Riaz ch, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
30 اپریل 2021 (11:10) 2021-04-30

بھارتی دارالحکومت سمیت ملک کے بہت سارے علاقوں میں مائع آکسیجن کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے اور اس کا اثر شدید طور پر بیمار مریضوں پر پڑ رہا ہے۔ صورتحال اتنی خراب ہو چکی ہے کہ دہلی کے جے پور گولڈن ہسپتال میں کووڈ کے 20 مریض آکسیجن کی کمی کی وجہ سے چل بسے۔ایل این جے پی جیسے سرکاری ہسپتال سے لے کر سروج اور فورٹس جیسے نجی ہسپتالوں کو بھی آکسیجن کی کمی کا سامنا ہے۔ کچھ بے بس ہسپتالوں نے تو اس معاملے میں ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔

مغرب میں مہاراشٹر اور گجرات سے لے کر شمال میں ہریانہ اور وسط ہندوستان میں مدھیہ پردیش تک ہر جگہ میڈیکل آکسیجن کی شدید قلت ہے۔ اترپردیش میں کچھ ہسپتالوں نے ’آکسیجن آؤٹ آف اسٹاک‘ کا بورڈ لگادیا ہے۔لکھنؤ کے ہسپتالوں نے مریضوں کو کہیں اور جانے کو کہا ہے۔ دہلی میں چھوٹے اور بڑے ہسپتال اور نرسنگ ہوم بھی یہی کام کر رہے ہیں۔ بہت سے شہروں میں پریشان مریض اپنے آکسیجن سلنڈروں کے ساتھ ری فلنگ سینٹر کے باہر قطار میں کھڑے نظر آتے ہیں۔حال ہی میں مہاراشٹرا کے ناسک میں ڈاکٹر ذاکر حسین ہسپتال میں آکسیجن کی کمی کی وجہ سے 22 مریضوں کی موت ہوگئی ہے کیونکہ آکسیجن لیک ہوگئی تھی۔یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب ٹینکروں کے ذریعے آکسیجن بھری جارہی تھی۔ آکسیجن لیک ہونے کی وجہ سے تقریبا آدھے گھنٹے تک ہسپتال میں آکسیجن کی رسد معطل رہی۔

بھارت میں کرونا کے مریض علاج کے انتظار میں مر رہے ہیں۔ جن لوگوں کو سانس لینے میں زیادہ پریشانی ہو رہی ہے ان کے علاج کے لیے ہسپتالوں کو دن رات ایک کرنا پڑرہا ہے۔ جن لوگوں ہسپتال میں بیڈ مل چکا ہے ان کی جان بچانے کے لیے ہسپتال پوری طرح کوشاں ہیں۔ آکسیجن سلنڈروں کی مانگ کرنے والے لوگ سوشل میڈیا 

کا رخ کر رہے جہاں ایسے ٹویٹس کی بھرمار ہے۔بہر حال سوال یہ ہے کہ آخر آکسیجن کے لیے اتنی چیخ وپکار کیوں اور اچانک آکسیجن کی طلب میں اتنا اضافہ کیوں ہو گیا؟

کچھ ریاستوں نے صورتحال کو بہتر طریقے سے سنبھالا ہے۔ جنوبی ریاست کیرالہ نے تو پہلے آکسیجن کی فراہمی میں اضافہ کیا اور پھر اس پر کڑی نگاہ رکھنا شروع کیا۔ کووڈ کے کیسز میں اضافے کے پیش نظر اس نے پہلے ہی سے آکسیجن کی فراہمی بڑھانے کا منصوبہ تیار کرلیا تھا۔ کیرالہ میں اب اضافی آکسیجن ہے اور اب وہ دوسری ریاستوں کو سپلائی کرنے کا متحمل ہے۔ لیکن دہلی اور کچھ دوسری ریاستوں کے پاس اپنے آکسیجن پلانٹ نہیں ہیں۔ وہ سپلائی کے لیے دوسری ریاستوں پر انحصار کرتے ہیں۔اس وقت کرونا مہاراشٹر پر سب سے بڑا تباہی لا رہا ہے۔ ملک کے ایک تہائی سے زیادہ کورونا سے متاثرہ مریض صرف اسی ریاست سے ہیں۔اس وقت یہاں روزانہ 1200 ٹن آکسیجن تیار کی جارہی ہے اور ساری کی ساری آکسیجن کورونا کے مریضوں میں لگ جا رہی ہے۔جیسے جیسے انفیکشن بڑھ رہا ہے آکسیجن کی طلب میں بھی اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب روزانہ 1500 سے 1600 ٹن گیس کی کھپت کی صورتحال آچکی ہے۔ ابھی تک اس میں کمی کے آثار نہیں ہیں۔

بھارتی وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق ایک ارب 30 کروڑ نفوس کی آبادی والے ملک بھارت میں ایک کروڑ 73 لاکھ 10 ہزار کورونا کیسز کی تصدیق ہوچکی ہے جبکہ ایک لاکھ 95 ہزار 123 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ان میں سے صرف گزشتہ روز 2 ہزار 812 افراد لقمہ اجل بنے لیکن ماہرین صحت کا کہنا تھا کہ اموات کی تعداد ممکنہ طور پر کہیں زیادہ ہے۔ اس صورتحال میں سیاستدانوں بالخصوص وزیراعظم نریندر مودی کو ریلیاں نکالنے پر تنقید کا سامنا ہے جن میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کے باوجود ہزاروں افراد نے اسٹیڈیمز اور گراؤنڈ بھر کر شرکت کی۔بھارت کے متعدد شہروں میں کرفیو کے احکامات دیے گئے ہیں جبکہ سماجی فاصلہ برقرار رکھنے اور ماسک پہننے کے لیے پولیس تعینات کردی گئی ہے۔تاہم اس تمام تر صورتحال کے باوجود اب بھی مغربی بنگال میں ہونے والے انتخابات میں 86 لاکھ افراد کے ووٹ ڈالنے کا امکان ہے۔ بھارت کے دیگر حصوں جہاں مقامی انتخابات کے لیے ووٹنگ ہونی ہے ان میں سب سے زیادہ آبادی والی ریاست اتر پردیش شامل ہے جہاں یومیہ 30 ہزار تک کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔

کورونا وائرس کی شدید ترین علامات میں سے ایک سانس لینے میں مشکل پیش آنا ہے۔ بھارت بھی ان کئی ممالک میں شامل ہے جنہیں آکسیجن کی کمی کا سامنا ہے۔ وبا کے آغاز میں اسی قسم کے مناظر برازیل، ڈیموکریٹک ری پبلک آف کانگو، پیرو اور وینزویلا میں دیکھے گئے تھے۔ سانس کی بیماری سے متاثرہ افراد کے علاج کے لیے آکسیجن کا کردار بہت اہم ہے، چاہے ایسا گھر پر کیا جا رہا ہو یا ہسپتالوں میں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق کووڈ 19 سے متاثر ہونے والے ہر پانچ میں سے ایک فرد کو ان کے خون میں آکسیجن کی مناسب مقدار کو برقرار رکھنے کے لیے میڈیکل آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے۔

ڈاکٹروں اور وبائی امراض کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا کیسز میں اتنی تیزی سے اضافہ ہوا ہے کہ ٹیسٹوں اور علاج کے لیے طویل انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔ تاخیر کی وجہ سے لوگوں کی حالت خراب ہوتی جارہی ہے اور انہیں علاج کے لیے ہسپتال میں داخل کرنا پڑ رہا ہے۔ حالت تشویش ناک ہونے کی وجہ سے لوگوں کو ہسپتال میں داخل کیا جا رہا ہے۔ لہٰذا ہائی فلو آکسیجن کی طلب میں اضافہ ہوا ہے۔ ہائی فلو آکسیجن کی طلب میں اضافے کی وجہ سے اس بار پچھلے سال کے مقابلے میں آکسیجن کی زیادہ فراہمی کی ضرورت ہے۔ آکسیجن کی کمی کے باعث دہلی ہائی کورٹ نے حکم دیا ہے کہ اگر مرکز، ریاست یا مقامی انتظامیہ کا کوئی بھی افسر آکسیجن کی فراہمی میں خلل ڈالتا ہے تو اسے ’پھانسی‘ دے دی جائے گی۔


ای پیپر