” مسرت و شادمانی“ اور ” ممکنات“ کی وزارتیں
30 اپریل 2019 2019-04-30

”خوشی کسی عیاشی کا نام نہیں۔ ہر انسان کا بنیادی حق ہے“

” اگر کوئی حکومت اپنے لوگوں کو خوش نہیں رکھ سکتی تو اس کا کوئی مقصد نہیں “

یہ دونوں جملے متحدہ عرب امارات کی کابینہ کی ایک خاتون وزیر ” اہود بنت خلفان رومی“ کے ہیں۔ ان جملوں اور اس خاتون وزارت کا ذکر میں کچھ دیر بعد کروں گی۔ پہلے دلچسپ خبر کا تذکرہ۔

تین چار دن قبل اس اچھوتی خبر پر نظر پڑی۔ ایک انگریزی اخبار میں بتایا گیا کہ متحدہ عرب امارات میں ایک نئی وزارت کا قیام عمل میں آیا ہے۔ امارات کے نائب صدر، وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم نے اس وزارت کا افتتاح کیا۔ وزارت کا نام ہے ” Ministry Of Possibilities “ ۔ امارت نے اِسے ” وزارة استحیل“ کا نام دیا ہے۔لیکن ہم اس کے انگریزی نام پر جائیں تو اسے ” وزارت امکانات“ یا ” وزارت ممکنات“ کہہ سکتے ہیں۔ یہ دنیا بھر میں اپنی نوعیت کی پہلی وزارت ہے۔ اس کی ایک اور انفرادیت یہ ہے کہ اس کا کوئی وزیر نہیں ہو گا۔ کابینہ کے ارکان ہی اجتماعی طور پر اس وزارت کی دیکھ بھال کریں گے۔ اسے نئی تجاویز دیں گے۔ اور ایسے امکانات کا جائزہ لیں گے جنہیں بروئے کار لا کر حکومتی اور دیگر اداروں کی کارکردگی کو زیادہ سے زیادہ عوام دوست بنایا جا سکے۔ شیخ محمد نے اس کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ ” ہمیں ہر وقت مستقبل کے نت نئے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مسلسل تیاری کرتے رہنا چاہیے۔ ضروری ہو گیا ہے کہ حکومتی ڈھانچہ بہتر سے بہتر بنایا جائے۔ مسلسل اصلاحات کی جائیں۔ اہلکاروں کی استعداد کار اور کارکردگی کو م¿وثر بنایا جائے“۔

تفصیل میں بتایا گیا تھا کہ مختلف انتظامی اداروں میں کام کرنے والے افسروں اور اہلکاروں کی کارکردگی کو مسلسل جانچنے کے لیے ایک سائنٹیفک نظام وضع کیا جا رہا ہے۔ اس جائزہ نظام کے تحت ہر اہلکار کو پوائنٹس ملیں گے۔ ان پوائنٹس کی بنیاد پر انہیں خصوصی ایوارڈز بھی ملیں گے۔ اور ترقی بھی۔ اس کا مقصد معاشرے کے تمام طبقات کے افراد کی صلاحیتوں اور استعداد کار کا جائزہ لے کر انہیں کار آمد شہری بنانا ہے۔

میں نے اس خبر کی مزید کرید لگائی تو معلوم ہوا کہ متحدہ عرب امارات ہی نے کم و بیش تین برس پہلے ایک Department of happiness یعنی محکمہ ” مسرت و شادمانی“ بھی قائم کیا تھا۔ اس محکمے کو وزارت کا درجہ دیتے ہوئے ایک خاتون کو بطور وزیر مملکت اس کا سربراہ تعینات کیا گیا ۔ اس خاتون نے اپنی وزارت کو ایک مشن کے طور پر لیا۔ لوگوں کو آسانیاں فراہم کرنے ، انہیں حتیٰ الامکان مشکلات سے بچانے اور انہیں خوش رکھنے کے لیے کئی اہم اقدامات کیے۔ اس نے اپنے مشن کی وضاحت کرتے ہوئے یہ یاد گار جملے کہے کہ ” خوشی کسی عیاشی کا نام نہیں۔ ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ اگر کوئی حکومت اپنے لوگوں کو خوش نہیں رکھ سکتی تو ا س کا کوئی مقصد نہیں “۔

اپنے دائرہ کار کی وضاحت کرتے ہوئے موصوفہ نے کہا کہ لوگوں کو مطمئن اور خوش رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ انہیں روزگار ملے۔ انہیں اچھی تعلیم اور صحت کی سہولتیں میسر ہوں۔ انہیں اچھا ، فعال اور موثر انتظامی ڈھانچہ ملے۔ وہ خود کو ہر لحاظ سے محفوظ و مامون خیال کریں۔ اس مقصد کے لیے مختلف اداروں کے ساتھ انتظامی سربراہوں کا انتخاب کرکے انہیں اعلیٰ بین الاقوامی یونیورسٹیوں سے خصوصی تربیت کے لیے بھیجا گیا۔ خاتون وزیر نے مثبت رویوں کی ترویج کے لیے خصوصی مہمات کا آغاز کیا۔ ان مہمات میں خاص طور پر اساتذہ اور طلبا و طالبات کو شریک کیا جاتا ہے۔ جو اچھے اخلاق اور مثبت رویوں کی ترویج کا عہد کرتے ہیں۔ عوامی خدمت کے ہر اہم اداروے کے باہر ایک چھوٹا سا کمپیوٹرائزڈ بکس نصب ہے۔ اس پر تین چہرے بنے ہوئے ہیں۔ ایک ہنستا مسکراتا، ایک معمول کا ، اور ایک لٹکا ہوا رنجیدہ۔ دفتر سے نکل کر آپ کو کسی ایک چہرے کو انگلی سے چھو کر بتانا ہے کہ آپ کا تجربہ کیسا رہا۔ اس کمپیوٹرائزڈ باکس کا روزانہ کی بنیاد پر تجربہ کیا جاتا ہے۔ اس اس کی روشنی میں ضروری اقدامات کیے جاتے ہیں۔ ” اہودا لرومی“ ہی کی اسکیم کے مطابق طے پایا کہ ٹریفک کنٹرول کرنے والے محض ٹکٹ دیتے اور جرمانے ہی کرتے رہتے ہیں۔ سختی کے ساتھ ٹریفک قواعد کی پابندی کرنے والوں کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی۔ اب یہ اسکیم نافذ ہو رہی ہے کہ قانون قاعدے کے پابند ایسے شہریوں کو خصوصی تحائف اور سیل فون کریڈٹ کارڈ دیئے جائیں گے۔ خواتین کی آسانی کے لیے دبئی میں پہلے ہی خواتین ڈرائیور والی ٹیکسیاں چل رہی ہیں۔

یہ ایک چھوٹے سے ملک کی کہانی ہے۔ جہاں جمہوریت کی نہیں بادشاہت کی حکمرانی ہے۔ خبر پڑھنے کے لیے بعد میں مسلسل سوچتی رہی کہ دنیا کیسے کیسے امکانات پر غور کر رہے ہے۔ اور ہم کس طرح نہ صرف معاشرے کوخوشیوں سے محروم کر کے نت نئے مسائل سے دو چار ہو رہے ہیں بلکہ مثبت اخلاقی رویوں سے بھی دور تر ہوتے جا رہے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ایسا عوام کی سطح پر نہیں، اقتدار اور سیاست کے اونچے ایوانوں میں ہو رہا ہے۔ جنہیں قوم کو آسانیاں اور خوشیاں فراہم کرنے کی ذمہ داری سونپی گئیں۔ جن پر لازم ہے کہ زخموں پر مرہم رکھیں اور لوگوں کے دکھ درد میں شریک ہوں۔ اور جن کا منصب ہے کہ مثبت رویوں، شائستہ گفتگو اور اعلیٰ اخلاقیات کو رواج دیں۔ وہ خود ہی ایسے کھیل میں ملوچ ہو گئے ہیں جس نے معاشرے کی پرانی قدروں کو بھی پامال کر دیا ہے۔ مانا کہ ملک کے پاس وسائل کی کمی ہے، ماناکہ بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھانا ضروری تھا ، ماناکہ ادویات کو بیماروں کی پہنچ سے دور کر دینا مجبوری رہی تھی، ماناکہ مہنگائی اور بے روزگاری کو کوئی علاج نہیں.... لیکن کیا ہم لوگ یہ بھی نہیں کر سکتے کہ گالی دینے ، ایک دوسرے کا منہ نوچنے اور سرعام ایک دوسرے کا گریبان پکڑنے سے گریز کریں؟ ہمارے پڑوس میں واقع، بادشاہوں کا ایک ملک ” وزارت ممکنات“ اور ” وزارت مسرت و شادمانی“ بنا رہا ہے اور ایسا نظام وضع کر رہا ہے کہ لوگوں کو مطمئن، آسودہ اور خوش رکھنے کے لیے نئے دور کے تقاضوں کے مطابق ، نئی حکمت عملی اپنائے ور ہمارے ہاں نہ آسانی کو ئی ترجیح ہے، نہ اطمینان نہ خوشی۔ ہمارے ہاں سب سے بڑا افق یہ بن گیا ہے کہ کون کتنی اونچی آواز میں بولتا اور کتنی بڑی گالی دے سکتا ہے۔ کون کس کس کو چور، ڈاکو، لٹیرا اور منی لانڈر پکار سکتا ہے۔ معصوم بچیاں گولیوں کا نشانہ بنتی ہیں تو بنتی رہیں، سرعام بے گناہ لوگوں کو چھلنی کیا جاتا ہے تو ایسا ہوتا رہے، لوگ غربت کی چکی میں پستے ہیں تو بھلے پستے رہیں ، لاکھوں لوگ تعلیم اور دوا دارد سے محروم ہوتے ہیں تو ہوتے رہیں، ہمارے قائدین کرام کی سب سے بڑی ترجیح ہی ہے کہ کس طرح گھناﺅنے الزامات عائد کیے جائیں، کس طرح سیاسی حریفوں کی گردنیں دبوچی جائیں اور کس طرح ان کی عزتِ نفس کو مجروح کیا جائے۔ یہ سب کچھ کرپشن ختم کرنے کے نام پر ہو رہا ہے۔

عوام کو خوش رکھنا اور نئے روشن امکانات تلاش کرنا تو جانے کب ہمارے نصیب میں ہو۔ ہم تو اپنی نو جوان نسل کو یہ بھی نہیں بتا پا رہے کہ مہذب گفتگو کا قرینہ کیا ہوتا ہے۔ مثبت رویے کس بلا کا نام ہیں۔ تہذیت اور اخلاقات کسے کہتے ہیں۔ میرے خیال میں یہ ناکامی اس عہد کی سب سے بڑی ناکامی ہے۔ بے روزگاری، مہنگائی، بد امنی ، دہشت گردی، جی ڈی پی میں کمی اور معیشت کی بربادی سے بھی بڑی ناکامی ،معیشت تو شاید کسی نہ کسی دن سنبھل ہی جائے، قومی اخلاقی قدروں کی اس ٹوٹ پھوٹ کا کیا بنے گا جو زوال کی پستیوں کو چھو رہی ہے۔ قوم ذہنی تناﺅ،نفسیاتی دباﺅ اور فکری انتشار کا شکار ہو رہی ہے لیکن حکمرانوں کی بلا سے....!


ای پیپر