اقوام متحدہ کا بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ریلوے ٹریک کے اطراف اڑھائی لاکھ آبادی کو بے دخل کرنے کے فیصلے پر اظہارتشویش
29 ستمبر 2020 (11:56) 2020-09-29

 جنیوا : اقوام متحدہ نے دارالحکومت نئی دہلی میں ریلوے ٹریک کے اطراف کچی بستوں میں رہنے والے اڑھائی لاکھ افراد کو اعتماد میں لئے بغیر بے دخل کرنے کے بھارتی فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اقوام متحدہ نے جنیوا سے جاری بیان میں کہا ہے کہ مناسب رہائش سے متعلق اقوام متحدہ کے خصوصی رپورٹر بالاکرشنن راجا گوپال کی رپورٹ کے مطابق حکومت نے فیصلہ کرنے سے قبل متاثرہ افراد کا موقف نہیں سنا۔ اس سے قبل بھارتی سپریم کورٹ نے متاثرہ 48 ہزار گھرانوں کو جگہ خالی کرنے کے لئے تین ماہ کا وقت دیا تھا۔

ناقدین نے عدالت کے ابتدائی فیصلے پر بھی تشویش کا اظہار کیا جس میں کہا گیا تھاکہ کسی کو بھی عدالتی حکم کالعدم کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔ بھارتی نژاد راجہ گوپال نے فیصلے کو ریلوے لائن کے ساتھ رہائش پذیرکم آمدنی والے طبقے کو انصاف دینے سے مکمل انکار کے مترادف قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ بنیادی انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون کاآرٹیکل 2.3 ہر شخص کو عدالتی ریلیف حاصل کرنے کا صوابدیدی حق دیتا ہے، بھارتی حکومت اس کی مکمل خلاف ورزی کی مرتکب ہوگی۔ بین الاقوامی ماہر انسانی حقوق نے متنبہ کیا کہ لوگوں کو بے گھر کرنا انسانوں کے معاشی، سماجی اور ثقافتی حقوق سے متعلق بین الاقوامی عہد نامے کے تحت بھارت کی ذمہ داریوں کے منافی ہے۔راجا گوپال نے انخلا کے حکم کو سپریم کورٹ کی جانب سے عارضی طور پر معطل کرنے کا خیرمقدم کیا تاہم یہ کہا کہ عدالت کی طرف سے دیا گیا چار ہفتوں کا وقت بین الاقوامی معیار کے مطابق لوگوں کی منتقلی کے لئے ناکافی ہے۔

انہوں نے بھارتی حکومت پر زور دیا کہ وہ کووڈ ۔ 19 کے ممکنہ پھیلاﺅ سے بچنے کے لئے اپنے قوانین پر عمل کرے اور لوگوں کی اس طرح وسیع پیمانے پر بے دخلی کا منصوبہ ترک کرے۔ راجا گوپال نے کہا کہ حکومت لوگوں کو ممکنہ ریلوے حادثات سے بچانا چاہتی ہے تو متاثرہ افراد کے ساتھ مشاورت سے نقل مکانی کاایسا منصوبہ تیار کرے جس میں بین الاقوامی قوانین کے مطابق متاثرین کو اُن کی موجودہ رہائش کے مقام سے قریب تر بسایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی وبائی بیماری کے پیش نظر حکومت کا موجودہ منصوبہ ریلوے زون میں رہنے والوں کو صحت کے اضافی خطرات سے دوچار کرے گا ۔راجا گوپال نے بھارتی سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے کیونکہ انسانی حقوق کے حوالے سے اس کے فیصلوں کی اچھی شہرت ہے۔ انہوں نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے پر بین الاقوامی خدشات کو سپریم کورٹ تک پہنچائے۔


ای پیپر