حضرت لاہوریؒ کے شہر میں ایک دن
30 اگست 2018 2018-08-30

لاہور کی زمین میں بہت سارے اللہ والے سوئے ہوئے ہیں،انہی اولیاء اللہ میں ایک ہمارے نانا جی شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوری رحمۃ اللہ علیہ بھی ہیں،شام کا وقت تھاکہ میں اپنے استاد محترم جوکہ میرے ماموں جان بھی ہیں ان کے ساتھ بیٹھا ہوتھا ،انہوں نے اچانک لاہورجانے کا ارادہ ظاہر کیا،تو میں نے بھی یہی سوچاکہ میں بھی لاہور چلاجاؤں تاکہ ناناجی کے مزار پر حاضری ہوجائے۔

ماموں جان کا کافی عرصہ سے یہ معمول ہے کہ ہر مہینہ نہیں تو دو مہینے بعد ناناجی کی زیارت کے لیے ضرور تشریف لے جاتے ہیں،راقم ابھی تک حضرت لاہوریؒ کے مزار پر حاضر نہیں ہواتھا،میری یہ ایک آرزو تھی کہ لاہور صرف حضرت لاہوریؒ کے مزار کی دیدار کی نیت سے سفر کروں،اللہ تعالیٰ نے میری یہ آرزوں مکمل کر لی۔

رات ایک بج کر پندرہ منٹ بلال ٹریولز میں ہم نے لاہور کا سفر شروع کیا،یہ سفر پانچ گھنٹے اور پنتالیس منٹ پرمشتمل رہا۔صبح جب ہم لاہور پہنچے تونماز کے بعد ایک ہوٹل میں ناشتہ کر لیا ،ہم سیدھے حضرت لاہوریؒ کے مزار پرحاضر ہوئے۔ حضرت لاہوریؒ کے مزار پر حاضری کے ساتھ ہی ہمیں ایک سکون اور فرحت محسوس ہوئی،ساتھ میں حضرت موسیٰ روحانی البازیؒ کی دیدار بھی کر لی،یہاں سے روانہ ہوئے تو غازی علم دین شہید کے مزار پر حاضری دیدی،بعد ازاں جامعہ اشرفیہ لاہور گئے،جامعہ اشرفیہ سے واپسی پر راقم کے دل میں یہی ایک بات گردش کر رہی تھی کہ شاید اب دوبارہ حضرت لاہوریؒ کے مزار پر حاضر ہوں،مگر مجھے ماموں جان سے ایسا کہنے میں شرم محسوس ہورہی تھی،آخر اللہ میاں نے ماموں جان کے دل میں القا کی تو ماموں جان نے کہا کہ دوبارہ حضرت لاہوریؒ کے مزار پر حاضری دیتے ہیں،اس وقت میری خوشی کی انتہا نہیں تھی،ماموں جان نے بھی عرض کیا کہ مجھے یہاں سکون قلبی اور فرحت محسوس ہوتاہے۔

سید العارفین،مجددالدین والملۃ،شیخ التفسیرحضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ 17رمضان المبارک 1381ھ بمطابق 23فروری 1962ء بروز جمعتہ المبارک اس دارفانی سے کوچ کر گئے تھے، حضرت لاہوری ؒ کے نماز جنازہ کا یہ عالم تھا،کہ لوگوں کی رش اس قدر تھی کہ حضرت عبداللہ درخواستیؒ پاؤں کے انگلیوں ہر چل رہے تھے(گویا کہ پاؤں رکھنے کی جگہ نہیں تھی) کسی نے عرض کیا کہ حضرت یہ کیا تماشا ہے،درخواستیؒ نے فرمایا کہ میں فرشتوں کو آسمان سے اترتے دیکھ رہاہوں جونماز جنازہ میں شرکت کے لیے اتر رہیں ہیں،شام کا وقت تھا،آسمان ابرکرم برسا نے کے ساتھ ساتھ اپنی سورج بھی غروب کررہا تھا، حضرت درخواستیؒ حضرت لاہوریؒ کو اپنے گود میں لئے قبر مبارک میں رکھ رہے اتنے رو رہے تھے ،کہ رونے کی انتہا ہوگئی تھی، حضرت درخواستی ؒ نے فرمایا کہ اے لوگوں تم میرے رونے پرتعجب نہ کرنا،دیکھو آسمانی دنیا کی طرف کتنا خوب ابرکرم برسا رہا ہے،آج آسمان کے ساتھ ساتھ فرشتے بھی رو رہے ہیں،پھر فرمایا کہ ایک طرف تو آسمان کا سورج غروب ہورہا ہے تو دوسری طرف دنیا کو سورج بھی غروب ہونے کو ہے۔جب حضرت لاہوریؒ رحمۃ اللہ علیہ کوقبر مبارک میں رکھ دیا گیا،توقبر مبارک سے خوشبو آنے لگی اور یہ خوشبو جنگل کی آگ کی طرھ پھیل گئی، حضرت درخواستیؒ نے فرمایا کہ یہ قرآن کی خوشبو ہے،کہ حضرت امام بخاریؒ کے قبر سے بھی خوشبو آرہی تھی،وہ حدیث کی خوشبو تھی اور یہ قرآن کی خوشبو ہے۔

حضرت لاہوریؒ کے مزار پر حاضری دینے کے بعد ہم حضرت لاہوریؒ کے مسجد کی طرف چل دئیے، حضرت لاہوریؒ کے اس پرانے جامع مسجد کو اب بہت وسیع کیا گیا تھا،اسی جامع مسجد میں ہم نے دو رکعت نماز پڑھ لیں اور وہاں سے حضرت لاہوریؒ کے گھر کی روانہ ہوئے،دیکھا گیا تو گھر ویران تھا،زمین بالکل صاف نظر آرہی تھی،دل خون کے آنسو رو رہا تھا،کہ اے اللہ یہ کیا ہوگیا ہے،کس نے حضرت لاہوری ؒ کے گھر کوویران کردیاہے؟ساتھ میں حضرت لاہوریؒ کی قائم کردہ مدرسہ’’جامعہ قاسمیہ‘‘چلے تو دروازہ بند تھا،ہم نے باہر سے جامعہ قاسمیہ کا دیدار کیا،مین گیٹ کی طرف گئے تو وہاں پر ایک بورڈ آویزاں تھا،جس پر جامعہ قاسمیہ کے قواعدوضوابط درج تھے،آخر میں دوجملے بہت ہی عجیب لکھے گئے تھے،قارئین کرام کے افادہ کے لیے انہیں جملوں کو بالکل اسی طرح نقل کر رہا ہوں۔

’’کہ اس کے ذمہ دار یا امیر کا دیوبندی مکتب فکر کا ہونا ضروری ہے،اگر خدانخواستہ اس کا امیر یا صدر اصول کی پابندی نہیں کر سکتا تو پھر اس عمارت کو دارالعلوم دیوبند کے ساتھ ملحق کیا جائے،اور اگر خدانخواستہ دارلعلوم دیوبند والے بھی اصول کی پابندی پر پابند نہ رہے تو پھر اس کا الحاق کسی اور مذہبی جماعت کے ساتھ کیا جائے۔ازطرف:احمد علی عفی عنہ،امیرانجمن خدام دین لاہور‘‘۔یہاں سے گزرتے ہوئے بادشاہی مسجد چلے گئے وہاں پر موجود اشیاء جوکہ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب ہیں،اور بعض اشیاء حضرات صحابہ کرام کی طرف منسوب ہیں،ان سب کا دیدار بھی نصیب ہوا۔بادشاہی مسجد،مینار پاکستان،علامہ محمد اقبال مرحوم رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پر حاضی دینے کے ساتھ ساتھ قلعہ کو بھی دیکھا۔

یہاں سے فراغت ملی تو ہم نے ’’کاموکے ‘‘کی طرف رخت سفر باند لی،وہاں پر ایک پرانے جامع مسجد تھے جس میں ایک بزرگ،سفید ریش ،عجیب وغریب انسان تھے جنہوں نے تقریباً 58سال لوگوں کوقرآن کریم سکھایا تھا،1960ء سے وہاں پر تدریسی عملہ شروع کیا تھا جو ابھی 2018ء تک یہ سلسلہ چلتا رہا،انہی قاری صاحب سے میرے ماموں مولانا محمد بلال عباد پشاوری کے والد گرامی حافظ عابد جان نے بھی قرآن کریم حفظ کیا تھا(ان کا زمانہ طالب علمی ایک غریب داستان رکھتی ہے،اگر موقع ملا تو اسی داستان کو پھر کبھی ایک کالم میں لکھ لوں گا)قاری صاحب نے ہمیں انتہائی محبت اور خلوص دیا ۔یہاں سے ہم گجرانوالہ کی طرف روانہ ہوئے،وہاں سے پشاور گاڑی میں بیٹھ گئے اور یوں ہم اپنے آبائی علاقہ پشاور پہنچ گئے۔

آخر میں اپنے رفیق سفر ،ماموں جان واستاد محترم حضرت مولانا بلال عابد پشاوری صاحب حفظہ اللہ ورعاہ کا شکریہ ضرورادا کروں گا کہ انہوں نے مجھے اس سفر میں اپنے ساتھ رکھا،سفر میں راہ سفر اور خرچ سفرماموں جان نے برداشت کئے،کئی جگہوں پر جب میں جیب میں ہاتھ ڈالتا تو سخت غصہ ہوتے۔آخر واپسی پر میں نے ماموں جان سے کہا کہ حساب کتاب کر لیں تاکہ میرا جو خرچہ ہوا ہے آپ کو دیدوں،انہوں نے مجھے کہا کہ آپ میرے چھوٹے ہیں،اس کے علاوہ بھی آپ نے ان حضرات کی دیدار کی،وہاں پرذکرواذکار کئے،ان سب میں میرا برابر کا حصہ ہوگا۔پیسے تو آنے جانے کی چیز ہے۔


ای پیپر