سہیل احمد کی جگت اور سیاسی جماعتیں
30 اپریل 2018

بعض اوقات فنکار لوگ اپنی جگت ، شاعری اور چھوٹی سی saying کے ساتھ ہی ایسی بات کر جاتے ہیں جو درجنوں کالم یا کتابوں کی صورت میں بھی پیش نہیں کی جا سکتی۔ ذوالفقار علی بھٹو صاحب کے دور سے پہلے اور بعد میں جب بھی سنا ہے وطن عزیز مشکل ترین دور سے ہی گزرتا چلا گیا۔ ایک ڈرامہ میں امان اللہ کامیڈین سٹیج پر کھڑا ہے ہال میں خاموشی ہے ایک شخص کا اونچی آواز میں قہقہہ سنائی دیتا ہے امان اللہ حیران ہو کر پوچھتا ہے کہ ’’اے کون اے جہیڑا ایڈی مہنگائی وچ ہسن ڈھیائے‘‘ (یہ کون ہے جو اس مہنگائی میں ہنس رہا ہے۔) چلیں اس مہنگائی کو اگر حالات کا نام دے دیں تو واقعی ان حالات میں کون قہقہہ لگا سکتا ہے۔ پی ٹی آئی کی زمین پر کھڑی کی جانے والی عمارت میں استعمال ہونے والا مٹیریل دیکھ کر میں حیران کم اور مایوس زیادہ ہوں کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے۔ سیاسی پارٹیاں تشکیل ، منظم، مضبوط کرنے والی قوتوں کے اشتراک سے قوم کو دی گئی لیڈر شپ کی طرف خود بخود نظر چلی گئی ایوب خان کا ایبڈو، ضیاء کا احتساب، نواز شریف کا احتساب الرحمن، مشرف کا نیب موجودہ عدالتی ایکٹو ازم کے دور میں مہذب دنیا میں صدیوں سے لاگو قانون کے بنیادی میکنزم کی دھجیاں اڑتے دیکھ کر مایوسی ہی ہوئی۔ قانون اندھا ہوتا ہے مگر ہمارے جج صاحب نے فرمایا جج تو دیکھ رہا ہے۔ یہی تو عذاب ہے کہ جج اور قانون کی نظر اگر مختلف ہو جائے تو قانون اندھا ہے کی بجائے جج تو دیکھ رہا ہے ہمارے ہاں رائج رہا ہے۔
بھٹو صاحب کے خلاف قومی اتحاد کی تشکیل، ضیاء الحق کی آغوش میں بعد ازاں مسلم لیگ (ن) اور جونیجو کی تخلیق، آئی جے آئی، سپاہ صحابہ، مجاہدین، ق لیگ، ایم کیو ایم وغیرہ کی ولادت با سعادت اور تجربات میں وطن عزیز نے کیا کھویا اور کیا پایا کا فیصلہ چلتے وقت میں بھی ہوتا رہا اور مؤرخ بھی کرے گا۔ اب وہی قوت پی ٹی آئی کی زمین پر جس نئی سیاسی پارٹی کی عمارت کھڑی کر چکی ہے۔
اس عمارت میں وطن عزیز کے باسیوں کی پناہ ملے گی کہ نہیں۔ اس زمین پر کھڑی ہونے والی عمارت میں سیمنٹ، ریت، سریہ، فرنیچر، بجلی کا سامان، گیٹ کے ریمپ سے لے کر چھت کی پانی والی ٹینکی، نالیوں اور سامان تعیش تک سب سے پہلے (ق) لیگ، ن لیگ، پیپلزپارٹی، ایم کیو ایم، مذہبی جماعتوں، سول سوسائٹی سے لیا گیا ہے۔آزاد امیدوار بھی اچک لیے گئے۔ یہ سارے کا سارا مٹیریل ایسا پائیدار اور Movableہے کہ پہلے بھی مختلف سیاسی پارٹیوں کی زمین پر عمارتیں کھڑی کرنے کے کام آ چکا ہے اس عمارت کو استعمال کرنے کے بعد یہ سامان نکال لیا جاتا رہا ہے اور سابقہ پارٹی کی زمین پر کھڑی عمارت مسمار کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ آج پی ٹی آئی کی کھڑی کی گئی عمارت پر نہ جانے مجھے سہیل احمد (عزیزی) کی ایک جگت کیوں یاد آ رہی ہے۔ ببو برال کا تحریر کردہ ، ہدایت کردہ شہرہ آفاق سٹیج ڈرامہ ’’شرطیہ مٹھے‘‘ جو سالہا سال لاہور میں سٹیج کی زینت بنا رہا۔ منظر کچھ یوں ہے کہ سہیل احمد گھر کے بزرگ ہیں یہ پیشہ ور فقیروں کا خاندان ہیں سہیل خان ، امان اللہ اور ببو برال جو کہ اس ڈرامہ میں اندھے اور فقیر ہیں ان کے والد عابد خان مرحوم ہیں۔ سہیل احمد دادا گھر پر ہیں۔ امان اللہ اور ببو برال اندھوں کے رشتے کے لیے ایک فیملی آتی ہے وہ سب کچھ پوچھنے اور سوالات کرنے کے بعد مزید ایک سوال کرتے ہیں کہ یہ گھر کرائے کا ہے یا آپ لوگوں کا اپنا ہے۔
سہیل احمد (دادا) جواب دیتے ہیں (رجسٹری ساڈھے ہی ناں اے اونج رپیہ رپیہ سارے شہر نیں پایا ہویا وے) گھر کی رجسٹری ہمارے نام پر ہے ویسے سارے شہر کے لوگوں نے روپیہ روپیہ ڈالا ہوا ہے کیونکہ وہ فقیر ہوتے ہیں۔ اُن دنوں روپیہ فقیر کے لیے بڑی رقم ہوتا تھا آج تو روپے دو روپے کا نوٹ بھی نہیں ویسے بھی وطن عزیز شاید ہی دنیا کی واحد سرزمین ہے جس کی کرنسی کی اکائی جو کہ پیسہ ہے شاید کسی عجائب گھر میں بھی نہ ملے باقی کرنسیوں اور سکوں کا کیا کہیں روپیہ دو روپے اور پانچ روپے کے نوٹ ہی نہیں ہیں لہٰذا اُس دور میں روپیہ شاید بڑی رقم ہو آج تو دس روپے دیں تو فقیر سمجھتا ہے اس کی ذاتی رقم واپس نہیں کی گئی۔ ظلم اور زیادتی دھونس کے ذریعے دبالی گئی ہے۔ مختصر یہ کہ نہ جانے مجھے پی ٹی آئی کے حوالے سے سہیل احمد (عزیزی) کی جگت میں کیوں مماثلت دکھائی دی کہ پی ٹی آئی کی عمارت کی رجسٹری تو عمران خان کے نام ہی ہے مگر روپیہ روپیہ ہر سیاسی جماعت سے لیا گیا ہے۔ یہ لوگ کیا تبدیلی لائیں گے جو کہ اپنی صورت ہی تبدیل کر چکے ہیں۔
عمران کو بڑا نعرہ دیا گیا ہے۔ دو نہیں ایک پاکستان۔ میں حیران رہ گیا کہ عمران خان کیسے یہ بات کر سکتا ہے کہ دو نہیں ایک پاکستان کیونکہ ابھی تک تو دوسرے سے مراد اسٹیبلشمنٹ کا پاکستان سمجھا جاتا ہو گا مگر اس نے فوراً فقرہ سنبھالا کہ ایک امیر کا ایک غریب کا پاکستان۔ اگر اس طرح پاکستان کے حصے ہیں اور اس کو ایک کرنا ہے تو پاکستان میں تو طبقات کے اعتبار کے حوالے سے ان گنت پاکستان بن چکے ہیں اسٹیبلشمنٹ کا پاکستان، میڈیا کا پاکستان، عدلیہ کا پاکستان، سیاستدانوں کا پاکستان، سب سے خوفناک بیورو کریسی کا پاکستان، انڈر ورلڈ کا پاکستان، مذہبی زمین پر سیاسی جماعتیں بنانے والوں کا پاکستان، ترقی پسند پاکستان، قدامت پسند، بنیاد پرست پاکستان، ہر مذہبی فرقے کا پاکستان، ہر فرقہ اور ذات برادری کا پاکستان بیرون ملک بسنے والوں کا پاکستان عمران خان، زرداری، نواز شریف، قادری، بلاول، رضوی بلکہ ہر ہر اینکر اور کالم نگار کا پاکستان بحرحال اتنے سارے پاکستانوں کو ایک کرنے کے لیے اگر کسی قوت نے پی ٹی آئی کی زمین پر سیاسی جماعت کھڑی کی ہے تو کم از کم مٹیریل ہی نیا لے لیتے ساری سیاسی جماعتوں سے بدبودار روپیہ روپیہ لینے کی کیا ضرورت ہے ۔
عمران نے حالیہ جلسہ میں خیبر پختونخوا میں اپنی کارکردگی کی بجائے ویڈیو دکھادیں جن میں ایوب خان اور کینیڈی دکھائے گئے ۔ ایوب خان کی اس پذیرائی کے پیچھے ذوالفقار علی بھٹو کی وزارت خارجہ کا کمال تھا اور ویسے
بھی اس وقت تک ملک دو لخت ہوا تھا نہ دہشت گردی کا شکار، اپنے ملک کے منتخب وزیراعظم کو ہم پھانسی لگا چکے تھے، نہ یہ 9/11 کے بعد کی موجودہ دنیا تھی جن اداروں کو مزید طاقتور بنانے کی بات کی ان میں FIA، FBR اور نیب ہیں FBR تو درست ہے مگر FIAکو اگر آج ختم ہی کر دیا جائے تو کرپشن اور ظلم کا ایک بڑا سبب ختم ہو جائے جبکہ نیب کے قوانین تو مہذب دنیا کے قوانین سے میل ہی کھاتے ہیں اور نہ ہی بنیادی انسانی حقوق سے ہم آہنگ ہیں۔عمران تاریخ پر ادھورا لیکچر دے کر چلے گئے۔ یہ جلسہ عمران کے لیے اتنے ووٹوں کی نشاندہی نہیں کرتا وہ وزیراعظم بن پائیں۔ اس کے لیے جس جوڑ توڑ کی ضرورت ہو گی زرداری اور آزاد امیدواروں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکے گا۔ لہٰذا اس عمارت میں آباد کاری کے لیے مزید روپیہ روپیہ ڈلوانے کی ضرورت ہو گی۔ ایک پاکستان تمام پاکستانیوں کو مبارک ہو۔ مگر ان میں عوام کا پاکستان کہیں نظر نہیں آئے گا۔


ای پیپر