پاکستانی سیاست کے 11 اتحاد 
29 ستمبر 2020 (20:33) 2020-09-29

محمد سلمان:

پاکستان میں اپوزیشن کی بڑی سیاسی جماعتوں نے تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف نئے اتحاد بنانے کا اعلان کرتے ہوئے آئندہ سال جنوری میں اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے۔اپوزیشن جماعتوں نے ایک بار پھر ’پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ‘ (پی ڈی ایم) کے نام سے نیا اتحاد قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔پاکستان کی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو حکومت وقت کے خلاف حزب اختلاف نے متعدد مشترکہ تحریکیں شروع کیں۔

 پاکستان کی تاریخ ایسے سیاست دانوں سے بھری پڑی ہے جن کی سیاست صرف اپنے ذاتی مفادات کے گرد گھومتی رہتی ہے، اس سے زیادہ اْن کی نظر میں سیاست کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ سیاسی اتحاد بنتے اور ٹوٹتے رہتے ہیں ،اور ملک کو اتحادی سیاست کی وجہ سے ہمیشہ نقصان اٹھانا پڑ ا ہے۔پاکستان میں اب تک ایک درجن سے زائد سیاسی اتحاد بن چکے ہیں۔یہ اتحاد کبھی انتخابات سے پہلے بنے تو کبھی بعد میں بنے۔ان اتحادوں کے ذریعے کبھی کسی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی گئی تو کبھی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کی گئی اور کبھی وقت کے حکمرانوں کو اپنی حکومت بچانے کے لیے اتحادی سیاست کا سہارا لینا پڑا۔ یہ سیاسی اتحاد کبھی جمہوریت کی بحالی کے لیے بنے تو کبھی اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے تشکیل دیے گئے ۔اگر یہ کہا جائے کہ اتحادی سیاست کے بغیر پاکستان کی سیاسی تاریخ ادھوری ہے تو غلط نہ ہوگا۔

پاکستان کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو اتحادی سیاست کاسب سے پہلے آغاز1952 میں ہوا جب ڈیموکریٹک یوتھ لیگ اورایسٹ پاکستان کمیونسٹ پارٹی نے مسلم لیگ کے خلاف اتحاد بنایا تھا، مگر یہ اتحاد اتنا کامیاب نہیں ہوا اس لیے تاریخ میں اس کا ذکر اتنا نہیں کیا جاتا جتنا 1953میں بننے والے اتحاد کا ذکر ملتا ہے،یہ اتحاد دی یونائیٹڈ فرنٹ کے نام سے بنایا گیا۔یہ اتحاد چار پارٹیوں پر مشتمل تھا، جس میں عوامی مسلم لیگ، نظام اسلام،جنتا دل اورکرشک پراجاپارٹی شامل تھیں۔ یہ اتحادبھی مسلم لیگ کے خلاف بنا ،اس کی وجہ پارٹی میں اندرونی انتشار ، لیڈر شپ کا بحران، ا نتظامی نا اہلی اور غیر ذمہ دارانہ رویہ تھا جس کی وجہ سے مسلم لیگ عوامی حلقوں میں اپنی مقبولیت کھو چکی تھی۔ حسین شہید سہروردی جیسے منجھے ہوے لیڈر پارٹی چھوڑ کر عوامی مسلم لیگ میں شامل ہو چکے تھے۔ یہ اتحاد بنگال کی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات سے قبل بنایا گیا تھا جس کا مقصد بنگال کے عوام کو مسلم لیگ کامتبادل فراہم کرنا تھا ۔1953 میں مشرقی پاکستان میں ہونے والے صوبائی انتخابات میں دی یونائیٹڈ فرنٹ نے 223 نشستیں جیت کر مسلم لیگ کو بری طرح شکست سے دوچار کیا، وہ صرف 9 سیٹوں پر انتخاب جیت سکی تھی۔

پاکستان میں دوسرا سیاسی اتحاد ایوب خان دور میں بنا۔ مادرِ ملت فاطمہ جناح جو قائدِ اعظم کے انتقال کے بعد سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر چکی تھی ایک بار پھر سے سیاست کے میدان میں سرگرم ہوگئی تھیں، انہوں نے 1964 کے صدارتی انتخابات کے دوران ایوب خان کے خلاف متحدہ اپوزیشن کے نام سے ایک اتحاد بنا یا ۔لیکن اس اتحاد کے خلاف حکومت وقت نے منفی پرو پیگنڈا یہ کیا کہ اسلام خواتین کو حکومت کرنے کی اجازت نہیں دیتا ۔شاید اس لیے فاطمہ جناح ، اور اس کے اتحادیوں کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔

 ان انتخابات میں مقابلہ ایوب خان کے گلاب کے پھول اور محترمہ فاطمہ جناح کے انتخابی نشان لالٹین کے درمیان ہواتھا۔ اہل کراچی نے تو ایوب خان کے گلاب کے پھول کو اپنے سینے پر سجا نے سے صاف انکار کردیا اور لالٹین کی مدھم روشنی کو ہی دل و جان سمجھا لیکن فوجی حکمران کے سامنے بھلا لالٹین کی مدھم روشنی کہاں روشن رہ سکتی تھی۔ ایوب خان کا گلاب کا پھول وقتی طور پر تو اقتدار کے ماتھے کا جھومر بن گیا۔پھر رفتہ رفتہ پتی پتی ہوا اورخاک میں مل گیا۔ اس دورکے معروف نعروں میں ’’ایک شمع جلی جل جانے کو، ایک پھول کھلا مرجھانے کو‘‘ اور ’’ملت کا محبوب۔ ایوب ایوب‘‘ تھے۔

اس اتحاد کے بعد 30 اپریل 1967 کونوابزادہ نصراللہ خان نے پانچ پارٹیوں پر مبنی پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے نام سے ایک سیاسی اتحا د بنایا۔ اس اتحاد نے ایوب خان کو اقتدار چھوڑنے پر مجبور کیا ،بعد میں اس اتحاد کا نام بدل کر پاکستان ڈیموکریٹک ایکشن کمیٹی رکھا گیا ،یہ اتحاد اپنے مقاصد حاصل کرنے میں بہت حد تک کامیاب رہا۔

1971 میں ملک ٹوٹنے کے بعد پہلی مرتبہ 1977 میں انتخابات منعقد ہوئے تو اس میں اتحادی سیاست نے بھی خوب اپنے رنگ دکھائے، پاکستان پیپلز پارٹی کے خلاف 9سیاسی و مذہبی جماعتوں نے مل کرپاکستان قومی اتحاد(پاکستان نیشنل الائنس یا پی این اے) کے نام سے ایک اتحاد بنایا،پی این اے کا نصب العین ، تھا کہ وہ ملک میں نظامِ مصطفی نافذ کریں گے۔ اس تحریک نے عوامی حلقوں میں اچھی خاصی پذیرائی حاصل کی اور مذہب کو بھی سیاسی طور پرخوب استعمال کیا ، لیکن اس کے با وجود انتخابات میں وہ نتیجہ حاصل نہیں کر سکے جن کی وہ توقعات کر رہے تھے،پی این اے کو صرف 36 نشستوں پرکامیابی ملی ، انتخابات کے بعد پی این اے نے ذوالفقار علی بھٹوکی حکومت پر دھاندلی کا الزام لگا کر نتائج کو ماننے سے انکار کر دیا اور ساتھ ہی اس حکومت کے خاتمے کے لیے ملک گیر احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں نکا لنا شروع کردیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ تحریک سول نافرمانی میں بدل گئی ، نوبت یہاں تک آ پہنچی کہ حکومت کو کراچی،لاہور، حیدرآباد سمیت کچھ دیگر شہروں میں مارشل لا نافذ کرنا پڑا، کچھ عرصہ سیاسی کشیدگی چلتی ر ہی لیکن پھر حکمران جماعت او رپی این اے کے درمیان مذاکرات ہوئے، حکومت اورپی این اے کئی باتوں پر متفق ہو چکے تھے کہ ضیاء  الحق نے بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ دیا اور ملک میں مارشل لا نافذ کر دیا، اس طرح یہ اتحاد بھی اپنے انجام کو پہنچا۔

جنرل ضیا الحق کیخلاف6 فروری 1981کو  جمہوریت کی بحالی کے لیے میں ایم آر ڈی تحریک کی بنیاد رکھی گئی اس تحریک کا بنیادی مقصد جمہوریت کی بحالی تھا ،اس تحریک کی قیادت نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو نے کی،ایم آر ڈی کی تحریک میں10 سے زیادہ سیاسی جماعتیں شامل تھیں،اس تحریک میں متعد د سیاسی رہنما ؤں نے جیل کی ہوا بھی کھائی اور سیاسی کارکنوں کو اس تحریک کے دوران خوب کوڑے کھانے پڑے تھے ،یہ تحریک شروع میں پنجاب اور سندھ میں خاصی مقبول رہی لیکن کچھ عرصے کے بعد یہ تحریک صرف سندھ تک محدود ہو کر رہ گئی تھی۔

پاکستان میں جمہوریت کی بحالی اور جمہوریت کے نفاذ اور آمروں کیخلاف اتحاد تو بنتے ہی رہے ہیں مگر پاکستان میں اسلام کے نام پر بھی اتحاد بنائے گئے جن میں ایک اتحاد اسلامی جمہوری اتحاد تھا۔اس اتحاد کی بنیاد پاکستان پیپلز پارٹی کے مخالف سیاسی رہنماؤں نے رکھی اور اس کی قیادت سندھ سے تعلق رکھنے والے سیاسی لیڈرغلام  مصطفیٰ جتوئی کے سپرد کی گئی، اس اتحاد کے پلیٹ فارم سے ہی نواز شریف قومی سطح پر ایک سیاسی لیڈر کے طورپر متعارف ہوئے تھے ، یہ اتحا د بھی پی این اے کی طرح 9 سیاسی و مذہبی پارٹیوں پرمشتمل تھا ، یہ اتحاد 1988 کے الیکشن سے پہلے وجود میں آیا، اِس اتحاد کو غیر جمہوری اور پی پی پی مخالف قوتوں کی بھرپور حمایت حاصل تھی۔اسلامی جمہوری اتحاد کو اس الیکشن میں قومی سطح پر کامیابی نہ مل سکی تاہم یہ اتحاد صوبہ پنجاب میں کامیاب ہوکرحکومت بنانے کی پوزیشن میں آگیا، قومی اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی 94 نشستوں پر انتخاب جیت کر مرکز ی حکومت بنانے میں کامیاب رہی۔

 اِس انتخابی معرکے کے بعد وطنِ عزیز میں قبل از وقت انتخابات1990 میں ہوئے،انتخابی میلہ سجا تو اٰس انتخابی دنگل میں دوبڑے اتحاد بنے جن میں پیپلز ڈیموکریٹک الائنس اور اسلامی جمہوری اتحاد جو کہ پہلے سے بنا ہوا تھا۔آئی جے آئی کی قیادت نواز شریف ،جب کہ پی ڈی اے کی قیادت بے نظیر بھٹو کر رہی تھیں۔ اس انتخابی معرکے میں غیر جمہوری قوتوں نے بھرپورمداخلت کی اورالیکشن کے من پسند نتائج حاصل کرنے کے لیے سیاست دانوں میں پیسہ بھی خوب تقسیم کیاگیا،اسلامی جمہوری اتحاد ان انتخابات میں قومی اسمبلی کی 106 نشستوں پر الیکشن جیت کر مر کز میں حکومت بنا نے کی پوزیشن میں آگیا،جب کہ اس کے مدِ مقابل پی ڈے اے کو صرف 45 سیٹوں پر کامیابی حاصل ہوئی۔ یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اسی عرصے کے دوران آرٹیکل 58- 2 B کا بھی خوب استعمال ہوتا رہا، منتخب جمہوری حکومتوں کو مدت پوری کرنے سے پہلے فارغ کرنے کا رجحان بھی کچھ زیادہ رہا اور ساتھ ہی اتحادی سیاست کا میلہ بھی سجتا رہا، اس دوران چھوٹے چھوٹے اتحاد بنتے رہے لیکن یہاں پر بڑے اتحادوں کی بات کی جا رہی ہے، اس لیے چھوٹے اتحادوں کا ذکر کرنا اتنا ضروری نہیں۔

اس کے بعد 1997 میں گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے نام سے ایک نیا اتحاد بنا جس کی قیادت نصراللہ خان کررہے تھے ،یہ اتحادنواز شریف کی حکومت کے خلاف بنایا گیا تھا لیکن 12۱کتوبر 1999 کو بعد جنرل مشرف نے حکومت کو ختم کر کے اقتدار پر قبضہ حاصل کرنے کے ساتھ ،جی ڈی اے کا کام تمام کر دیا۔ اس دوران ملک کی سیاسی قیادت نے ملک میں جمہوریت کے استحکام اور آمریت کے خاتمے کے لیے مل کر جدوجہد کرنے اور باہمی اختلافات ختم کرنے کا فیصلہ کیا، ملک میں جمہوریت کی بحالی کے لیے ایک بار پھر  15 سے زیادہ سے زیادہ سیاسی جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو گئیں اور ایک نئے سیاسی اتحاد کی بنیاد رکھی گئی، اس اتحاد کا نام ‘‘تحریک بحالی جمہوریت’’یا اے آر ڈی رکھا گیا تھا۔اس اتحاد کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں ملک کی دو سب سے بڑی جماعتیں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن پہلی مرتبہ کسی ایک اتحاد میں شامل ہوئی تھیں، اس سے پہلے ہمیشہ دونوں جماعتیں ایک دوسرے کی حکومتوں کو کمزور کرنے میں اپنی قوت صرف کیا کرتی تھیں۔

 اس دوران ایک اور انتخابی میلہ 2002 کو سجا ،اس مرتبہ بھی ہمیشہ کی طرح مذہبی جماعتوں کا اتحاد بنا ،جس کا نام متحدہ مجلس عمل(ایم ایم اے) رکھا گیا اِس اتحاد میں ملک کی چھ مذہبی جماعتیں شامل تھیں۔ایم ایم اے کو ان انتخابات میں صوبہ سرحد(موجودہ خیبرپختونخوا) میں صوبائی حکومت جبکہ صوبہ بلوچستان میں مسلم لیگ ق کے ساتھ مل کر صوبائی حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئی،ایم ایم اے ان انتخابات میں قومی اسمبلی کی 57 جنرل نشستوں پر کامیابی حاصل کر کے ملک کی تیسری بڑی سیاسی قوت بن گئی،اسی الیکشن کے دوران ایک اور بھی اتحاد بنا تھاجس کا نام نیشنل الائنس تھا تاہم یہ اتحاد کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کر سکا اور اس اتحاد کو صرف 16 نشستوں پر کامیابی مل سکی۔

 اس اتحاد میںصدرات جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد اور سیکرٹیری شپ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ہاتھ میں تھی۔ یہ اتحاد بردار اسلامی ملک افغانستان پر امریکا اور چالیس ملکوں کی نیٹو اتحاد کی فوجوں کا حملہ اور افغان طالبان کی جائز حکومت امارت اسلامیہ کو بزور قوت ختم کر کے افغانستان پر قبضہ تھا۔ اس اتحاد کو افغانوں کے خون کی وجہ سے پاکستان کے عوام میں پذیرائی ملی۔متحدہ مجلس عمل نے الیکشن میں کامیابی حاصل کی۔پاکستان کے دو صوبوں خیبر پختونخواہ اور بلو چستان میں صوبائی حکومتیں بنائیں۔مرکز میں لیڈر ا?ف حزب اختلاف کی سیٹ مولانا فضل الرحمان صاحب کو ملی۔ یہ اتحاد مشرف کے خلاف خیر پختونخواہ کی صوبائی اسمبلی نہ توڑنے کے اختلاف پر ختم ہوا۔

بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد 2008 کے انتخابی معرکہ میں پیپلز پارٹی ایک بار پھر اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب رہی2008 کے انتخابات میں کوئی نیا اتحاد نہیں بنا۔ البتہ متحدہ مجلس عمل جو پہلے سے بنا ہوا تھا وہ بھی ا پنی مقبولیت بر قرار نہیں رکھ سکا۔ انتخابات کے بعدپیپلز پارٹی نے اتحادی حکومت بنائی ،جس میں ایم کیو ایم، عوامی نیشنل پارٹی اور جے یو آء ( ف) شامل تھیں ۔

2012میں ایک اور اتحاد دیکھنے میں آیا یہ تھا دائیں بازو کی سیاسی و مذہبی جماعتوں کا اتحاد’’ملی یکجہتی کونسل‘‘۔اس اتحاد کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اور اس اتحاد کی کیاسیاسی مقاصد ہوسکتے تھے؟ نیز یہ کہ اس کا مستقبل کیا ہوا؟ اس حوالے سے سیاسی تجزیہ نگاروں اور مبصروںکا کہنا تھا کہ یہ بالکل ایم ایم اے یعنی متحدہ مجلس عمل کی طرزکا اتحاد تھا۔ گو کہ ابھی اس کے بارے میں خود اتحادی جماعتوں کا کہنا تھا کہ یہ غیر سیاسی اتحاد ہوگا لیکن پاکستان کی تاریخ کو مدنظر رکھیں تو ایسا ممکن نہیں تھا کہ کوئی اتحاد جس کے تمام ارکان سیاسی ہوں ، وہ غیر سیاسی بھی رہا ہو۔اس اتحاد کا نام مئی 2012 میں اس وقت پہلی مرتبہ سامنے آیا جب ملک کی اہم سیاسی و دینی جماعتوں نے ملک میں مختلف مسالک کے درمیان اتحاد و یکجہتی کے قیام‘ فرقہ واریت کے خاتمے‘ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر عملدرآمد ، اسلامی معاشرے کے قیام اور متحدہ مجلس عمل کے انتخابی پلیٹ فارم اور دفاع پاکستان کونسل کی موجودگی اور افادیت کا اعتراف کرتے ہوئے ’’ملی یکجہتی کونسل ‘‘ کے نام سے ایک اتحاد بنانے کا اعلان کیا تاہم اسے ’بحالی‘ کانام دیا گیا۔

سابق امیر جماعت اسلامی و صدر متحدہ مجلس عمل قاضی حسین احمد کو تنظیمی ڈھانچہ بنانے والی کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا گیا۔انہوں نے ہی ’’ملی یکجہتی کونسل ‘‘کی بحالی کا اعلان کیا۔ یہ اعلان انہوں نے باقاعدہ ایک پریس کانفرنس میں کیا۔اتحاد کے دیگر ارکان میں امیر جماعت اسلامی سید منور حسن جمعیت علمائے اسلام ف کے مرکزی رہنما حافظ حسین احمد، پیر عبدالشکور نقشبندی، محمد یحییٰ مجاہد، صاحبزادہ سلطان احمد علی، محمد خان لغاری، صاحبزادہ محمود الحسن نقشبندی، علامہ ساجد علی نقوی، لیاقت بلوچ، علامہ ابتسام الٰہی ظہیر وغیرہ شامل تھے۔چار جون کو اس اتحاد کے حوالے سے ایک اور اہم پیش رفت ہوئی جس نے واضح کیا کہ ’’ملی یکجہتی کونسل‘‘ غیرسیاسی نہیں ہوگی۔ اس دن قاضی حسین کو تنظیم کا متفقہ صدر اور حافظ حسین احمد کو سیکرٹری جنرل منتخب کرلیا گیا۔ واضح رہے کہ قاضی حسین احمد ایم ایم اے کے صدر اور حافظ حسین احمد ا یم ایم اے کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری کے عہدے پر فائز تھے۔

 2013 کے الیکشن میں کوئی اتحاد نہیں بنا، البتہ کہیں کہیں مختلف جماعتوں کے درمیان سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہوی تھیں ،2013 کے انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ ن قومی اسمبلی میں سادہ اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب رہی ، 2013 کے انتخابات کا سب سے مثبت پہلو پاکستان تحریک انصاف کا ابھر کر سامنے آنا تھا، پاکستان تحریک انصاف پہلی مرتبہ اتنی بڑی سطح پر کامیاب ہوئی تھی ، تحریک انصاف کی سیاست کا منفی پہلو یہ ہے کہ وہ اسمبلی سے زیادہ احتجاجی سیاست کو اپنا مرکز سمجھتی ہے۔

2018کے انتخابات سے قبل بھی سیاسی اتحاد تشکیل پائے۔ نواز شریف تا حیات نا ا ہل ہوچکے تھے، زرداری صاحب کی پارٹی سندھ کے دیہی علاقوں تک ہی محدود ہو کر رہ گئی تھی، تاہم عمران خان کی تحریک انصاف ملک میں سیاسی جوہر دکھارہی ہے۔ ایسے حالات میں کراچی کی دو سیاسی جماعتوں نے اتحاد قائم کرنے کی کوشش کی، ایم کیو ایم پاکستان اور پی ایس پی نے ایک نام ، ایک جھنڈے اور ایک منشور پر الیکشن لڑنے کا اعلان کیا، ا?پس میںگلے بھی ملے اور ایک دوسرے کو مبارک باد بھی دی۔ لیکن  بد قسمتی سے یہ اتحاد ایک رات ہی چل سکا، صبح ہوتے ہی دم توڑ گیا۔تاہم پاکستان کے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف بیرون ملک رہتے ہوئے اپنی سیاسی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے ایک سیاسی اتحاد بنانے میں کامیاب ہوگئے۔ یہ 23جماعتوں پر مشتمل اتحاد تھا۔ 

23جماعتی اتحاد کے سربراہ جنرل پرویز مشرف تھے، اسی جماعت کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر امجد کوآرڈینیٹر اورمسلم لیگ (جونیجو) کے سربراہ اقبال ڈار کو اتحاد کا سیکریٹری جنرل مقرر کیا گیا ۔ اس اتحاد میں آل پاکستان مسلم لیگ ، مسلم لیگ (جونیجو) ،پاکستان سنی تحریک، مجلس وحدت المسلمین، سنی اتحاد،مسلم کانفرنس، کشمیر،پاکستان عوامی تحریک، پاکستان مسلم لیگ کونسل، پاکستان مسلم لیگ نیشنل، عوامی لیگ، پاکستان مسلم الائنس، پاکستان مزدور محاذ، کنزرویٹو پارٹی، مہاجر اتحاد تحریک، پاکستان انسانی حقوق پارٹی،.ملت پارٹی، جمعیت علما پاکستان (نیازی گروپ)، عام لوگ پارٹی، عام آدمی پارٹی، پاکستان مساوات پارٹی، پاکستان منیارٹی پارٹی، جمعیت مشائخ پاکستان اورسوشل جسٹس ڈیمو کریٹک پارٹی شامل تھیں۔اگرچہ اس فہرست میں شامل سیاسی جماعتوں میں کوئی ایسی جماعت نظر نہیں آتی جس نے سیاست میں کوئی دھماکا کیا ہو، اکثریت صفر پر آوٹ ہونے والی جماعتوں کی ہی ہے۔

پاکستان میں سیاسی تاریخ پر اگر ایک طائرانہ نگاہ ڈالی جائے تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ سیاسی جماعتوں نے ایک دوسرے کے بطن سے جنم لیا ہے۔ قیام پاکستان سے لے کر اب تک جتنی بھی سیاسی پارٹیاں موجود ہیں ان کو وجود مسلم لیگ کامرہون منت تھا۔ اسی مسلم لیگ سے عوامی مسلم لیگ اور جناح مسلم لیگ نے جنم لیا جس کو ملا کر پھر ایک مشترکہ جماعت عوامی جناح مسلم لیگ کا وجود سامنے آیا۔ ضیا دور تک آتے آتے یہی مسلم لیگ کئی شکلیں بدل چکی تھی اور بالاخر ان کے وجود سے مسلم لیگ ن نے جنم لیا۔ اور پھر اگست 2002 میں پرویز الہی نے اپنا دھڑا الگ کر لیا اور مسلم لیگ قائداعظم کا وجود سامنے آیا۔ کچھ ہی عرصے بعد مشرف نے آل پاکستان مسلم لیگ کی بنیا درکھی۔ شیخ رشید جو کبھی ن لیگ کے کرتا دھرتا سمجھے جاتے تھے انہوں نے اختلافات کی وجہ سے ن لیگ کو خیر باد کہہ کر عوامی مسلم لیگ کی بنیاد رکھ دی۔ انہی دھڑوں میں سے پھر پیر صاحب پگاڑا نے مسلم لیگ فنکشنل کی بنیاد رکھی۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ایوب خان نے کنونشنل مسلم لیگ کی بنیاد رکھی تھی اور ذوالفقار علی بھٹو اس جماعت کے کرتا دھرتا تھے تاہم جلد ہی اختلافات کی بنیاد پر ذوالفقار علی بھٹو نے ممتاز دولتانہ وغیرہ سے مل کر کونسل مسلم لیگ کی بنیاد رکھ دی تاہم یہ اتحاد بھی زیادہ دیر نہ چل سکا اور ذوالفقار علی بھٹو نے پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھ دی۔ 2002 میں بے نظیر بھٹو سے اختلافات کی بنیاد پر آفتاب احمد شیر پاو نے اپنی الگ پارٹی پاکستان پیپلز پارٹی شیر پاو بنا لی جس کو بعد میں قومی وطن پارٹی کا نام دے دیا گیا۔

 پاکستان کی سیاست کاجائزہ لیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ ذاتی و معمولی اختلافات کی بنیاد پر کیسے ایک پارٹی کے بطن سے کئی پارٹیوں نے جنم لیا۔ اور یہ عمل تاحال رکا نہیں بلکہ توڑ پھوڑ کا یہ عمل تا حال جاری ہے اور اب جب پی ٹی آئی کی حکومت  ہے اور میاں نواز شریف منظر عام سے غائب ہیں پیپلز پارٹی بھی صرف سندھ تک محدود ہو کر رہ گئی اور کوئی متبادل بظاہر نظر نہیں آرہا۔ تو ایسے میں ایک نئی سیاسی جماعت بنانے کی بات چیت بھی جاری ہے۔ اسے سیاسی اتحاد کہا جائے یا سیاسی جماعت یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن سننے میں آ رہا ہے کہ  چند پرانے سیاست دان اب اس بات پر آمادہ نظر آتے ہیں کہ کیوں نہ مسلم لیگ ن، مسلم لیگ ق، مسلم لیگ فنکشنل اور دیگر چھوٹے گروپوں کو ملا کر ایک نئی پارٹی کی تشکیل دی جائے۔ اور اگر کوئی ایسی پارٹی تشکیل پا جاتی ہے تو یقینًا راویتی سیاسی پارٹیاں مشکل میںپڑ جائیں گی۔

ابھی چند روز قبل اپویزیشن نے آل پارٹیز کانفرنس منعقد کی۔اس اے پی سی کا نچوڑ نکالا جائے تو اگرچہ اس بار بھی اجتماعی استعفوں سے متعلق مولانا کا مطالبہ پورا نہیں ہوا لیکن حکومت مخالف جدوجہد کا ٹائم فریم طے ہوگیا ہے، مگر اس میں بھی کچھ مسائل ہیں، اور سب سے بڑا مسئلہ جنوری کے مہینے میں لانگ مارچ اور دھرنا ہوگا۔جنوری میں اس طرح کی حکمتِ عملی پر عمل نہ ہونے کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ سردی، یعنی ایک ایسا مہینہ جب اسلام آباد میں سردی دانت بجانے پر مجبور کردے، تو اپوزیشن کی مختلف جماعتیں اپنے کارکنوں کو کسی آزمائش میں کیسے ڈال سکتی ہیں؟ پھر دوسری اور اہم ترین وجہ یہ کہ یہ وہی وقت ہوگا جب سینیٹ انتخابات کی جوڑ توڑ شروع ہوجائے گی۔اگر اپوزیشن کی 2 سالہ کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ سینیٹ میں اکثریت اور قومی اسمبلی میں طاقتور ہونے کے باوجود اس نے اپنی نااہلی اور مجبوری کی بنیاد پر حکومت کی قوت میں اضافہ کیا ہے۔ ایف اے ٹی ایف کے لیے مشترکہ اجلاس میں قانون سازی کے دوران واضح ہوا کہ کس طرح اپوزیشن نے حکومت کو محفوظ راستہ فراہم کیا، ماضی میں بھی ایسا ہی ہوتا رہا، چاہے بجٹ منظوری کا عمل ہو، یا دوسری قانون سازی، ہر بار حکومت قومی اسمبلی میں قانون کی منظوری کے دوران اپوزیشن کو اشتعال دلانے میں کامیاب ہوجاتی ہے، اور یوں وہ ایوان سے واک آؤٹ کرکے نکل جاتے ہیں، جبکہ پیچھے حکومت اپنی واردات ڈال دیتی ہے۔

اس بار اے پی سی کے نتائج سے اندازہ ہوتا ہے کہ پیسے تو پیپلزپارٹی کے خرچ ہوئے لیکن میلہ مریم نواز نے لوٹا، اور مولانا کو میزبان نے خود اسٹیج حوالے کیا۔ مولانا اپوزیشن جماعتوں کا ایک باضابطہ اتحاد چاہتے تھے، اور وہ اس میں کامیاب رہے، تحریری اعلامیہ اور ایکشن پلان ان کی خواہش تھی جو پوری ہوئی۔ اس سارے منظرنامے میں نقصان شہباز شریف کا ہوا۔

اس آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) میں اپوزیشن نے حکومت مخالف نیا اتحاد بنا لیاہے۔جس نے جنوری 2021  میں حکومت مخالف لانگ مارچ کا اعلان کرتے ہوئے وزیراعظم کے فوری استعفے کا مطالبہ کر دیا ہے۔اپوزیشن نے حکومت مخالف الائنس کے نام پر مشاورت کے بعد اسے ‘’پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ’’ کا نام دینے پر اتفاق کیاہے۔اپوزیشن جماعتوں کی قیادت کے درمیان باہمی مشاورت کے بعد مولانا فضل الرحمان نے میڈیا کو اعلامیے کے نکات سے متعلق آگاہ کیا۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کی دعوت پر اپوزیشن کی اے پی سی ہوئی، جس میں اپوزیشن نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے نام سیالائنس تشکیل دیا ہے۔اس کے علاوہ آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) کانفرنس میں حکومت کے خلاف لانگ مارچ کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ حکومت مخالف یہ لانگ مارچ جنوری 2021 کو ہوگا۔اپوزیشن کے لانگ مارچ سے قبل ملک بھر میں ریلیاں اور جلسے ہوں گے۔ اس کے علاوہ اے پی سی نے وزیراعظم عمران خان سے استعفے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس میں 26 نکاتی قرارداد منظور کی گئی جس میں کہا گیا ہے کہ اپوزیشن نے پاکستان ڈیموکریٹک الائنس کے نام سے قومی اتحاد تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ 1947 سے اب تک تاریخ کو دستاویزی شکل دینے کیلئے ٹروتھ کمیشن اور چارٹر آف پاکستان مرتب کرنے کے لئے کمیٹی تشکیل دی جائے۔اعلامیے کے مطابق اپوزیشن ربر اسٹمپ پارلیمنٹ سے کوئی تعاون نہیں کرے گی، موجودہ حکومت نیپارلیمان کو مفلوج کردیا ہے، اجلاس نے ٹروتھ کمیشن کا مطالبہ کیا ہے، تباہ حال معیشت ملک کے لیے خطرہ بن چکی ہے، میثاق جمہوریت پر نظرثانی کی جائے گی، متحدہ اپوزیشن ملک گیر احتجاجی تحریک کا اعلان کرتی ہے، اس تحریک میں وکلا، تاجر،کسان، عوام اور سول سوسائٹی کو بھی شامل کیا جائے گا،مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ‘’سلیکٹڈ’’ حکومت کو دھاندلی سے مسلط کیا گیا۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ شفاف اور آزادانہ انتخابات کا انعقاد یقینی بنایا جائے۔ الیکشن میں کسی قسم کی مداخلت نہیں ہونی چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ تباہ حال معیشت ملک کیلئے خطرہ بن چکی ہے۔ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ آٹا، چینی، بجلی اور گیس کی قیمتوں کو کم کیا جائے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اجلاس میں غیر جانبدار ججز کو بے بنیاد مقدمات میں جکڑنے پر شدید تشویش کا اظہار اور مذمت کی گئی۔ اپوزیشن کی آواز کو دبایا جا رہا ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ آج کے بعد ربڑ پارلیمنٹ سے اپوزیشن کوئی تعاون نہیں کرے گی۔ میڈیکل کمیشن سمیت شہری آزادیوں کے خلاف قانون سازی کو واپس لیا جائے۔انہوں نے کہا کہ اے پی سی وزیراعظم کے فوری استعفے کا مطالبہ کرتی ہے۔ دسمبر میں احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔ جنوری 2021 میں اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ ہوگا۔

اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف کا میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا کہ اے پی سی میں اتفاق رائے سے فیصلے کیے گئے ہیں۔ موجودہ حکومت دھاندلی کے ذریعے اقتدار میں آئی۔ سوا 2 سال میں معیشت کا بیڑہ غرق کیا گیا۔ حکومت کا مزید قائم رہنا ملکی سلامتی کیلئے خطرہ ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا اپنی گفتگو میں کہنا تھا کہ ڈیموکریٹک موومنٹ کل سے کام شروع کرے گی۔ ہم ایک دن بھی چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ سلیکٹڈ حکومت کیخلاف نکل رہے ہیں، امید ہے عوام ساتھ دیں گے۔

 اگر حکومت کے خلاف تیار کیے گئے ایکشن پلان کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کا قائم ہونے والا نیا اتحاد ایسے گل نہیں کھلائے گا، جس کی فوری طور توقع کی جارہی ہے، کیونکہ حکومت کے ساتھ قانون سازی میں تعاون نہ کرنے کا اعلان بتاتا ہے کہ انتخابی اصلاحات ممکن نہیں ہوسکے گی۔ خود مسلم لیگ (ن) کے دور میں انتخابی اصلاحات کا عمل 3 سال تک لے گیا تھا، اور اس حکومت کے تو ویسے بھی 3 سال ہی رہ گئے ہیں۔ پھر ایک اور اہم معاملہ یہ بھی ہے کہ مولانا خود اسمبلی کا حصہ نہیں، اپوزیشن کی باقی جماعتیں جن میں پختون خواہ ملی عوامی پارٹی (میپ)، جمعیت اہلِ حدیث، نیشنل پارٹی، جمعیت علمائے پاکستان (جے یو پی) اور قومی وطن پارٹی کی تو قومی اسمبلی میں نمائندگی تک نہیں۔ دوسری طرف سندھ میں پیپلزپارٹی کی اپنی حکومت ہے جبکہ قومی اسمبلی میں شہباز شریف اور پنجاب میں ان کے بیٹے اپوزیشن لیڈر ہیں تو یہ مراعات کس طرح چھوڑی جاسکتی ہیں، جب آپ کو کہیں سے کوئی واضح اشارہ بھی نہ ہو۔

پاکستان جمہوری تحریک (پی ڈی ایم) پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان پہلا سیاسی اتحاد ہے. نیا سیاسی اتحاد عمران خان کے بجائے اسٹیبلشمنٹ کو نشانہ بنا کر ملک میں صاف شفاف انتخابات کے لئے دبائو ڈالے گا۔ لیکن اہم سوال یہ ہے کہ کیا پیپلزپارٹی سندھ حکومت توڑنے ،اتحاد میں شامل پیپلزپارٹی، مسلم لیگ ن اور دیگر جماعتیں اسمبلیوں سے استعفے دینے پر رضامند ہوں گی۔سیاسی حلقوں کے مطابق پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن اس سے قبل نوابزدہ نصر اللہ خان کی قیادت میں اے آر ڈی، میثاق جمہوریت ،اعلان مری، پرویز مشرف حکومت کیخلاف اور عدلیہ بحالی تحریک میں اکٹھی ہوئیں لیکن کوئی باقاعدہ اتحاد قائم نہ ہوا اور معاملہ مشترکہ جد و جہد تک محدود تھا، یہ پہلا موقع ہے کہ دونوں جماعتیں ایک پلیٹ فارم سے مشترکہ احتجاجی تحریک چلانے پر آمادہ ہوئیں ہیں. اے پی سی کے جاری اعلامیہ میں عمران خان کے فوری مستعفی نہ ہونے پر اکتوبر میں جلسے، دسمبر میں احتجاجی مظاہرے، جنوری میں اسلام آباد لانگ مارچ کے علاوہ عدم اعتماد اور اجتماعی استعفوں کے لئے کمیٹی قائم کی گئی ہے،ان اہداف کے لئے پاکستان جمہوری تحریک قائم کی گئی ہے جس کی تنظیم کی بجائے کمیٹی قائم ہو گی جس میں تمام جماعتوں کی نمائندگی ہو گی۔ پیپلزپارٹی کے سابق مرکزی سیکرٹری اطلاعات اور سنیئر رہنما الطاف قریشی نے کہا کہ دونوں جماعتوں کا انتخابی اتحاد قائم ہونا قبل ازوقت ہے، ابھی تو اہم سوال یہ ہے کہ کیا پی ڈی ایم نئے الیکشن کرانے میں کامیاب ہو گا، اپوزیشن اتحاد تحریک انصاف نہیں اس کے پیچھے قوتوں کے خلاف سرگرم ہو گا۔

٭٭٭


ای پیپر