بجٹ اجلاس ۔۔۔کچھ تاثرات ، کچھ مشاہدات !
30 اپریل 2018

جمعہ کی سہ پہر کو شروع ہونے والا قومی اسمبلی کا اجلاس جسے بجٹ اجلاس کا نام دیا گیا ہے کئی حوالوں سے یاد گار رہے گا۔ یہ قومی اسمبلی کا آخری اجلاس ہو سکتا ہے کہ اس ماہ کے آخر میں یہ اسمبلی اپنی پانچ سالہ آئینی میعاد کی تکمیل کے بعد تحلیل ہو جائے گی ۔ یہ اجلاس اس لحاظ سے یا د گار رہے گا کہ اس کے پہلے دن کے اختتام پر وزیر اعظم جناب شاہد خاقان عباسی اور سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سمیت قومی اسمبلی کے ارکان کا گروپ فوٹو بنوایا گیا جو قومی اسمبلی کی گیلری میں آویزاں کیا جائے گا۔ قومی اسمبلی کا یہ اجلاس اس لحاظ سے بھی یقیناًیاد گار گردانا جا سکتا ہے کہ اس کے پہلے دن مسلم لیگ ن کی حکومت نے اپنی پانچ سالہ آئینی میعاد کا چھٹا بجٹ پیش کیا۔ یہ بجٹ پیش کرنے کی سعادت چند گھنٹے قبل بطورِ وزیر خزانہ حلف اُٹھانے والے جناب مفتاح اسمٰعیل کے حصے میں آئی جو اس سے قبل مشیرِ خزانہ کے منصب پر فائز تھے اور جنہیں بجٹ پیش کرنے کے لیے بطورِ خاص وزیر خزانہ مقرر کیا گیا۔ قومی اسمبلی کا جمعتہ المبارک 27 اپریل سے شروع ہونے والا اجلاس اس حوالے سے بھی یقیناًیاد گار رہے گا کہ اس میں جہاں پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے ارکان کی طرف سے بجٹ دستاویزات کو پھاڑنے اور شور شرابا کرنے کی رسم دہرائی گئی وہاں تحریکِ انصاف کے ارکین نے وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل کے ڈائس کا گھیراؤ کر کے ان کو بجٹ تقریر پیش کرنے سے روکنے کی ہر ممکن کوشش ہی نہ کی گئی بلکہ تحریکِ انصاف کے ارکان جن میں جناب یاور سعید پیش پیش تھے بازو چڑھا کر اور بنچوں کو پھلانگتے ہوئے وزیر مملکت عابد شیر علی سے گتھم گتھا ہونے کے لیے زور آزمائی بھی کرتے رہے اور جوابی طور پر جناب عابد شیر علی اپنے جوتے اُتار کر اُن کی پٹائی کرنے ہی والے تھے کہ کچھ اراکین درمیان میں آ کر بیچ بچاؤ کرنے میں کامیاب ہو گئے ۔ تاہم اُوئے اُوئے اور گالم گلوچ کی آوازیں اور دھینگا مُشتی کی فضا پورے اجلاس کے دوران ایوان میں چھائی رہی۔ یقیناًیہ سارے پہلو اس اجلاس کو بطورِ یاد گار اجلاس یاد رکھنے میں ممد و معاون ثابت ہوں گے لیکن قومی اسمبلی کے اراکین کا الوداعی گروپ فوٹو کا معاملہ جس کی طرف کم ہی لوگوں کادھیان گیا ہو گا اس اجلاس کو مدتوں یاد رکھنے کی حیثیت دئیے رکھے گا۔ اس لیے کہ پانچ سال قبل قومی اسمبلی نے جس شخصیت کو بطورِ قائد ایوان چُنا تھا وہ شخصیت اس گروپ فوٹو میں موجود نہیں تھی ۔
پانچ سال قبل مئی 2013ء میں جب یہ اسمبلی جو پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کی چودھویں اسمبلی ہے وجود میں آئی تو اس کے قائدِ ایوان کا انتخاب بھی عمل میں لایا گیا تھااُس وقت اراکین اسمبلی میں سے کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہو گا کہ آج وہ جس شخصیت کو بھاری اکثریت سے قائد ایوان کی نشست پر بٹھا رہے ہیں پانچ سال بعد جب
یہ اسمبلی اپنی آئینی میعاد پوری کرنے کے بعد تحلیل ہونے کے قریب ہو گی تو کیا یہ شخصیت بدستور قائد ایوان کی نشست پر براجمان ہوگی یا نہیں ؟ یقیناًاُس وقت (مئی 2013 ء) میں اس طرح سوچنا کوئی معنی نہیں رکھتا تھا لیکن قدرت کے فیصلوں سے کسے مفر ہے کہ جمعتہ المبارک 27 اپریل کو جب قومی اسمبلی کے ارکین کا الوداعی گروپ فوٹو بنایا گیا تو اُس میں میاں محمد نواز شریف جو مئی 2013ء کے اوآخر میں بھاری اکثریت سے قائد ایوان چُنے گئے اور خواجہ محمد آصف جو مئی 2013ء کے عام انتخابات میں سیالکوٹ سے قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے اور جناب جہانگیر ترین جو ضمنی انتخابات میں لودھراں سے قومی اسمبلی کا رُکن بننے میں کامیاب ہوئے ، گروپ فوٹو میں موجود نہیں تھے کہ یہ شخصیات عدالتی فیصلوں کے نتیجے میں قومی اسمبلی کی نشستوں سے ہی نہیں بلکہ آئندہ کے لیے عوامی نمائندگی کے لیے بھی تاحیات نااہل قرار دی جا چکی ہیں۔ یقینایہ عبرت کی جا ہے اور اس میں سوچنے سمجھنے والوں کیلئے کئی سبق پوشیدہ ہیں لیکن کوئی اس کی طرف دھیان تو دے اس لیے کہ ہمیں سوچ و بچار کرنے کی کم ہی فرصت ہے کہ اس سے ہٹ کر اور بھی بہت سارے ایسے موضوعات اور معاملات ہیں جو ہمارے لیے زیادہ دلچسپی کا سامان اپنے اندر رکھتے ہیں۔
بات قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس سے چلی تھی واپس اُسی طرف آتے ہیں۔ جناب مفتاح اسمٰعیل بجٹ پیش کر رہے تھے اور انہوں نے مالی سال 2018-19ء کے بجٹ کا کل حجم 5932 ارب (59 کھرب ، 32 ارب ، 50 کروڑ ) بتایا تو مجھے پاکستان کے پچھلے پانچ عشروں کے سالانہ میزانیوں ( بجٹ ) میں پیش کیے جانے والے کچھ کچھ اعداد و شمار اور اُن کو پیش کرنے والے وفاقی وزرائے خزانہ کے نام یاد آنے لگے ۔ بلا شبہ پاکستان کی معیشت اور اس کے سالانہ میزانیوں کا حجم کروڑوں سے اربوں اور اربوں سے کھربوں تک پھیل چکا ہے۔ گزشتہ صدی کی 60 کی دہائی میں صدر ایوب خان کے دور میں ایم شعیب جو ورلڈ بینک کا ملازم ہوتے ہوئے بھی پاکستان کے وزیر خزانہ کا منصب سنبھالے ہوئے تھے قومی بجٹ پیش کرتے رہے ۔ اُس دور میں متحدہ پاکستان (مشرقی و مغربی پاکستان) کی کل قومی آمدنی اربوں میں نہیں کروڑوں میں تھی ۔ اُس دور میں زیادہ زور صنعتی ترقی اور کارخانوں کی تنصیب اور تعمیر کی طرف تھا۔ ایوب خان کے بعد یحیےٰ خان کے دور میں جب پاکستان انتہائی افرا تفری کا شکار تھا تو لاہور سے تعلق رکھنے والے نواب مظفر علی قزلباش وزیر خزانہ کے طور پر بجٹ پیش کرنے کی ذمہ داری نبھاتے رہے ۔ 70 کے عشرے میں ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں جب ڈاکٹر مبشر حسن وزیر خزانہ تھے تو پاکستانی روپے کی قدر میں یکدم 59 فیصد کمی کر دی گئی ۔ ڈاکٹر مبشر حسن کے بعد رانا حنیف کو وزیر خزانہ کے طور پر عوامی بجٹ پیش کرنے کا اعزاز حاصل رہا ۔ راقم کو بھی اُن کی ایک بجٹ تقریر قومی اسمبلی میں سُننے کا اتفاق ہوا۔ ذوالفقار علی بھٹو کے بعد جنرل ضیاء الحق برسرِ اقتدار آئے تو پہلے غلام اسحاق خان نے وزیر خزانہ کے طور پر اور بعد میں ڈاکٹر محبوب الحق نے بطورِ وزیر خزانہ کئی بجٹ پیش کئے۔ غلام اسحاق خان کے پیش کردہ میزانیوں میں ایک طرح کی بچت اور وسائل کے محدود ہونے کا احساس ہوتا تھا جبکہ ڈاکٹر محبوب الحق کے پیش کردہ بجٹ فی الواقع عوامی فلاح و بہبود کے مظہر تھے ۔ اسی دور میں مہنگائی کے تناسب سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کا فارمولا (انڈیکسیشن ) متعارف کرایا گیا ۔ سچی بات ہے اُس دور میں قومی پیدا وار میں اضافہ ہی نہیں ہوا بلکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے نئے سکیل اور تعلیمی قابلیت کے مطابق اضافی ترقیاں دینے کا سلسلہ بھی شروع ہوا۔ بلا شبہ قومی پیداوار کے حوالے سے اگر یہ کہا جائے کہ یہ زمانہ ایک لحاظ سے کشادگی کا زمانہ تھا تو کچھ ایسا غلط نہیں ہو گا۔
ڈاکٹر محبوب الحق کو وزیرِ اعظم محمد خان جونیجو زیادہ پسند نہیں کرتے تھے چنانچہ انہیں ہٹا کر میاں محمد یٰسین وٹو کو وزیر خزانہ کا منصب سونپا گیا تو بجٹ سازی ایک معمول کا دفتری عمل بن کر رہ گیا ۔ بعد میں محترمہ بینظیر کے پہلے دور میں ہماری معیشت کا دارومدار بڑی حد تک ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف سے جوڑ دیا گیا ۔ میاں محمد نواز شریف کے پہلے دورِ حکومت میں بھی کچھ اسی طرح کا سلسلہ جاری رہا۔ جناب سرتاج عزیز اُس دور میں اُن کے خزانہ کے مدارالمہام تھے ۔ محترمہ بینظیر بھٹو کے دوسرے دورِ حکومت میں کرپشن اور قومی خزانے کی لوٹ مار اور معیشت کی تباہی کے قصے عام ہوئے ۔اس دور میں وزارتِ خزانہ کی ذمہ داری مشیرِ خزانہ وی اے جعفری نبھاتے رہے تاہم وفاقی بجٹ پیش کرنے کا اعزاز وزیر مملکت برائے خزانہ مخدوم شہاب الدین کو حاصل رہا۔ میاں محمد نواز شریف نے فروری 1997ء میں دوبارہ حکومت سنبھالی تو ایک کمزور معیشت کا انہیں سامنا تھا ۔ اس دور میں ملک کو اقتصادی لحاظ سے اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے کئی سخت اقدامات کیے گئے ۔ پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں بیرونی امداد کے دروازے کھلے رہے لیکن ملکی معیشت کی بہتری اور استحکام کے لیے وہ کچھ نہ کیا جاسکا جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ 2008ء میں پیپلز پارٹی برسرِ اقتدار آئی تو قومی خزانے کی حالت پتلی رہی ۔ 2013ء سے مسلم لیگ ن کی حکومت قائم ہے اور پچھلے پانچ سالوں کے دوران سینیٹر اسحاق ڈار وزیر خزانہ کے طور پر وفاقی بجٹ پیش کرتے رہے ۔ اس بار چھٹا بجٹ پیش کرنے کی سعادت جناب مفتاح اسمٰعیل کے حصے میں آئی ۔ بلا شبہ مسلم لیگی حکومت نے ملکی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے دوررس اقدامات کیے ہیں ۔ نئے وفاقی بجٹ کو سامنے رکھ کر انشاء اللہ اگلے کالم میں ان کا جائزہ لیا جائے گا۔


ای پیپر