بحیرہ احمر بند کرنیکی ایرانی دھمکی۔۔۔امریکہ کیلئے بڑا چیلنج
30 اگست 2018 2018-08-30

امریکی صدرٹرمپ کی ایران کیساتھ جوہری ڈیل کی منسوخی اور ایرانی تیل کی برآمدات پر ممکنہ پابندیوں کی وجہ سے ایرانی معیشت کوشدید چیلنجز کا سامنا ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک امریکی ڈالر کے مقابلے میں ایرانی ریال کی قیمت 50 ہزارتمن ہو چکی ہے اور صرف یہی نہیں ایران جو یورپ، ترکی اور انڈیا سمیت کئی بڑی عالمی منڈیوں کو مختلف مراعات کیساتھ تیل فراہم کر رہا تھا وہ سب ملک اگلے ماہ یعنی ستمبر تک تہران سے تیل کی درآمدات میں نمایاں کمی کر دینگے جس کے باعث ایران کو سخت معاشی بحرانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس کے باعث ملک میں ہنگاموں اور احتجاج کا بھی خطرات بڑھ چکے ہیں۔

اس ساری صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایران نے جارحانہ انداز اپنانے کا اعلان کیا ہے۔ ایرانی صدرحسن روحانی اور پاسداران انقلاب کے سربراہ نے مختلف بیانات میں امریکہ سمیت مغربی دنیا کو واضح پیغام دیا ہے کہ اگر امریکہ نے ایرانی تیل کی برآمدات پرممکنہ پابندیاں لگائیں تو ایران بحیرہ احمر میں تیل کی عالمی آمد رفت روک دیگا۔ ماہرین کے مطابق تیل کی اہم گزرگاہیں ابنائے ہرمزاور آبنائے باب المندب بند ہونے سے یورپ کو جانیوالے تیل کی ترسیل بند ہونے کا خدشہ ہے جس سے بین الاقوامی سیاست کا نقشہ تبدیل ہو سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق بحیرہ احمر میں ابنائے ہرمز پر ایران کا مکمل کنٹرول ہے جبکہ آبنائے باب المندب پر یمنی باغیوں کا مکمل کنٹرول ہے جس سے واضح ہو تا کہ ایران کی جانب سے تیل کی بندش کا بیان محض سیاسی نعرہ نہیں بلکہ واقعی ایران تیل کی بین الاقوامی ترسیل روک سکتا ہے اور اگر ایسا ہو ا تو عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہو سکتا ہے۔یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے سعودی عرب نے آبنائے باب المندب سے گزرنے والے دو آئل ٹینکروں پر حوثی باغیوں کے مبینہ حملوں کے بعد سعودی عرب نے اس راستے سے یورپ کو تیل کی رسد روک دی تھی۔ حوثی باغیوں نے گذشتہ ہفتے آبنائے باب المندب کو بند کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ سعودی عرب کی بندرگاہوں کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف کے سعودی کمان میں عسکری آپریشن گذشتہ تین سال سے جاری ہے۔ اور یمن آبنائے باب المندب کی جنوبی سمت میں ہے۔ باب المندب 29 کلو میٹر چوڑی آبنائے ہے جہاں سے ہزاروں تیل بردار جہاز گزرتے ہیں۔ امریکہ کے توانائی کے ادارے کے مطابق 2016 میں اس راستے سے یومیہ چار کروڑ اسی لاکھ بیرل تیل گزرا تھا۔اس ساری صورتحال میں اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے گزشتہ روز اعلان کیا کہ ایران نے اگر بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملانے والی آبنائے باب المندب کو بند کیا تو اسرائیل اپنی فوج تعینات کر دے گا۔اس سے پہلے اسرائیل کے وزیر دفاع نے کہا کہ حال ہی میں بحیرہ احمر میں اسرائیلی جہازوں کو لاحق خطرات کے بارے میں سنا ہے۔ دوسری جانب امریکہ کے ساتھ تعلقات انتہائی کشیدہ ہونے کے بعد ایران بڑے پیمانے بحیرہ احمر میں عسکری مشقیں بھی کر رہا ہے۔ جس کا مقصد امریکہ اور اس کے حلیف ممالک کو اپنی قوت دکھانا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے غیر معمولی سرگرمیاں دیکھنے میں آئی ہیں۔امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے پاسدرانِ انقلاب عسکری مشقوں کی تیاریاں کر رہے ہیں جس میں 100 سے زیادہ بحری جہاز اور سینکڑوں زمینی افواج حصہ لے رہی ہیں۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت ایران ان عسکری مشقوں کے ذریعے امریکہ کو پیغام دینا چاہتا ہے۔ ماہرین کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ شمالی کویا کی طرز پر ایران کے ساتھ بھی دھونس اور دھمکیوں کے ذریعے سے نمٹنا چاہتے ہیں کیونکہ امریکی دھمکیوں کی بددلت ہی شمالی کوریا نے اپنا ایٹمی پروگرام بند کر دیا تھا لیکن ماہرین اس بات متفق ہیں کہ ایرانی مسئلے کو مسئلہ شمالی کوریائی تناظر میں دیکھنا امریکہ کی بڑی غلطی ہے ایران خطے کی بہت بڑی پاور ہے جس کا اثر ورسوخ شام، عراق، یمن، شام، بحرین، قطر اور دیگر ممالک میں بھی پایا جاتا ہے اور آپ شامی خانہ جنگی میں ایران کا کردار ہی دیکھ لیں اس نے شامی صدر بشارالاسد کو مکمل سپورٹ کیا اور کچھ ماہرین کہتے ہیں کہ روس کو شامی تنازعے میں شامل ہونے کے لیے قائل کرنے والا ایران ہی ہے جس کی امد کے بعد شامی تنازعے میں اس کی فوج کو مکمل برتری حاصل ہو چکی ہے اور امریکہ کو ناکامی کا سامنا ہے۔سابق امریکی صدر باراک اوبامہ نے ایرانی قوم کی طاقت کا صحیح اندازہ لگا کر تہران سے مذاکرات کو ترجیح دی اور تاریخی کامیابی حاصل کی،اس لیے دھمکیوں سے تہران کو شکست دینا ناممکن ہے۔

امریکہ کامشرو ق وسطیٰ میں اہم اتحادی اسرائیل اور سعودی عرب ہیں جو ٹرمپ کو ایران کیساتھ محاذ ارائی پر اکسا رہے ہیں۔ ایران اور سعودی عرب اب کھل کر ایک دوسرے کے سامنے آچکے ہیں کیونکہ یمن جنگ میں دونوں ایک دوسرے کی مخالف قوتوں کا ساتھ دے رہے ہیں۔سیاسی ماہرین ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز میں مشقوں کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دے رہے ہیں مشرق وسطی میں ایران اگر ایک طرف آبنائے ہر مز میں اور دوسری طرف یمن میں حوثی باغی آبنائے باب المندب میں مزاحمت کرتے ہیں تو کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ سعودی عرب کے آئل ٹینکرزپر آبنائے باب المندب میں حوثی باغیوں کے حملوں کے بعد اسرائیل کو بھی شدید خطرات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اسرائیلی صدر نیتن یاہو کی بے چینی اس کی پریس کانفرنس سے عیاں ہوتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ امریکی ٹرمپ نے گزشتہ روز کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ ایران بہت جلد مذاکرات کے لیے تیار ہو جائے گا۔ امریکی صدر نے غیر مشروط طور پر ایران سے مذاکرات کی بات کی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان کا کہنا کہ امریکہ دنیا میں قیام امن کے لیے مذاکرات کو ترجیح دینے کا خواہش مند ہے جبکہ اس کے جواب میں پاسداران انقلاب کے سربراہ جعفری نے کہا کہ ایران کوئی شمالی کوریا نہیں کہ امریکہ کے پریشر میں آجائے۔ اس وقت ایران کے یورپی ممالک کے ساتھ تعلقات مثبت انداز میں چل رہے ہیں اب یورپ امریکہ کے پیچھے چلنے کے بجائے ایران سے خود معاملات طے کرنا چاہتا ہے۔ بھارت اور ترکی نے بھی ایرانی تیل پر امریکی پابندیوں سے بے زاری کا اعلان کیا ہے۔ ترک صدر طیب ایردوان نے تو ایرانی تیل پر لگنے والی پابندیوں کو ماننے سے انکار کیا ہے۔


ای پیپر