انصاف کرو ایسا، جو صاف نظر آئے
29 ستمبر 2020 2020-09-29

ہمارے سکواڈرن لیڈر حافظ عزیز احمد صاحب، جو بھی بات کرتے ہیں، دل کی گہرائی سے کرتے ہیں جس میں ملک وملت کا مفاد صاف نظر آرہا ہوتا ہے ، مجھے یہ یقین تھا کہ ان کا یہ جذبہ اور تڑپ شاید فوج سے ریٹائرڈ ہونے کے بعد کا ہے، کیونکہ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ ایسی سوچ اور اللہ تعالیٰ سے لولگانے کا احساس آخری عمر میں ہی پیدا ہوتا ہے، اور مسجدوں میں آنا جانا ان کا تواتر اور باقاعدگی سے شروع ہوجاتا ہے، بلکہ ریٹائرڈ ہونے والے یہ بزرگ مساجد کی انتظامیہ کا بھی حصہ بن جاتے ہیں لیکن پتہ یہ چلا کہ حافظ صاحب تو شروع ہی سے ایسے ہیں، مثلاً حافظ صاحب ہمیں بتارہے تھے، کہ حضرت عمرؓ شام کو فتح کرنے گئے تھے، ان کے دورحکومت میں اسلامی فتوحات، اور وسعت کا محض اندازہ ہی لگایا جاسکتا ہے، کیونکہ اس قدر فتوحات موجودہ دور میں بھی ناممکن دکھائی دیتی ہیں کہ محدود وسائل کے باوجود محض جذبہ ایمانی اوراخلاص کی بدولت ہی ایسے کارنامے ممکن ہوتے ہیں جو قومیں اہداف مقرر نہیں کرتیں ، ان کا کوئی مستقبل نہیں ہوتا، اہداف مقرر کرنے والی تو فوجی حکومتیں بھی کامیاب ہو جاتی ہیں محض فن وثقافت کے اہداف مقرر کرنے والے اپنے ملک کے ڈیم بنانے کے ہدف ہی مقرر کرلیں، تو بہت بڑی بات ہے۔ تاریخ تجزیہ کرنے والے مورخ اور بے لاگ تبصرہ کرنے والے ، دانشور صحیح حقائق لکھتے وقت اپنی تحریر کو تاریخ کا حصہ بنالیتے ہیں، پچھلے دنوں ہمارے وطن کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ جن کو شاید ان کی مایوس کن کارکردگی کی بنا پر ”عدالت عظمیٰ“ بھی کہا جاتا ہے، چیف جسٹس ثاقب نثار، جن کی اداﺅں، اہداف، اور ملک ریاض جیسے پاکستان کے امیرترین شخص سے بھی بڑھ کر ان کا جذبہ عیش کوش کو دیکھ کر بائیس کروڑ عوام سے بلکہ بیرون ملک سے بھی ڈیم کے نام اربوں روپے ہتھیا کرلے جانے والے پہ صدقے واری ہوتے ہیں انہوں نے کہا تھا، کہ میں ریٹائرمنٹ کے بعد ڈیم کی چوکیداری کروں گا اب منظر نامے ہی سے غائب ہیں، وہ ببانگ دہل یہ اعلان کرتے تھے کہ ان کا تعلق وزیراعظم عمران خان سے ہے، اور وہ ان کے دوست اور کلاس فیلو ہیں، کیا حاضر سروس چیف جسٹس کے گھر کے افراد کسی سیاسی پارٹی کے جیالے رکن اور ممبر بن سکتے ہیں۔ 

 میں یہ عرض کررہا تھا، کہ قلمکار بڑی شخصیات کا غیرجانبداری سے آنکھوں دیکھا حال قلم بند کرکے اپنی تاریخ کا حصہ بنالیتے ہیں، مسلمان ہونے کی حیثیت سے مجھے شاید کسی حوالے کی ضرورت نہیں ہے، حضرت عمرؓ کا بظاہر یہ چھوٹا سا واقعہ ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کس قدر اہم ہے، یہ بھی تو کسی مورخ کے ذریعے ہی ہم تک پہنچا ہے حضرت عمر کے ساتھ اس وقت حضرت ابوعبیدہ بن جراح اسلامی فوج کے کمانڈر بھی تھے، اس وقت انہوں نے یہودیوں سے بیت المقدس کی چابیاں بھی لینی تھیں، یہودیوں کی یہ شرط تھی، کہ وہ چابیاں صرف اسلامی ملک کے سربراہ کو ہی دیں گے یہودی شرطیں لگانے کے اتنے ماہر ہیں، کہ وہ تو اللہ تعالیٰ سے بھی شرط لگاتے رہے ہیں، اسلامی حکومت کے یہ دونوں جرنیل، جن کی دھاک اور جن کا شہر ہ پوری دنیا میں پھیلا ہوا تھا، اور جن کے کردار اور عمل سے ڈرتے ہوئے انسان تو انسان شیطان بھی کانپ جاتے اور راستے سے ہٹ جاتے تھے، لیکن ان کی سادگی کردار کی پختگی ، اللہ پہ توکل اور دنیا کی بے ثباتی اور ناپائیداری پر یقین کا یہ عالم تھا، کہ دونوں حضرات بغیر کسی پروٹوکول پیدل دمشق جارہے تھے۔ 

راستے میں ایک جگہ کیچڑ اور پانی آگیا ، چونکہ پانی والا راستہ بالکل نزدیک تھا، جبکہ دوسرا صاف راستہ، بہت طویل اور مشکل تھا، یہ صورت حال دیکھ کر حضرت عمرؓ نے جوتے اتارے، کپڑوں کو کچھ اونچا کیا، اور کیچڑ میں چل پڑے تو ان کے ساتھ سپہ سالار جرنیل حضرت ابوعبیدہ نے قدرے توقف کے بعد اور کسی قدر التجا والے لہجے میں حضرت عمرؓ سے درخواست کی، کہ دمشق آنے والا ہے، آپ اسلامی حکومت کے سربراہ ہیں، یہودیوں کو ہمیں اپنا یہ حال نہیں دکھانا چاہیے، وہ ہمیں دیکھ کر کیا کہیں گے ، یہ سن کر حضرت عمر اس قدر جوش میں آگئے ، اور جلال کی کیفیت میں سپہ سالار کویہ جواب دیا، کہ اے ابوعبیدہ ، اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ہمیں اسلام کی وجہ سے یہ عزت دی ہے، اور عزت کو ہم نے کسی اور چیز میں تلاش کیا، تو اللہ ہمیں ذلیل ورسوا کردے گا، اور میرا دل کرتا ہے کہ تمہیں ایسی سزا دیتا، کہ نشان عبرت بنادیتا، لیکن تمہیں امین الہیہ کی وجہ سے چھوڑ رہا ہوں ۔

اس واقعے کے بعد مزید کچھ لکھنے کی گنجائش تو باقی نہیں رہتی ،کہ اب ترجیحات کچھ ایسی بدلی ہیں کہ سچائی کی جگہ منافقت نے، راست بازی کی جگہ جھوٹ اور حقیقت پسندی کی جگہ مطمع سازی نے لے لی ہے، کہ اسلامی دنیا کا کوئی بھی حکمران ایسی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ 

ہمارے ملک کا یہ حال ہے کہ غیر ممالک کے دورے پر ہمارے حکمران، اتنی بڑی تعداد میں وفود لے جاتے ہیں، کہ میزبان ملک ان کی میزبانی سے انکار کردیتے ہیں، ہمارے حکمرانوں کے کروفر، رکھ رکھاﺅ، اور انداز نشست وبرخاست کو دیکھ کر کوئی اندازہ ہی نہیں لگاسکتا کہ یہ بائیس کروڑ ”فقیروں“ کے نمائندہ فقیر ہیں، اسی طرح ہمارے ملک کے عوام کی منافقت بھی دیدنی ہوتی ہے، شادی بیاہ کے موقعے پر ان کا اسراف کچھ اس طرح سے غیرمناسب اور ان کی استطاعت واوقات سے بڑھ کر ہوتا ہے، کہ بقیہ زندگی ان کی تنگدستی اور غربت میں گزرتی ہے، مگر دکھاوے کی خاطر ناجائز اخراجات کرکے وہ دوسروں کی راہ میں کانٹے بکھیر جاتے ہیں۔ 

دراصل حکمرانوں کو اختیارات کی نچلی سطح پر تقسیم کی تو فکر ہے، مگر اپنے اعمال وکردار کی پختگی اور تقلید کو بھی نچلی سطح پر دورمشرف کی طرح، مرد کو ماتحت خواتین کی نچلی سطح پر تقسیم نہیں بلکہ اپنے شاندار اخلاق کو مدنظر رکھ کر آخرت کی فکر کرنی چاہیے۔ 


ای پیپر