اے پی سی سے پہلے اور اے پی سی کے بعد……!
29 ستمبر 2020 (13:43) 2020-09-29

اتوار کو پیپلز پارٹی کی میزبانی میں منعقدہ اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی (آل پارٹیز کانفرس) میں مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف کے کم و بیش سوا گھنٹے طویل دورانیے کے تہلکہ خیز خطاب نے اس طرح " تہلکہ" مچایاکہ کل جماعتی کانفرس ( اے پی سی)پیچھے رہ گئی اور میاں محمد نواز شریف کا خطاب ہر طرف چھا گیا۔ یہ کیوں کر ہوا اور کیسے ہوا اس کا جواب بڑا واضح ہے کہ میاں صاحب نے اپنے خطاب میں  "ووٹ کو عزت دو"، پارلیمنٹ اور آئین و قانون کی بالادستی اور ریاستی اداروں کے اپنی حدود و قیود میں ذمہ داریاں سر انجام دینے کے اپنے پرانے موقف کو ہی نہیں دُہرایا بلکہ اس سے دو ہاتھ آگے بڑھ کر یہ اعلان کر نا بھی ضروری سمجھا کہ ہمارا مقابلہ عمران خان سے نہیں بلکہ ان قوتوں سے ہے جو عمران خان کو اقتدار میں لائے۔ میاں محمد نواز شریف کا یہ کھلا اعلان ہی ہے جس کی بنا پر محترم نصرت جاوید جیسے سینئر صحافی اور کالم نگارنے اپنے کالم میں میاں صاحب کے اس خطاب کو "کشتیاں اور پل جلاتی" تقریر کہہ کر پکارا ہے تو معروف تجزیہ نگار اور قابل قدر صحافی سید طلعت حسین نے اپنے یوٹیوب کے حالات ِ حاضرہ کے پروگرام STH میں اسے "کشیتاں جلاتی اور پل توڑتی "تقریر قرار دیا ہے۔ 

میاں محمد نواز شریف "کشتیاں اور پل جلاتی "  یا"  کشتیاں اور پل توڑتی" تقریر پر کیسے آمادہ ہوئے اس کا پس منظر اور پیش منظر جناب نصرت جاوید نے اپنے اسی کالم میں بیان کیا ہے لیکن اس سے زیادہ واضح، کھلا اور دلچسپ جائزہ سید طلعت حسین نے اپنے یوٹیوب پر STH کے عنوان سے حالات حاضرہ کے پروگرام میں پیش کیا ہے۔ سید طلعت حسین نے اپنے ایک حالیہ پروگرام میں اس بارے میں جو تفصیل پیش کی ہے وہ انکشافات کا درجہ رکھنے کے ساتھ دلچسپی کی بھی حامل ہے۔ سید طلعت حسین کے مطابق میاں محمد نواز شریف کے ایک نمائندے نے ستمبر کے پہلے ہفتے کے اختتام یا دوسرے ہفتے کے آغاز پر آرمی چیف جنر ل قمر جاوید باجوہ سے تفصیلی ملاقات کی جس میں آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید بھی موجود تھے۔ اس ملاقات میں میاں محمد نواز شریف کے نمائندے جو بعد میں انکشاف ہوا کہ وہ سابق وفاقی وزیر نجکاری و سابق گورنر سندھ جناب محمد زبیرہیں جو تحریک انصاف کے سینئر وفاقی وزیر اسد عمر کے بڑے بھائی بھی ہیں۔ انہوں نے آرمی چیف کو میاں محمد نواز شریف کا پیغام پہنچایا کہ کوئی ریلیف یا رعایت نہیں مانگ رہے لیکن اب وہ کوئی دباؤ اور قد غنیں برداشت نہیں کریں گے۔ انہیں اور ان کی بیٹی کو اگر مزید دیوار سے لگایا گیا تو وہ اپنی چپ کو توڑنے پر مجبور ہی نہیں ہونگے بلکہ سیاست میں ایسا لائحہ عمل بھی اختیار کریں گے جو مقتد ر حلقوں کو شاید پسند نہ آئے۔اس پر آرمی چیف کیطرف سے میاں محمد نواز شریف کے مبینہ نمائندے کو جواب دیا گیا کہ اگلے تین سالوں تک یہ نظام ایسے چلے گا۔ اس میں کسی تعطل یا احتجاج کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ یہاں تک کہ اگر احتجاج کے لیے دو آدمی مال روڈ پر نکلنا چاہیں گے تو اس کی بھی اجازت نہیں دی جائے گی۔ سید طلعت حسین کے مطابق اگر چہ یہ ایک جامع، مربوط اور مفصل ملاقات تھی جس میں جہاں گلے شکوے ہوئے، ماضی میں ملک کی ابتر معاشی صورت حال اور دوسری خرابیوں کا ذکر ہوا وہاں ملک کی موجودہ معاشی اور سیاسی صورت حال بھی زیر بحث آئی۔ لیکن فریقین اپنے اپنے موقف پر اس طرح قائم رہے کہ ایک نے سنایا تو دوسرے نے سُنا، دوسرے نے سنایا تو ایک نے سُنا کا ماحول بنا رہا۔ اس طرح یہ 

ملاقات بے نتیجہ اور بے ثمر اختتام پذیر ہوئی۔

اس کے بعد کیا ہوا اس کے لیے ہم جناب نصرت جاوید کے کالم سے کچھ استفادہ کرتے ہیں۔ ان کے مطابق میاں محمد نواز شریف نے باقاعدہ اہتمام (Manure) کرکے پیپلز پارٹی کے چیئر مین جناب بلاول بھٹو زرداری کو اپنے پارٹی کے بعض راہنماوں کی طرف سے یہ ترغیب دلائی کہ وہ اے پی سی میں شرکت اور خطاب کے لیے میاں محمد نواز شریف کو دعوت دیں۔ اس طرح بلاول بھٹو زرداری نے میاں محمد نواز شریف کو اے پی سی میں شرکت کی باضابطہ دعوت دی تو میاں محمد نواز شریف جو پہلے ہی سے اے پی سی میں شرکت کے لیے تیار بیٹھے تھے فی الفور شرکت پر آمادہ ہوگئے۔ راقم یہاں اپنی ذاتی اطلاع کے مطابق یہ ذکر کرنا بھی ضروری سمجھتا ہے کہ میاں محمد نواز شریف نے اے پی سی کے انعقاد سے تین چار دن قبل (گویا پچھلے ہفتے کے دوران ہی) اپنی پارٹی کے سینئر رہنماؤں سے سخت لب و لہجہ میں خطاب کیا اور انہیں یاد دلایا کہ وہ موجودہ حکومت اور اس کی ناقص کارکردگی اور مستقل ریاستی اداروں کی حکومتی معاملات میں غیر ضروری اور آئین و قانون سے ماورا مداخلت کے خلاف آواز بلند کرنے کے لیے سینہ سپر ہو جائیں۔ جماعتی قائدین نے میاں صاحب سے مسلم لیگ ن کے موقف اور بیانیے کے حوالے سے کامل یکسوئی اور اتفاق رائے نہ ہونے کے بارے میں کچھ دبا دبا استفسار کیا تو میاں صاحب کی طرف سے انہیں واضح اور دو ٹوک جواب دیا گیا کہ مفاہمت کی پالیسی سے پارٹی کو نقصان پہنچ رہا ہے اس کی بجائے ان (میاں محمد نواز شریف) کی اختیار کردہ لائن ہی پارٹی کا بیانیہ اور موقف سمجھی جائے۔ اور اس پر عمل کیا جائے۔ پارٹی قائدین نے اس پر آمنا و صدقنا کہہ کر صاد کیا۔

معروضی حالات و واقعات کا یہ جائزہ اور درپیش صورت حال کا یہ تجزیہ اگر چہ بڑا معلومات افزاء، چشم کشا اور کسی حد تک سبق آموز ہے لیکن میاں محمد نواز شریف کے اے پی سی میں "کشتیاں جلانے اور پل توڑنے "والے خطاب کے بعد جو صورت حال بڑی تیزی سے سامنے آئی ہے اور جس طرح کی خبریں میڈیا کی شہ سرخیوں اور بریکنگ نیوز کا موضوع بنی ہیں ان کے بارے میں یہ کہنا شاید غلط نہ ہو کہ وہ بھی کچھ کم چشم کشا اور کم سبق آموز نہیں ہیں۔ان سے جہاں سیاسی اور قومی معاملات میں کچھ گوشوں سے پردہ اُٹھتا ہے وہاں سیاست دانوں کی مقتدر حلقوں کے سامنے کسی حد تک بے بسی کا اظہار بھی جھلکتا ہے۔ اے پی سی کے انعقاد کے اگلے ہی دن شیخ رشید کی طرف سے ایک ٹی وی پروگرام میں یہ خبر" لیک" کی گئی کہ پچھلے دنوں ان کی میاں شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات ہوئی ہے۔ اس پر میڈیا اور کچھ دیگر قومی حلقوں میں چہ میگوئیاں شروع ہوئیں اور قیاس کے گھوڑے دوڑائے جانے لگے تو آئی ایس پی آر کی طرف سے تفصیلی خبر میڈیا کو جاری کر دی گئی کہ آرمی چیف سے پچھلے دنوں ( اے پی سی کے انعقادسے چار دن قبل بدھ کو) پارلیمانی لیڈروں کی ملاقات ہوئی ہے جس میں گلگت بلتستان کے حوالے سے معاملات کو زیر بحث لایا گیا۔اسی دوران یہ خبر بھی سامنے آگئی کہ میاں محمد نواز شریف کے ایک نمائندے نے بھی کچھ عرصہ قبل آرمی چیف سے ملاقات کرکے میاں صاحب کا پیغام ان تک پہنچایا ہے۔(یہ وہی ملاقات کی خبر تھی جس کا انکشاف سید طلعت حسین نے اپنے پروگرام میں کیا اور جس کا ذکر اس کالم کے شروع میں آیا ہے)۔ ملاقات کی یہ خبر سامنے آئی تو مسلم لیگی قائدین بالخصوص محترمہ مریم نواز نے اس کی تردید کرنی ضروری سمجھی لیکن آئی ایس پی آر کو کون خاموش کرا سکتا تھا۔ اسی رات آئی ایس پی آر کے سربراہ جنرل افتخار بابر نے ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران ایک عمومی سوال پر میاں محمد نواز شریف کے نمائندے (مبینہ) سابق گورنر سند ھ محمد زبیر کی آرمی چیف سے ایک نہیں دو ملاقاتوں کی تفصیل بیان کر دی۔ پرنٹ اور الیکڑونک میڈیا نے ملاقات یا ملاقاتوں کی خبر کو شہ سرخیوں اور بریکنگ نیوز کے صورت میں ہائی لائٹ کیا تو سابق گورنر سندھ جناب محمد زبیر کی طرف سے یہ اعترافی بیان بھی سامنے آگیا کہ ان کی آرمی چیف سے ملاقات ضرورہوئی ہے لیکن میاں محمد نواز شریف کے نمائندے کی حیثیت سے نہیں۔

یہ تفصیلات کافی چشم کشا اور معلومات افزاء ہیں۔ ان کو سامنے رکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اے پی سی کے انعقاد اور اس میں کی جانے والی میاں محمد نواز شریف کی "کشتیاں جلاتی اور پل توڑتی "کا ٹائٹل پانے والی تقریر سے حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کرنے کا جو ماحول اور فضا بنی تھی یقینا اس کو نقصان پہنچا ہے۔ آگے چل کر کیا ہوتا ہے اس بارے میں مجھ جیسے "عامی" کچھ نہیں کہہ سکتے البتہ میاں محمد نواز شریف کے حلقہ مشاورت میں شامل ان کی قریبی ساتھی ہی اس بارے میں کسی موقف یا نقطہ نظر کا اظہار کر سکتے ہیں۔ تاہم اس کے لیے ضروری ہوگا کہ جو بات بھی کی جائے وہ حقائق کو چھپانے والی نہیں بلکہ حقائق کے مطابق ہو ورنہ اسی طرح کی خفت کا سامنا کر نا پڑے گا جو پارلیمانی نمائندوں اور میاں محمد نواز شریف کے مبینہ نمائندے کی آرمی چیف سے ملاقاتوں کی خبریں چھپانے سے کرنا پڑا ہے۔


ای پیپر