کیسے کیسے لوگ ہمارے جی کو جلانے آجاتے ہیں! 
29 ستمبر 2020 2020-09-29

 گزشتہ ہفتے ایڑی چوٹی کا پورا زور لگاکر آئی جی پنجاب نہ بن سکنے کا دُکھ اپنے چھوٹے سے دل میں لے کر بطور آئی جی موٹرویز ریٹائرہونے والے شہرت پسند پولیس افسر کسی چینل پر بیٹھ کر موجودہ آئی جی پنجاب انعام غنی پر الزام لگارہے تھے کہ وہ ایک کرپٹ پولیس افسر ہے جس نے شاید 2012ءمیں بطور ڈائریکٹر ایف آئی اے پیسے لے کر جعلی پاسپورٹ رکھنے والے کچھ لوگوں کو برطانیہ بھجوایا تھا۔ اس واقعے کی باقاعدہ انکوائری ہوئی تھی، انکوائری افسر ڈاکٹر شعیب نے انعام غنی کو قصوروار ٹھہرایا تھا “ ....ریٹائرڈ پولیس افسر نے انکوائری افسر ڈاکٹر شعیب کو بالکل اُسی طرح کا ایماندار قرار دیا جس طرح کا ایماندار وہ خودکو خود بخود قرار دیتے ہیں، ....ایک زمانے میں اِس ریٹائرپولیس افسر کا میرے ساتھ بڑا یارانہ تھا، پھر یہ ہوا میرے لکھے ہوئے اپنے بارے میں ایک جملے سے وہ مجھ سے ناراض ہوگئے، اور میں نے بھی اِس پر شکر ادا کیا کہ ہردوسرے چوتھے روز اُن کی پُرزور فرمائش پر اُن کے بارے میں جو جھوٹ سچ مجھے لکھنا پڑتا تھا اُس سے نجات مل گئی۔ میرے جس جملے پر وہ ناراض ہوئے اب وہ بھی سن لیں، میں نے اپنے ایک کالم میں اُن کے بارے میں دوستانہ انداز میں یہ لکھ دیا ”وہ بہت ایماندار پولیس افسر ہیں، یہ بات اُنہوں نے مجھے خود بتائی ہے“ ....ہلکا پھلکا مزاحیہ سا یہ ایک جملہ بھی اُن سے برداشت نہ ہوا، جبکہ اس سے پہلے اپنے کئی کالموں اور تقریروں میں اُن کی خوشامد کی میں انتہا کرچکا تھا، جس کی معافی میں آج تک اپنے اللہ سے اس خدشے کے تحت اکثر مانگتا رہتا ہوں میرے تمام گناہ شاید معاف ہو جائیں، یہ مگر نہیں ہوگا، .... اب ذرا یہ بھی سن لیں اِس ریٹائرڈ پولیس افسر سے میرا تعلق جُڑاکیسے تھا ؟ یا جوڑا کس نے تھا؟،یہ شاید 1992ءکی بات ہے، موصوف اُس وقت لاہور میں ایس پی سٹی تھے، اُن دنوں سٹی میں ایک برقع سکینڈل بڑا مشہور ہوا تھا، ایک گیسٹ ہاﺅس سے کچھ فحاشہ عورتیں پکڑی گئی تھیں، اُن کے ساتھ کچھ نامور شخصیات بھی پکڑی گئیں، ایک معروف کالم نویس بھی اُن میں شامل تھے، مبینہ طورپر اُن کا نام اِس سکینڈل سے نکال دیا گیا تھا، کیونکہ وہ اُس وقت کے حکمرانوں (شریف برادران) کے بہت لاڈلے تھے، میرا اُن کے ساتھ تعلق ایسے جُڑا وہ اُن دنوں ایم اے او کالج میں پڑھاتے تھے اور میں گورنمنٹ کالج لاہور پڑھتا تھا، اُن دنوں ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں سے ملنے کا مجھے بہت ”ٹھرک“ تھا، ہم نے گورنمنٹ کالج لاہور کے بخاری آڈیٹوریم میں اپنی مجلس اقبال کے زیراہتمام ایک مشاعرے کا انعقاد کیا، جس میں اُنہیں بطورمہمان خصوصی اِس لیے بھی مدعو کرلیا تب وہ روزنامہ نوائے وقت کے ادبی ایڈیشن کے انچارج تھے، ہمارا لالچ یہ تھا اُس میں ہمارے اِس مشاعرے کی اچھی خاصی کوریج ہوجائے گی، وہ جب مشاعرے میں تشریف لائے اُن کے ساتھ ایک پولیس افسر بھی تھے، اُنہوں نے بتایا ”یہ لاہور کے ایس پی سٹی ہیں“ ....اُنہوں نے اُنہیں باقاعدہ ایک ”فرشتہ“ قرار دیا، شاید اِس لیے، بعد میں ہمیں پتہ چلا برقع سکینڈل میں سے مبینہ طورپر اُس کالم نویس کا نام اِسی ”فرشتہ سیرت پولیس افسر“ نے نکالا تھا، .... ایس پی سٹی نے اُس مشاعرے میں اپنا ”کلام“ بھی سنایا جو اُن کی اپنی ہی خوشامد پر مبنی تقریر کی صورت میں تھا، بعد میں ہم سٹوڈنٹس کے ساتھ تعلق کا فائدہ اُنہوں نے یہ اُٹھایا گورنمنٹ کالج لاہور میں ادارہ ہم سخن ساتھی یا دیگر ادبی تنظیموں کے زیراہتمام جب بھی کسی تقریب کے اہتمام کے لیے اُن سے ہم مشورہ کرتے سب سے ”بہترین مشورہ“ وہ یہ ہمیں دیتے اُس میں اُنہیں بطور مہمان خصوصی مدعو کیا جائے یا اُن کی صدارت رکھی جائے، صدر بننے کا انہیں اتنا شوق تھا وہ چاہتے تھے ”ایس پی سٹی“ کے بجائے اُنہیں ”ایس پی صدر“ بنادیا جائے تاکہ جہاں ضرورت ہو ایس پی صدر کے بجائے وہ اپنا تعارف صرف ”صدر“ کے طورپر کرواسکیں، .... مختلف تقریبات میں بطور مہمان خصوصی شرکت کرنے کا اُ نہیں اتنا ٹھرک تھا ایک بارہم نے گورنمنٹ کالج لاہور میں ایک پنجابی تقریری مقابلہ ” زنانی گھر سجدی اے “ کے موضوع پر کروایا اُس میں بھی اُنہوں نے ہمیں مجبور کیا اُنہیں بطور مہمان خصوصی مدعو کیا جائے حالانکہ ہم نے اُنہیں سمجھانے کی بہت کوشش کی ”زنانی گھر سجدی اے“ ....پھر جب اُن کا تبادلہ اُن کے پسندیدہ شریف حکمرانوں کی خصوصی شفقت سے بطور ایس پی رحیم یار خان (اُس وقت ڈی پی او کو ایس پی کہا جاتا تھا ) ہوا ہم نے آواری ہوٹل میں اُن کے اعزاز میں اُن کی شدید خواہش پر ایک شاندار عشائیے کا اہتمام کیا جس کی صدارت کے لیے ہم نے معروف دانشور اشفاق احمد سے گزارش کی، وہ فرمانے لگے ”میںاِس پولیس افسر کو جانتا ہی نہیں میں اُس کے بارے میں کیا کہوں گا ؟“۔میں نے عرض کیا ”آپ نے جو بھی کہنا ہوا وہ پولیس افسر خود آپ کو بتادے گا “۔ محکمے میں اُن کی ایک ”وجہ شہرت“ یہ بھی تھی اُنہوں نے شادی نہیں کی تھی، چنانچہ شادی کی صورت میں اُن کا جو وقت بیگم بچوں کے ساتھ گزرنا تھا وہی وقت وہ یہ منصوبے بناتے ہوئے گزار دیتے تھے کہ بغیر کچھ کیے شہرت بلکہ سستی شہرت کیسے حاصل کی جاسکتی ہے؟ لاہور میں وہ جب ایس پی سٹی تھے تو کچھ اساتذہ کو اُنہوں نے مرغا بھی بنایا تھا،بعد میں اُن کی تصویریں میڈیا کو جاری کردیں، ممکن ہے کسی اُستاد نے اُنہیں گھوڑی بنایا ہو جس کا بدلہ اُنہوں نے اساتذہ کو مرغا بنا کر لے لیا۔ ریٹائرمنٹ تک مختلف عہدوں پر اُن کی پوسٹنگ زیادہ تر اُس ”میرٹ“ کی بنیاد پر ہوئی جو شریف برادران نے افسروں کی تعیناتی کے لیے مقرر کررکھا تھا، جس کے لیے کسی افسر کا اُن کا ذاتی وفادار ہونا اور اُن کی خوشامد کے گھٹیا معیار پر پورااُترنا تھا، شریف برادران جب بھی اقتدار سے الگ ہوئے اُن کے یہ وفادار پولیس افسر اچھے عہدے سے محروم ہوگئے پر منافقت کے اِس اعلیٰ ترین درجے پر ہمیشہ فائز رہے کہ ماتحتوں کے لئے سیاسی سفارش گناہ کبیرہ تصور کرتے رہے، البتہ اُن کے ایم این اے بھائی کی ”سیاسی سفارش“ لے کر کوئی اُن کے پاس آتا اُسے ہر حال میں اکاموڈیٹ کرنا ”پولیس رولز“ کا باقاعدہ حصہ سمجھتے تھے، دوسروں کو ہمیشہ ایسے لیکچر دیتے جن پرخودعمل نہ کرنے کی اُنہوں نے قسم اُٹھا رکھی تھی، تب ہمیں پتہ چلا وہ قسم بھی اُٹھا لیتے ہیں ، منتقم مزاجی میں وہ اپنی مثال آپ ہیں، اُن کی کسی بات سے اختلاف کرنا تو دور کی بات ہے اُن کا کوئی ماتحت اُن کی کسی بات سے اتفاق بھی پورا جھک کر پورے ادب آداب سے نہ کرتا وہ اُسے بھی اختلاف ہی کی ایک قسم سمجھتے ہیں ۔یہ ”فطرت یایہ ”وصف“ انہوں نے یقیناً اپنے اُن پسندیدہ حکمرانوں سے سیکھا ہوگا جن کے ہمیشہ وہ وفادار رہے، ریٹائرمنٹ کے بعد شریف برادران کی خصوصی بخشش کے طورپر ملنے والے ایک ٹیکنیکل عہدے سے چمٹے رہنے کے لئے عمران خان کی حکومت آنے کے بعد اُن کا ”وفادار“ ہونے کی ہلکی پھلکی کوشش بھی بذریعہ ایک وفاقی وزیر اُنہوں نے کی ،جسے ایک قلم کار نے ناکام بنادیا، ....شہرت پسند بلکہ سستے شہرت پسند وہ اس درجے کے ہیں جس روز کسی اخبار میں اُن کی کوئی خبر نہ چھپے، کسی ٹی وی پر اُن کا کوئی انٹرویونہ آئے، وہ سمجھتے ہیں زندگی کا مقصد ہی فوت ہوگیا ہے، گھٹیا ذہنیت کا عالم یہ ہے جس ادارے سے سالہا سال وابستہ رہ کر وہ ”آﺅٹ“ ہوئے اُسے بدنام کرنے کا کوئی موقع بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتے، ایک پولیس افسر بھی اُن کی شہرت پسندی کی نذر ہوچکا ہے، موٹروے میں اُسے اتنی اذیت دی اُس کا ہارٹ فیل ہوگیا، قصور اُس کا صرف یہ تھا اُس ماتحت پولیس افسر (ڈی آئی جی موٹروے) نے اپنے گھٹیا باس (آئی جی موٹروے) کے علامہ اقبال میڈیکل کالج لاہور اور ایگری کلچرل یونیورسٹی فیصل آباد میں اُن کی خواہش کے مطابق اُن کے لیکچرز کا اہتمام تو کرلیا تھا مگر اُن کے اُس شاہانہ پروٹوکول کا اہتمام نہ کرسکا جو وہ چاہتے تھے!!


ای پیپر