”ٹیم کے انتخاب نے رُسوا کیا مجھے“
30 اپریل 2019 2019-04-30

گزشتہ کالم میں نے وفاقی کابینہ میں کی جانے والی تبدیلیوں پر لکھا تھا، اللہ جانے کیوں مجھے یہ لگ رہا ہے وہ اُدھوراکالم تھا، کچھ جملے بھی اُدھورے ہوتے ہیں، مجھے ایک واقعہ یاد آرہا ہے ، پنجاب میں ایک آئی جی سعادت اللہ خان ہوا کرتے تھے، تب آئی جی پنجاب کا دفتر سول سیکرٹریٹ میں ہوتا تھا، ایک بلاک پولیس افسروں کے لیے مختص تھا، اُس کے برآمدے میں چھوٹا سا ایک بورڈ نصب تھا جِس پر لکھا تھا ”یہاں شورمت کریں“ ....ایک بار میں آئی جی صاحب سے مِلنے گیا، میں نے وہ بورڈ پڑھا تو اُن کی خدمت میں عرض کیا ”اِس بورڈ پر لکھی ہوئی یہ عبارت اُدھوری ہے“،” یہاں شور مت کریں“.... وہ پوچھنے لگے ”اچھا تو تم بتاﺅ یہ عبارت پوری کیسے ہوگی؟“ میں نے عرض کیا ”یہ عبارت پوری اِس طرح ہوگی “،”یہاں شورمت کریں ورنہ افسر جاگ جائیں گے“ ....اُس زمانے میں صرف چند افسران ہی سوئے ہوئے محسوس ہوتے تھے، اب تو یوں محسوس ہوتا ہے پورے کا پورا معاشرہ سویا ہوا ہے، اگلے روز میں نے ملک کی ایک اہم ترین شخصیت کو عوام کی روز بروز بڑھتی ہوئی بدحالی سے آگاہ کیا تو اُس نے فرمایا ” تم غلط کہتے ہو، کہیں کوئی احتجاج نہیں ہورہا، کہیں کوئی ہڑتال نہیں ہورہی، مجبوری کے تحت کی جانے والی مہنگائی کے خلاف کہیں سے کوئی آواز نہیں اُٹھ رہی، میں کیسے تمہاری یہ بات مان لُوں لوگ اپنی بدحالی پر پریشان ہیں؟“ بات اُن کی بھی درست ہے، اور بات قتیل شفائی کی بھی غلط نہیں ”دنیا میں قتیل اُس سا منافق نہیں کوئی .... جو ظلم تو سہتا ہے بغاوت نہیں کرتا“....کچھ منافقت ہے اور کچھ یہ بھی حقیقت ہے لوگوں کے پاس اب ایک عمران خان نہیں رہا، جو اُن کی آخری اُمید تھی ، جو حکومت کے ظالمانہ اقدامات کے خلاف عوام کے ساتھ مِل کر جدوجہد کرتا تھا، جو بجلی مہنگی ہونے پر بِل جلد دیا کرتا تھا ، حکومت اُس سے ڈرتی تھی، اب حکومت کو ڈرانے والا کوئی نہیں رہا، پوری کی پوری اپوزیشن اپنی کرپشن چھپانے اور بچانے میں لگی ہوئی ہے، عوام کے روز بروز بڑھتے ہوئے مسائل کی کِسی کو کوئی فِکر ہی نہیں ہے، صرف میڈیا ہے جو کسی حدتک اپنا کردار ادا کررہا ہے۔ اصل کردار مگر عوام کا ہے، جس کے بارے میں قرآن مجید میں فرمایا گیا ”بے شک اللہ اُس قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت کو نہ بدلے۔ اور جب اللہ کسی قوم کی بُرائی چاہتا ہے پھر اُسے کوئی نہیں روک سکتا“.... جس طرح لوگ کِسی کے ساتھ ہونے والے ظلم زیادتی پر خاموشی اختیار کرلیتے ہیں، بلکہ اپنے ساتھ ہونے والے ظلم زیادتی پر بھی خاموشی اختیار کرلیتے ہیں۔ اُس کے بعد وہ یہ توقع نہ رکھیں کوئی اُن کی حالت بدلے گا، .... جہاں تک کابینہ میں تبدیلیوں کا تعلق ہے کم ازکم فردوس عاشق اعوان کے بارے میں مجھے شک ہے اُنہیں زرداری کی سفارش پر وزیراعظم کی اطلاعات و نشریات کے لیے معاون خصوصی وزیراعظم نے نہیں کسی اور نے مقرر کیا ہے۔ اور یہ وہی کوئی اور ہے جس نے اُسے پی ٹی آئی میں شامل کروا کر اللہ جانے الیکشن کیوں ہروا دیا تھا۔ ممکن ہے شہباز شریف نے ” کسی سے “ اپنی یہ شرط بھی منوالی ہو کہ ”اگر مجھ سے مرضی کی اپوزیشن کروانی ہے تو خواجہ آصف ، احسن اقبال ، خواجہ سعد رفیق اور شاہد خاقان عباسی کے ساتھ ساتھ ارمغان سبحانی بھی دیا جائے جس نے اپنے مقابلے میں پی ٹی آئی کی اچھی خاصی تگڑی اُمیدوارہ فردوس عاشق اعوان کو کافی زیادہ ووٹوں سے شکست دے کر ہمیں کافی زیادہ حیران اِس لیے کردیا تھا کہ ہم اُنہیں جیتی جیتائی اُمیداورہ سمجھ رہے تھے، وہ بڑی مردناک خاتون ہیں۔ اُنہیں کسی بھی مقابلے میں ہرانا اچھا خاصا مشکل بلکہ ناممکن کام ہے۔ جنرل مشرف نے بھی اُنہیں شاید اُن کی اِسی خوبی کی بنیاد پر ہی وزیر بنایا ہوگا کہ وہ ہار نہیں مانتیں، باقی سب کچھ مان لیتی ہیں، البتہ زرداری نے اُنہیں رُلا کر رکھ دیا تھا، زرداری حکومت میں بطور وزیر اطلاعات اُنہیں ہچکیاں لے لے کر روتے ہوئے دیکھ کر ہمیں ہنسی آگئی تھی، حالانکہ کسی کو روتے ہوئے دیکھ کر ہنسنا اچھی بات نہیں ہوتی، اُنہوں نے پیپلزپارٹی میں رہنے کی بہت کوشش کی، پر جس طرح جوانی سدا نہیں رہتی اُسی طرح پیپلزپارٹی میں اُن کا سدا رہنا مشکل ہوگیا تھا، ویسے عمر کے لحاظ سے اُن کی جگہ پی ٹی آئی میں بھی نہیں بنتی تھی، اسد عمر کے لحاظ سے شاید بنتی ہو، ممکن ہے اُنہیں شیریں مزاری کے متبادل کے طورپر شامل کیا گیا ہو کہ اگر وہ کسی وجہ سے دوبارہ پارٹی چھوڑ

گئیں تو اُن کی ہم وزن کوئی اور خاتون بھی میں ہونی چاہیے، حالانکہ شیخ رشید بھی ہیں، فردوس عاشق اعوان کو سیالکوٹ سے جیتی جیتائی اُمیدوارہ یعنی Wining Candidateکے طورپر پی ٹی آئی میں شامل کیا گیا تھا، اب شاید وزیراعظم نے اُنہیں اپنا معاون خصوصی بھی اُسی مجبوری کے تحت ہی بنایا ہوگا، اُن کے بارے میں ہم نے سنا ہے لوگوں کے دُکھ سُکھ خواہ کسی بھی نوعیت کے ہوں وہ اُن کے کام آتی ہیں، ہماری دعا ہے اپنی طرح وزارت اطلاعات کو بھی وہ کامیابی سے چلائیں ، البتہ فواد چوہدری کو وزارت سائنس دینے کی ”سائنس “ ابھی تک ہماری سمجھ میں نہیں آرہی، میں سوچ رہا تھا پاکستان میں کوئی ”خصوص مشروبات“ کی وزارت ہوتی وہ اس کے موزوں ترین وزیر ہوتے، اُن کے وزیر سائنس بننے پر ہمیں اپنے ایف سی کالج کے اُردو کے ایک نکمے پروفیسر ، جن کا نام شاہد بزدار نہیں تھا، یاد آگئے، پرنسپل صاحب نے اُن کی خواہش پر اُنہیں ایم اے اُردو کے طلبہ کو پڑھانے کی اجازت دے دی، وہ ”اقبالیات“ پڑھانے لگے، مرحوم دلدار بھٹی جو اُن دنوں ایف سی کالج میں ہی پڑھاتے تھے، نے اُن کے بارے میں فرمایا ”ہمارے اُردو کے یہ محترم پروفیسر صاحب اقبالؒ کے بارے میں اُتنا ہی جانتے ہیں جتنا اقبالؒ اُن کے بارے میں جانتے ہیں “۔ ایسے ہی ہمارے فواد چوہدری ”سائنس“ کے بارے میں اُتنا ہی جانتے ہیں جتنا سائنسدان آئن سٹائن اُن کے بارے میں جانتے تھے، یا جتنا ہمارے سابقہ وزیراعظم نواز شریف شیر شاہ سوری کے بارے میں جانتے تھے، ایک بار وہ بطور وزیراعظم اسلام آباد سے اپنی بنائی ہوئی موٹروے پر لاہور آرہے تھے، اُن کے ہم سفر وزیر نے موٹروے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اُن سے کہا ”میاں صاحب آپ اِس دور کے شیر شاہ سوری ہیں“ ....میاں صاحب نے حیرانی سے وزیر کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا ” کون ہے یہ شیرشاہ سوری ؟ یہ نام میں پہلے بھی سنا ہے“۔ ....وزیر بولا ” میاں صاحب یہ وہ شخص ہے جس نے آپ کی طرح برصغیر میں سڑکوں کے جال بچھا دیئے تھے “۔ ....میاں صاحب نے بے ساختہ فرمایا ” اچھا پھر تو بڑا مال بنایا ہوگا، اُس نے “ .... ہمیں خوشی ہے ہمارے موجودہ وزیراعظم عمران خان کو مال بنانے کی کوئی تمنا نہیں ہے، اُسے تو لوگوں کو اُلو بنانے کی کوئی تمنا بھی نہیں تھی، بس یہ ہے کہ وہ اچھی ٹیم بناسکے ۔ اور یہ طے ہے کم ازکم موجودہ ٹیم سے وہ میچ نہیں جیت سکیں گے !!


ای پیپر