دونہیں ایک پاکستان
30 اپریل 2018 2018-04-30

مینار پاکستان پر 29 اپریل 2018ء کا جلسہ خوب گھوم پھر کر دیکھنے کا اتفاق ہوا جیسا کہ 30 اکتوبر 2011 ء کا جلسہ دیکھا تھا۔ تحریک انصاف کا شو کامیاب رہا۔ پنڈال میں جوش و خروش تھا عام لوگ خوش تھے کہ پاکستان کی بہتری کے لیے جمع ہوئے ہیں۔ اکتوبر 2011ء کے جلسے کے بعد بڑے سیاسی لیڈروں نے تحریک انصاف کا رخ کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے تحریک انصاف پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں کی صف میں آن کھڑی ہوئی۔ اس جلسے نے تحریک انصاف کو بڑی جماعت بنادیا تھا جبکہ 29 اپریل کا جلسہ 2018ء کے انتخابات میں اس جماعت کو ناقابل تسخیر قوت بنا سکتا ہے۔ مگر عشق کے امتحانوں میں سے کچھ بڑے امتحان باقی ہیں۔ سب سے پہلی اور اہم بات یہ کہ اگر کوئی بڑی وکٹ گرے گی ؛ چاند چمکے گا۔۔۔۔ تو دنیا دیکھ لے گی۔ یہ عوام میں جھولدار بیانات سے گریز کریں۔ انتخابات کے دنوں میں پے در پے جھولدار بیانات بنی بنائی فضا کو خراب کر سکتے ہیں اور نیوٹرل ووٹر کو کنفیوز کرکے ذہن تبدیل کرنے پر مجبور کرسکتے ہیں۔ مخالف جماعتوں کے پراپگنڈے میں موثر ترین ہتھیار تحریک انصاف میں باقی جماعتوں کے چلے ہوئے کارتوسوں کی شمولیت ہے۔ اس بات کا جواب دینا تحریک انصاف کی قیادت کو ابھی باقی ہے۔ ملک کے طول و عرض میں لوگ تحریک انصاف سے جو
توقعات وابستہ کر رہے تھے وہ اس لیے تھیں کہ عمران خان کا نعرہ نیا نظام نئے چہرے ان کے دلوں میں گھر کرنے لگا تھا اب بلا شبہ نئے نظام کیلئے تو کوششیں جاری ہیں مگر نئے چہروں کا آدھاسچ وقت کی گرد میں کہیں دب گیا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ یہی لوگ جب تیس تیس سال سے تبدیلی نہیں لا سکے اور عوام کو لوٹنے میں شریک جرم رہے تو تحریک انصاف میں آکر تبدیلی کیسے لائیں گے۔ یہاں ڈرائی کلیننگ پورڈر میں ایسی کیا خاص بات ہے کہ دہائیوں سے سیاست کرنے والے کپتان کی ٹیم کا حصہ بنتے ہی عوام کا سوچنے لگیں گے۔ یہ کڑوا سچ ہے لیکن جب ایک طرف وہ ہوں جن کی کرپشن کی داستانیں دنیا جان گئی ہو اور دوسری طرف کرپشن کے خلاف جدوجہد کے کارہائے نمایاں ہوں یہاں تک کہ اپنی پارٹی کے بیس ایم پی ایز کو نکال باہر کر دیا جائے تو کپتان کا مؤقف جھول اور تضاد کے باوجود عوام میں مقبول ہوتا اور جڑ پکڑتا دکھائی دیتا ہے ۔
29 اپریل کے جلسے کی ایک اور اہم بات یہ تھی کہ عمران خان نے اپنی تقریر میں ملک کو ترقی کے راستے پر ڈالنے کیلئے گیارہ نکات پیش کیے۔ یہ انتخابی منشور کی اساس ثابت ہو سکتے ہیں مگر نقاد کا ان گیارہ نکات سنتے ہی پہلا سوال یہ ہے کہ کیا ان گیارہ نکات پر گزشتہ پانچ سال سے خیبرپختونخوا میں قائم تحریک انصاف کی حکومت عمل کررہی ہے ؟
خان صاحب کے نئے پاکستان یا دو نہیں ایک پاکستان کے گیارہ نکاتی فارمولے میں سب سے پہلا نکتہ ہے تعلیم۔ گشتہ پانچ سالوں میں ہمیں کئی بار اپنی صحافتی ذمہ داریوں کے سلسلے میں خیبر پختونخوا جانے کا اتفاق ہوا۔ خیبر پختونخوا حکومت نے تعلیم کے شعبے میں باقی صوبوں کی نسبت زیادہ توجہ دی ہے جس کی وجہ سے ایک محدود پیمانے پر بچے پرائیویٹ سکولوں کو چھوڑ کر گورنمنٹ سکولوں کا رخ کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ خیبر پختونخوا میں ایک بڑی انجینئرنگ یونیورسٹی کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے۔ اگرچے ایک صوبائی حکومت جس کی پارٹی کا منشور نمبر ایک تعلیم ہو اسے تعلیم کے شعبے پر جتنی توجہ دینی چاہئے تھی اتنی نہیں دی گئی لیکن پھر بھی تعلیم کے فروغ کے لیے خیبر پختون خوا حکومت کی خدمات نمایاں ہیں ۔
دوسرا نکتہ خان صاحب کی تقریر میں صحت کے شعبے میں انقلابی اقدامات ہیں۔ خیبر پختونخوا حکومت اگرچہ پانچ سالوں میں صحت کے شعبے میں کوئی انقلابی تبدیلی تو نہیں لا سکی مگر جن علاقوں میں صحت کارڈ جاری کئے گئے ہیں وہ لاجواب سروس ہے اس کے علاوہ سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی یقینی حاضری اور شوکت خانم ہسپتالوں کا قیام عمران خان کا وہ کارنامہ ہے جو ان سے امیدیں باندھنے والوں کے سینوں میں سکینت طاری کرتا ہے ۔
تیسرا نکتہ ٹیکس نظام میں بہتری ہے اس سلسلے میں باقی صوبوں کی طرح کے پی کے حکومت نے بھی کوئی کارہائے نمایاں نہیں دکھائے جبکہ چوتھا نکتہ کرپشن کا خاتمہ ہے۔ عمران خان اگرچے کرپٹ آدمی نہیں ہے اور نہ ہی اس پر کرپشن کا الزام ہے مگر خیبر پختونخوا حکومت نے احتساب بیورو کا جو حشر کیا وہ خود تحریک انصاف کے گیارہ نکاتی منشور کی نفی ہے البتہ ملک میں کرپٹ سیاستدانوں کے خلاف مہم جوئی میں عمران خان تاریخ پاکستان میں سرفہرست شخصیت بن چکا ہے۔
پانچواں نکتہ سرمایہ کاری میں اضافہ ہے۔ اس سلسلے میں بھی خیبر پختونخوا حکومت کوئی خاطر خوا اقدام نہیں اٹھا سکی ہے۔
چھٹا نکتہ ہے روزگار کے مواقع اور 50 لاکھ گھر۔ اس حوالے سے بھی کہا جا سکتا ہے کہ یہ بھی خیبر پختونخوا حکومت کی ترجیحات نہیں تھیں۔
ساتواں نکتہ ہے زرعی ایمرجنسی۔ صوبہ خیبر پختونخوا کا خطہ جنوب میں خشک پتھریلی علاقوں جبکہ شمال میں سبز میدانوں پر مشتمل ہے. شدید موسم کے باوجود زراعت زیادہ ہے۔ خیبر پختونخوا حکومت نے گزشتہ پانچ سال میں درمیانے درجے کے فارمز کے لیے اقدامات کئے ہیں مگر انہیں انقلابی اقدامات نہیں کہا جا سکتا ۔
وفاق کی مضبوطی عمران خان کے منشور کا آٹھواں نکتہ ہے۔ اس حوالے سے عمران خان کی جماعت آنے والے وقت میں پاکستان کی مختلف اکائیوں کو مزید قریب لانے میں کیا کردار ادا کرے گی یہ اسی نکتے کے حوالے سے ان کے منشور کی تفصیل دیکھ کر اندازہ کیا جا سکے گا لیکن بلوچستان سے چیئرمین سینٹ منتخب کروانے میں عمران خان نے جو کردار ادا کیا ہے اسے چھوٹے صوبوں کے وفاق پر اعتماد بحال کرنے کی روشن مثال کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔
نواں نکتہ خان صاحب کے نئے پاکستان کا ہے سیاحت کا فروغ۔ اس حوالے سے اگرچہ خیبر پختونخوا حکومت کو بہت کردار ادا کرنا چاہئے تھا مگر ان کی پرفارمنس مایوس کن رہی۔
کپتان کے گیارہ نکاتی ایجنڈے کا دسواں نکتہ ہے ماحولیاتی ایمرجنسی۔ اس حوالے سے خیبر پختونخوا نے نئے درخت لگانے کا جو بے مثال بیڑا اٹھایا اس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے ۔
اور آخری نکتہ ہے انصاف کے نظام میں بہتری۔ اس ضمن میں پولیس کے نظام میں بہتری کی حد تک تو انتہائی غیر معمولی اقدا م ہے جو خیبر پختونخوا حکومت نے کیا ہے کہ پولیس کو مکمل طور پر آزاد ادارہ بنا کر اس کا عوام میں اعتماد بحال کیا گیا جبکہ ماڈل تھانے اور ان کے فعال کردار کے بارے میں کے پی کے میں تعریف ہو رہی ہے مگر نظام عدل کی بہتری کا تحریک انصاف کے پاس کوئی ٹھوس لائحہ عمل ہے بھی یا نہیں یہ منشور دیکھ کر ہی اندازہ لگایا جاسکے گا ۔
بہرکیف عمران کا نعرہ "دو نہیں ایک پاکستان " پر عوام کا دل آتا ہے اور اقتدار کا ہما کپتان کے سر پر سایہ فگن ہوتا ہے یا نہیں اس کے بارے میں اندازہ لگایا جاسکتا ہے مگر کرپٹ انتخابات مافیا کا جھرلو اس بار بھی پھرتا ہے یا نہیں اس بارے میں کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ گویا دھاندلی سے بچاؤ کے لیے گیارہ نہیں ایک سو گیارہ نکاتی ایجنڈا کپتان کے ورکروں کو سیکھنا ہوگا جبکہ عوام دیکھ رہے ہیں کہ دو نہیں ایک پاکستان والوں نے دو نہیں تو کتنے خیبرپختونخوا بنائے اور ووٹ کو عزت دو والوں نے خود ووٹر اور ووٹ کو کتنی عزت دی۔


ای پیپر