مجیب الرحمن شامی کی خوبصورت عادت !
29 ستمبر 2020 (19:10) 2020-09-29

پروفیسر ڈاکٹر مغیث الدین شیخ

مجیب الرحمن شامی صاحب نے بہت سے نوجوانوں کی محبتیں پالی ہیں اور یہ سلسلہ اس وقت سے شروع ہوا جب ان کا اپنا آتش جوان تھا۔ بزرگوں میں شامی صاحب کو میں نے مولانا مودودیؒ مرحوم سے والہانہ محبت، ان کا احترام اور قدرو منزلت کرتے دیکھا جبکہ نوجوانوں کے معاملے میں ان کی قلبی وذہنی دوستی کا پہلا مظاہرہ میں نے اس وقت کے طالب علم رہنما جاوید ہاشمی سے دوستی کی صورت میں دیکھا۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ جاوید ہاشمی کی بہادری اور جرأت اور پنجاب حکومت کے ظلم اور بربریت کے ساتھ ساتھ اگر مجیب الرحمن شامی کے  ہفت روزہ ’’زندگی‘‘ کا کشادہ تعاون شامل نہ ہوتا تو شاید جاوید ہاشمی اتنا بڑا لیڈر نہ بن سکتا۔ مجھے یاد ہے کہ ’’زندگی‘‘ کے ٹائٹل پیج پہ جاوید ہاشمی کی قدآور تصویر کا چھپنا، انہیں اس ملک کے کسی بھی بڑے سے بڑے لیڈر کی طرح تشہیر اور احترام دینے سے مترادف تھا۔

یہ بات یہیں پہ ختم نہیں ہوئی، ہاشمی صاحب جب ضیاء الحق کے زمانے میں وزیر امور نوجوان بنائے گئے، میں نے اس وقت بھی شامی صاحب کو انہیں پروٹوکول دیتے ہوئے دیکھا۔ ہاشمی صاحب کمرے میں داخل ہوئے تو شامی صاحب ان کے احترام اور محبت میں کھڑے ہو گئے۔ اس لیے نہیں کہ وہ اس سے مرعوب تھے بلکہ شامی صاحب وہاں بیٹھے ہوئے لوگوں کو یہ پیغام دینا چاہتے تھے کہ آج ہاشمی وزیر ہے، ہمارے دل کا ٹکڑا ہے تو سب لوگ اسی طرح اس کا احترام کریں جس طرح سرکاری لوگ کرتے ہیں۔ یہ محبتیں پالنے کی بات ہاشمی صاحب سے شروع ہوئی تو اس ملک کے نوجوان شاعر اور حکومت پنجاب کے موجودہ پریس سیکرٹری شعیب بن عزیز پہ پہنچی۔ ان کی آپس میں بے تکلفی کی انتہا اور لطائف کا تبادلہ آج بھی اسی طرح قائم ہے۔ شامی صاحب کی یہ خوبی ہے کہ یہ ہر اس نوجوان کو پہچان لیتے ہیں جو اپنے دور کا ہیرا ہوتاہے۔ یہ صفت انہیں ہاشمی میں بھی نظر آئی اور انہوں نے اس کی صفات کو مزید بلند کرنے میں اپنا زور بھی لگا دیا۔ کسی نے شعیب بن عزیز سے تعارف کرواتے ہوئے بتایا کہ یہ تخلیقی صلاحیتوں اور تخیل کا مالک نوجوان ہے، شامی صاحب نے پرکھ لیا اور پھر ان کی دوستی ہو گئی۔ بات آگے بڑھتے بڑھتے کامران شاہد پہ آکے رُکی۔ کامران شاہد ایک باصلاحیت نوجوان کی صورت میں اُبھر کر سامنے آئے، پنجاب یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر تھے۔ خود میں نے پی ٹی وی میں ان کے ساتھ مارننگ شوز کیے ہیں۔ شامی صاحب اور وہ، دونوں ایک دوسرے سے متاثر ہوئے۔ میں نے جگہ جگہ کامران شاہد کو شامی صاحب کی رفاقت میں دیکھا۔ اب یہ سوال بھی ذہن میں آتا ہو گا کہ آج کل کون سا نوجوان ان کی توجہ کا مرکز ہے۔ میرا خیال ہے کہ قرعہ باصلاحیت اجمل جامی کے نام کا نکلے گا لیکن مجھے ڈر ہے کہ اگر اجمل جامی اور شامی صاحب کا تعلق ’’نکتہ نظر‘‘ تک محدود رہا تو اجمل جامی کی سوچ بھی ’’محدود‘‘ ہو کے نہ رہ جائے۔ میری شامی صاحب سے مودبانہ گزارش ہوگی کہ اس بچے کو کبھی کبھی آزاد بھی چھوڑ دیا کریں۔

میں ایسے نوجوانوں کی فہرست کا احاطہ شاید نہ کرسکوں جنہیں شامی صاحب نے متاثر کیا، جنہوں نے شامی صاحب سے فیض بھی حاصل کیا اور اپنی صلاحیتوں کو بھی نکھارا۔ شامی صاحب کی شخصیت کا ایک پہلو جو ہم سب کے لیے سبق بھی ہے اور جس سے میں متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا وہ یہ کہ دُنیاداری کے حوالے سے، بڑے سے بڑے آدمی سے لے کر چھوٹے سے چھوٹے آدمی چاہے وہ مالی ہو، چوکیدار ہو یا ان کے دفتر کا ملازم ہو، شامی صاحب اس کے جنازے میں ضرور شرکت کرتے ہیں اور اس کے لیے انہیں چاہے اپنی ذاتی سواری میں میلوں میل سفر کر کے جانا پڑے یہ وہاں جاتے ہیں اور بہت خشوع وخضوع سے نمازجنازہ میں شریک ہوتے ہیں۔ بعض جگہ جنازے کے موقع پر میں نے انہیں سب سے پہلے پہنچتے ہوئے دیکھا مثلاً میں نے دیکھا کہ ابھی جنازہ اور باقی افراد نہیں آئے تھے مگر شامی صاحب پہلے سے ہی ایک دو افراد کے ساتھ وہاں موجود تھے۔ مجھے یقین ہے کہ ان کی یہی ادا اللہ کے یہاں ان کی بخشش کا سامان بننے کے لیے کافی ہو گی۔ میں نے خود انہیں دوسروں کے جنازوں میں کندھا دیتے دیکھا، نتیجتاً ان کی والدہ محترمہ کے جنازے کے موقع پر سینکڑوں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی جن میں نہ صرف مشہور سیاسی شخصیات، مشائخ، علماء کرام حتیٰ کہ طارق جمیل صاحب کو میں نے زندگی میں پہلی مرتبہ اسی موقع پر دعا کرواتے ہوئے اتنے قریب سے دیکھا۔ یہی صورتحال میں نے ان کی بہن کے جنازے کے موقع پر بھی دیکھی۔ باقی دُنیاداری میں ہر کوئی اپنا اپنا حساب دینے والا ہے لیکن شامی صاحب کی دیگر متاثرکُن صفات میں مہمان داری، کھلے دل کے ساتھ خاطرداری اور لاہور شہر کے باہر سے آئے ہوئے افراد کی میزبانی بھی شامل ہیں۔ خود بھی خوش خوراک ہیں اس لیے اچھا کھانا کھانا اور کھلانا پسند کرتے ہیں۔ اپنے دوستوں کے حلقے کو قائم رکھنے اور دوستیوں کو برقرار رکھنے کی خوبی میں انہیں کمال حاصل ہے۔ ہاں! ذوالفقار علی بھٹو کے زمانے کے شامی صاحب کی تو کیا ہی بات ہے جب ان پر کسی قسم کا سیاسی مصلحت یا دُنیاداری کے مفادات کا دھبہ نہیں تھا۔ اس زمانے سے میرا ان سے عشق شروع ہوا۔ ان سے عشق کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستانی سوچ رکھنے والے صحافیوں اور دانشوروں میں شاید وہ ہمارے باقی رہنے والے رہنما ہیں جن کے سائے تلے ہم لوگ آج بھی اکٹھے ہیں۔ چاہے پاکستانیت کی بات آئے یا ثقافت کو برقرار رکھنے کی، مذہب کا تذکرہ ہو یا علماء، مشائخ اور اکابرین دین کے احترام کا معاملہ ہو، اس پہ شامی صاحب کبھی سمجھوتہ نہیں کرتے۔ اپنے سیاسی یا دیگر نوعیت کے پروگرامز میں بھی ان موضوعات پہ تبصرہ اور ان کا تذکرہ دبنگ طریقے سے کرتے ہیں۔ قوانین صحافت پر انہیں عبور حاصل ہے۔ ایک ایک کیس کی تفصیلات انہیں یاد ہیں۔ وہ بذاتِ خود قوانین صحافت پر سند ہیں۔ اب سی پی این ای (CPNE) اور اے پی این ایس (APNS) کی وجہ سے ان کا ایک اور مقام ہے۔ ان کا مالکوں کی فہرست میں شامل ہونا مجھے شاید اتنا پسند نہیں، نسبتاً جب وہ ایک صحافی کے طور پر اس ملک کے قارئین کے دل اور دماغ میں بستے تھے۔ پچھلے دس پندرہ برسوں سے ان پر ایک تھیوری سوار ہے کہ ہمیں اپنے سماجی تعلقات سب سے برقرار رکھنے چاہئیں، چاہے مخالف ہے، چاہے حامی ہے، چاہے نظریات کا دُشمن ہے، چاہے کوئی بھی ہے، سماجی تعلقات قائم رہنے چاہئیں، یہاں تک تو مجھے بھی ان سے کوئی اختلاف نہیں ہے، میں بھی سماجی تعلقات قائم وبرقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہوں لیکن اس چھتری کے نیچے اپنی سیاسی مصلحت اور سب کو خوش رکھنے کے شوق میں جب لوگ لائن کراس کریں اور ایک حد سے گزر جائیں تو بہت تکلیف ہوتی ہے۔

٭٭٭


ای پیپر