شکیل آفریدی کو فرار کرانے کا منصوبہ بے نقاب
30 اپریل 2018 2018-04-30

شکیل آفریدی صوبہ خیبر پختونخوا میں بحیثیت معالج سرکاری ملازم تھا۔ 2011ء میں اس نے بطورCIA کارندہ، ایبٹ آباد کے علاقہ میں پولیو کی مہم چلائی جس کا اصل مقصد اسامہ بن لادن کے خاندان کا ڈی این اے حاصل کرنا تھا۔ جاسوسی کے الزام میں اسے پاکستانی اداروں نے گرفتار کر لیا۔
امریکا نے اس کی رہائی کے لیے دباؤ ڈالا۔ صدر ٹرمپ کا اپنی انتخابی مہم میں یہ کہنا تھا کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی امریکہ کا ہیرو ہے میں صدربن گیا تو اسے دو منٹ میں رہا کرالوں گا۔ اسامہ بن لادن کا سراغ لگانے والے پاکستانی ڈاکٹر شکیل آفریدی کورہا کرانامیری پہلی ترجیح ہوگی۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ آپ کیسے صرف دومنٹ میں پاکستان کے غدار ڈاکٹر آفریدی کو رہا کرالیں گے تو ٹرمپ نے لگی لپٹی رکھے بغیر دعوی کیا تھا کہ امریکہ پاکستان کو بھاری رقوم امداداور جدید اسلحہ دیتا ہے اس لیے پاکستان کوہماری درخواست ہر حال میں تسلیم کرنا ہوگی۔
امریکی اخبار دی وال سٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ اسامہ بن لادن کی تلاش میں معاونت کرنے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی کے لئے متحرک ہو چکی ہے اور اس حوالے سے امریکی حکام نے پاکستان سے رابطہ بھی کیا ہے۔ امریکی اخبار نے شکیل آفریدی کے وکلاء سے بھی رابطہ کیا اور ان کے حوالے سے انکشاف کیا کہ ملک میں آب و ہوا تیزی سے تبدیل ہونے کی وجہ سے شکیل آفریدی کی صحت کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں اس لیے انہیں علاج کی غرض سے بیرون ملک بھیجا جائے۔ لیکن پاکستانی حکام نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔
حال ہی میں ڈاکٹر شکیل آفریدی کی پشاور جیل سے فرار کی کوشش پاکستان کی سیکورٹی ایجنسی آئی ایس آئی نے ناکام بنا دی۔ ڈاکٹر شکیل آفریدی کو پشاور جیل سے مختلف عناصر کے تعاون سے فرار کرانے کا منصوبہ بنایا جارہا تھا جسے پاکستان سکیورٹی ایجنسی نے ناکام بنا دیا۔ اسی منصوبے کے طشت از بام ہونے کے بعد ڈاکٹر شکیل آفریدی کو پشاور سے فوری طور پر راولپنڈی کے اڈیالہ جیل میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ملک کے سکیورٹی اداروں کو حال ہی میں پتا چلا تھا کہ ڈاکٹر آفریدی کو جیل سے فرار کرکے بیرون ملک بھیجنے کی سازش ہورہی ہے جسے ناکام بنا دیا گیا۔
مئی 2012ء میں شکیل آفریدی کو ایک پاکستانی عدالت نے غداری کے مقدمے میں تینتیس برس قید کی سزا سنائی تھی۔ شکیل آفریدی پر عسکریت پسندوں سے تعلق رکھنے کا الزام بھی عائد کیا گیا تھا۔ شکیل آفریدی سے صرف چند عہدیدار ہی ملاقات کر سکتے ہیں۔ آفریدی کو نہ تو اپنے اہلخانہ اور نہ ہی میڈیا سے بات چیت کرنے کی اجازت ہے۔
پاکستانی حکومت کا دعویٰ ہے کہ شکیل آفریدی نے اسامہ بن لادن کا ڈی این اے حاصل کرنے کے لیے ایبٹ آباد میں پولیو کے قطرے پلانے کی ایک جعلی مہم شروع کی تھی۔ دو مئی 2011ء کو اسامہ بن لادن کو امریکی سپیشل فورسز نے ایک خفیہ آپریشن کرتے ہوئے ہلاک کر دیا تھا۔ شکیل آفریدی کو اس وقت ایک خفیہ جیل میں رکھا گیا ہے۔
پاکستان نے امریکہ کی طرف سے پاکستان کو دی جانے والی امداد کو ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی سے مشروط کرنے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دونوں ملکوں کے درمیان باہمی تعاون کو فروغ دینے کی روح کے منافی ہے۔امریکی کانگریس کے منظور کئے گئے قانون کی ایک شق میں تجویز کیا گیا تھا کہ پاکستان کو دی جانے والی تین کروڑ 30 لاکھ ڈالر کی امداد کو ڈاکٹر شکیل آفریدی کو قید میں رکھنے کی وجہ سے روک لیا جائے۔ہمارے دفترخارجہ نے کہا کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی پاکستانی شہری ہیں اور پاکستان کے قانون کی خلاف ورزی کے الزام میں قید ہیں۔ ڈاکٹر شکیل آفریدی پر انصاف حاصل کرنے کے راستے کھلے ہیں۔
حقیقت تو یہ ہے کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کی حرکات کی وجہ سے پاکستان میں پولیو مہم کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ ایک ڈاکٹر نے بچوں کو پولیو سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک مہم چلائی۔ بظاہر یہ ایک ایسا عمل ہے، جس کی صرف پذیرائی ہی کی جا سکتی ہے۔ یہ ڈاکٹر گزشتہ کئی برسوں سے پولیو بچاؤ مہم سے منسلک ہے اور یہ مرض اس کے آبائی ملک پاکستان میں ابھی بھی موجود ہے۔ اس ڈاکٹر پر لوگ بھروسہ کرتے ہیں، انہیں اس بات کا علم ہے کہ یہ ان کی مدد کرتا ہے اور ڈاکٹر کو بھی یہ سب کچھ اچھا لگتا ہے۔ لیکن اس کے مریضوں سے ایک بات پوشیدہ ہے کہ ڈاکٹر کو پولیو بچاؤ مہم کے لیے رقم فراہم کرنے والوں کی کچھ شرائط کو پوری کرنا ہے۔ اسے بدلے میں ہر مریض کے ڈی این اے اور اس کی نجی معلومات پیسہ دینے والے فریق کو فراہم کرنا ہیں۔ یہ عمل کسی بھی مریض کی معلومات خفیہ رکھنے کے ڈاکٹری اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ یہ مہم اتنی اہم تھی کہ ڈاکٹر نے آخر کار اسے چلانے کی ہامی بھر لی۔ ایک بات ڈاکٹر کو بھی نہیں معلوم تھی اور وہ یہ کہ رقم فراہم کرنے والا انہی بچوں میں سے ایک کے باپ کی تلاش میں ہے۔ اور پھر ڈاکٹر اور ڈی این اے اْس پیسہ دینے والے کو اس کی منزل تک پہنچا دیتے ہیں اور خفیہ طور پر رقم فراہم کرنے والا اس بچے کے باپ کو ہلاک کر دیتا ہے۔
وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ شکیل آفریدی کی وجہ سے پولیو مہم بھی متاثر ہوئی۔ 50 پولیو ورکرز غیرملکی ایجنٹس قرار دے کر شہید کردیے گئے۔ وہ غیرملکی ایجنسی کیلئے کام کرتارہا اور ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث تھا۔ حکومت کا اب بھی مؤقف ہے کہ شکیل آفریدی غیرملکی ایجنٹ اور وطن دشمن ہے۔


ای پیپر