کراچی کا مینڈیٹ، کون حقدار!
30 اپریل 2018

کراچی میں دہشت گردی خوف کے راج کا خاتمہ ہوا تو ہر کوئی کراچی کے مینڈیٹ حاصل کرنے کا خواہاں ہے۔ تحریک انصاف، نواز لیگ اور ایم کیو ایم کی کوکھ سے جنم لینے والے مختلف گروپ اس مینڈیٹ کے امیدوار ہیں۔ کراچی کی نہ صرف قومی اور صوبائی اسمبلی میں نشستیں ہیں بلکہ یہ شہر ملکی معیشت خواہ اقتدار کے ایوانوں میں الٹ پھیر کا باعث خاص اہمیت رکھتا ہے۔ پیپلزپارٹی نے اپنے چیئرمین بلاول بھٹو کے ذریعے ایک بھرپور کوشش کی ہے کہ وہ تبدیل شدہ صورتحال میں کراچی کی سیاست اور نمائندگی میں اپنا حصہ نکالے۔ 44برس بعد ایم کیو ایم کے گڑھ ٹنکی گرا ؤنڈ ایف سی ایریا میں منعقدہ پیپلزپارٹی کا یہ سب سے بڑا پاور شو تھا۔پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے بیک وقت چو مکھی لڑائی کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے تحریک انصاف، نواز لیگ، ایم کیو ایم اور اس کے مختلف گروپوں کی مخالفت کی اور ان کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ کراچی کے لوگوں کو اپنے ساتھ کھڑا کرنے کے لئے بلاول بھٹو نے خود کو کراچیائٹ اور شہباز شریف خواہ عمران خان کو باہر کے لوگ کہا اور اس بات پر زور دیا کہ کوئی باہر کا آکر کراچی کے مینڈیٹ پر قبضہ نہ کرے۔ وہ کہتے ہیں کہ پہلے کراچی اور اس کی سیاست لندن سے کنٹرول ہوتی تھی، اب بنی گالہ سے کنٹرول کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے عمران خان اور الطاف حسین کو ایک ہی سکے کے دو پہلو قرار دیتے ہوئے کہا کہ طالبان کا بچھڑا بھائی عمران خان کو پر امن کراچی پسند نہیں۔ ہم عمران خان کی صورت میں دوسرا الطاف حسین مسلط نہیں ہونے دیں گے۔پی ٹی آئی کراچی میں نفرت کی سیاست کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے ایم کیو ایم کو مصیبت قومی موومنٹ کے نام سے پکارا اور اعلان کیا کہ میں اس مصیبت سے مستقل نجات دلاؤں گا، ان کا یہ بھی کہنا تھا مستقل قومی مصیبت نے 30برسوں میں کراچی کو کچھ نہیں دیا۔ مشرف کے دور میں ایم کیوایم کراچی پر مافیا کی طرح مسلط تھی، اس و قت کراچی کے لئے پانی کا منصوبہ کیوں مکمل نہیں کیا ۔ بلاول کی اس بات میں وزن ہے۔ کراچی سے ووٹ لینے والے کراچی کے مسائل کے حل میں ناکام رہے ۔ ان کا یہ جملہ خاصا اہمیت کا حامل ہے : ’’ جو ووٹ لیتا ہے ، مسائل حل کرنا ان کی ذمہ داری ہے‘‘۔
ایم کیو ایم کی کوکھ سے جنم لینے والے مختلف گروپوں کو بھی نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ایم کیو ایم کا قائد برا ہے تو اس کے ساتھی اور سہولت کار بھی برے ہیں۔ ایم کیو ایم قائد کو چھوڑ کر اپنی سیاسی دکان چمکانے والے بھی برے ہیں۔بلاول بھٹو زرداری کے ایم کیو ایم کے ہیڈ کوارٹر فیڈرل بی ایریا میں منعقدہ جلسے نے بینظیر بھٹو کی مئی 1995ء کی تقریر یاد دلا دی۔ محترمہ نے مئی 1995ء میں شدید ہنگاموں کے بعد کہا تھا کہ دہشتگرد بندوق پھینک کر آکر مجھ سے لڑیں۔ کراچی کی ایک تنظیم کے کارکن بزدل ہیں۔ لوگ ان سے نفرت کرتے ہیں۔ دو روز بعد اسی موقف
کو دہرایا کہ کراچی کے لوگ ایم کیو ایم کا ساتھ چھوڑ چکے ہیں۔ انہیں آئندہ مینڈیٹ نہیں ملے گا۔ فرق یہ ہے تئیس سال پہلے جب محترمہ نے یہ کہا تھا اس وقت شہر میں ہنگامے اور خونریزی ہو رہی تھی۔ آج شہر پرامن ہے۔
سندھ کے دارالحکومت میں قیام امن اور ایم کیو ایم میں دھڑے بندی کے بعد تمام سیاسی فریقین خوش ہیں لیکن سب سے زیادہ خوشی پیپلزپارٹی کو ہے، جو صوبے میں حکمران جماعت ہے۔ اور عملی طور پر یہ جماعت ایم کیو ایم کو بطور اپوزیشن اور امن وا مان خواہ انتظامی معاملات میں درد سر بنی رہی۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ایم کیو ایم والی نشستیں پیپلز پارٹی کو ملتی ہیں یا کسی اور جماعت کو عملی طور پر اس کا فائدہ پیپلزپارٹی کو ہی ہوگا۔ سب سے بڑا فائدہ یہ ہو سکتا ہے کہ اگر یہ انتخابات اور اس کے نتائج شہر کو لسانی سیاست کے بھوت کے چنگل سے نکال لیتے ہیں تو یہ صوبے بھر کے عوام کا فائدہ ہوگا۔
شہر کی حلقہ بندیوں اور نچلی سطح پر سیاست پر نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ نئی حلقہ بندی کا فائدہ پیپلزپارٹی کو ہی ملے گا۔ دیکھنا یہ ہے کہ پارٹی کیا حکمت عملی بناتی ہے جس سے اس حلقہ بندی کا پارٹی کو صحیح معنوں میں فائدہ ملے ۔ اتوار کے روز اردو بولنے والی آبادی کے گڑھ میں منعقدہ جلسہ اس سلسلے کی پہلی نہ ہی تو بھی اہم کڑی ہے۔ پیپلزپارٹی کا دعویٰ ہے کہ اردو بولنے والی آبادی سے انہیں اچھا ردعمل ملا ہے۔ اس کی تصدیق ایم کیو ایم کے حلقوں سے بھی کی جارہی ہے۔ ایم کیو ایم کے تمام پرشاخے سمجھتے ہیں کہ پیپلزپارٹی اس صورت حال سے فائدہ ا ٹھا سکتی ہے۔ ایم کیو ایم کے بعض ذمہ داران کے اس طرح کے بیانات بھی ریکارڈ پر ہیں کہ پیپلزپارٹی نے ان کے بعض اراکین اسمبلی سے ربطہ کیا ہے۔ اور عین ممکن ہے کہ اس مرتبہ یہ پارٹی زیادہ نشستیں حاصل کر لے۔ شہری منصوبہ بندی کے ماہرین پہلے ہی کہہ رہے تھے کہ کراچی شہر کی لسانی حوالے سے آبادی کے تناسب میں بڑی تبدیلی آئی ہے۔ گزشتہ تین عشروں کے دوران باہر سے اردو بولنے والی آبادی بہت ہی کم تعداد میں آئی ہے جبکہ خیبر پختونخوا، شمالی علاقہ جات، سندھ کے دیہی علاقوں سے سندھی بولنے والے ہزارہ، پنجاب کے سرائیکی بیلٹ سے بڑے پیمانے پر لوگ کراچی میں آکر آباد ہوئے ہیں۔ اسی امر کی تصدیق الیکشن کمیشن اور مردم شماری سے متعلق ذرائع نے بھی کی ہے ۔ کراچی کا ضلع غربی شہر کے سب سے گنجان آبادی کے طور پر ابھرا ہے۔ یہ ضلع غیر اردو بولنے والی آبادی کا سب سے بڑا ضلع بن گیا ہے۔ 2013ء کے انتخابات کے وقت اس ضلع میں صوبائی اسمبلی کی 9 اور قومی اسمبلی کی 4 نشستیں تھی۔ لیکن نئی مردم شماری اور حلقہ بندی کے بعد اس ضلع کے حصے میں قومی اسمبلی کی پانچ اور صوبائی اسمبلی کی گیارہ نشستیں آئی ہیں۔ عملاً دو صوبائی اور ایک قومی اسمبلی کی نشست ضلع وسطی سے اس ضلع میں آ گئی ہے۔
اس ضلع میں سندھی، بلوچ اور پختون اکثریت میں ہیں۔ پیپلزپارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور جے یو آئی (ف) کے اتحاد سے یہ پورا ضلع ایم کیو ایم کے دائرہ سے نکل سکتا ہے۔ اسی طرح کا اتحاد ضلع جنوبی، شرقی اور کورنگی میں بھی ہو سکتا ہے۔ جہاں اب نان اردو سپیکنگ آبادی زیادہ ہے۔ ملیر ضلع میں مجموعی طور پر سندھی اور بلوچ آبادی کی اکثریت ہے، جس کا پیپلزپارٹی کے فولڈ سے نکلنا مشکل ہے ۔
پیپلزپارٹی کے لئے اردو بولنے والوں کا ووٹ لینا اتنا آسان نہیں ہوگا۔ کیونکہ اردو بولنے والوں کو یہ تاثر بٹھا دیا گیا ہے کہ پیپلزپارٹی سندھیوں کی جماعت ہے۔ جبکہ ایم کیو ایم کے مختلف گروپ اور پاک سرزمین پارٹی کی پوری کوشش ہوگی کہ پیپلزپارٹی کو ہر حال میں اردو بولنے والوں کا مخالف قرار دیں۔ ایسے میں اردو بولنے والے ووٹرز کے لئے دوسری چوائس جماعت اسلامی اور تحریک انصاف بنتی ہے۔ پیپلزپارٹی جماعت ا سلامی کو انتخابی حوالے سے اپنا حریف نہیں سمجھتی۔ بلاول بھٹو کی تقریر میں بھی نواز لیگ ، تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کے گروپوں کو حریف قرادیا گیا ہے۔ اصل میں پیپلزپارٹی، نواز لیگ اور تحریک انصاف کے درمیان مقابلہ غیر اردو بولنے والے ووٹرز کو حاصل کرنے اور ان کو اکٹھا کرنے پر ہے۔ مزید یہ کہ کچھ اردو بولنے والوں کے ووٹ جو ایم کیو ایم سے ہٹ کر کھڑے ہوئے ہیں یا پہلے ایم کیو ایم کے تسلط کی وجہ سے کسی کو ووٹ نہیں دیتے تھے، ان کے ووٹ حاصل کرنا ہے۔ بلاول بھٹو کے جلسے نے کراچی کی سیاست میں پیپلزپارٹی کی حکمت عملی کو ظاہر کیا ہے اور کچھ لہریں پیدا کی ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس کے حریف اور حلیف خواہ دوسرے فریق کیا ردعمل دیتے ہیں۔


ای پیپر