جنگ بندی کی خلاف ورزیاں ،بھارتی ناظلم الامور کی دفتر خارجہ طلبی
30 اپریل 2020 (16:41) 2020-04-30

اسلام آباد:پاکستان نے مسلسل دوسرے روز بھی بھارتی ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کر کے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر شدید احتجا ج کیا اور واضح کیا ہے کہ ایل او سی اور ورکنگ باونڈری پر کشیدگی میں اضافہ کرکے بھارت اپنے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی بدتر ہوتی صورتحال سے توجہ ہٹا نہیں سکتا۔

ڈائریکٹرجنرل (جنوبی ایشیاء وسارک) زاہد حفیظ چوہدری نے بھارتی ناظم الامور گوراو اہلووالیا کو جمعرات دفتر خارجہ طلب کیا اور 29 اپریل 2020 کو لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے رکھ چکری سیکٹر میں بھارتی قابض فوج کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں، بلاجواز اوربلا اشتعال فائرنگ کے نتیجے میں بے گناہ شہریوں کی شہادت اور زخمی ہونے کی مذمت کرتے ہوئے پاکستان کی طرف سے شدید احتجاج کیا گیا۔

بھارتی فوج کی بلااشتعال اور بلاامتیاز فائرنگ کے نتیجے میں کرنی گاوں میں 16 سالہ زوبیہ بی بی دختر لعل دین اور 52 سالہ رشیدہ بی بی زوجہ محمد حسن شہید ہوگئیں جبکہ 10 سالہ فیضان حسن ولد محمد حسن اور 55 سالہ روشن بی بی زوجہ کمال دین شدید زخمی ہوئے۔ بھارتی قابض افواج ایل او سی اور ورکنگ باونڈری پر بھاری اور خودکارہتھیاروں سے فائرنگ اور گولہ باری سے مسلسل شہری آبادی کو دانستہ نشانہ بنارہی ہیں۔ صرف رواں سال 2020 میں بھارت کی جانب سے جنگ بندی کی 919 مرتبہ خلاف ورزیوں کا ارتکاب کیاگیا ہے۔

بھارتی فوج کی جانب سے بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانے کی مذمت کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل (جنوبی ایشیاء وسارک) نے زوردیا کہ بے حسی پر مبنی یہ بھارتی اقدامات نہ صرف 2003 کے جنگ بندی معاہدے بلکہ عالمی انسانی حقوق اور عالمی اقدارکی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے اور پہلے سے کشیدہ ماحول کو مزید کشیدہ بنارہے ہیں۔ یہ واقعات خطے کے امن وسلامتی کے لئے خطرہ ہیں۔انہوں نے کہاکہ ایل او سی اور ورکنگ باونڈری پر کشیدگی میں اضافہ کرکے بھارت اپنے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی بدتر ہوتی صورتحال سے توجہ ہٹا نہیں سکتا۔ ڈائریکٹرجنرل (جنوبی ایشیاء وسارک) نے بھارت پر زوردیا کہ وہ جنگ بندی سمجھوتے کا احترام کرے، تازہ ترین اور اس سے قبل ہونے والی جنگ بندی کی دانستہ خلاف ورزیوں کے واقعات کی تحقیقات کرائے ،’ ایل اوسی ‘ اور ’ورکنگ باونڈری‘ پر امن برقرار رکھے۔

انہوں نے زوردیا کہ بھارت اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ برائے پاکستان اور بھارت کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق تفویض کردہ کردار ادا کرنے کی اجازت دے۔ دوسری جانب ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے ہفتہ وار میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ 2020 کے دوران ابتک بھارت کی جانب سے 919 بار سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان بھارت کی جانب سے لانچنگ پیڈز جیسے الزامات کو مسترد کرتا ہے۔ انہوںنے کہاکہ بھارت آزاد کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر معصوم شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ انہوںنے کہاکہ بھارت دنیا کی توجہ مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی سے ہٹانا چاہتا ہے۔ ترجمان نے کہاکہ پاکستان نے بھارت کو بالا کوٹ میں جواب کے زریعے واضح پیغام دیا۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہاکہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں ہندوتوا ایجنڈے پر کاربند ہے، بھارت کی جانب سے اقلیتوں کے خلاف کارروائیوں پر امریکی رپورٹ اہم ہے۔


ای پیپر