میٹھی جیل(3)

30 اگست 2018

شاہزاد انور فاروقی

وفاقی کابینہ کی حلف برداری کیساتھ ہی حکومت سازی مکمل ہو گئی ہے۔ نو منتخب حکومت کی ترجیحات اور حکمت عملی و طریقہ کار کا جائزہ لیے بغیر ذاتی پسند اور نا پسند کی بنیاد پر رائے قائم کرنا اور لکھنا غیر مناسب ہے لہٰذا حکومت کے پہلے 100 دن امریکا یاترا اور وہاں مقیم پاکستانیوں کی زندگی آپ کے سامنے رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آج تیسری قسط پیش خدمت ہے۔

                                                                                                                                                                      باب دوم
تقریبا چار ماہ بعد میں گھر واپس آیا تھا اور اپنے ستائیس سالہ صحافتی کیرئیر میں پہلی مرتبہ اتنا طویل عرصہ وطن سے باہر رہنے کا اتفاق ہوا تھا کہ پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے لئے وفود اور کوریج کے معاملات تو تین چار روز سے زیادہ کے نہیں ہوتے۔ایک عامل صحافی کے طور پر جب میں کہتا ہوں کہ صحافت روزگار کے لئے مناسب شعبہ نہیں تو سننے والے حیرت سے میری شکل دیکھنے لگتے ہیں کہ کوئی صحافی خود سے یہ کیسے کہہ سکتا ہے اور پھر موجودہ دور میں جب کہ حالات کاراور معاوضوں کی صورتحال ماضی کی نسبت بہت بہتر ہے یہ تبصرہ کچھ زیادہ مناسب معلوم نہیں ہوتا مگر حقیقت یہی ہے کہ
ہاں وہ نہیں خدا پرست جاﺅ وہ بیوفا سہی
جس کو ہو جان و دل عزیز اس کی گلی میں جائے کیوں
فی زمانہ پاکستان کے معروضی حالات میں میڈیا کی طاقت نئی زمینی حقیقت ہے اور میری رائے میں پاکستان میں راتوں رات امیر ہونے اور پھر امیر رہنے کے لئے جتنے بھی راستے ہیںان کو بروئے کار لانے کے لئے اپنا میڈیا ہاوس ہونا شرط اولین ہے۔ جس جس کو سمجھ آتی جارہی ہے وہ اپنا میڈیا ہاوس کھڑا کرتا جارہاہے۔ نئے میڈیا ہاوسز کا قیام اصل صحافی کو اتنا فائدہ نہیں دیتا جتنا صحافی نما کو دیتا ہے۔صحافی نما کیا ہے ؟یہ بھی بتاتا ہوں تفصیل لمبی ہے مختصرا یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے کبھی خبراور اپنی تنخواہ کاپیچھا نہیں کیا ۔چند مستثنیات کو چھوڑ کر اب صحافی بننے کے لئے کسی تیشے سے جوئے شیر لانے کی ضرورت نہیں رہی۔خوش شکلی ، چرب زبانی اور تگڑی سفارش وہ میرٹ ہے جس کی بنیاد پر نودولتئے میڈیا مالکان اینکر کی طرز پر نام نہاد بڑے صحافیوں کی وہ فوج جن رہے ہیں جو ان کی ٹی وی سکرین کاایک گھنٹہ روزانہ استعمال کرتے ہوئے انٹرنیٹ سے حاصل شدہ معلومات کی علم و بصیرت سے خالی ٹوپی ناظرین کو پہناکر پوری نسل کو دولے شاہ کے چوہے بنانے میں مصروف ہیں۔ شاہ جی نے بہت دیر سے بتایا کہ صحافت کوئی مشن نہیں ہے اور نہ ہم کوئی سماج سدھار کے عمل سے وابستہ ہیں ۔یادش بخیر سرخیوں کے شہنشاہ عباس اطہر مرحوم جنہیں پیار سے سب شاہ جی کہا کرتے تھے جب اپنے کینسر کے ناکام علاج کے بعد بیرون ملک سے لوٹے تو ان کی ماضی کی بے پناہ محبت اور شفقت نے اسلام آباد سے کئی مرتبہ لاہور کے سفر پر مجبور کیا ،چند ملاقاتوں میں برادرم ساجد گل بھی ہمراہ تھے تو ایک دن اپنی کئی سال کی بے چینی دور کرنے کے لئے شاہ جی سے یہ سوال کیا کہ صحافت کے دشت کی تقریبا تمام عمر سیاحت کے بعد اب کے خیال میں صحافت کو مشن کے زمرے میں رکھا جاسکتا ہے یا کاروبار کے تو انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں کہا کہ کاکا یہ تو صرف ایک نوکری ہے نوکری،جس طر ح سیکرٹری اپنی نوکری کرتا ہے اور سیکشن آفیسر اپنی تو اس میں بھی فقط یہی رویہ درکار ہے کہ بطور رپورٹر یا سب ایڈیٹر اور نیوز ایدیٹر سب اپنا اپنا کام کریں باقی سب بکواس ہے۔میں حیران رہ گیا یہ وہ شخص تھا کہ جس کے سگریٹ پینے کے انداز کی نقل کرتے کرتے ہم یہاں پہنچے تھے اور جس کی سرخیاں مرنے کے بعد بھی بڑے بڑے سیاستدانوں کا پیچھا نہیں چھوڑتی تھیں(ملاحظہ کیجیئے ادھر ہم ادھر تم)اور جس کے سفید چمکدار بالوں کو دیکھ کر ہم لوگ وائٹنر لگا کر اپنے بڑھاپے کو چشم تصور سے تصویر کرتے تھے بستر مرگ پر یہ بتارہا تھا لیکن کیا کیا جائے کہ اس وقت تک واپسی کی تمام راہیں مسدودہوچکی تھیں۔اگر آپ اس شعبہ سے وابستہ ہونے کے خواہشمند ہیں اور ظاہر ہے کہ اپنی صنف کے انتخاب کے معاملے میں بے بس ہیں تو دعا کیجیئے کہ آپ کا فلوک لگ جائے۔ اس کو آپ فلوک یا تکا لگ جانا بھی کہہ سکتے ہیں لیکن میری بات پنجابی کے ایک ہم معنی لفظ کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی۔ خیر اس موضوع پر تفصیلی بات چیت کسی اور موقع کے لئے اٹھا رکھتے ہیں ۔
امریکا کی اس طویل یاترا کے دوران وہاں مقیم پاکستانیوں کے ساتھ ملاقاتوں نے مجھے اس روداد کو تحریر کرنے پر مجبور کیا ہے کیونکہ پاکستان کے دیگر ممالک میں روزگار کے لئے مقیم پاکستانیوں کے متعلق یہاں پاکستان میں جو کچھ سوچا اور کہا جاتا ہے اور امریکہ یا برطانیہ میں روزگار کے لئے جانے والے خواہشمندوں کے جذبات اور زمینی حقائق میں اتنا فرق ہے کہ خدا کی پناہ،یہاں پاکستان میں ہر شخص یہ سمجھتا ہے کہ بس پاکستان سے باہر نکلنے کی دیر ہے اور بس روپوں ،ڈالروں،یووروز اور پونڈوں کی بارش ہونے لگے گی۔یہی وہ غلط فہمی ہے جو آئے دن ایک ہی قسم کے المیے کو سرخی بدل بدل کر ہمارے سامنے لے آتی ہے۔غیر قانونی طور پر بیرون ملک جانے والے افراد کی کشتی الٹ جاتی ہے ،کینٹینر میں دم گھٹ کر بھوکے پیاسے مر جاتے ہیں یا کسی ملک کے سرحدی محافظوں کی اندھی گولیوں کا نشانہ بننے والوں سے متعلق خبریں آئے روز چھپتی ہیں لیکن جوان اور بےروزگار پاکستانیوں کی مجبوریاں انہیں مکان جائیداد ،زیورات خواہ وہ ماں بہن کے ہوں یا بیوی کے بیچ باچ کے کسی نہ کسی طور پاکستان سے فرار ہونے والے افراد پر مجوری اور بے بسی کی پٹی نہیں کھلتی۔ (جاری ہے)

مزیدخبریں