھی کبھی کبھی راہ و رسم بڑھانے میں یاد دلانے میں تو دیر لگ ہی جاتی ہے۔۔۔
اس دوران ہم اشارہ کراس کر کے ۔۔۔ سینما کے زیر سایہء رک چکے تھے ۔۔۔ اس نے اپنی موٹر سائیکل سڑک پر لٹا دی ۔۔۔ ’’ارے بھائی اٹھاؤ اسے‘‘ ۔۔۔ میں نے عرض کی تو وہ بولا ۔۔۔ ’’گھبرائیے مت یہ اسی قابل ہے ۔۔۔ ابھی ایک کک ماروں گا یہ سٹارٹ ہو جائے گی ۔۔۔ ویسے آپ کا کیاخیال ہے سینما میں بھارتی فلمیں لگنی چاہیں یا نہیں ۔۔۔؟ ان سینماؤں میں کوئی فلم نہیں لگنی چاہئے‘‘ ۔۔۔ اس نے میری طرف حیرت سے دیکھا ۔۔۔
’’بس کریں حضرت جی تفریح ۔۔۔ تو آج عوام کی ضرورت ہے‘‘ ۔۔۔
’’تفریح ۔۔۔؟ یہ تو گند ہے۔ میرے خیال میں سینما ہاؤس بند کر کے وہاں بچوں کے کھیلنے کے لیے بڑے سائز کی گیمز لگا دینی چاہیں جس میں کوئی تعلیمی بات ہو ۔۔۔ ذہنوں میں پختگی آئے اور کوئی دوسرا مثبت پہلو ہو تو زیادہ بہتر ہے ۔۔۔ یہ خونخوار پنجابی اور پشتو فلمیں ۔۔۔ انڈین فلموں کی نکل ۔۔۔ کوّا چلا ہنس کی چال سب چالیں بھول گیا ۔۔۔؟‘‘
اس دوران اس نے میرا دائیاں ہاتھ پکڑ لیا ۔۔۔ حافظ صاحب آپ سادہ آدمی ہیں آپ جیسے لوگوں کو پارلیمنٹ میں جانا چاہئے ۔۔۔؟ میں حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔ اس نے مجھے ’’پمپ‘‘ کرنا شروع کر دیا اور مجھے محسوس ہوا کہ پمپنگ سے میرا وزن بڑھ گیا ۔۔۔ میرے چہرے کا رنگ بدل رہا ہے ۔۔۔ میں خود کو آصف علی زرداری/ عمران خان سمجھنے لگا تھا ۔۔۔ اس نے بھی یقیناًیہ محسوس کر لیا ہو گا کہ وار ٹھیک نشانے پر لگ چکا ہے ۔۔۔ ہم دونوں آپس میں گھل مل گئے پرانے دوستوں کی طرح تھڑے پر بیٹھ کر گپ لگانے والے محلے داروں کی طرح جو تھڑے پر بیٹھ کر ٹیموں کی ہار جیت کا فیصلہ کر ڈالتے ہیں ۔۔۔ نئے شادی شدہ لوگوں کو طلاق دلوا دیتے ہیں ۔۔۔ وغیرہ ۔۔۔ وغیرہ ۔۔۔ وغیرہ ۔۔۔
مجھے سیزرز کی کہانی یاد آ گئی ۔۔۔ وہی کہانی جب ایک فراڈیا بادشاہ کے پاس آیا ۔۔۔ اس نے بادشاہ کو متوجہ کرنے کے لیے کہا ۔۔۔ ہمارا بادشاہ بہت سمجھدار ہے بڑے سے بڑا خوش آمدی بھی اپنی خوش آمد سے سیزرز کو متاثر نہیں کر سکتا ۔۔۔ اور بادشاہ اس فقرے سے ہی پمپ ہو چکا تھا ۔۔۔ خوش آمد کا جادو چل چکا تھا ۔۔۔
’’اور سناؤ برخوردار‘‘ ۔۔۔ ناں حافظ صاحب پلیز یہ دوبارہ مت کہنا ۔۔۔ میں آپ سے اتنا چھوٹا نہیں ہوں ۔۔۔ آپ دو سال زیادہ سے زیادہ مجھے سے بڑے ہوں گے ۔۔۔ بلکہ آپ میرے ساتھ چلیں ۔۔۔ کسی حجام کی دوکان پر شیشے میں منہ دیکھتے ہیں آپ مجھ سے جوان لگیں گے ۔۔۔ ’’وہی‘‘ پھر اس نے پمپنگ شروع کی اور اس کا وار کامیاب رہا ۔۔۔ آپ نوے سالہ بوڑھے کو کبھی کہو کہ تم چالیس کے لگتے ہو وہ ’’پھول‘‘ جائے گا ۔۔۔
’’بھائی میں نے آپ کو پہچانا نہیں‘‘ ۔۔۔ میرے اس فقرے کو سنتے ہی وہ منہ بسور کے کھڑا ہو گیا جیسے اسے سخت گلہ ہو کہ آپ نے یہ کیا کہہ دیا ۔۔۔ مجھے آپ نے نہیں پہچانا ۔۔۔ حافظ صاحب یہ بھائیوں والی بات نہیں آپ ہماری دوکان سے گوشت نہیں خریدتے؟‘‘ ۔۔۔
’’آپ کی دوکان‘‘ ۔۔۔ میں نے حیرت سے پوچھا ۔۔۔ ’’میں تو اللہ دین پتھر توڑ سے گوشت لیتا ہوں ۔۔۔ تو میں پتھر توڑ کا بیٹا ہوں لکڑ توڑ میں پیچھے بیٹھا ۔۔۔ ’’قیمہ بنا رہا ہوتا ہوں‘‘ ۔۔۔
’’اچھا‘‘ میں نے یاد کرتے ہوئے حیرت سے پوچھا ۔۔۔ حالانکہ ایسا کچھ بھی مجھے یاد نہیں آ رہا تھا ۔۔۔
حافظ صاحب ۔۔۔ اصل میں گاڑی پچھلے موڑ پر خراب ہو گئی ہے ۔۔۔ فون کر کے مکینک بلایا ہے ۔۔۔ وہ کہتا ہے ٹھیک ہو جائے گی لیکن دو ہزار پہلے لوں گا ۔۔۔ حافظ صاحب ۔۔۔ سڑک پر میرا ماموں تو نہیں بیٹھا جو میری مدد کرے ۔۔۔ میں کس سے مانگوں میں نے دوکان پہ جا کے ’’قیمہ کرنا ہے گاہکوں کا ۔۔۔ آپ دو ہزار روپے مجھے دے دیں جب گوشت لینے آئیں گے تو حساب بے باک کر لیں گے ۔۔۔ اللہ دین پتھر توڑ کے بیٹے پر احسان کریں ۔۔۔ اللہ آپ کی تمام نمازیں قبول کرے ۔۔۔ آپ نے اگر حج نہیں کیا ہوا تو بھی اللہ آپ کو کرا دے ۔۔۔ ویسے اگر ناں بھی دیں گے تو میں گاڑی سڑک پر چھوڑ کر چلا جاؤں گا ۔۔۔
’’میں نے جیب میں ہاتھ ڈالا ۔۔۔ پچیس سو روپے تھے کل ۔۔۔ اس نے پچیس سو کے پچیس سو میرے ہاتھ سے لئے (چھیننے کے انداز میں) مجھ سے بغل گیر ہوا ۔۔۔ ہاتھ ملایا ۔۔۔ میرا ہاتھ چوما ۔۔۔ جو موٹر سائیکل اس نے زمین پر لٹائی تھی اسے اٹھایا ۔۔۔ کک ماری ۔۔۔ اور آگے نکل گیا ۔۔۔ ہوا کی طرح ۔۔۔ آندھی کی طرح ۔۔۔
میں پیچھے رہ گیا ۔۔۔ موٹر سائیکل کی چابی ۔۔۔؟ اوہ ۔۔۔ وہ تو اس نے اس وقت میرے ہاتھ سے لے لی تھی جب وہ ہاتھوں پہ ہاتھ مار کے باتیں کر رہا تھا ۔۔۔ موٹر سائیکل میں نے ادھر ادھر دیکھا ۔۔۔ ارے وہ کون لے گیا ۔۔۔ میں نے اِدھر اُدھر دیکھا ۔۔۔ یہ سب کیا تھا یہ سب کیا ہے ۔۔۔ نہ جیب میں پیسے ۔۔۔ نہ موٹر سائیکل ایک بیس بائیس سال کا چال باز مجھ سے نہ جانے کیاکچھ کر گیا ۔۔۔ میرا اعتماد ۔۔۔ میرا حوصلہ ۔۔۔ سب پیار محبت چاپلوسی/ خوش آمد لے گیا ۔۔۔!
چال بازوں کی دل نواز ادا


ای پیپر