نواز شریف کی ضمانت میں توسیع ،سپریم کورٹ سے اہم خبر
30 اپریل 2019 (22:22) 2019-04-30

اسلام آباد:سابق وزیر اعظم نواز شریف نے العزیزیہ اسٹیل ملز کرپشن ریفرنس میں 6 ہفتوں کی عبوری ضمانت میں مزید توسیع کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی جو کہ جمعہ کو سماعت کے لئے مقرر کردی گئی ہے ، چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ جمعہ کو سماعت کرے گا ۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی درخواستیں سماعت کےلئے مقرر کردیں۔سابق وزیراعظم نے ضمانت میں توسیع اور عبوری ضمانت کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواستیں دائر کی تھیں۔چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ جمعہ کو سماعت کرے گا ۔نوازشریف کی جانب سے دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہےکہ 26 مارچ کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی درخواست دائر کررکھی ہے، نظر ثانی درخواست پر فیصلہ ہونے تک عبوری ضمانت میں توسیع کی جائے۔

درخواست میں مزید کہا گیاہے کہ امید ہے کہ سپریم کورٹ سے نظرثانی کی درخواست منظور ہوجائے گی۔سابق وزیراعظم نواز شریف کو اسلام آباد کی احتساب عدالت کی جانب سے العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں 7 سال قید کی سزا سنائی گئی، جس کے بعد انہیں لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں منتقل کیا گیا تھا۔نوازشریف نے طبی بنیادوں پر سزا کی معطلی اور ضمانت کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، جس پر عدالتِ عظمی نے انہیں طبی بنیادوں پر 6 ہفتوں کی عبوری ضمانت دی تھی جو 7 مئی کو ختم ہورہی ہے۔

نوازشریف کی جانب سے دائر درخواست میں موقف اختیا ر کیاگیاہے کہ مختلف بیماریوں کا سامنا ہے، انصاف کا تقاضہ ہے کہ د ضمانت پر رہائی میں لگائی گئی شرائط پر نظر ثانی کی جائے ، بہتر یہ ہے کہ ان کا اس ہی ڈاکٹر سے علاج کرایا جائے جو برطانیہ میں اس سے قبل علاج کرتے رہے ہیں ، اگر عبوری ضمانت میں توسیع نہ کی گئی تو ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔ نواز شریف کی عبوری ضمانت 7 مئی کو ختم ہورہی ہے جبکہ انہوں نے بیرون ملک جانے کی درخواست کا فیصلہ آنے تک اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ گزشتہ ہفتے نواز شریف نے سپریم کورٹ سے علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی نظر ثانی درخواست جمع کرائی تھی۔ العزیزیہ اسٹیل ملز کرپشن ریفرنس میں سزا پانے والے نواز شریف کی 6 ہفتوں کی ضمانت میں انہیں بیرون ملک جانے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔

نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث احمد کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر نظر ثانی اپیل میں کہا گیا کہ نواز شریف جنہیں مختلف بیماریوں کا سامنا ہے، کے لیے انصاف کا تقاضہ ہے کہ درخواست گزار کی ضمانت پر رہائی میں لگائی گئی شرائط پر نظر ثانی کی جائے۔ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے لیے بہتر یہ ہے کہ ان کا اس ہی ڈاکٹر سے علاج کرایا جائے جو برطانیہ میں اس سے قبل ان کا علاج کرتے رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ اگر عبوری ضمانت میں توسیع نہ کی گئی تو ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔

خیال رہے کہ 26 مارچ کو سپریم کورٹ نے نواز شریف کی سزا معطل کرتے ہوئے انہیں 6 ہفتوں کی عبوری ضمانت پر رہا کرنے کا فیصلہ سنایا تھا تاہم فیصلے میں شرائط رکھی گئی تھیں کہ وہ اس دوران پاکستان سے باہر نہیں جاسکتے۔درخواست میں نواز شریف کی صحت کے لیے قائم خصوصی میڈیکل بورڈ سمیت اسپیشلسٹ کی تجاویز اور تازہ رپورٹس بھی منسلک کی گئیں۔سابق وزیر اعظم نے 25 فروری کو العزیزیہ اسٹیل ملز کرپشن ریفرنس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے ان کی طبعی حالت کی بنیاد پر ضمانت کی درخواست مسترد کیے جانے کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔


ای پیپر