جماعت اسلامی آگے بڑھے
29 ستمبر 2020 (13:40) 2020-09-29

سیاسی درجہ حرارت ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتا جارہا ہے، مہنگائی، بد امنی، نا انصافی اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی نے عوام کو مشکلات کی دلدل میں دھکیل رکھا ہے، ایسے میں محاذ آرائی کا بڑھنا ہرگز غیر فطری نہیں، اپوزیشن کی جماعتیں، حکومت اور اس کے اتحادیوں کے سامنے آنے کی تیاریاں کر رہی ہیں، آل پارٹیز کانفرنس ہوچکی، علامیہ سامنے آچکا، تمام اہم سیاسی پارٹیاں صف بندی کررہی ہیں، ایسے میں کبھی کبھار کوئی پوچھ لیتا ہے کہ جماعت اسلامی کہاں ہے؟ تو جواب ملتا ہے کہ وہ کسی سائیڈ پر نہیں، بے شک ہر پارٹی کو اپنے فیصلے خود کرنے کا مکمل حق ہے، باہر بیٹھے لوگ تبصرے کرسکتے ہیں،، تجزیہ کار ماحول کے مطابق رائے دے سکتے ہیں، حتمی فیصلہ مگر ان جماعتوں نے خود ہی کرنا ہوتا ہے، ایک بڑی دینی سیاسی جماعت آج اس حال کو کیسے پہنچ گئی کہ سیاسی منظر نامے میں اس کا وجود سکڑ کر اس سطح پر آگیا ہے کہ اب جماعت اسلامی میں بھی ق لیگ کی طرز پر غیر معروف سیاسی کارکنوں کی شمولیت کا اعلان بڑے فخر سے کیا جاتا ہے،نوبت یہاں تک آچکی ہے کہ جب کشمیر پر ایک بڑی کانفرنس کرانے کے لیے حکام بالا سے اجازت مانگی گئی تو صاف جواب مل گیا، جماعت اسلامی کا حجم اس سطح پر آگیا ہے کہ جب یہ اشارہ ملا کہ وہ کسی نئے سیاسی اتحاد کا حصہ نہیں بننا چاہتی تو کسی نے منانے کی کوشش بھی نہیں کی، ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جماعت اسلامی کسی اتحاد میں شامل ہو یا علیحدہ رہے، اپنی حیثیت کو ہر صورت منوائے، جماعت اسلامی پر یہ وقت اچانک نہیں آیا بلکہ واقعات اور ناقص منصوبہ بندی کے تسلسل نے پارٹی کے استحکام کو کاری ضرب لگائی، اس بات میں کوئی شک نہیں کہ بانی جماعت مولانا مودودی مرحوم صدی کی عظیم ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔جنہوں نے نہ صرف پورے خطے بلکہ پوری دنیا پر اثرات مرتب کیے۔ جماعت اسلامی کی بنیاد رکھتے ہوئے واضح پروگرام کے تحت اسے آگے بڑھایا گیا۔یہ الگ بات ہے کہ جماعت اسلامی وہ سیاسی کامیابیاں حاصل نہ کرسکی جن کی وہ مستحق تھی۔ تاہم اس کی بات کا وزن اور سٹریٹ پاور دو ایسے عوامل تھے جو دھائیوں تک برقرار رہے،1971ء میں  مشرقی پاکستان میں شورش برپا ہوئی تو جماعت اسلامی اور اسلامی جمعیت طلبہ کے وابستگان نے البدر اور الشمس بنا کر پرتشدد گروہوں سے مقابلے کے لیے ریاستی اداروں کا کھل کر ساتھ دیا۔مولانا مودودی اس صورتحال پر بہت دل گرفتہ ہوئے۔وہ جماعت اسلامی اور اس کی ذیلی تنظیموں کے پلیٹ فارم سے کسی طرح کی مسلح کاروائیوں کے مکمل طور پر مخالف تھے۔ ان کا اصولی موقف تھا کہ جنگ اور جہاد ریاست کی ذمہ داری ہے، مولانا نے اپنی ناراضی کا اظہار ان الفاظ میں کیا ”ان لوگوں نے میری عمر بھر کی کمائی برباد کردی“۔جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے کچھ عرصہ بعد مولانا مودودی خالق حقیقی سے جا ملے۔فوجی آمر نے خطے کی صورتحال کو دیکھ کر اسلام کا نعر ہ لگایا توجماعت اسلامی ایک بار پھر دست وبازوبن گئی۔چند مرکزی رہنما مارشل لاء دور حکومت میں وزیر بھی بنے۔ تا ہم بعد میں حکومت سے الگ ہو گئے۔اسی دور میں طلبہ یونینز پر پابندی لگی جس کا بڑا مقصد تعلیمی اداروں میں گہرا اثر و رسوخ رکھنے والی ملک گیر تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ کو نشانہ بنانا تھا۔۔دوسری جانب افغان جہاد“ میں جماعت اسلامی کو خوب استعمال کیا گیا۔روسی فوج سے لڑائی شروع ہوئی تو ہزاروں کارکن جذبہ شہادت سے سر شار ہو کر لڑنے چلے گئے۔جواں سال اور تازہ دم کارکنوں کی بڑی تعداد کی توجہ سیاست سے ہٹ گئی۔اس کا خمیازہ تنظیم کو اٹھانا پڑا۔ پھر اسی دوران کشمیرکا جہا د بھی شروع ہوگیا۔وہ جماعت اسلامی جسے اپنے عظیم بانی کے مشن پر رہتے ہوئے اسلامی اصولوں پر سماجی انقلاب برپا کرنا تھا۔سیاست پر بھی اپنا پورا فوکس نہ رکھ سکی۔اس دوران سیاست کچھ یوں ہوئی کہ جماعت اسلامی نے اسٹبلشمنٹ کے کہنے پر 1988 میں آئی جے آئی میں شمولیت اختیار کی۔اپنی شناخت بڑی حد تک اس لیے برقرار رکھی کہ موثر سٹریٹ پاور، معقو ل تعداد میں پکے ووٹ حاصل کرنیکی خوبی اور الیکشن لڑنے کی مہارت کو نظر انداز کرنا کسی کے لیے ممکن نہ تھا۔1985ء،1988ء،اور پھر 1990ء میں جو ہوا وہ تو پلان کا حصہ تھا ہی مگر1993 میں جماعت اسلامی نے اسلامک فرنٹ کے نام سے اپنا پلیٹ فارم بنا کر پورے ملک میں الیکشن لڑا۔ کہا جاتاہے کہ“ اوپر والوں“ نے جماعت اسلامی کو 40سے60تک سیٹوں کا یقین دلایا تھا۔ الیکشن نتائج سامنے آئے تو پتہ چلا کہ مسلم لیگ ن کو نئے حکومتی سیٹ اپ سے باہر رکھنے کا منصوبہ کامیاب ہو گیا مگر اس کے ساتھ ہی ن لیگ کا بھی یہ خوف اتر گیا کہ جما عت اسلامی کو ساتھ ملائے بغیر الیکشن لڑا یا جیتا نہیں جا سکتا۔قاضی حسین احمد کی سربراہی میں جماعت نئے نعرے“ ظالمو قاضی آرہا ہے“ کے ساتھ سامنے آئی مگر گیم سنبھل نہ سکی۔ قاضی حسین احمد کبھی بینظیر حکومت گرانے کیلئے راولپنڈی تک مارچ کرتے پائے گئے اورکبھی رائے ونڈ فارم میں گھس کر نواز شریف حکومت کو تگنی کا ناچ نچانے کی دھمکیاں دیتے رہے۔1999ء میں امن مذاکرات کے لیے بھارتی وزیر اعظم واجپائی کی لاہور آمد پرپورا شہر میدان جنگ کا منظر پیش کرتا رہا، تقریب کے لیے اسلام آباد سے آنے والے کئی غیر ملکی سفارتکاروں کی گاڑیاں بھی توڑ پھوڑ کا نشانہ بنیں، کئی سفیروں کو پناہ لینے کے لیے ادھر ادھر بھاگتے دیکھا گیاان واقعات سے پاکستان کی عالمی سطح پر بدنامی ہوئی، جنرل مشرف کے مارشل لاء کے دوران متحدہ مجلس عمل بنی تو جماعت اسلامی کو ایک بار پھر صوبہ سرحد(کے پی کے) میں حکومت کا حصہ بننے کا موقع مل گیا۔فوجی آمر سے نوک جھوک چلتی رہی مگر مولانا فضل الرحمن،قاضی حسین احمد اور ان کے دیگر ساتھیوں نے اس تمام دور میں اپنی پوزیشن کو بہتر بنایا۔ 2002ء کے انتخابات میں زیر عتاب ن لیگ نے مجبوراً لاہور جیسے شہر میں جماعت اسلامی سے اتحاد کرکے اپنی سیٹیں“تحفہ“کے طور پر پیش کر دیں، 2008ء آیا تو گیم پھر پلٹنا شروع ہو گئی۔ 2013ء  کے الیکشن سے پہلے ہی قاضی حسین احمد نے جماعت اسلامی کی امارت چھوڑ دی۔ سخت گیر مگر کھرے موقف والے منور حسن جماعت اسلامی کے سربراہ بن گئے۔طالبان کے خلاف جنگ اور بعض دیگر امور پر ان کے اسٹیبلشمنٹ سے شدید اختلافات منظر عام پر آئے۔ ایسا بھی ہو ا کہ منورحسن کے بیان کی مذمت میں آئی ایس پی آر کو جوابی بیان جاری کرنا پڑا۔ اسی دوران جماعت اسلامی کے پی کے 

میں تحریک انصاف کی حکومت کا حصہ بن گئی۔ غیر متوقع طور پر منور حسن کو امیر جماعت کے اگلے انتخاب میں فارغ کردیا گیا، سراج الحق امیر جماعت بن گئے۔توقع کی جارہی تھی کہ جماعت اسلامی کی نئی جواں سالہ قیادت پارٹی میں نئی روح پھونکے گی مگر ایسا کچھ نہیں ہوا بلکہ پارٹی تیز ی کے ساتھ سکڑنا شروع ہو گئی پھر یہ عالم آیا کہ ملی مسلم لیگ اور تحریک لبیک جیسی اچانک بننے والی جماعتیں بھی الیکشن میں جماعت اسلامی سے کہیں زیادہ ووٹ لینے لگیں۔الیکشن 2018ء میں خود سراج الحق نے دوران ووٹنگ ایک اینکر کو فون کر کے بتایا کہ ان کے ساتھ دھاندلی ہو رہی ہے۔سکیورٹی اہلکاروں نے ووٹوں کی گنتی شروع ہونے سے پہلے ان کے پولنگ ایجنٹوں کو باہر نکال دیا ہے۔اس اینکر کے بقول یہ گفتگو کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی کے لہجے میں بے بسی اور مایوسی جھلک رہی تھی۔ناقدین کے اعتراضات اپنی جگہ مگر جماعت اسلامی کی ساکھ آج بھی اتنی مضبوط ہے کہ سپریم کورٹ میں پانامہ 

کیس کی سماعت کے دوران آصف سعید کھوسہ جیسے پی ٹی آئی کے پروموٹر جج ْنے ایک موقع پر کہا کہ اگر ہم آئین کی روح کے مطابق آرٹیکل 62،63کا

نفاذ کریں تو صرف سراج الحق ہی بچیں گے۔ یعنی جماعت اسلامی کے لوگ ہی اس معیار پر پورا اترتے ہیں، دوسری جانب فلاحی کام دیکھیں تو کورونا کی وبا کے دوران جماعت اسلامی کے رضا کاروں نے ملک بھر میں دن رات امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا، ان کی کارکردگی محدود وسائل کے باوجود این ڈی ایم اے سے بڑھ کر تھی،آج تنظیم بھی موجودہ ہے، منشور بھی پھر یہ چھوٹی اور غیر نمایاں پارٹی کا تاثر کیوں پیدا ہوا، سراج الحق کی دیانتداری اپنی جگہ مگر سیاسی حلقوں میں ان کی پالیسوں کی کوئی ساکھ نہیں، جماعت اسلامی کی بظاہر غیر جانبدارنہ پالیسی کو اکثر حلقے اسٹیبلشمنٹ کی غلامی اور دوغلے پن سے تعبیر کرتے ہیں، پانامہ کیس میں وہ عدالت چلے جاتے ہیں جب پی ٹی آئی حکومت کے میگا سکینڈل یاپاپا جونز پیزا کیس آتا ہے تو چپ سادھ لی جاتی ہے، جماعت کے متعلق یہ تاثر سیاسی تنہا ئی کو مزید بڑھا رہا ہے، جماعت اسلامی بے شک اپوزیشن سے نہ ملے اور نہ ہی حکومت کی جانب دست تعاون بڑھائے مگر اپنا وجود تو منوائے، مولانا مودودیؒ کو“مرد آہن“جنرل ایوب خان نے زچ ہوکر کہا تھا کہ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ سیاست میں علما کا کیا کام ہے، مولانا مودودی جواب دیا پہلے یہ بتائیں کہ سیاست میں فوج کا کیا کام ہے؟ آج 2020 کے اس اہم سیاسی مرحلے پر جماعت اسلامی کا ملکی سیاست میں موثر اور واضح کردار نہ ہونا بذات خود ایک المیہ ہے، قوم کشمیر فروشی کا حساب چاہتی ہے اور جماعت اسلامی کشمیر پر کانفرنس کے لیے اجازت طلب کررہی ہے، حد ہے، جماعت نے سیاسی طور پر زندہ رہنا ہے تو آگے بڑھنا ہوگا، دینی سیاسی جماعتوں کو لاحق عالمی و ملکی چیلنجوں کے بعد کمزوری دکھانا خود کو استعماری قوتوں کے سامنے سرنڈر کرنے کے مترادف ہے،اگر جماعت اسلامی کی قیادت کو یہ خدشہ ہے کہ اپوزیشن کے ساتھ ملنے سے ساکھ کو خطرہ لاحق ہے تو اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات بوسہ مرگ ثابت ہوسکتے ہیں، جماعت اسلامی کا قصور یہی ہے کہ وہ عوام میں اپنی پالیسی واضح کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی،پاکستانی عوام کا ایک حصہ آج بھی جماعت اسلامی سے عملی کردار ادا کرنے کی امید لگائے بیٹھا ہے، یہی اصل چیلنج ہے، دیکھتے ہیں جماعت اس امتحان پر پورا اترتی ہے یا تذبذب پر مبنی بے مقصد سیاست جاری رہتی ہے۔


ای پیپر