وزیر اعظم نے پرخچے اڑا دیے
29 ستمبر 2019 2019-09-29

وزیر اعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے بد ذات مودی کے پرخچے اڑا دیے ۔ اس لحاظ سے تاریخی خطاب تھا کہ اس سے پہلے کسی نے بھی بھارتی وزیر اعظم کا نام لے لے کر اس طرح بے نقط نہیں سنائی تھیں، ثابت ہوگیا کہ

کون سی بات کہاں کیسے کہی جاتی ہے

یہ سلیقہ ہو تو ہر بات سنی جاتی ہے

باتیں ساری وہی تھیں جو وہ ہر روز پاکستان میں کہتے رہتے تھے اچھا ہوا بار بار دہرانے سے ’’ریہرسل‘‘ ہوگئی۔ جنرل اسمبلی میں لکھی ہوئی تقریر پڑھنی نہ پڑی۔ بالمشافہ خطاب سے حاضرین محظوظ ہوئے، کتنی تالیاں بجیں، وزیر اعظم کے زور خطابت کا جوہر اقوام متحدہ میں جا کر کھلا جہاں ان سے پہلے بد ذات مودی نے ہندی میں منمناتے ہوئے جانے کیا کہا تھا۔ کشمیر کا ذکر کرنے کی ہمت نہ تھی اس لیے اپنی بھاشا میں بھی ذکر گول کر گیا۔ کیسے کہتا کہ میں فرعون وقت ہوں اور دنیا کو دکھانا چاہتا ہوں کہ 80 لاکھ کشمیری دوا اور غذا کے بغیر کتنے دن زندہ رہ سکتے ہیں۔ مودی آر ایس ایس کا تاحیات رکن، ہندو بلوائیوں کی طرح قتل عام اس کی فطرت، بھوک پیاس سے مرتے دیکھنا عادت، گجرات کے قصاب سے انسانی حرکات و سکنات کی امید فضول، وزیر اعظم نے درست کہا کہ اتنے یہودیوں کو قید کر دیا جائے تو پوری دنیا میں شور برپا ہوجائے گا۔ جانوروں کو اتنے دن تک بھوکا پیاسا قید رکھا جائے تو وہ انتہا پسند بن کر باڑ یا پنجرہ توڑنے کی کوشش کریں گے۔ صیاد سے مانوس پرندے اب نہیں رہے شاید اسی لیے مودی ماحولیات کا رونا روتا رہا۔ اس نے نسل پرستانہ سوچ غرور اور گھمنڈ کو پروان چڑھایا۔ سیکولر بھارت کو بزعم خود نظریاتی اسٹیٹ بنا کر ہندو غنڈوں کو اقلیتوں پر مسلط کردیا۔ مسلمانوں کی نسل کشی ہوگی تو کیا مقبوضہ وادی میں پھول کھلیں گے؟ انتہا پسندی بڑھے گی نا جسے مودی اور اس کے بھائی بند دہشت گردی کا نام دے کر قتل و غارت کا بازار گرم کریں گے۔ کشمیر میں خون بہا تو انتہا پسندی بڑھے گی۔ مودی کو دفع کریں کہ اس نے اپنے خطاب میں کشمیر کا ذکر گول کر کے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں چھوٹے سے علاقہ میں امن و امان کا مسئلہ ہے۔ جو میری حکومت نے 8 ہفتوں سے کرفیو لگا کر حل کردیا ہے۔ ٹرمپ نے کیا کیا؟ اس نے اپنے خطاب میں اشارتاً بھی کشمیر کا ذکر نہ کیا۔ بھولا نہیں ہے۔ سب کچھ جانتا ہے۔ خطاب سے پہلے عمران خان مل چکے تھے۔ کشمیر کے بارے میں ہر طرح سرکھپایا تھا۔ سنگین صورتحال سے آگاہ کیا تھا۔ اس دوران ثالثی ثالثی کی رٹ لگاتا رہا۔ جنرل اسمبلی کے خطاب میں ثالثی کی بات دہرا دیتا تو کیا بگڑ جاتا۔ عمران خان ٹرمپ کو متاثر نہ کرسکے یا وہ مرعوب نہ ہوسکا۔ مقبوضہ کشمیر کو پس پشت ڈال کر ٹرمپ نے مودی ہی کی طرح یہ تاثر دیا کہ وہ اس مسئلہ کو اس سے زیادہ اہمیت نہیں دیتا کہ اگر دونوں ملک راضی ہوجائیں تو وہ ثالثی کرا دے۔ ثالثی کیا ہوگی۔ تو بنائے جا تو ڈھائے جا۔ اگر بنا ہی لیا تو ہمارا کھربوں کا اسلحہ کس کام آئے گا۔ اگر دنیا بھر میں امن قائم ہوگیا تو رات دن اسلحہ اگلنے والی امریکی فیکٹریاں بند ہوجائیں گی۔ کسی نے صحیح تو کہا تھا کہ۔

امن کے نام پہ رہ رہ کر چیخنے والو

کبھی تم ہی نے فضائوں میں زہر گھولا تھا

مودی ٹرمپ ایکا اور گٹھ جوڑ ظاہر ہوگیا۔ ہیوسٹن کے جلسہ میں ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر ملت کفر کی یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔ اسلامی دہشت گردی کیخلاف مل کر جدوجہد کرنے کا عزم کس کے خلاف اعلان جنگ تھا۔ سمجھنے والوں کے لیے بہت کچھ ، جونہ سمجھے وہ اناڑی ہے۔ ٹرمپ سے ملاقات میں ہمیں کیا حاصل ہوا؟ بقول ایک سینئر تجزیہ کار عمران خان کو دو ’’ٹھیکے‘‘ مل گئے۔ ایران کو سمجھائو، طالبان کو پسمائو دونوں ٹھیکے کامیاب ہوگئے تو پاکستان کو کیا ملے گا؟ اس کی کوئی وضاحت نہیں، ممکن ہے ڈوبی ہوئی رقم مل جائے۔ لیکن دنیا کی خاطر اپنی عاقبت خراب کرنے سے فائدہ، ٹرمپ اور مودی دونوں اپنے فائدے کی سوچ رہے ہیں۔ ٹرمپ کو گزشتہ انتخاب میں بھاری سرمایہ داروں نے کروڑوں ڈالر بطور چندہ دیے تھے۔ بھارتیوں کے 14 فیصد ووٹ بھی جھولی مین آن گرے مودی کی بانہوں میں بانہیں ڈال کر 18 فیصد ملنے کی توقع لگائے بیٹھا ہے۔ مودی کو اس بار 46 فیصد ووٹ ملے۔ ہندوتوا اور نظریاتی ہندوستان بنا کر 54 فیصد ووٹ مل جائیں گے۔

دونوں انتہا پسند اپنی جگہ ہمیں کیا حاصل ہوا؟ کشمیر کا مسئلہ اور الجھ گیا، جنرل اسمبلی میں بیٹھے کم و بیش193 ملکوں کے مندوبین کی تالیاں بھی اس مسئلہ کو حل کرنے میں مددگار ثابت نہیں ہوں گی۔ مودی نیچ ذات اس نے مسلم دشمنی کا کھل کر مظاہرہ کیا کہ کسی آرڈیننس یا ایگزیکٹیو آرڈر کی بجائے پارلیمنٹ کی حمایت سے متنازعہ علاقہ کی شق ختم کر کے قصہ پاک کردیا کانگریس کے ارکان نے منمناتی آواز میں صدائے احتجاج ضرور بلند کی لیکن سب کے دل میں لڈو پھوٹتے رہے کہ جو کام پنڈت نہرو، اندرا گاندھی، واجپائی اور دیگر لیڈر نہ کرسکے وہ ’’چائے والے بیرے‘‘ نے کردیا ٹرمپ نے اسی لیے تو مودی کو بھارت کا فادر قرار دیا۔ گاندھی کو باپو کہا جاتا تھا اب وہ دادا کہلائے گا نیا باپو پیدا ہوگیا ہے۔ جذباتی تقریریں ہوچکیں تالیاں، نعرے، احتجاج، جذباتی دعوے، تحریریں، سب بجا مگر جو ہونا تھا ہوگیا۔ کاش یہ سب کچھ نہ ہوتا ہم ابھی تک جذباتی تقریروں اور احتجاجی نعروں سے خون گرمائے ہوئے ہیں۔ زمینی حقائق کا ادراک کر کے حقیقی راستہ تلاش کرنے سے گریزاں ہیں۔ جب المیہ رونما ہونے جا رہا تھا مقبوضہ وادی میں پیشگی اقدامات کیے جا رہے تھے تو شور اٹھا تھا کہ بد ذات کچھ کرنے جا رہا ہے۔ نیچ ذات نیچ حرکت ہی کرے گا ہم اس وقت چپ رہے جب بھارتی پارلیمنٹ میں کشمیریوں کی تقدیر کا فیصلہ ہو رہا تھا ہماری پارلیمنٹ میں چوروں ڈاکوئوں کی پکڑ دھکڑ پر جھاگ اڑاتی تقریریں کی جا رہی تھیں۔ ارکان باہم دست و گریباں تھے۔ اسپیکر نے اجلاس ملتوی کرنے میں عافیت جانی ہم مسئلہ کشمیر پر متحد نہ ہوسکے۔ ایک نکاتی ایجنڈے پر یک زبان ہو کر عالمی برادری کو کوئی پیغام نہ دے سکے۔ اس کے بجائے جیل میں بند لیڈروں کو سی کلاس دینے گھروں سے کھانے پر پابندی، کمروں سے اے سی اتارنے اور ملاقاتوں پر پابندی کے احکامات صادر کرتے رہے۔ جب کشمیریوں کی تقدیر کا یکطرفہ فیصلہ کردیا گیا۔ تو ہم نے آسمان سر پر اٹھا لیا جنرل اسمبلی میں بخیے ادھیڑ دیے ۔ پرخچے اڑا دیے ۔ افسوس عالمی برادری کی کیل تک نہ اکھڑ سکی۔ انسانی حقوق کونسل کے 58 ممالک کی حمایت کا دعویٰ لیکن اجلاس بلانے کے لیے 16 ارکان ہم نوا نہ بن سکے۔ وزیر خارجہ کس برتے پر کامیابیوں کے نقارے بجاتے رہے۔ بیشتر ممالک ہماری پہنچ سے باہر، ٹوگو، برکینا فاسو، سینیگال اور کیمرون جیسے تولے تولے ماشے ماشے جتنے ملکوں کو بھی ہم آواز نہ بنانا ناکامی نہیں تو اور کیا ہے۔ مسلم ممالک قریب نہیں پھٹک رہے ہم گرج رہے ہیں ہم برس رہے ہیں لیکن دل کی کھیتی ہری نہیں ہو پا رہی۔ وقت کا پہیہ الٹا نہ گھوم سکا ،گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں سدا عیش و عشرت دکھاتا نہیں۔ ہم ٹرمپ، بورس جانسن، فرانسیسی اور روسی صدور سب سے ملے امریکی یہودی رہنمائوں کے درشن بھی کرلیے مگر جنت ارضی کے پھولوں سے خون کی بو نہ نکال سکے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ عمران خان ساری تلخیاں بھلا کر نواز شریف اور آصف زرداری سمیت تمام سیاستدانوں کو ایک میز پر اکٹھا کرکے کشمیر کے مسئلے پر متحدہ موقف کا پیغام دیتے لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شدہ، کیا یہ تلخ حقیقت نہیں کہ فلسطین اور کشمیر کے مسلمان گزشتہ 70 سالوں سے یہودیوں اور ہندو سکھوں کے کیمیائی ہتھیاروں اور پیلٹ گنوں کا پتھروں سے مقابلہ کر رہے ہیں۔ لیڈروں نے انہیں ہتھیار نہیں دیے ،کیا کریں یہودی بیویاں کچھ کرنے نہیں دیتیں، مگر یہ کب تک ہوگا؟ زمینی حقائق کا تقاضہ ہے کہ جذباتیت چھوڑ کر مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کوئی ٹھوس حکمت عملی اپنائی جائے چکر بازی چھوڑیں مسئلہ کے حل کے لیے چکر چلائیں اسی میں سب کی عافیت ہے۔ یاد رکھیں کشمیر کے مسئلے کا حل کشمیری ہی نکال سکتے ہیں۔


ای پیپر