یہ ملاقات اِک بہانہ ہے! ....(نویں قسط )
30 اپریل 2020 2020-04-30

وزیراعظم عمران خان سے حالیہ ملاقات کے حوالے سے لکھے گئے کالم بلکہ کالموں میں،میں اپنے کچھ بیوروکریٹس دوستوں کا ذکر کررہا تھا، میں اپنے ان دوستوں کو سلیوٹ کرتا ہوں، جنہوں نے یہ جانتے ہوئے بھی وزیراعظم عمران خان میری بات کو اہمیت دیتے ہیں مجھ سے اپنی بہتر پوسٹنگ کے لیے اُن سے سفارش کرنے کے لیے نہیں کہا، ایسے مخلص دوست انسان کی زندگی میں قدرت کا اک انمول تحفہ ہوتے ہیں، .... میں نے خود بھی وزیراعظم کی خواہش بلکہ کسی حدتک اصرارکے باوجود کوئی اہم سرکاری عہدہ لینے سے اس لیے معذرت کرلی اللہ نے بغیر کسی عہدے کے دنیا بھر میں میری اوقات سے بہت بڑھ کر عزت بخشی ہوئی ہے ، میں اِس پر اللہ کا جتنا شکر ادا کروں کم ہے ، میں زندگی میں اِس لیے بھی کسی اہم سرکاری عہدے کی لالچ میں نہیں پڑا اللہ نے بحیثیت ایک اُستاد اور قلم کار جس عہدے سے نوازا ہوا ہے اس سے بڑھ کر عہدہ کیا ہوسکتا ہے ؟۔ مجھے اللہ نے انبیاءکے پیشے سے نوازا، سو جب وزیراعظم کے میڈیا ایڈوائزریاپریس سیکرٹری بننے کی پیشکش ہوئی یہی عرض کیا ” میرا یہ میرٹ نہیں بنتا، نہ مجھ میں یہ اہلیت ہے ، میں زیادہ سے زیادہ دن میں ایک دو کلاسیں پڑھا سکتا ہوں یا کالم لکھ سکتا ہوں، اس حوالے سے جب میڈیا پر خصوصاًکچھ ٹی وی چینلز پر یہ ٹیکرز چلے کہ ”توفیق بٹ نے وزیراعظم کا میڈیا ایڈوائزربننے سے انکار کردیا“....”انکار“ کا لفظ مجھ پر بہت گراں گزرا، میں نے ان چینلز سے وابستہ دوستوں کو فون کرکے وضاحت کی ” میں نے ”انکار“نہیں کیا، معذرت کی ہے “ .... انکار کے لفظ میں مجھے کچھ ”تکبر“ محسوس ہورہا تھا جس سے زندگی میں ہمیشہ میں نے بچنے کی کوشش کی، موجودہ حکومت میں کوئی عہدہ لینے سے اس لیے بھی میں نے معذرت کرلی پی ٹی آئی کی حکومت کے قیام کے فوراً بعد صرف دوستوں نے ہی نہیں، بے شمار عزیزوں نے بھی یہ اُمیدیں وابستہ کرلی تھیں میں اُنہیں اہم عہدوں پر یا ملازمتوں پر لگوا دوں گا، اب میں ان سے کہہ سکتا ہوں” میں نے خود کوئی عہدہ نہیں لیا آپ کو کہاں سے لے دوں گا؟“ .... اب بھی ایک دو لوگ ہاتھ دھوکر میرے پیچھے پڑے ہوئے ہیں میں اُنہیں کوئی اہم سرکاری عہدہ لے دوں، کل ایک دوست سے میں نے کہا” یار میں نے خود کوئی عہدہ لیا ہے جو تمہیں یا تمہاری بیگم کو لے کردوں ؟ وہ بولے ”تم تو کسی عہدے کے قابل ہی نہیں، ہمارا تو یہ حق بنتا ہے “ .... بہرحال میں یہ عرض کررہا تھا وزیراعظم کے ساتھ پہلی دو ملاقاتوں کو میں جان بوجھ کر منظر عام پر نہیں لایا؟۔ حالیہ ملاقات سے اپنے دوستوں خصوصاً اپنے قارئین کو آگاہ کرنے کے کئی مقاصد تھے، گزشتہ کچھ ماہ سے وزیراعظم کے کچھ غلط اقدامات یا غلط پالیسیوں پر سخت تنقید کرنے سے یہ تاثر مضبوط ہوتا جارہا تھاجیسے میں اچانک وزیراعظم عمران خان کا ”دشمن“ ہوگیا ہوں، میرا اُن کے ساتھ رابطہ مکمل طورپر ختم ہوگیا ہے ، ان کے ساتھ چوبیس سالہ دیرینہ وذاتی تعلق ٹوٹ چکا ہے ، کچھ لوگ یہاں تک توقع کررہے تھے وزیراعظم کے خلاف مسلسل لکھنے اور بولنے پر میرے ساتھ پھر ویسی ہی کوئی انتقامی کارروائی ہوسکتی ہے جیسی سابقہ کم ظرف حکمرانوں کے خلاف لکھنے یا بولنے پر ہوتی رہی ہیں، .... اس طرح کا تاثر بالکل غلط تھا،.... جوکچھ وزیراعظم عمران خان کی کچھ پالیسیوں کے خلاف میں لکھ رہا تھا یا بول رہا تھا وہ اُس سے پوری طرح آگاہ تھے، میں ان کی ان پالیسیوں کے خلاف کالم لکھ لکھ کر، بلکہ ان کالموں کی سرخیاں بنابنا کر یہ سوچ کر انہیں باقاعدہ واٹس ایپ بھی کردیا کرتا تھا کہ ممکن ہے کسی اور ذریعے سے میری یہ تحریریں ان تک نہ پہنچ سکیں، مجھے اس موقع پر خان صاحب کے بڑے پن کا اعتراف بغیر کسی بات کی پروا کیے بغیر کرنا چاہیے اتنی سخت تنقید کے باوجود انہوں نے نہ صرف یہ کہ اپنا رابطہ مجھ سے بحال رکھا، بلکہ کچھ معاملات میں مشورے بھی کئے، میرے دل میں اس سے ان کی عزت میں اضافہ ہوا، اِس بار بھی اُن کی دعوت پر میں جب اسلام آباد جارہا تھا، میں یہ سوچ رہا تھا وہ شاید پہلے جیسی محبت اور عقیدت سے مجھ سے نہ ملیں، میں جب اُن سے ملنے جارہا تھا کچھ عجیب وغریب وہم میرے دل میں آرہے تھے، میں ڈررہا تھا کوئی بدمزگی نہ ہوجائے، کیونکہ ہمارے اکثر حکمران یہ سمجھتے ہیں صرف ان ہی کا وقت قیمتی ہے ، سو کسی کے ساتھ کسی حکمران کی ملاقات چاہے اس حکمران کی اپنی خواہش پر ہی کیوں نہ ہورہی ہو ملاقاتی کو گھنٹوں انتظار کروایا جاتا ہے ، اس حوالے سے ایک بار میں ایسے تجربے سے گزرچکا تھا اس وقت میں نے سوچا تھا آئندہ کوئی حکمران خود بھی بلائے اسے ملنے سے گریز ہی کروں گا، آصف زرداری صدر پاکستان تھے، اُنہوں نے اپنے دو قریبی ساتھیوں احمد ریاض شیخ اور ڈاکٹر قیوم سومرو کے ذریعے مجھے ملاقات کے پیغامات بھیجے جو کسی وجہ سے میں نے نظرانداز کردیئے۔ اک روز اللہ جانے کیا ہوا میرے اس وقت کے اخبار (نوائے وقت) کے مالک مجید نظامی (مرحوم) نے مجھ سے کہا ”آپ زرداری سے مِل لیں“ .... نظامی صاحب مختصر بات کرتے تھے، اُن کا ایک خوف اور دبدبا تھا، میں اُن سے پوچھ نہ سکا کیسے مل لوں؟۔ اُسی شام ایوان صدر سے مجھے کال آگئی، اگلے روز دس بجے صبح میری ان کے ساتھ ملاقات کا وقت مقرر ہوا، ایوان صدر کے عملے نے مجھ سے کہا آپ کی ہوائی ٹکٹ اور ایک روزہ قیام کا بندوبست میریٹ ہوٹل اسلام آباد میں کردیا جائے گا، میں نے عرض کیا اسلام آباد میں میرے عزیز رہتے ہیں، مجھے اگر رُکنا ہوا میں وہیں رکوں گا، اور جہاز کی ٹکٹ کی اس لیے ضرورت نہیں میں آج ہی بائی روڈ اسلام آباد پہنچ جاﺅں گا، میں رات کو ہی اسلام آباد پہنچ گیا، اگلے روز میں ایوان صدر جانے کی تیاری کررہا تھا صبح نو بجے مجھے کال آگئی ملاقات کا وقت تبدیل کرکے دس بجے کے بجائے گیارہ بجے کردیا گیا ہے ، کچھ دیر بعد پھر کال آگئی ملاقات کا وقت ایک بار پھر تبدیل کرکے تین بجے کردیا گیا ہے ، دوسری بار وقت تبدیل ہونے پر مجھے غصہ آیا میں نے سوچا میں اب نہیں جاﺅں گا، میرے ساتھ میرا چھوٹا بھائی اور کزن بھی اسلام آباد آئے ہوئے تھے، اُنہوں نے مجھے سمجھایا ”صدر کوئی معمولی آدمی نہیں ہوتا، ان کی اہم مصروفیات ہوتی ہیں، آپ کو اس طرح نہیں سوچناچاہیے“،.... میں خاموش ہوگیا، کوئی دوبجے کے قریب میں ایک بار پھر ایوان صدر جانے کی تیاری کرنے لگا چوتھی بار فون آگیا ایک بار پھر وقت تبدیل کرکے چاربجے کردیا گیا تھا، .... اس پر فون کرنے والے سے میں نے کہا ”اب میں نے نہیں ملنا، بادشاہ مصروف ہے تو رعایا بھی اتنی فارغ نہیں یہ کہہ کر میں نے فون بند کردیا۔ (جاری ہے )


ای پیپر