مولانا فضل الرحمن بالآخر فوج کیخلاف بول اُٹھے
30 اپریل 2019 (00:34) 2019-04-30

اسلام آباد:جمعیت علماءاسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ڈی جی آئی ایس پی آر کے مدارس کے حوالے سے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دینی مدارس کے حوالے سے جو بات آئی ایس پی آر نے کی ہے یہ فوج کا کام نہیں ہے حکومت کا ہے،بیرونی قوتوں کے ایجنڈے کے تحت مدارس کا نصاب تبدیل نہیں کیا جا سکتا ہے،فوج کا یہ کام نہیں کہ وہ مدارس کے معاملات کو دیکھے،ملک میں مدارس سے پہلے تعلیمی اداروں میں بہتری لائی جائے۔

پیر کو اپنے ایک بیان میں ایم ایم اے کے مرکزی صدر اور جے یو آئی کے امیر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہآئی ایس پی آر کے ترجمان کی مدارس کے حوالے سے بیان کو مسترد کرتے ہیں،دینی مدارس کے حوالے سے جو بات آئی ایس پی آر نے کی ہے یہ فوج کا کام نہیں ہے حکومت کا ہے،فوج کا یہ کام نہیں کہ وہ مدارس کے معاملات کو دیکھے،دینی مدارس کے نصاب کے حوالے سے آئی ایس پی آر کے موقف کو مسترد کرتے ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ مدارس کے نصاب کو طے کرنے کا کسی کو کوئی اختیار نہیں ہے،ملک میں مدارس سے پہلے تعلیمی اداروں میں بہتری لائی جائے،30ہزار سے زائد دینی مدارس میں 20 لاکھ سے زیادہ غریب بے سہارہ بچے پڑھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دینی مدارس میں مفت کھانا رہائش کپڑے صحت اور گھر جانے کا کرایا دیا جاتا ہے، حکمرانوں کو 1کروڑ 20لاکھ بچوں کی تعلیم کی کسی کو بھی فکر نہیں ہے،اس وقت پاکستان میں لاکھوں میڈیکل، انجینئرنگ، سول گریجویشن پاس روز گار کیلئے خودکشیاں کر رہے ہیں،دینی مدارس کے بچوں کی حکومت کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے وہ کالج کے پاس اﺅٹ نوجوانوں کو روزگار فراہم کریں،بیرونی قوتوں کے ایجنڈے کے تحت مدارس کا نصاب تبدیل نہیں کیا جا سکتا ہے۔


ای پیپر