کس منہ سے تیرا نام لوں دنیا کے سامنے
30 اپریل 2018 2018-04-30

جس دن اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججز پر مشتمل فل بنچ نے خواجہ آصف وزیر خارجہ پاکستان کو جھوٹا اور خائن گردانتے ہوئے قومی اسمبلی کی سیٹ کے لیے نااہل قرار دے دیا تو بحیثیت پاکستانی میں شرمندگی اور حیرت میں ڈوب گیا۔شرمندگی اس لیے کہ پوری دنیا یہ خبر سن کر ہمیں بطور قوم کس نگاہ سے دیکھے گی۔ ایسی قوم جس نے اپنے ملک کی اہم ترین وزارتوں میں سے ایک پر ایک ایسے شخص کو بٹھا رکھا تھا جس کو اس کے اپنے ملک کی اعلیٰ عدلیہ نے یہ کہہ کر وزارت سے فارغ کر دیا کہ وہ صادق اور امین نہیں ہے۔ سوچتا ہوں جب یہ خبر پوری دنیامیں break ہوئی ہوگی تو مختلف ممالک میں بسنے والے پاکستانیوں پر کیا گزری ہوگی۔ باہر کی دنیا تو ہمیں پہلے بھی اچھے محاسن کی حامل قوم نہیں سمجھتی اور اب جب انہیں یہ معلوم ہوا ہوگا کہ پاکستان کے اہم ترین عہدوں پر براجمان شخصیتیں بھی قابل اعتبار نہیں ، کیونکہ وہ اپنے مفاد کی خاطر اپنی پوری قوم سے سالہا سال جھوٹ بولتی رہتی ہیں۔ حیرت اس لیے ہوئی کہ خواجہ صاحب بظاہر ایک ذہین اور اخلاقی اقدار سے آگاہی رکھنے والے سیاستدان لگتے تھے۔ انہیں تو شرم و حیا کی صفات سے بھی آگاہی تھی اور انسانی اخلاقیات سے بھی۔ لیکن نہ جانے انہیں کیا ہوا کہ انہوں نے 2013ء کے الیکشن میں اپنے کاغذات نامزدگی دائر کرتے ہوئے سچ سے اجتناب کیا ۔ اپنی دبئی کی ملازمت چھپاتے ہوئے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا۔ عدالت عالیہ نے انہیں اس سلسلہ میں سچ چھپانے کی بنیاد پر 2013ء سے ہی قومی اسمبلی کی سیٹ کے لیے نااہل قرار دے دیا۔ذہن میں رہے کہ اسی نااہلی کے باوجود وہ اس ملک کی اہم ترین وزارتوں کے حامل رہے۔ اس دوران وہ اس غریب ملک کے قومی خزانے سے سالوں تنخواہیں اور دیگر مالی فائدے لیتے رہے۔ عدالت عالیہ کے اس فیصلہ کے مطابق تو انہیں اس عرصہ کے دوران لی گئی تمام تنخواہیں اور مالی مراعات قوم کو واپس کرنی ہوں گی اور کرنی بھی چاہئیں کیونکہ اخلاقیات بھی اسی بات کا تقاضا کرتی ہے ۔ خواجہ صاحب تو اخلاقیات سے نہ صرف آگاہ ہیں بلکہ دوسروں کو بھی اس کا درس دیتے ہیں۔اب قوم دیکھے گی کہ وہ اخلاقیات کے کن معیاروں پر کھڑے ہیں۔مجھے یہ بھی خیال آتا ہے کہ باہر کے ملکوں میں رہنے والے پاکستانی اور خصوصاً مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے پاکستانی اپنے ملک کے وزیر خارجہ کے اس کردار کا کیسے دفاع کرتے ہوں گے۔سچ پوچھیں تو کبھی کبھی مجھے خواجہ آصف سے ہمدردی بھی ہوتی ہے ، سوچتا ہوں کیسے وہ دنیا کو face کرتے ہوں گے۔ خصوصاً اپنے خاندان ، اپنے رشتہ داروں اور دوست احباب کو ۔ کیونکہ ان کی شخصیت کی جن صفات کی تصدیق اپنے ملک کی عدالت عالیہ نے کی ہے وہ کسی شخص کے لیے قابل ستائش تو کسی طور نہیں ہیں۔نہ جانے وہ اپنا دفاع کیسے کرتے ہونگے۔ان کے کردار کے متعلق اعلیٰ عدلیہ کا فیصلہ تو ان کے پورے خاندان پر دہائیوں اثر انداز ہوتا رہیگا۔ لیکن ابھی امید کی ایک کرن باقی ہے اور وہ ہے اس فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل ۔ کچھ لوگ اور خصوصاً ان کے بہی خواہ پر امید ہیں کیونکہ ہماری عدالتوں کی تاریخ پر نظر رکھنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ اس ملک کی عدالتیں ملک کے طاقتور عناصر پرہلکا ہاتھ رکھتی ہیں اور خواجہ صاحب ہیں تو طاقتور۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ خواجہ صاحب کے کیس کا فیصلہ لکھنے والے جج صاحب نے یہ فیصلہ دیتے وقت اپنے تآسف کا اظہار بھی کیا ہے۔ لکھا ہے کہ وہ یہ فیصلہ نہایت بھاری دل کے ساتھ دے رہے ہیں۔ آپ نے کبھی کسی جج کو کسی غریب کو سزائے موت سناتے ہوئے یا عمر قید کی سزا دیتے وقت ایسے تآسف کے اظہار کے لیے پیراگراف لکھتے پایا ہے۔
اس ملک میں غریب وکمزور کا جہاں اور ہے اور امیر و طاقتور کا جہاں اور۔کچھ دوست جو دولت مندوں کے امور سے واقف ہیں وہ تو خواجہ آصف کی دبئی کی نوکری پر ہنستے ہیں۔ ان کا سادہ سا سوال ہے کہ دنیا کی کونسی ایسی کمپنی یا فرم ہے جو اپنے ایسے ملازم کو ہر ماہ پندرہ لاکھ روپے تنخواہ سالہا سال باقاعدگی سے دیتی رہے جو دور بیٹھے اپنے ملک کی وزارتیں چلا رہا ہو اور جس نے ایک ہفتہ بھی باقاعدگی سے ان کی فرم میں کام کبھی نہ کیا ہو۔ویسے بھی خواجہ صاحب کی علمی و تکنیکی قابلیت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ایک دوست کہنے لگے آپ اپنے ملک کے وزیر خارجہ کے اس طرح جانے پر پریشان ہو رہے ہیں ۔ابھی کچھ عرصہ پہلے اپنے ملک کے وزیراعظم بھی تو یہاں کی وزارت عظمیٰ کے ساتھ دبئی میں کام کر تے رہے ہیں اور اسی بنا پر اپنے عہد ہ سے فارغ ہو چکے ہیں۔ اس ملک کے حکمرانوں و امراء کو دوسرے ملکوں میں ملازمت کرنے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں ہے۔ دراصل ملازمت کے نام پر یہ لو گ و ہاں کے ’’ اقامہ ‘‘ سے شرف یاب ہوتے ہیں۔اقامہ کے بے شمار فوائد ہیں مثلاً دوسرے ملک میں بینک اکاونٹ کھلوانا، آف شور کمپنیاں بنانا، وہاں کے بینکوں میں پڑی دولت کو خفیہ رکھنا وغیرہ ، لیکن یہ سب امور امراء سے متعلق ہیں ۔اب تو اس ملک کے تقریباً سبھی حکمران ’’ اقامہ ‘‘ ہولڈر ہیں۔ملک کے ایک اور اہم وفاقی وزیر یعنی محترم احسن اقبال وزیر داخلہ بھی اقامہ ہولڈر ہیں۔اسی طرح پیپلز پارٹی کے تو تقریباً سبھی لیڈران ’’ اقامہ ‘‘ کی نعمت سے مستفید ہو رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے مالک محترم آصف علی زرداری اقامہ ہولڈر ہیں۔اس ملک کے اپوزیشن لیڈر محترم خورشید علی شاہ بھی ’’اقامہ‘‘ رکھتے ہیں۔ ان کے پیشہ کا اندراج اقامہ میں بطور الیکٹریکل انجینئر ہے۔ ایک دوست نے چھیڑنے کی خاطر کہا کہ سنا تو تھا کہ وہ میٹر ریڈر تھے ، لیکن اس کی کم علمی کا اسے منہ توڑ جواب دیا گیا اور اس پر واضح کیا گیا کہ میٹر ریڈر بھی تو الیکٹریکل انجینئر ہوتے ہیں۔اسی طرح صوبہ سندھ کے وزیر اعلیٰ محترم مراد علی شاہ بھی عجمان کے ’’ اقامہ‘‘ ہولڈر ہیں اور بطور پیشہ ان کا اندراج سپروائزر ہے۔محترم شرجیل میمن سابق وزیر بھی دبئی میں مارکیٹنگ مینجر کے طور پر ’’ اقامہ‘‘ ہولڈررہے ہیں۔ اور تو اور محترم مولا بخش چانڈیو درویش پیپلز پارٹی بھی ایک فرم کے بطور پارٹنر کے اقامہ ہولڈر ہیں۔ کہاں تک سنو گے ، کہاں تک سناؤں ۔ تو یہ ہیں ہمارے لیڈران جنہوں نے اس غریب اور بدحال قوم کی کشتی کو منجھدار سے نکال کر خوشحال زندگی سے ہمکنار کرنا ہے۔ اس ملک کے آئین کے مطابق کوئی بھی شخص اس وقت تک الیکشن لڑنے اور پارلیمنٹ کا رکن بننے کا اہل نہیں ہوگا جب تک وہ اس کے آرٹیکل 62 کی شرائط پر پورا نہ اترتا ہو۔ آرٹیکل 62 کی شق ون ایف کے مطابق وہ شخص منتخب ہونے یا پارلیمنٹ کا رکن بننے کا اہل نہیں ہوگا جب تک وہ صادق اور امین نہ ہو۔ آئین کے اسی آرٹیکل کے تحت میاں نواز شریف اور جہانگیر ترین کو قومی اسمبلی کی سیٹوں سے فارغ کر دیا گیا ہے کیونکہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کے مطابق وہ صادق اور امین ثابت نہیں ہوئے۔اور اب حال ہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے صادق اور امین نہ ہونے کی بنا پر خواجہ آصف وزیر خارجہ کو بھی فارغ کردیا ہے۔ لہٰذا اب ہمارے سیاستدانوں کی نظر میں آئین کی یہ آرٹیکل کھٹکنے لگ گئی ہے۔ اب سب مل کر اسے آئین سے خذف کرنا چاہتے ہیں۔ پیپلز پارٹی والے کہتے ہیں کہ ہم تو پہلے دن سے ہی اس آرٹیکل کے خلاف تھے ۔سیاستدانوں اور ان کے حواری دانشوروں کا یہ استد لال سن کر انسان حیران اور پریشان ہو جاتا ہے جب وہ کہتے ہیں کہ اس آرٹیکل پر بھلا کون پورا اتر سکتا ہے ، یعنی وہ ملک جو اسلام کے نام پر بنایا گیا وہاں صادق و امین کا ملنا ممکن نہیں رہا۔کیا دنیا کے کسی ملک میں چاہے اس میں رہنے والے کسی بھی مذہب کے پیروکار نہ ہوں کسی جھوٹے اور خائن کو اس ملک کی پارلیمنٹ کاممبر یا حکومتی عہدہ دار کے طور پر قبول کریں گے۔لیکن اب مسلم لیگ(ن) بھی جو کبھی دائیں بازو کی جماعت سمجھی جاتی تھی اس آرٹیکل کو آئین سے حذف کرنے میں پیپلز پارٹی کا ساتھ دینے کو تیا ر ہے۔پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کو نیب بھی کسی طور قبول نہیں ،اسے بھی سرے سے ہی ختم ہو جانا چاہیے۔قوم قائد اعظم جیسے لیڈر سے چلتے چلتے کہاں پہنچ گئی ہے۔اب قوم کیا ان لیڈران پر فخر کرے۔
’’ کس منہ سے تیرا نام لوں دنیا کے سامنے ‘‘


ای پیپر