نئے حکمران اور پنجاب کے کچھ نااہل پولیس افسران !
30 اگست 2018 2018-08-30

سیاسی وانتظامی طورپر وزیراعظم عمران خان نے اپنے اردگرد اتنا گند اکٹھا کرلیا ہے ان کی اچھی بھلی اُجلی شخصیت اس گند میں اوجھل ہونے لگی ہے۔ ہم سے زیادہ ان کا خیرخواہ بھلا کون ہوسکتاہے ؟ ایک غلیظ نظام سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے برس ہا برس ان کے کاندھے سے کاندھا ملا کر ہم نے جدوجہد کی ہے۔ خان صاحب کو اس جدوجہد کاثمر وزارت عظمیٰ کی صورت میں مل گیا ، جو ان کی زندگی کی سب سے بڑی خواہش تھی اور یقیناً اس پر ان کا حق بھی تھا، اگر برس ہا برس سے بددیانت اور بدنیت حکمران اقتدار میں رہ سکتے ہیں، تو ایک ایسا شخص کیوں نہیں رہ سکتا جس پر ایمانداری کے حوالے سے ایک اُنگلی نہیں اُٹھائی جاتی، نیک نیتی کے حوالے سے بھی نہیں اٹھائی جاتی، دیگر حوالوں سے بھی دیگر حکمرانوں اور سیاستدانوں کے مقابلے میں بہت کم اُٹھائی جاتی ہیں، ....البتہ ان کی سادگی، ایمانداری اور نیک نیتی کا اس ملک اور اس کے کروڑوں عوام کو کوئی خاص فائدہ نہ ہوا، خصوصاً مختلف اقسام کی بددیانتیوں اور بداخلاقیوں کے حوالے سے عوام کی خصوصی تربیت کا اہتمام اس نے نہ کیا تو سادگی اور ایمانداری سے اس حدتک لوگوں کا اعتماد ضرور اُٹھ جائے گا کہ ان دوخوبیوں کا وسیع پیمانے پر ملک وعوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا ....حال ہی میں ایک ایسا واقعہ ہوا جس نے عمران خان کی بائیس سالہ جدوجہد، خصوصاً اس کی ساکھ کو راکھ میں ملانے کی پوری کوشش کی۔ اس کا ذمہ دار کم ازکم میری نظر میں صرف اور صرف وہ آئی جی بلکہ ”گئی جی“ پنجاب ہے جو نگران حکومت میں اللہ جانے کس کی سفارش پر آیا تھا، اور نئی حکومت یہ اچھی طرح جاننے کے باوجود ابھی تک اسے تبدیل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی کہ وہ ایک ایسا نااہل پولیس افسر ہے جو ایک آدھ بار نہیں مسلسل اس کی سبکیوں کا باعث بنے گا۔ اس کے ”ریکارڈ“ کی چھان بین کی جائے یہ بات شاید ثابت ہو جائے گی وہ ہمیشہ بددیانت حکمرانوں کی آشیر باد سے ہی اہم عہدوں پر تعینات ہوتا رہا، باخبر ذرائع کے مطابق ایک ”پراپرٹی ٹائیکون“ بھی ہمیشہ اس کے سفارشیوں میں رہا ہے۔ کسی عہدے پر کسی ایسی کارکردگی کا مظاہرہ وہ نہیں کرسکا کوئی اسے اس کے جانے کے بعد بھی یاد کرے۔ پیسے یا رشوت وغیرہ تو پتہ نہیں وہ لیتا ہے یا نہیں ماتحتوں کی بددعائیں لینے میں کوئی مگر اس کا ثانی نہیں ہے۔ یہ خرابی کم ازکم میری نظر میں پیسے یا رشوت وغیرہ لینے سے زیادہ بڑی ہے۔ فیلڈ میں بھی اپنی ہی طرح کے پولیس افسران کو اس نے تعینات کیا، خصوصاً لاہور میں ایسا سی سی پی او اس نے تعینات کیا جسے اتنا ڈر جنوں بھوتوں سے نہیں لگتا جتنا انسانوں سے لگتا ہے۔ اس سی سی پی او نے بھی اپنے اکثر ماتحت اپنے جیسے ہی لگائے، ایسے ”خیرخواہوں“ کی مشاورت سے اپنے کچھ انتہائی نفیس ماتحتوں کے ساتھ جو ظلم منافقوں کے امام نے کیا اس سے وہ بدنامی کے مزید اُونچے مقام پر جاکر کھڑے ہوگیا۔ اس مقام سے اب کوئی اسے واپس نہیں لاسکتا، یہ مشتاق سکھیرے کے مقام سے بھی زیادہ اُونچا مقام ہے،....ڈی پی او پاکپتن کو تبدیل کرنے سے عمران خان اور ان کی صوبائی حکومت کو جتنی سبکی ہوئی اس کا ازالہ ناممکن ہے۔ اس کا ذمہ دار بھی موجودہ آئی جی پنجاب ہے جس عہدے پر وہ بیٹھا ہے اس کے مطابق ذرا سی بھی اہلیت اس میں ہوتی پاکپتن کے واقع پر فوری طورپر ڈی پی او کو بغیر کسی انکوائری کے تبدیل کرنے کے احکامات پر آنکھیں بند کرکے من وعن عمل کرنے کے بجائے حکمرانوں کو سمجھاتا کہ ”ایسا کرنے سے نہ صرف یہ کہ پولیس میں بددلی پھیلے گی، خودان کی اپنی سبکی بھی ہوگی جس کے اثرات کی زد سے ”نیا پاکستان“ بچے گا نہ ”تبدیلی“ کے وہ جذبے بچیں گے جن کے بار بار دعوے کئے جاتے ہیں۔ لہٰذا بہتر ہے میں اس واقعے کی باقاعدہ انکوائری کروالیتا ہوں اگر ڈی پی او واقعی قصور وار ہوا اس کا تبادلہ کردیں گے، اور اگر وہ قصور وار نہ بھی ہوا آپ کی خواہش کے مطابق انفرادی طورپر اس کا تبادلہ کرنے کے بجائے دوچار اور پولیس افسروں کے ساتھ اس کا تبادلہ کردیں گے، تاکہ کسی انتقامی کارروائی کا تاثر پیدا نہ ہو“، .... اور اگرنااہل وزیراعلیٰ پنجاب یا کوئی اور آئی جی کی یہ بات نہ مانتا تو وہ بھی ان کی بات ماننے سے انکار کردیتا۔ ایسی صورت میں زیادہ سے زیادہ کیا ہوتا؟ پنجاب سے اسے تبدیل کردیا جاتا۔ مگر وہ اپنی فورس کا ہیرو بن جاتا۔ اس کی ساری خامیاں اچانک اس کی خوبیوں میں بدل
جاتیں۔ یہ عزت اس کے مقدر میں لکھی ہی نہیں تھی، یہ عزت اس کے حصے میں آگئی جو اس سے کہیں جونیئر پولیس افسر ہے۔ ایک ایوریج اور ایسے جونیئر پولیس افسر کو آئی جی نے ”ہیرو“ بنادیا جو ساری زندگی کوشش کرتا رہتا اپنی کچھ مخصوص حرکتوں یا فطرت کی بنیاد پر ہمیشہ ” زیرو“ ہی رہتا، .... آئی جی کلیم امام کی اس نااہلی نے وفاقی اور پنجاب کی حکومتوں کو بدنامی اور سبکی کے اس بدترین مقام پر لے جاکر کھڑے کردیا ہے جس سے واپسی شاید ہی اب ہوگی۔ میرے خیال میں منافقوں کے امام کی اپنا عہدہ بچانے کی یہ شاید آخری کوشش ہے، بغیر کسی انکوائری کے اپنے ایک ماتحت افسر کو تبدیل کرکے اپنی طرف سے نئے حکمرانوں کو اپنی ”وفاداری“ کا پورا احساس پوری دُم ہلا کر اس نے دلایا ہے، .... اب اس کا یہ ”حق“ بنتا ہے اسے پنجاب میں رہنے دیا جائے۔ اور اگر تبدیل کرنا ضروری ہے تو کسی اور صوبے میں بھیج دیا جائے۔ اس کے لیے دیکھنا پڑے گا کس صوبے کی پولیس زیادہ اچھی ہے جسے جاکر وہ خراب کرسکے۔ .... پنجاب میں آتے ہی اچھی بھلی پولیس کو خراب کرنے کی بھرپور کوشش اس طرح اس نے کی وسیع پیمانے پر انسپکٹرز اور ڈی ایس پیز کو دوردراز اضلاع میں پھینک دیا، جیسے کوئی ”مرغیاں“ ذبح کرکے ڈبے میں پھینکتا ہے، ان میں کچھ یا تو خود مختلف بیماریوں کا شکار تھے یا ان کے انتہائی قریبی عزیز ایسے موذی امراض میں مبتلا تھے جنہیں چھوڑ کر جانا ناممکن تھا۔ مگر وہ گئے، اب واپسی صرف اُن انسپکٹرز کی ہورہی ہے جن کے پاس کوئی نہ کوئی سفارش ہے، جن کی کوئی سفارش نہیں ان کا کوئی پُرسان حال نہیں۔ بلکہ جن انسپکٹرز کے تبادلے واپس اپنے اپنے اضلاع میں ہورہے ہیں انہیں ”ریلیو“ نہ کرکے متعلقہ آر پی او صاحبان اپنے آئی جی کے احکامات کی جو ”عزت افزائی“ فرمارہے ہیں اس کا کوئی نوٹس آئی جی شاید اس لیے نہیں لے رہا کہ وہ ایسی ہی ”عزت افزائی“ کا عادی ہے، ....جہاں تک ڈی پی او پاکپتن کے تبادلے کا باعث بننے والے کسی خاص وجہ سے ”عزت مآب“ خاور مانیکا کا تعلق ہے مجھے سمجھ نہیں آرہی انہوں نے کچھ چیزیں چھوڑ دی ہیں یا ادھار دی ہوئی ہیں ؟ اللہ جانے مشہور ہونے کے لیے وہ ہمیشہ ”اوچھے ہتھکنڈے“ ہی کیوں اختیار کرتے ہیں ؟ ان کا یہ ”کارنامہ“ بھی ہمیشہ یاد رکھا جائے گا محض اپنے روایتی تکبر اور جھوٹی انا کو دوام بخشنے کے لیے ایک نیک نیت اور دیانتدار وزیراعظم کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی انتہائی کامیاب کوشش انہوں نے کی۔ انہیں تو پولیس کا شکر گزار ہونا چاہیے تھا جس نے گالیاں کھا کر بھی انہیں کچھ نہیں کہا، ....کیوں کچھ نہیں کہا ؟۔یہ بھی ان کے لیے افسوسناک ہے!!


ای پیپر