یمن میں بچوں کا قتل:یہ خون خاک نشینا ں تھا رزقِ خاک ہوا
30 اگست 2018 2018-08-30

دل شکستہ اور آنسورواں ہیں ۔معصومیت اور لطافت کے پیکر یمن کے بچے خون آشام بھیڑیوں کے نرغے میں ہیں۔سرزمین یمن پر حیوانیت ناچ رہی ہے اور امن کے ٹھیکیدار مہربلب ۔ہر قسم کی منافقت، دشمنی اور تعصب سے پاک ہنستی مسکراتی کلیوں کی کسی سے کیا دشمنی ؟ یہ بچے تو اس وقت پوری دنیا میں امن و آشتی کے سب سے بڑے پرچارک ہیں باقی تو ہرطرف نفرت اور تعصب ہی کا کاروبار ہے ۔ ان بچوں کا کسی’ قضیے‘سے کیا لینا دینا؟لیکن یہ نازک کلیاں آج دنیا بھر میں سب سے زیادہ عدم تحفظ کا شکار ہیں ۔انسانی حقوق کے عالمی اداروں کا کہنا ہے کہ شورش زدہ ممالک میں سب سے زیادہ بچے متاثر ہو رہے ہیں اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں۔قیامت صغریٰ کا تازہ منظر دیکھیے کہ یمن میں صرف ماہِ رواں میں پچاس کے قریب بچے قتل کر دیے گئے اورکہیں سے مستحکم صدائے احتجاج بلند نہ ہوئی۔ یمن کے بچے جنگ کا ایندھن بن رہے ہیں اور ان دلدوز مناظر کوسپرد قلم کرنے کا حوصلہ نہیں رہا ۔ یہ تاریخ کی بدترین سفاکیت و درندگی نہیں تو کیا ہے کہ 24اگست 2018ء کو سعودی اتحاد ی فورسز نے یمن میں حملہ کر کے22 بچوں اور چار خواتین کی زندگی کا چراغ گل کر دیا۔یاد رہے کہ اس سے قبل 10اگست کو ایک سکول بس پر فوجی حملے میں 30کے قریب بچے ما رے گئے تھے۔

خاک اور خون پر لوٹتے یمن کے بچوں کے معاملے پر ایک معز ز قاری نے تلخ سوال اٹھایا ہے کہ ہمارے دانش ور، قلم کار،صحافی ،علماء اور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ افغانستان ، عراق اور شام میں ہونے والی قتل و غارت گری پر تو سراپا احتجاج نظر آتے ہیں لیکن یمن کے قتل عام پر خاموشی کیوں ہے اورامن عالم کے پرچم بردار کہاں ہیں...؟ 10اگست کے حملے کے بعد سعودی اتحاد نے اعلان کیاتھا کہ اس کی تحقیقات کی جائیں گی ۔ تحقیقات کے متعلق تو کچھ پتہ نہ چل سکا تاہم یہ روح فرسا خبر ضرور آئی کہ اتحاد کے تازہ حملے میں مزید بچے ہلاک کر دیئے گئے۔ کیا یمن میں کھیلی جانے والی خون کی ہولی اور بچوں کے وحشیانہ قتل عام کو اس لیے نظر انداز کیا جا رہا ہے کہ یہ سب ’حرمین شریفین‘کے تحفظ کے نام پر ہو رہا ہے؟کیا ہم اس لیے ان معصوم کلیوں کو دوسرے بچوں کا درجہ دینے کوتیار نہیں کہ انہوں نے سرکش حوثیوں کی سرزمین پر جنم لیا؟بچے تو بچے ہوتے ہیں اور بچے تو سبھی اچھے ہوتے ہیں وہ بھلے کسی بھی مذہب، رنگ ،نسل اور ذات پات سے تعلق رکھتے ہوں۔سچ پوچھئے تویمن میں تڑپتے یہ معصوم لاشے انسانیت، امن اور اسلام کے دعویداروں کے منہ پر ’زناٹے دار‘تھپڑ ہیں ۔ آقائے دو جہاںؐنے توفرمایا تھا کہ مجھے یمن کی طرف سے ٹھنڈی ہوائیں آتی ہیں ۔کیا آج وہاں سے اٹھنے والی آہ و بکا اور قتل و غارت گری سے گنبد خضریٰ کے مکین ؐکادل نہیں دُ کھ رہا ہوگاکہ میری امت کے بچوں کا لہواس قدر ارزاں ہو چکا کہ اس پر کوئی ندامت کے چار آنسوبہانے والا بھی نہیں؟۔عراق ، افغانستان اور کشمیر میں بہنے والے لہو پر تو یہ کہہ کردل کا بوجھ ہلکا کرلیاجاتاہے کہ یہ سب ’کفریہ‘طاقتوں کے ہاتھوں ہو رہا ہے لیکن یمن کے کٹتے بچوں پر کس کو دوش دیں؟کس کے خلاف احتجاج بلند کریں؟کسے وکیل کریں اورکس سے منصفی چاہیں؟

اس وقت مختلف ممالک میں جاری جنگ کے دوران سب سے زیادہ نقصان بچوں اور عام شہریوں کی ہلاکتوں کی صورت میں سامنے آرہا ہے جو عالمی ضمیر پر مسلسل ’تازیانے‘برسا رہا ہے۔یونی سیف ( UNICEF ۔یونائیٹڈ نیشنز انٹرنیشنل چلڈرنز ایمرجنسی فنڈ) بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والا عالمی ادارہ ہے ۔اس کا کہنا ہے کہ ان جنگوں میں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں بچوں کا بچپن چھین لیا گیا ۔انہیں قتل کر دیا گیا اور جو بچ گئے ان کی زندگیاں اجیرن ہوکررہ گئیں ۔ بہت سے بچے پس دیوار زنداں اور پناہ گزین کیمپوں میں ابتر حالت میں ہیں۔ بچوں کا استحصال ہو رہا ہے اور انہیں سکول جانے سے روکا جا رہا ہے،صحت کی ضروری سہولتیں حاصل نہیں ۔ بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ شورش زدہ علاقوں میں بچوں سے کھیلنے اور زندہ رہنے کا بنیادی حق بھی چھین لیا گیا ، ہم اجتماعی طور پر بچوں پر مسلط جنگ کو روکنے میں ناکام رہے اوراس ناکامی کا ہمارے پاس کوئی جواز نہیں۔ اداروں کے مطابق عراق ، لیبیا ، فلسطین ، شام اور یمن میں ہزاروں بچے ہلاک ہو چکے اور ہزاروں کا مستقبل تاریک ہے۔ ایک سرگرم سماجی کارکن سوشل میڈیا پر لکھتے ہیں:’ ’جس طرح ’ایلان کردی ‘نام کے ایک شامی بچے نے شام کی المناک صورت حال کو تلخیص کی شکل میں دنیا کے سامنے پیش کر دیا تھا ، اسی طرح یمن کے بچے بھی اہل یمن کے دکھوں کا خلاصہ بیان کر رہے ہیں لیکن ان کی آہ وبکا سننے والا کوئی نہیں‘‘۔

یمن میں گزشتہ چار سال سے جاری جنگ میں لاتعداد افرادلقمہ اجل بن چکے ہیں۔ شادی کی تقاریب، جنازوں اور سکولوں پر فضائی بمباری معمول ہے ۔متحارب گروپوں یاحوثیوں کے علاوہ کثیر تعداد میں ایسے لوگ اس جنگ کا ایندھن بن رہے ہیں جن کاسعودیہ، حوثی قضیے سے کوئی تعلق نہیں ۔ بچوں اورخواتین کی تعداد اس کے علاوہ ہے ۔ حوثی باغیوں کے خلاف سعودی فوج اپنے دیگر اتحادیوں کے ہمراہ یمن کی سرکاری فورسز کی امداد کررہی ہے ۔ایک طرف سعودی اتحادمعصوم شہریوں اور بچوں پر حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار ی ہے اور وہ اسے حوثیوں کی غنڈہ گردی قرار دیتا ہے تو دوسری جانب حوثی باغیوں کا کہنا ہے کہ یہ ہلاکتیں سعودی اتحاد کی فضائی بمباری سے ہو رہی ہیں۔کس قدر معمہ ہے کہ بچے قتل ہو رہے ہیں اور قاتل کوئی نہیں۔ بچوں کا بد ترین قتل عام جاری ہے اور اس کاذمہ دار کوئی نہیں۔’’حرمین شریفین‘‘ کے محافظ ہوں یا سرکش حوثی سبھی کا دامن صاف ہے ۔ اس صورتحال میں فیض احمد فیض ؔ کے ان اشعار کازبانِ قلم پر آنا لازم امر ہے ؂

نہ دست و ناخن قاتل، نہ آستیں پہ نشاں

نہ سرخئی لبِ خنجر، نہ رنگ نوکِ سناں

نہ خاک پر کوئی دھبا ،نہ بام پر کوئی داغ

کہیں نہیں ہے ،کہیں بھی نہیں لہو کا سراغ

نہ مدعی نہ شہادت ،حساب پاک ہوا

یہ خون خاک نشیناں تھا رزق خاک ہوا


ای پیپر