غیر مسلح عوام اور ناکارہ پارلیمنٹ
29 ستمبر 2020 (13:14) 2020-09-29

خیال تھا کہ موٹروے درندگی کے واقعہ کے متعلق کچھ دیر سنجیدگی سے سوچ کر قانون سازی کی جائے گی اگر کوئی سر عام پھانسی کے خلاف ہے تو پھانسی گھاٹ میں ہی پھانسی دی جائے اور ویڈیو کا وائرل ہوجانا بھی سر عام ہی ہو گا۔ اگر چیئر مین نیب کے متعلق ”جعلی“ ویڈیو وائرل ہو سکتی ہے تو کونسی بچ سکتی۔ حیرت ہے فوج کی توہین کہ مسلح افواج یا اس کے کسی رکن کا تمسخر اڑانا جرم ہو گاتو تعزیرات پاکستان ضابطہ فوجداری میں شامل کر دیا گیا گویا یہ خاموشی کو زبان کا درجہ دینے والی بات ہے،پتہ نہیں اس میں ریٹائرڈ افراد یا محکمہ زراعت لکھنے والوں کا ذکر ہے کہ نہیں۔

 ان شاء اللہ وہ وقت بھی آئے گا جب عوام کے تمسخر اور توہین پر قانون سازی ہو گی۔ عوام سے جھوٹ بولنا توہین عدالت کی طرح جرم ہو گا۔ غیر مسلح پارلیمنٹ پرلعنت بھیجنا بھی جرم ہو گا؟ اور اگلے روز بیرون ممالک کے آقاؤں کی رضا کے لیے درجن بھر کے قریب بل غیر جمہوری انداز میں پاس کر دیئے جس کے بعد ”وزیراعظم“ کا جگتوں کا پروگرام سناجسے پارلیمنٹ سے خطاب کا نام دیا گیا۔ سوشل میڈیا اور ٹویٹر ٹرینڈ پر سیاست کرنے والے وزیراعظم فرماتے ہیں میڈیا پریشان آدمی کے خیالات پوچھتا ہے۔ ظاہر اب شہباز گل، ذلفی بخاری، سہگل، بابر اعوان وغیرہ سے تو کوئی نہیں پوچھے گا۔ نواز شریف نے ٹھیک کہا کہ بجلی کے بل بم کی طرح گرتے ہیں۔ بزدار کہتا ہے کہ ہم نے سابقہ حکومت کا کوئی پروگرام بند نہیں کیا حالانکہ یہ کر بھی نہیں سکتا تھا کیونکہ منصوبوں کے مراحل تقریباً مکمل ہو چکے تھے، ایسے میں ان کو بند کرنا ایسے ہی تھا جیسے حکومت نہانے کے بعدکپڑے نہ پہنے۔ حالیہ قوانین کے پاس ہونے کا ردعمل کیا ہوا کہ اپوزیشن کی اے پی سی نے 100 دن کا الٹی میٹم دے دیا جس میں میاں نواز شریف، بلاول بھٹو، مولانا فضل الرحمن کی تقریر کا ایک ایک لفظ اس قانون کی 10/10 خلاف ورزیاں کر گیا۔ اپوزیشن نے انقلابی اور جمہوری 26 نکاتی ایجنڈے کا اعلامیہ جاری کر دیا۔ بلاول بھٹو مرکزی سطح پر ابھر کر سامنے آئے۔ حکومتی نمائندوں کی باتیں اور جوابات بے معنی اور پرانی فلم لگے۔ حکومت کا ویڈیو کوریج کو روکنا ممکن نہ تھا۔ آج وہ دور نہیں رہا سوشل 

میڈیا کا دور ہے۔ دنیا میں لاکھوں ٹی وی چینلز ہیں اور اربوں موبائل کیمرے ہیں لہٰذا روکنا ممکن نہیں تھا۔ دراصل اپوزیشن نے پورے نظام پر سوال اٹھا کر درست سفر کا آغاز کیا۔ نواز شریف اور اپوزیشن کی اے پی سی میں تقریروں سے لگتا ہے کہ طاقت کاسرچشمہ کہیں اور ہے۔ دنیا میں سب سے مشکل کام نشئی کی باتوں، دعووں کو سمجھنا، جواب دینا اور اعتبار کرنا ہے۔ حکومت اس وقت اقتدار کے نشے میں دھت ہے کہ وزراء ایک دوسرے پہ گر رہے ہیں۔ حتیٰ کہ اپنی ہی ڈی میں گول کر رہے ہیں۔ یہ سول حکومت تو ناجائز تجاوزات نہیں ہٹا سکتی۔ کسی ایک سول محکمہ میں کرپشن ختم نہیں کر سکتی۔ جنسی زیادتی والے ناکارہ ہوتے ہیں کہ نہیں پارلیمنٹ اور حکومت ناکارہ ہوچکے۔ عمران خان کہتے ہیں اپوزیشن استعفیٰ دے الیکشن کرا دوں گا۔ اپوزیشن کو ایک سیٹ نہیں ملے گی۔ صرف الیکشن کی جگہ سلیکشن کا لفظ استعمال کر لیں۔ انتظامی امور کا عالم یہ ہے کہ آئی جی کو ہدایت کی گئی ہے سی سی پی او کی بھرپور مدد کریں بجائے اس کے کہ سی سی پی او کو حکم دیا جاتا کہ گو بائی دی بک اور آئی جی صاحب کو obay کرنا ہے۔ محکموں کی توڑ پھوڑ کے بعد اب تذلیل کا عمل جاری ہے۔ ایک واقعہ یاد آ گیا۔جس میں ایک امیر خاتون نے ضد بازی میں قیمتی برانڈڈ سوٹ خرید کر دوسری خاتون کو نیچا دکھانے کے لیے شادی کی تقریب میں اپنی نوکرانی کو پہنا دیا تا کہ دوسری امیر خاتون کی توہین کی جائے۔ میرے خیال سے عمران خان نے بطور وزیراعظم اقتدار دینے والوں کو زیادہ تابعداری کی بولی لگا کر وزارت اعلیٰ کا برانڈڈ سوٹ بزدار کو پہنا دیا۔ جب بیورو کریسی کنٹرول نہ ہوئی تو اب تک 4 چیف سیکرٹری، 5 آئی جی تبدیل کر کے بھی قرار نہ آیا۔ بالآخر سی سی پی او لاہور کا لباس عمر شیخ اور آئی جی پنجاب کا لباس انعام غنی کو پہنا دیا۔ اب ہر عہدے پہ بزدار بیٹھا ہے انجام وطن کیا ہو گا؟ اے پی سی کے فیصلوں پر تبصرے اور خبریں سوشل میڈیا پر آ چکی ہیں۔ میرے خیال میں جب تک اپوزیشن اقتدار کے حصول سے بے نیاز ہو کر عوام کی نمائندگی نہیں کرتی قوم کو منزل نہیں مل سکتی۔ نواز شریف پر صرف شوکت خانم ہسپتال کو زمین اور 50 کروڑ روپے دینے کا مقدمہ نہیں باقی تو سب ہے۔ چور چور کے بعد احتساب سے بچتے ہیں یا NRO مانگتے ہیں کا دعویٰ بھی وقعت کھو گیا۔ میں نے اس حوالے سے شیخ رشید کو جس بوکھلاہٹ کا شکار دیکھا، پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔ وہ مولانا فضل الرحمن کی آرمی چیف سے ملاقات کا الزام ایسے لگاتے ہیں جیسے خدانخواستہ وہ بھارتی آرمی چیف سے ملے ہیں جبکہ مولانا نے کہا کہ پاک فوج وضاحت کرے شیخ رشید خو د سے باتیں کر رہا ہے یا فوج کا نمائندہ ہے ورنہ اسے پٹہ ڈالیں اور غفور حیدر ی نے کہہ دیا کہ ہمیں آرمی چیف نے کہا تھا کہ ہم نواز شریف کے خلاف جو کر رہے ہیں آپ رکاوٹ نہ بنیں نہ جانے یہ ملک کدھر جا رہا ہے اور نہ جانے کیا کیا انکشافات مزید ہوں گے۔ 

اگر تقریر کر کے نواز شریف نے اپنا نقصان کیا ہے تو پھر مخالفین کی ہوائیاں کیوں اڑی ہوئی ہیں۔ اگر بلاول کہتے ہیں کہ پارلیمنٹ کا قبضہ چھڑانا ہے، عذاب سے نجات دلانی ہے تو ماجرا کیا ہے۔ رہی بات کسی اشتہاری کا خطاب تو یاد رہے دھرنا سے لے کر سپریم پورٹ میں میاں نواز شریف کے خلاف ریلیف لینے تک عمران خان اشتہاری ہی تھے، یہ ہماری تاریخ ہے۔ ٹروتھ کمیشن اور دیگر مطالبات جائز مطالبات ہیں۔ تمام انتخابات اور سیاسی مقدمات کے فیصلہ جات سیاسی جماعتوں کی توڑ پھوڑ اور قیام کی تاریخ نہتے اور غیر مسلح عوام کے سامنے لا کر آئندہ نئے عمرانی معاہدہ کے تحت قومی سفر شروع کرنا چاہیے۔ شیخ رشید کے بیانات پاک فوج کے کردار کو متنازعہ بنا رہے ہیں۔ اس نے اتنا گند اچھالا ہے کہ اس دھول میں موجودہ حکومت غائب ہو جائے گی۔ نواز شریف جونیجو تنازعہ میں بلکہ 1999ء تک شیخ رشید نواز شریف کے ساتھ تھا۔ یاد رہے اور کبھی نہیں بھولنا کہ وطن عزیز کی سیاست، اقتدار اعلیٰ میں بیرون ملک قوتوں اور اب ملٹی نیشنل کمپنیوں کے کردار کو نظر انداز نہیں کیاجا سکتا۔ 

اے پی سی رہنماؤں نے اپنے اعلامیہ اور تقریروں میں وزیراعظم کو بار بار سلیکٹڈ کہہ کر مخاطب کیا۔ اس اے پی سی میں دراصل اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کے تعلقات کی تاریخ پر کھل کھلا کر بات کی گئی۔اب لبرل کے ساتھ بنیاد پرست سیاسی جماعتیں یکجا ہیں۔ سیاسی معرکہ فیصلہ کن موڑ پہ ہے اب زندہ رہنے کی خاطر مرنا ہو گا اور یہ یقینا بہت مشکل کام ہے۔ اے پی سی تو اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کے خلاف تھی مگر اس کا جواب اب نیب سے آئے گا دیکھتے ہیں اس یدھ میں عدلیہ کا کیا کردار ہوتا ہے۔ بہرحال اب کسی کے پاس یوٹرن کی گنجائش باقی نہیں رہی۔ 


ای پیپر