اس سادگی پر کون نہ مر جائے اے خدا۔۔۔
30 اگست 2018 2018-08-30

18ْٰآجولائی 2018کو عمران خان نیازی نے پاکستا ن کے بائسویں وزیر اعظم کا حلف اٹھا لیا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی کابینہ بھی نامزد کردی اور انہوں نے بھی حلف اٹھا لیا ہے(لوگوں کا کہنا ہے کابینہ مشرف زدہ ہے) کابینہ کی پہلی میٹنگیں بھی ہو رہی ہیں اور اہم فیصلے بھی ہو رہے ہیں ۔جن میں مثبت اور منفی فیصلے کئے گئے ہیں۔

عمران خان نیازی کو اس بات کا ادراک ہونا چاہئے تھا کہ اپوزیشن اور حکومت میں بہت واضح اور بنیادی فرق ہوتا ہے۔جب آپ اپوزیشن میں ہوتے ہیں تو ہر طریقہ سے حکومت کو ہر قیمت پر گرانا چاہتے ہیں اور ہر قسم کے منفی حربہ استعمال کرتے ہیں جیسا کہ عمران خان نیازی نے کیا لانگ مارچ سے لیکر دھرنے تک اور پھر لوگوں طلسماتی ریاست جسے یوٹوپیا کہا جاتا ہے کا خواب دکھاتے رہے۔مگر اتنے دن حکومت کرنے کے بعد خیال تھا کہ انہیں اندازہ ہو گیا ہوگا کہ حکومت کرنا سب سے مشکل کام ہے۔

پہلے ان کی کابینہ کا سب سے منفی اور غیر سیاسی اور کوتاہ اندیش فیصلہ کی طرف آتے ہیں۔نواز شریف اور ان کے اہل خانہ جو کہ جیل میں ہیں ان کے باہر جانے پر پابندی کی درخواست نیب نے بہت پہلے کی تھی۔پہلے تو سمجھ میں آتا تھا کہ جی یہ نون کی اپنی حکومت ہے اس لئے وہ انہیں EXIT CONTROL LISTپر نہیں ڈال رہے مگر جب عبوری حکومت بنی تو نیب نے یہی درخواست ان سے بھی کی مگر چونکہ عبوری وزیر اعظم خود بھی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رہے تھے اور قانون کو اچھی طرح سمجھتا تھے اس لئے انہوں نے یہ فیصلہ آئندہ حکومت پر ڈال دیا اب عمران نیازی حکومت کا نابالغ پن اور کوتاہ بینی دیکھئے کہ اس نے پہلی ہی کیبنٹ میٹنگ میں نواز شریف کو EXIT CONTROL LISTمیں ڈال دیا۔ اس فیصلہ سے عمران کی حکومت کو سیاسی اور اخلاقی طور پر کوئی فائدہ نہیں ہوگا بلکہ الٹا نقصان ہوگا۔ اس سے ذاتی دشمنی کی بو آتی ہے۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ وہ لندن اپنی زوجہ محترمہ جو کہ کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہیں کو دیکھنے جاتے تھے بلکہ جب ان کو ان کی غیر موجودگی میں نیب کورٹ نے سزا دی تو بعض لوگوں کے خیال کے برعکس وہ ان کی بیٹی مریم اور داماد کیپٹن صفدر خود گرفتاری دینے پاکستان آئے اور آج کل اڈیالہ جیل میں ہیں۔

اب تھوڑا سا ذکر جیل کا بھی ہو جائے ۔جن لوگوں نے جیل دیکھی ہے اور خاص کر سیاسی لوگ جو ضیا کے زمانے میں سینکڑوں کی تعداد میں جیل میں رہے ہیں وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ جیل سیاسی لوگوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی بلکہ وہ ان میں حوصلہ اور ہمت پیدا کرتی ہے کہ وہ اپنے نظریہ اور عقائد پر قائم رہ کر دوسروں کے لئے مثال قائم کریں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ نواز شریف صاحب کے پاس بہت اچھا وقت ہے کہ وہ تنہائی میں اپنے ماضی اور سیاست پر نظر ڈالیں اور سوچیں کہ انہوں نے عوام اور جمہوریت کی برتری کے لئے جو پتھر اٹھایا ہے اس مشن میں ماضی میں کہاں کہاں کمزوریاں رہی ہیں اور مستقبل میں انہیں کیا کرنا ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ انہیں سب سے پہلے اپنی پارٹی کو منظم کرنے کا سوچنا چاہےئے۔انہیں دنیا کی تاریخ کا مطالعہ کرنا چاہئے اور اپنی زندگی کے بارے میں بھی لکھنا چاہئے۔ اس بات کی اس لئے بھی اہمیت ہے کہ وہ ذولفقار علی بھٹو کے بعد پہلے وزیر اعظم ہیں جن کو قید میں ڈالا گیا ہے مگر بنیادی فرق یہ ہے کہ بھٹو کو جنرل ضیا کی ملڑی حکومت نے پہلے گرفتار کیا اور بعد میں پھانسی دی جبکہ اب خدائی مخلوق نے نئے حربہ استعمال کرنے شروع کر دئیے ہیں اور نیب ان کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ (میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ نیب کے سربراہ کو جبری طور پر گمشدہ کمیشن اور نیب میں سے ایک عہدہ رکھنا چاہئے)۔

یہ بچگانہ اعلانات کہ عمران نیازی وزیر اعظم ہاؤس میں نہیں رہیں گے یا اورگورنر ہاؤس کو یونیورسٹی بنا دیا جائے گا یا پاکستان کو ریاست مدینہ بنا دیا جائے گا عوام کو خوش کرنے کے لئے بہت اچھے ہیں مگر یہ اس بات کا بھی ثبوت ہیں کہ عمران خان نیازی اور ان کے رفقا کار قانون اور آئین اور جدید ریاست کے تقاضوں سے نابلد ہیں۔ پارلیمنٹ ہاؤس‘ سیکریریٹ‘وزیر اعظم ہاؤس اور وزیر اعظم سیکرٹریٹ یا قصر صدارت کسی ایک آدمی کے فیصلہ سے نہیں بنتا ۔ا س کے لئے آئین اور قانون میں قوائد و ضوابط درج ہیں۔

تاریخ کے طالب علم کو یاد ہوگا کہ پاکستان کا دارلخلافہ اسلام آباد بنانے کے لئے کن کن مراحل سے گذرنا پڑا تھا اور آج بھی اس فیصلے پر انگلیاں اٹھتی ہیں۔اب ذرا کرپشن اور سادگی کی مہم کی طرف آئے ۔کرپشن تو ایسے ہی جاری ہے اور میں یہ بھی کہہ سکتا ہوں کہ اس نیم سرمایہ دارانہ نظام میں جہاں امرا کی حکومت ہو کرپشن جاری اور ساری رہے گی۔تاریخ کے طالب علم جانتے ہیں کہ بر صغیر میں انگریز کے دور میں سب سے پہلے کرپشن EMEمیں شروع ہوئی تھی ۔شیخ رشید نے بہت پتے کی بات کی ہے کہ وہ ریلوے کے ٹھیکے مخصوص محکموں کو دیں گے۔

اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کرپشن کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔کرپشن کے خاتمہ کے لئے ہمیں متبادل سیاسی اور اقتصادی نظام کے بارے میں سوچنا پڑے گا۔جس کے لئے ہماری اشرفافیہ تیار نہیں ہے۔اب سرائیکی صوبہ کے وعدہ کی طرف آتے ہیں۔عمران خان نیازی کو اس بات کا علم ہے کہ آئین پاکستان میں پاکستانی حدود اربہ (جغرافیہ )کے ساتھ ساتھ صوبوں کا بھی ذکر ہے اور نئے صوببے بنانے کا طریقہ کار کا بھی ذکر ہے۔

جسے کہتے ہیں سر منڈانے ہی اولے پڑے۔اب سوال کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم نے امریکی سیکریڑی سے فون پر کیوں بات کی کیا یہ مناسب نہیں تھا کہ وہ اپنے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو کہتے کہ امریکی سیکریڑی کا فون سنیں۔سونے پر سوہاگہ کہ ۔۔گفتگو کے مندرجات پر اختلاف پایا جاتا ہے۔۔بہرحال حکومتیں اس کا ریکارڈ رکھتی ہیں اور جلد یا بدیر حقیقت سامنے آجائے گی۔

پاکستان میں سب سے پہلا مسئلہ اقتصادیات کا ہے اگر موجودہ حکومت کے پاس کوئی گڈر سنگھی ہے تو عوام کو بتا دے۔خالی نعروں سے کام نہیں چلے گا۔کچھ کرکے دکھانا پڑے گا۔


ای پیپر