جناب چیف جسٹس! ان کے ہاتھوں’’ ماموں ‘‘نہ بنیں
30 اپریل 2018 2018-04-30

سب سے پہلے تو میں یہ واضح کردوں کہ لفظ ’’ ماموں ‘‘مستعار لیا گیا ہے ایک معروف ہندی فلم سے جو اپنے دور میں لفظ ماموں کی وجہ سے بہت مشہور ہوئی اور نہ صرف انڈیا بلکہ پوری دنیا میں اس لفظ کو اتنی پذیرائی حاصل ہوئی کہ چوروں ، ڈکیتوں اور حرام خوروں کی جانب سے جھوٹ اور فریب کی آمیزش کر کے بد ترین حالات کو بظاہر میک اپ کر کے کسی بھی ذمہ دار شخص کوسب اچھا ہے کی رپورٹ دے کر اسے مطمئن کر نے کی کوشش کو ’’ ماموں ازم ‘‘ کا نام دے دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ ماضی میں بھی وزیراعظم ، وزیر اعلیٰ یا کسی وزیر کے ساتھ ایسا واقعہ پیش آتا جو ہمارے معاشرے میں تواتر کے ساتھ دیکھنے کو ملتے ہیں تو ٹی وی چینلز بھی یہ ہیڈلائن چلاتے تھے کہ فلاں ذمہ دار کو ماموں بنا دیا گیا۔ لہٰذا میرے کالم کے عنوان کو بھی اسی تناظر میں دیکھا اور سمجھا جائے۔
جناب چیف جسٹس !حالیہ دنوں میں اقتصادی سروے رپورٹ جاری ہوئی ہے جس کے مطابق پاکستان میں 1580مریضوں کے لیے صرف ایک بیڈ ہے۔ ملک میں ا س وقت کل 2لاکھ 8ہزار7ڈاکٹرز ہیں۔یعنی اس حساب سے 1580مریضوں کے لئے صرف ایک ڈاکٹر فرائض سر انجام دے رہا ہے۔ اسی طرح ملک میں دانتوں کے ڈاکٹروں کی تعداد 20463ہے یوں 9730مریضوں کے لئے صرف ایک ڈاکٹر میسر ہے۔ ان حالات میں آپ جس طرح با لخصوص صحت کی ابتر
صورت حال کو خود مانیٹر کرتے ہوئے اس میں بہتری لانے کی کوشش کر رہے ہیں وہ بلا شبہ قابل تحسین ہے اور میں دعا گو ہوں کہ اللہ کریم آپ کو اس مقصد میں کامیاب کرے۔ آمین
لیکن جناب چیف جسٹس صاحب ! مجھے بہت افسوس کے ساتھ یہ بات لکھنی پڑ رہی ہے کہ آپ کے از خود نوٹسز اور ہسپتالوں کے درجنوں چکر لگانے کے باوجود بھی معاملات جوں کے توں ہیں۔ محکمہ صحت میں بیٹھے جونک نما افسران اتنے سخت دل ہیں کہ انہیں اپنی جیبیں بھر نے کے علاوہ اور کچھ سجھائی ہی نہیں دیتا ہے۔ یہی و ہ وجہ ہے کہ شہباز شریف جیسا وزیر اعلیٰ بھی ان کی چکنی چوپڑی باتوں میں پھنس کر ان پر اعتبار کر بیٹھتا ہے اور پچھلے دس سالوں سے ان کے ہاتھوں ماموں بنتا جا رہا ہے۔ وزیر صحت، سیکرٹری اور سیکشن افسر سے لے کر کلرک تک تما م عملہ انتہائی راشی اور کر پٹ ہے۔ آپ کے خوف سے افسروں کی صرف آنیاں جانیاں ہیں جو جاری ہیں لیکن عام مریضوں کے لئے حالات پہلے سے زیادہ خراب ہوتے جا رہے ہیں۔
میں نے گزشتہ دنوں لاہور کے مختلف سر کاری ہسپتالوں میں بطور ایک عام مریض بن کر وزٹ کیا۔ یقین جانیں ایک عام مریض جس کی کوئی سفارش نہیں ہے اس کے مقدر میں صرف ذلالت ہے اور وہ یہی ذلالت برداشت کر کرکے موت کی وادی کا مسافر بن جاتا ہے۔ ایم ایس صاحبان اور ان کے چیلے وزیروں ، حکومتی عہدیداروں اور ان کے آلہ کاروں کے حمایت یافتہ مریضوں کو پروٹوکول دینے کو ہی اپنی ڈیوٹی سمجھتے ہیں۔ہسپتال کا باقی عملہ بھی کسی ڈکٹیٹر کی طرح ایک جگہ سے دوسری اور دوسری سے تیسری جگہ مریضوں کو چکر لگانے میں فخر محسوس کرتا ہے۔ ایکسرے اور الٹرا ساؤنڈ جیسے چھوٹے موٹے ٹیسٹوں کے لئے 15دن کا وقت دیا جا تا ہے اور ینگ ڈاکٹر نامی مخلوق تو کسی سے سیدھے منہ بات کرنا بھی گوارا نہیں کرتی۔
میو ہسپتا ل میں داخل دل کے مریضوں کی کہانیاں سن کر دل پھٹ جاتا ہے کہ کس طرح یہاں عام مریض کئی کئی مہینوں سے اپنے آپریشن کے لئے خوار ہو رہے ہیں اور جو کسی تگڑی سفارش کے ساتھ آتا ہے وہ ان تما م
مریضوں کا حق مارتے ہوئے اپنے آپریشن میں کامیاب ہو جا تا ہے۔ پنجاب کے دور دراز کے علاقوں سے آئے مریض اس امید کے ساتھ کہ آج میرا کام ہو جائے گا ، ہر روز ہسپتال انتظامیہ کے ہاتھوں اپنی امید کو ٹوٹتے ہوئے دیکھ کر واپس لوٹ جاتے ہیں۔ میں یہاں بالخصوص ذکر کر نا چاہوں گا سروسز ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر امیر اور ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ یورالوجی پروفیسر ٖشہزاد انور صاحب کا کہ یہ دونوں صاحبان ہسپتال میں بہتری لانے کے لئے مصروف عمل ہیں اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ کاش باقی ہسپتالوں کے ذمہ داران بھی ان دونوں سے کوئی سبق حاصل کریں اور ان کی طرح عام مریضوں کو حقیقی معنوں میں کوئی ریلیف دینے کی کوشش شروع کردیں۔
جناب چیف جسٹس ! ایک عام مریض بن کر ہسپتالوں کا چکر لگا کر میں اس نتیجے پر پہنچاہوں کہ محکمہ صحت کے افسران آپ کے ساتھ بھی وہی کھیل کھیل رہے ہیں جو کئی سا لوں سے پنجاب کے وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف کے ساتھ کھیلتے آئے ہیں۔ لہٰذا آپ ان کی کسی بھی رپورٹ پر کان دھرنے کی بجائے ہسپتالوں میں جاکر خود ایمرجنسی اور مختلف وارڈز کا وزٹ کرتے ہوئے عام مریضوں کی مشکلات سنیں اور جو بھی افسر انہیں ذلیل وخوار کر نے میں ذمہ دار پایا جائے اسے موقع پر ہی نوکری سے فارغ کر دیا جائے۔ امید کی جا سکتی ہے کہ پھر جس کے نتیجے میں صحت کے شعبے میں حقیقی معنوں میں کچھ تبدیلی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔


ای پیپر