پاکستان کا محفوظ ترین ایٹمی پروگرام
30 اپریل 2018

فروری 2015ء کے پہلے ہفتے میں امریکی ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی کے ڈائریکٹر لیفٹیننٹ جنرل ونسینٹ آرسٹیورٹ نے کانگریس کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے اجلاس میں دنیا بھر میں خطرے کا جائزہ لینے سے متعلق سماعت کے دوران بریفنگ دیتے ہوئے آگاہ کیا تھاکہ’ پاکستان اپنے ایٹمی اثاثوں کی سکیورٹی کو بہتر بنانے کے لئے مسلسل اقدامات کررہا ہے، ہم یہ پیش گوئی کرسکتے ہیں کہ پاکستان کروز میزائلوں اور کم فاصلے تک مار کرنے والے ایٹمی ہتھیاروں سمیت نئے ڈیلیوری سسٹمز کی تیاری جاری رکھے گا تاکہ وہ اپنے بیلسٹک میزائلوں کے نظام کو مزید مضبوط کرسکے،دہشت گردوں کے خلاف ضرب عضب موثر کارروائی ہے، پاک فوج نے شمالی وزیرستان کو دہشتگردوں سے پاک کر دیا ہے، پاکستان اپنے ایٹمی اثاثوں کی سکیورٹی کو بہتر بنانے کیلئے مسلسل اقدامات کررہا ہے‘۔
اُن دنوں جب مغربی میڈیا اور حکام پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کو غیر محفوظ قرار دینے کے عالمی پروپیگنڈے میں مصروف تھے، امریکی جنر ل ونسینٹ آرسٹیورٹ کے بیان کی اہمیت کا اندازہ بہ خوبی کیا جاسکتا ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی حکام گاہے ماہے اس عنوان کے بیانات داغتے رہے تھے کہ’ ملکی ایٹمی تنصیبات پر القاعدہ یا طالبان کے قبضے کا خطرہ ہے‘۔ جنوری 2010ء میں نیویارکر میں شائع ہونے والے سیمورہرش کے پاکستان کے ایٹمی پروگرام سے متعلق مضمون کے مندرجات انتہائی مضحکہ خیز تھے ۔ مضمون میں انکشاف کیا گیا تھا کہ ’ کچھ عرصہ قبل پاکستان کے ایک ایٹم بم کے گم ہو جانے کی اطلاع امریکہ کو ملی تھی جس پر امریکہ کا ایک خصوصی دستہ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر قبضے کیلئے امریکہ سے پاکستان روانہ ہوا تاہم یہ دستہ ابھی دبئی میں ہی تھا کہ مذکورہ اطلاع غلط ثابت ہو گئی‘۔پینٹاگون کہتا رہا ہے کہ ’اس علاقے میں ایٹمی پروگرام کا غیرمحفوظ ہاتھوں میں رہنا دنیا کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ اس لئے پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کو اقوام متحدہ کے ذریعے کنٹرول کیا جائے‘۔یہ ایک کھلاراز ہے کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا تحفظ فعال کمانڈ اور کنٹرول اتھارٹی کے پاس ہے ۔ مقام حیرت ہے کہ 4ستمبر2013ء کو امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے انکشاف کیا تھا کہ ’ امریکا نے جاسوسی کے لیے پاکستان میں دنیا کا مہنگا ترین اور وسیع جاسوسی نظام قائم کیا ،نئے سیل بنائے اوراس کے ایٹمی پروگرام کی نگرانی بڑھادی، امریکاکوپاکستان کی جوہری تنصیبات کی سکیورٹی پر شدید تحفظات ہیں اوراسے خدشہ ہے کہ پاکستان میں موجود شدت پسند کیمیائی ہتھیار بنالیں گے‘۔ پاکستانی دفتر خارجہ متعدد بار واضح کرچکا ہے کہ’ ہمارے ایٹمی اثاثے وزیراعظم کی سربراہی میں مضبوط کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کے تحت ہیں جبکہ ہم اس سلسلے میں ایٹمی توانائی کے بین الاقوامی ادارے (آئی اے ای اے) کے طے کردہ معیار اور اصولوں کی پیروی کررہے ہیں، پاکستان ایٹمی تحفظ اور سکیورٹی کے معاملے میں عالمی برادری سے بھی مکمل طور پر رابطے میں ہے، پاکستان تخفیف اسلحہ اور جوہری عدم پھیلاؤ کے مقاصد کے حصول کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔ ایٹمی ہتھیاروں کے حامل ملک کی حیثیت سے پاکستان کی پالیسی اجتناب اور ذمہ داری پر مبنی ہے، پاکستان کیمیائی ہتھیاروں کے کنونشن اور حیاتیاتی ہتھیاروں کے کنونشن کا ایک فریق ہے اور وہ دونوں کنونشنز کی مکمل طور پر پاسداری کررہا ہے، پاکستان کی ایٹمی دفاعی صلاحیت کا مقصد جنوبی ایشیا میں علاقائی استحکام برقرار رکھنا ہے‘۔
یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ پاکستان نے جنوبی ایشیا میں ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ شروع نہیں کی۔ خطہ کے حقائق شناس مبصرین جانتے ہیں کہ بھارت نے 1974ء میں ایٹمی دھماکہ کیا۔ یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ تارا پور کے ایٹمی پلانٹ کی تعمیراور مذکورہ جوہری بم کی تیاری کیلئے بھارت نے مطلوبہ مٹیریل انڈرورلڈ سے حاصل کیا۔ ایسے میں پاکستان کے لیے ناگزیر ہو چکا تھا کہ وہ اپنے دفاع کو نا قابل تسخیر بنانے کے لئے جوہری اور غیر روایتی ہتھیاروں کی تیاری پر اپنی توجہ مرکوز کرتا۔ اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے پاکستان کے جوہری ری پروسیسنگ پروگرام کی داغ بیل ڈالی تا کہ خطے میں طاقت کے توازن کے پلڑے کا جھکاؤ بھارت کی جانب نہ رہے۔ ایسا کرنا اس لیے بھی ضروری تھا کہ بھارت کے پہلے ایٹمی دھماکے سے چند برس قبل بھارت سقوط
مشرقی پاکستان کے المیہ میں انتہائی منفی کردار ادا کر چکا تھا۔ باراک اوباما کے دورۂ بھارت کے بعد اب بھی بھارتی و امریکی دفاعی ماہرین کے درمیان کئی اہم معاملات پر دفاعی و عسکری سمجھوتے طے پا رہے ہیں۔ یاد رہے کہ امریکا نے بھارت کے پہلے ایٹمی پروجیکٹ (پلانٹ) تارا پور نیوکلیئر لیبارٹری کوایندھن کی فراہمی جیسے سمجھوتے پر2005ء میں دستخط کئے تھے۔ بعدازاں بھارت نے ریاست راجستھان کے شہروں باڑمیر، جیسلمیر، بیکانیر اور گنگا نگر میں چار نئے ایٹمی پلانٹ قائم کرنے کیلئے ان مقامات پر ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کیاتھا۔ اور تو اور بھارت کو امریکا کی طرف سے ایٹمی توانائی کی جدید ٹیکنالوجی اور سپر کمپیوٹر بھی 2013ء میں فراہم کردیا گیا تھا۔
یہ امر ناقابل فہم ہے کہ آخر امریکی و مغربی حکام صرف پاکستان کے ایٹمی اثاثوں اور تنصیبات کے تحفظ ہی کے حوالے سے بار بار سوالات کیوں اٹھاتے ہیں۔ پاکستان کا ایٹمی پروگرام فول پروف کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کے حصار میں ہے۔ اس پر سوال اٹھانا اسے مشکوک بنانا ہے۔ اس سے امریکی ذہنیت کا اندازہ ہوتا ہے کہ وہ پاکستان کی یقین دہانیوں کے باوجود ان پر اعتماد نہیں کرتے۔ بھارت میں 37 کے قریب مسلح آزادی کی تحریکیں زورشور سے جاری ہیں۔ آج تک یہ سوال نہیں اٹھایا گیا کہ ان مسلح تحریکوں کے کمانڈر اور کارکن بھارت کے ایٹمی اثاثوں پر بھی قبضہ کر سکتے ہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی حفاظت دنیا کی پہلی 5 بہترین افواج میں سے ایک کر رہی ہے۔ اب پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے تحفظ اور عدم تحفظ کے حوالے سے پاکستان کو کسی امریکی جنرل کے اطمینان یا عدم اطمینان کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں۔
اہل پاکستان گزشتہ 18 برس سے دہشت گردی کے حوالے سے جس صورت حال کا شکار ہیں اس میں دفاع وطن کے حوالے سے کروز میزائلوں رعد، ابابیل اور بابر کی تیاری حبس کے موسم میں ٹھنڈی ہوا کے حیات بخش جھونکے ہیں۔ میزائل ٹیکنالوجی میں پاکستان پہلے ہی اہم کامیابیاں حاصل کر چکا ہے۔ پاکستان نے مائع ایندھن سے میزائل چلانے میں بھی کامیابی حاصل کی ہوئی ہے۔ کروز میزائلوں کے اوپر تلے کامیاب تجربوں کے بعد پاکستان اس میدان میں ازلی دشمن بھارت سے کوسوں آگے ہے۔ یہ میزائل مکمل طور پر ملک کے اندر تیار کیے گئے ہیں۔ ان میں سے اکثر مکمل طور پر پاکستانی سائنسدانوں کی کاوش کا شاہکار ہیں۔ ان میں سے ہر ایک میزائل سٹیٹ آف دی آرٹ میزائل ہے۔ پاکستان نے میزائل کے تجر بے کرکے دفاعی نوعیت کے اہم سنگ میل عبور کر لیے ہیں۔ یہ میزائل ہر قسم کے روایتی اور ایٹمی ہتھیارلے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ نچلی فضا میں اپنی پوزیشن بھی تبدیل کرسکتے ہیں اور اپنے ہدف کو انتہائی کامیابی سے نشانہ بنا سکتے ہیں۔ ان میں سے رعدمیزائل کم اونچائی اور ناہموار علاقوں سے گزرتے ہوئے سمندر اور زمین دونوں میں ہدف کو سو فیصد درست نشانہ بنا سکتا ہے۔ سٹیلتھ ٹیکنالوجی سے لیس ہونے کی وجہ سے اسے ریڈار پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ کروز ٹیکنالوجی انتہائی پیچیدہ ٹیکنالوجی ہے جو دنیا کے صرف چند ممالک حاصل کرسکے ہیں۔ بحمد للہ ان میں سے پاکستان ایک سربرآوردہ ملک ہے۔بیرونی سرحدوں اور بیرونی دشمنوں کی سرحدوں پر یلغار کے خلاف وطن کا دفاع مزید مضبوط ہو چکا ہے مگر بیرونی دفاع کی مضبوطی کے ساتھ ساتھ اندرونی دفاع کے محاذ پر افواج پاکستان سرگرمِ تگ وتاز ہیں۔2014ء تک پاکستان کو داخلی سطح پر دہشت گردوں کے خطرناک حملوں کا سامنا تھا۔ دہشت گرد شہریوں، حساس تنصیبات اور اداروں پر حملے کر رہے تھے۔ قبائلی علاقے ،پشاور، خیبرپختونخوا اور بلوچستان ان کے خصوصی اہداف تھے۔ کراچی سمیت دیگر شہروں اور قصبوں کو بھی نشانہ بنایا جارہا تھا۔ پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں دہشت گردانہ وارداتیں معمول بن چکی تھیں۔ یہ دہشت گرد کئی دشمن ممالک سے رہنمائی، اسلحی و مالی ا مدد حاصل کر رہے تھے ۔ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے۔ گزشتہ18 برسوں سے پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نتیجے میں کھربوں روپے کا مالی نقصان اٹھانے کے علاوہ ہزاروں جانوں کا نذرانہ بھی پیش کر چکا ہے ۔
یہ عجب ستم ظریفی ہے کہ ایک طرف تو بھارتی حکام عالمی برادری کو خطے میں پائیدار قیام امن کے حوالے سے بلند بانگ یقین دہانیاں کراتے ہوئے جامع مذاکرات کی جانب پیش رفت کے زبانی کلامی ’مژدہ ہائے جانفزا ‘سناتے نہیں تھکتے اور دوسری جانب غیر روایتی ہتھیاروں کی تیاری پر سالانہ خطیر رقم خرچ کرنے کے لئے اپنے بجٹ میں بھاری بھر کم رقم کا اضافہ کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ بھارتی حکام کے اسی تضاد کے پیش نظر بین الاقوامی مبصرین اس امر پر متعدد بار اپنے خدشات و تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں کہ بھارت خطے میں جوہری اسلحہ سازی اور میزائل سازی میں عدم توازن پیدا کرتا رہا ہے۔ بھارت خطے میں اسلحہ کی دوڑ کی وباء کو پھیلانے کا موجد اور بانی ہے۔ مقام حیرت ہے کہ ایک ایسا ملک جس کی آبادی کا ایک قابل ذکر حصہ غربت کی لکیر سے نیچے کسمپرسی کے عالم میں زندگی بسر کر رہا ہے، اس کے حکمران مہنگے ترین ہتھیاروں اور میزائلوں کی تیاری پر غریب عوام کے خون پسینے کی کمائی سے حاصل کئے گئے بجٹ کا ایک بڑا حصہ انتہائی بے دردی کے ساتھ خرچ کر رہے ہیں۔ 70کروڑ سے زائد بھارتی شہری دو وقت کی آبرومندانہ روٹی بھی بروقت حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ بھارت کی اس تمام کد و کاوش کا بنیادی مقصد ہمسایہ ممالک کو خائف اور دہشت زدہ کرنا ہے۔ یہ ایک بڑی سچائی ہے کہ بھارتی حکام یہ ہدف حاصل کرنے میں بھی بری طرح ناکام رہے ہیں۔ بھارت کا ’’خصوصی ہدف‘‘ روز اول سے پاکستان رہا ہے۔سالانہ میزانیوں میں یہ آئے روز اضافے، یہ میزائل تجربے،جوہری ہتھیار سازی ، لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر گولہ باری محض اس لئے کی جاتی ہے کہ بھارت کے متعصب، بنیاد پرست اور رام راج کے خواہش مند انتہا پسند عناصر کو یہ باور کرایا جاسکے کہ بھارت خطے کا تھانیدار بن چکا ہے اور وہ اپنے کسی بھی ہمسایہ ملک پر رعب جماسکتا ہے ۔ حالانکہ یہ محض خام خیالی ہے۔ بھارتی حکمرانوں اور بھارت میں موجود غالب حیثیت رکھنے والے انتہا پسند عناصر کی کوششوں اور خواہشوں کے باوجودپاکستان کا دفاعی استحکام ناقابل تسخیر ہے۔ یہ امر عام پاکستانیوں کے لئے یقیناًاطمینان کا باعث ہے کہ افواج پاکستان نے آزمائش کے ہر مرحلے اور امتحان کے ہر میدان میں پاکستان کی جغرافیائی و نظریاتی سرحدوں کے دفاع اور تحفظ کے لئے کسی بھی قسم کی قربانی دینے سے کبھی دریغ نہیں کیا۔


ای پیپر