الیکشن 2018ء کی انتخابی مہم کا ٹیک آف
30 اپریل 2018 2018-04-30

اتوار کے دن فیملی کے ساتھ گزارنے کا مزہ خوب ہے۔ مگر اس بار اتوار گزرااور خوب گزرا۔ شام ہوتے ہی مینار پاکستان کراچی کی ٹینکی گراؤنڈ اور مردان میں متحدہ مجلس عمل کا پہلا شو ہوا۔ یہ معاملہ آدھی رات گزرنے کے بعد جا کر ختم ہوا ۔ تین بڑے جلسوں نے سماع خوب باندھا۔ مقررین کے خطاب بھی خوب تھے اور پارٹی کارکنوں کا جوش بھی دیدنی مگر میڈیا نے متحدہ مجلس عمل کے ساتھ نا انصافی کی ۔ اس اتحاد کو کسی نے گھاس ہی نہیں ڈالی۔ پرانے اور نئے حلقوں کی بحث میں پڑے بغیر یہ حقیقت سامنے آ رہی ہے خیبر پختونخوا میں جماعت اسلامی اور مولانا فضل الرحمن کا اتحاد پاکستان تحریک انصاف کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ 2013ء کے مقابلے میں کپتان کی جماعت اب متحد نہیں۔ 5 سالہ اقتدار میں اس نے وہ کارکردگی نہیں دکھائی ہے جس کا وعدہ کیا ہوا تھا۔ نیا کے پی کے تو بننا چاہیے تھا۔ اس خطرے اور خدشے کی وجہ سے ہی مدرسہ حقانیہ کی مالی مدد کی گئی ہے اور مولانا سمیع الحق کو سینیٹ کا امیدوار بنایا مگر کپتان کے کھلاڑیوں نے سمیع الحق کو ووٹ نہیں دیئے کہ وہ جیت پاتے۔ اصل معاملہ تو یہ ہے مذہبی ووٹ کپتان کے ہاتھ سے نکل گیا ہے۔ اس میں شک نہیں متحدہ مجلس عمل کے لیڈروں نے سوچ سمجھ کر ہاتھ ملائے ہیں۔ اس بار کے پی کے میں اے این پی اور پیپلزپارٹی بھی بہتر پوزیشن میں ہیں۔ وفاداریاں بدل کر تحریک انصاف کی طرف ہجرت کرنے والوں نے اس وعدہ پر شمولیت اختیار کی ہے انہیں ٹکٹ ملے گا۔ ہفتہ کے روز شہباز شریف نے مردان میں جلسہ کا رنگ جمایا۔ وہاں امیر مقام نے مسلم لیگ (ن) کو ہزارہ کی جماعت کی بجائے پاپولر بنا دیا ہے۔ 2013ء کی نسبت مسلم لیگ (ن) کی کارکردگی بھی بہتر ہو گی۔ 2018ء کے انتخاب میں فیصلہ کن کردار کے پی کے اور آصف علی زرداری کا ہو گا۔ آصف زرداری نواز شریف سے ناراض اور روٹھے ہوئے ہیں۔ کوشش کے باوجود ونوں میں ملاقات تک نہیں ہو رہی اور ہونے کا امکان بھی زرداری نے یہ کہہ کر مسترد کر دیا ہے کہ وہ نواز شریف کے ساتھ جنت میں بھی نہیں جائیں گے۔ وہاں انہوں نے یہ بھی بتا دیا ہے کہ سنجرانی کو چیئرمین سینیٹ بنانا اُن کا فیصلہ تھا۔ اگر یہ اسٹیبلشمنٹ نہیں زرداری کا فیصلہ تھا تو یہ حکمت عملی کامیاب رہی کہ کپتان کو اس نے ٹریپ کر کے کس طرح اپنے پیچھے لگا لیا۔ نیا پاکستان بنانے والوں نے کپتان کے اس فیصلے کو پسند نہیں کیا کہا سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب میں تحریک انصاف کے سینیٹروں نے کپتان کے کہنے پر تیر پر مہر لگائی۔ آصف علی زرداری کا یہ کہنا کہ تحریک انصاف سیاسی جماعت نہیں ہے۔ اگر نہیں تو پھر وہ کیا ہے؟ آصف زرداری کا یہ کہنا درست نہیں ہے کیونکہ پیپلزپارٹی کے کو چیئرمین کو تحریک انصاف کے ہاتھوں سب سے زیادہ تکلیف پہنچی ہے۔ 2013ء کے انتخاب نے تو پنجاب سے پیپلزپارٹی کو جڑ سے اکھاڑ دیا ہے۔ پھر زندہ ہونے کے آثار بھی نہیں ہیں۔ آصف زرداری کی حکمت عملی یہی ہو گی کہ وہ پچاس سے ساٹھ نشستیں حاصل کر لیں۔ اگر ایسا ہو گیا تو پارلیمانی سیاست کالیور زرداری کے ہاتھ میں آجائے گا۔ وزیراعظم وہی ہو گا جس کو زرداری کے ووٹ ملیں گے مگر ان ووٹوں کی قیمت بھی ادا کرنی پڑے گی۔ اس کے لیے پنجاب کی وزارت اعلیٰ کا مطالبہ بھی ہو سکتا ہے۔ آصف علی زرداری نے اب اینٹی اسٹیبلشمنٹ سیاست چھوڑ دی ہے اور اُن کے جانشین بلاول بھٹو بھی اسی راستے پر چل رہے ہیں۔ زرداری صاحب کھل کر سپہ سالار کی حمایت کر رہے ہیں۔ یہ راحیل شریف والی للکار نہیں ہے کیونکہ للکارنے کے بعد زرداری صاحب کو ایک سال سے زائد کا عرصہ ملک سے باہر گزارنا پڑا تھا جس سے پیپلزپارٹی کی سیاست کو کافی نقصان پہنچا۔ مولانا فضل الرحمن کے بارے میں زرداری کا کہنا ہے وہ زبان کے پکے ہیں اگر متحدہ مجلس عمل 2018ء کے انتخاب میں مسلم لیگ (ن)، پیپلزپارٹی اور اے این پی سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرتی ہے تو تحریک انصاف کافی سمٹ جائے گی ۔ کے پی کے میں موجودہ پارٹی پوزیشن کو دیکھا جائے تو مستقبل میں یہ پارٹی کافی خسارے میں رہے گی۔ وزیراعلیٰ پرویز خٹک جو پہلے کہتے تھے بجٹ پیش نہیں کریں گے جب پیش کرنے لگے تو ان کے پاس 123 ممبران میں سے صرف 45 رہ گئے ہیں۔ یہاں تحریک انصاف کے لیے مشکل اور کافی مشکل ہے۔ یہ تو معاملہ ہو گیا حکمت عملی کا مگر آئین کے آرٹیکل 184 ون تھری کے تحت چیف جسٹس جو ایکشن لے رہے ہیں یہ معاملہ بھی تنقید کی زد میں آ رہا ہے۔ چیف جسٹس کو متنازع نہیں ہونا چاہیے بلکہ یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ معاملہ پری پول رگنگ کی طرف جا رہا ہے۔ خاص طور پر خواجہ آصف کی نا اہلی کے بعد تو آئین کی شق 62 اور 63 بھی نشانے پر ہے۔ خورشید شاہ نے کالا قانون کہا ہے۔ سابق چیف جسٹس نے عمران خان کو اسی شق کے تحت جس میں نواز شریف کو نا اہل قرار دیا تھا صادق اور امین قرار دینے پر درست نہیں سمجھا۔ نسیم زہرہ سے اپنے انٹرویو میں سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کا کہنا ہے کہ خواجہ آصف نے ملازمت نہیں چھپائی اور اس آمدن کا وہاں ٹیکس دیا ہے جس کو گوشواروں میں ظاہر کیا گیا ۔شیخ رشید کا فیصلہ کب آئے گا یا حنیف عباسی کی نظر ثانی اپیل کی کب سماعت ہو گی بہت سے سوالات اٹھے ہیں۔ مینار پاکستان کے جلسہ میں چیف جسٹس کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ دوسرا فریق اب عدالتوں کے متنازع فیصلوں پر ووٹ کو عزت دو کا سوال تو اٹھائے گا۔ اب بات ہو جائے جلسوں کی ۔ انتخابی مہم کا اچھا آغاز ہے آج نواز شریف ساہیوال سے اپنے جلسے سے (ن) لیگ کی انتخابی مہم کا آغاز کرنے جا رہے ہیں۔ جلسے چھوٹے ہوں یا بڑے اس سے فرق نہیں پڑتا۔ مسلم لیگ (ن) کو انتخابی مہم میں برتری رہے گی۔ پیپلزپارٹی کے پاس صرف بلاول اور زرداری ہیں اسی طرح تحریک انصاف عمران خان کے بغیر بڑا جلسہ نہیں کر سکتی مگر مسلم لیگ (ن) میں مریم نواز شریف نے اپنا امیج بنایا ہے اور عوام کو جارحانہ تقریروں سے اپنی طرف متوجہ کرنے کا فن جانتی ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کا اپنا انداز خطابت ہے جبکہ وزیراعظم خاقان عباسی اس ماہ کے آخری دن اپنی آئینی مدت پوری کر کے سابق ہو جائیں گے۔ وہ بھی میدان میں ہوں گے۔ اس کے باوجود مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت سپریم کورٹ کے فیصلوں اور نیب کے یک طرفہ ایکشن سے زخمی ہو چکی ہے جس کا ردعمل عوام میں موجود ہے۔ اسے عوامی پذیرائی ملی ہے۔ انتخابی جنگ کا اصل میدان راولپنڈی سے ساہیوال تک کے انتخابی حلقے ہوں گے۔ قومی اسمبلی کی تقریباً سو نشستوں میں سے 80 پر واپسی کے امکانات ہیں۔ وجہ ہمدردی نہیں۔ چیف جسٹس جو بھی کہیں کارکردگی کا بیڑا غرق ہو گیا مگر پنجاب میں خوبصورت سڑکوں کا جال ہے۔ لوڈشیڈنگ نہ ہونے کے برابر، جیتنے والے خاندان مسلم لیگ (ن) سے جڑے ہوئے ہیں۔ عوام کو معلوم ہے کہ جاگیردار جنوبی پنجاب صوبہ کا نعرہ بلند کر کے خاندانی اجارہ داری چاہتے ہیں۔ 1970ء کے انتخاب میں بھی ایسا ہی ہوا تھا لیکن نہ بہاول پور صوبہ بحال ہوا۔ صوبہ کے نام پر جیتنے والے تمام بھٹو کی پارٹی میں
شامل ہو کر وزیر اور مشیر بن گئے۔ اب بھی یہی ہو گا۔ یہ عوام کی محرومی نہیں بلکہ اقتدار میں اعلیٰ منصب کی کوشش ہے۔ اب کپتان کا معاملہ بڑھا ہو رہا ہے، شیخ رشید نے اپنے خطاب میں پتے کی بات کہہ دی ہے، کپتان کو اشارہ کرتے ہوئے کہہ دیا ہے تحریک انصاف کے نوجوان آپ کی اصل طاقت ہیں۔ یہ چلے ہوئے کارتوس ہیں۔ انہوں نے تحریک انصاف میں نئے شامل ہونے والے پرانے پاکستان کے حامیوں کو ناپسند کیا مینار پاکستان کے چاروں طرف پارٹی میں نئے شامل ہونے والوں کے بینرز کا شو تھا۔ سب نے دھواں دھار تقریریں کیں۔ 30 اکتوبر 2011ء کو مینار پاکستان سے کپتان نے جو سفر شروع کیا تھا وہ خوب تھا اب 2011ء والی بات نظر نہیں آئی۔ کے پی کے سرکار ہرطرف نظر آ رہی تھی۔ وجہ یہ ہے جماعت ’’سٹیٹس کو‘‘ کی طرف چلی گئی ہے۔ کپتان نے 50 لاکھ سستے گھر بنانے کا اعلان تو کر دیا رہائش کے لیے یہ لینڈ آئے گی کہاں سے۔ غیر فطری نکتہ ہے۔ نہ نومن تیل ہو گا نہ رادھا ناچے گی۔ کپتان کہہ رہا تھا کہ شوگر مافیا کو نہیں چھوڑوں گا۔ جہانگیر ترین کی شوگر ملوں کا کیس چیف جسٹس کے پاس ہے انہوں نے عدالتی حکم کے باوجود گنا 180 روپے من کی بجائے 120 روپے خریدا ہے۔ اب کیا ہو گا پھر جہاز اور کچن کا کیا بنے گا۔ باقی نکات وہی ہیں جس کا ذکر کپتان روزانہ کرتا ہے۔ البتہ یہ بات ضرور ہے کہ انہوں نے جلسوں جیسی بور مہم میں رنگینی
بھری ہے۔ عورتوں میں سیاسی دلچسپی پیدا کی ہے۔ اور انہیں بہترین مقرروں کی صف میں شامل کیا جا سکتا ہے مگر کپتان کو پنجاب میں سخت جان وزیر اعلیٰ شہباز شریف کا سامنا ہے۔ شیخ رشید کے مطابق انہیں وکٹ کے دونوں طرف شارٹ مارنے کا فن آتا ہے۔ اب پنجاب اصل میدان ہو گا جب کہ وزیراعظم خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت انتخاب کے بعدبھی بنے گی۔ موجودہ سیاسی منظر نامے کو دیکھا جائے تو اس کھیل کے پیچھے چھپے کرداروں نے سیاسی بحران کو ہوا دی ہے اور یہ معاملہ جو رکنا چاہیے تھا آئندہ بھی نہیں رکے گا۔


ای پیپر