نئی حکومت اورملکی معاشی صورتحال، ایک بڑا چیلنج
30 اگست 2018 2018-08-30

’’ نئی حکومت اور ملکی معاشی صورتحال، ایک بڑا چیلنج ‘‘ٹاکرہ سخت ضرور ہے مگر جو بلند و بانگ دعوے انتخابات سے قبل پی ٹی آئی کے افراد نے کئے تھے وہ پورے کرنے کا اب وقت آگیا ہے ۔دیکھنا ہو گا کہ اب یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ قوم کی نگاہیں پاکستان تحریک انصاف کی سو روزہ کارکردگی پر مرکوز ہو کر رہ گئی ہے ۔امتحان شروع ہو چکا ہے ۔شیخ رشید کی وارڈن کے ساتھ تلخ کلامی ،وزیر اعلیٰ کا پاکپتن میں پروٹوکول ،خاور فرید مانیکا اورڈی پی او رضوان گوندل کا واقعہ ،عمران شاہ کا شہری پر تشدد جیسے واقعات سے عوام میں منفی پیغام جا رہا ہے۔
وطن عزیزمسائل کے گرداب میں الجھ کر رہ گیا ہے ۔ مہنگائی،لوڈشیڈنگ،اقربا پروری،دہشت گردی،بے روزگاری سمیت انگنت ایسے ایشوز ہیں جنھوں نے لوگوں کی زندگی اجیرن بنادی ہے۔غیر سرکاری ماہرین معیشت اور قومی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ملک میں روزانہ12ارب روپے کی کرپشن اور سالانہ144ارب روپے کی کرپشن ہورہی ہے۔یہ پاکستان کی معاشی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ پاکستان کی ترقی اور عوام کی زندگیوں میں خوشحالی لانے کے لیے ضروری ہے کہ ملک سے کرپٹ عناصر کوختم اور کرپشن کامکمل قلع قمع کیا جائے۔ اختیارات کاناجائز استعمال سے لے کر ٹیکس چوری تک کرپشن کی داستانیں زبان زدعام ہیں۔ملک میں احتساب کاکوئی مستقل نظام واضح نہیں۔کرپشن کے خاتمے کے لیے موثر نظام بنایاجائے اور نشاندہی کرنے والے کو باتوقیر اورمحفوظ بنانے کے لیے حکومت اقدامات کرے۔ملک میں کرپشن کی انتہاہوچکی ہے جس کاخمیازہ عوام کو بھگتنا پڑرہا ہے۔لوگوں کو اپنے جائزکاموں کے لیے بھی رشوت دینی پڑتی ہے۔افسوس کا مقام ہے کہ حکمرانوں اور مقتدر حلقوں نے ہمیشہ احتساب کے راستے میں روڑے اٹکائے بلکہ ملک سے اس کابوریا بستراگول کرنے کے لیے کارنامے سرانجام دیئے ہیں۔جس کی واضح مثال ماضی میں این آر او کی صورت میں قوم کے سامنے آچکی ہے ۔آئے روز میگاکرپشن اسکینڈلز سامنے آرہے ہیں مگر نیب اہلکاروں نے بڑے مگرمچھوں پر ہاتھ ڈالنے کی بجائے چھوٹے اور عام لوگوں کو تنگ کرکے رشوت کابازار گرم رکھا ہے۔ کرپشن کی وباء نے ہر منافع بخش ادارے اور عوامی فلاحی منصوبوں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ ملک میں امیروں اور غریبوں کے لیے الگ الگ قانون رائج ہیں۔ ناقص اقتصادی پالیسیوں کی بدولت ملکی معیشت دن بدن خراب سے خراب تر ہوتی چلی جارہی ہے جس کا ثبوت قرضوں میں اضافہ کے طورپر دیکھاجاسکتا ہے۔
ملکی حالات ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے بیرونی سرمایہ کار پاکستان آنے کی بجائے دوسرے ممالک کا رخ کررہے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت سیکیورٹی کے بہترین اقدامات کے ساتھ ساتھ مہنگائی کوکنٹرول اورتوانائی بحران کوختم کرے تاکہ عوام کی زندگیوں میں آسودگی آسکے۔اقرباء پروری اور میرٹ کے برخلاف تعیناتیاں اداروں کی تباہی کا سب سے بڑا سبب ہیں یہی وجہ ہے کہ منافع بخش ادارے اربوں روپے کے خسارے میں پہنچ چکے ہیں۔ معاشی ترقی کے ثمرات جب تک براہ راست عوام تک نہیں پہنچیں گے تب تک لوگوں کی مالی مشکلات ختم نہیں ہوسکتی۔ اس وقت پاکستان سے لوٹ کر باہرجانے والی رقم کاتخمینہ تقریباً چار سو ارب ڈالر سے متجاوز کرگیا ہے۔اگر یہ رقم واپس پاکستان کے بینکوں میں آجائے تو ملکی قرضے آسانی سے اداکیے جاسکتے ہیں۔ صرف سوئس بینکوں میں پاکستانیوں کے200ارب ڈالر موجود ہیں۔اس دولت سے ملک کا30برس تک ٹیکس فری بجٹ بنایاجاسکتا ہے۔6کروڑ پاکستانیوں کو ملازمتیں فراہم کی جاسکتی ہیں۔500سے
زائد منصوبوں کے لیے بالکل مفت بجلی فراہم کی جاسکتی ہے۔ پاکستان کی اقتصادی پالیسیاں اصلاحات کی متقاضی ہیں۔دولت کی غیر منصفانہ تقسیم نے غریب عوام کے حصے میں آنے والی دووقت کی روٹی کو بھی چھین لیا ہے۔ آج بھی امریکی ریاستوں اور مغربی ملکوں کے مختلف بینکوں میں طاقت وراور بارسوخ سول وملٹری، بیورو کریٹس، سیاستدانوں کے اربوں ڈالر خفیہ کھاتوں میں پڑے ہیں جن تک نہ توکسی حکومتی ادارے کی رسائی حاصل ہے اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی سنجیدگی سے کام کرنے کاخواہش مندنظر آتا ہے۔وقت کی گھڑی اب عمران خان کی کلائی پر بندھی ہے ۔قوم کی توقعات بہت بڑھ چکی ہیں۔


ای پیپر