افغان امن عمل کو نقصان پہنچانے والے عناصر سے خبردار رہنا ہوگا: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی
29 ستمبر 2020 (11:45) 2020-09-29

اسلام آباد: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ افغانستان میں مفاہمتی عمل کی کامیابی کو اپنی کامیابی سمجھتے ہیں۔ افغانستان میں امن اور استحکام پاکستان کیلئے بہت اہم ہے

انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز کے زیر اہتمام کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ بین الافغان مذاکرات کا آغاز بہت اہم قدم ہے۔ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ سے مذاکرات میں امن عمل پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ چیئرمین افغان مفاہمتی کونسل کا دورہ پاکستان اہم پیشرفت ہے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ خطے میں امن افغانستان کے امن سے مشروط ہے۔ عالمی برادری افغان مسئلے کے سیاسی حل کی حمایت کر رہی ہے۔ اس بات کا اعتراف ہوا ہے کہ افغان مسئلہ مذاکرات سے حل ہوگا۔

شاہ محمود قریشی نے زور دیا کہ افغان قیادت کو قیام امن کے اس موقع سے فائدہ اٹھانا اور ہمیں امن عمل کو نقصان پہنچانے والے عناصر سے خبردار رہنا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ افغان عوام نے کرنا ہے۔ افغان عوام پر مسئلے کا کوئی حل مسلط نہیں کیا جا سکتا۔ افغانستان میں امن علاقائی ترقی کیلئے ناگزیر ہے۔

اپنے خطاب میں وزیر خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اسلام آباد اور کابل کو بھی معاملات کے حل کیلئے آگے بڑھنا ہوگا۔ افغان مہاجرین کی باوقار واپسی امن کیلئے ضروری ہے۔ ہمیں حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے مشترکہ مستقبل کی جانب بڑھنا ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے دو ٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور افغانستان میں امن واستحکام ایک دوسرے سے مشروط ہے۔ افغانستان کے اندورنی معاملات میں دخل اندازی کی پالیسی پر یقین نہیں رکھتے۔


ای پیپر