بابائے جمہوریت نواب زادہ نصراللہ خان
29 ستمبر 2019 2019-09-29

بابائے جمہوریت نواب زادہ نصراللہ خان جن کی برسی چند روز قبل گزری ہے انکا انتقال اس حالت میں ہوا تھاکہ اُن کے دل کے ساتھ پیس میکر لگا ہوا تھا اور اسلام آباد ہسپتال کے جس کمرے میں وہ زیرِ علاج تھے وہاں ڈاکٹروں کی ہدایت اور اہلِ خانہ کی مرضی کے خلاف اُن کی زندگی کے آخری سیاسی اتحاد کے رسمی اور غیر رسمی اجلاس جاری تھے۔ اُنھیں خان گڑھ میں اُن کے والد گرامی نواب امان اللہ خان کے پہلو میں سپردِ خاک کیا گیا تو میت کے ساتھ پاکستان کی سیاست، جمہوریت ، جمہوری جدوجہد اور سیاسی اتحادوں کی ایک تاریخ بھی تہہ خاک ہو گئی۔ وہ سیاست میں شرافت اور وضعداری کا اعلیٰ نمونہ اور پاکستان میں خلافتِ عثمانیہ کی آخری یادگار تھے۔ اُن کی کالے پھندنے والی سرخ ترکی ٹوپی لاکھوں کے مجمع میں بھی انہیں منفرد اور ممتاز بنا دیتی تھی۔ سلیقے اور اہتمام سے سلی ہوئی اُن کی اچکن برصغیر کی وضعدار اور روایت پسند اشرافیہ کی نشانی تھی۔ جس کے نیچے کلف لگا شلوار کرتا پنجاب کے زمینداروں کی یاد دلاتا تھا۔ سخت گرمی میں وہ جنوبی پنجاب کا مخصوص کنٹھی دار اور پف شولڈر والا سفید کرُتااستعمال کرتے۔ اُن کا مخصوص حقہ گھر اور دفتر کے علاوہ گاڑی اور بہت سی تقریبات میں بھی اُن کے ساتھ ہوتا۔ اجلاسوں کے دوران وہ سگار کا استعمال کرتے۔ پیر پگاڑا اُن کے لیے اعلیٰ قسم کے سلگار لے کر آتے یا بھجواتے تھے۔ نواب زادہ نصراللہ کی ساری زندگی بچپن اور نظربندی کے دنوں کے علاوہ لاہور میں گزری۔ نومبر 1916ء میں وہ پنجاب کے روایتی زمیندار امان اللہ خان کے گھر پیدا ہوئے ،چیف کالج لاہور میں ان کا باغی مزاج انگریزوں کے طور طریقے اپنانے کے بجائے اپنے روایتی اور اسلامی طرزِ زندگی کو اپنانے پر مصر رہا ، اُن کی علمی دلچسپیاں انگریزی زبان و ادب کے بجائے اردو، عربی اور فارسی لٹریچر اور اسلامی تاریخ کی جانب مبذول رہیں۔ اپنی افتاد طبع اور ذہنی رجحان کے باعث شاید یہیں قیام کے دوران وہ عطاء اللہ شاہ بخاری کی شعلہ نوا خطابت سے متاثر ہو کر مجلسِ احرار اسلام میں شامل ہو گئے۔ یوں 1931ء کے قریب وہ انگریز حکومت کے خلاف میدانِ سیاست میں آ گئے جبکہ اُن کے والد یونینسٹ پارٹی میں تھے،، اس دوران وہ مجلسِ احرار کے ترجمان اخبار روزنامہ آزاد کے ایڈیٹر بھی رہے اور ناصر کے تخلص کے ساتھ سیاسی شاعری بھی کرتے رہے۔ اُ ن کے اعلیٰ ذوق اور وسیع مطالعے کے باعث اُن کی سیاسی شاعری میں بھی غزل کا رنگ بہت نمایاں تھا۔ پاکستان بننے کے کچھ عرصہ بعد وہ مسلم لیگ میں شامل ہو گئے لیکن اُن کا باغیانہ سیاسی مزاج مسلم لیگ کے ساتھ نہ چل سکا اور وہ عوامی لیگ میں چلے گئے ۔ یحییٰ دور میں انھوںنے اپنی 8 نکاتی عوامی لیگ، چودھری محمد علی اور مولوی فرید کی نظام اسلام پارٹی، نور الامین کے متحدہ جمہوری محاذ اور ائیرمارشل (ر) اصغر خان کی جسٹس پارٹی کا انضمام کرکے پاکستان جمہوری پارٹی کی بنیاد رکھی۔ جس کے صدر نور الامین اور مغربی پاکستان کے سربراہ وہ خود تھے۔ ا

انتخابات کے بعد جناب نور الامین پہلے متحدہ پاکستان کے نائب صدر اور پھر باقی ماندہ پاکستان کے صدر مقرر ہوئے۔ تو نواب زادہ نصر اللہ پی ڈی پی کے سربراہ بن گئے اور مرتے دم تک اس عہدہ پر کام کرتے رہے۔ نواب زادہ کی موت کے ساتھ پاکستانی سیاست کے ایک دور ہی کا خاتمہ نہیں ہوا بعض اہم اجزائے سیاست بھی فنا ہو گئے۔ خلافتِ عثمانیہ کی یادگار ترکی ٹوپی اُن کے جسدِ خاکی کے ساتھ ہی دفن ہو گئی۔ پنجاب کی روایتی ثقافت کا لازمی جزو حقہ اب گائوں دیہات میں بھی متروک ہوتا جا رہا ہے نواب زادہ نے اسے ساری زندگی اپنے ساتھ رکھا۔

۔ نواب زادہ نہ صرف خود اچھے شاعر تھے بلکہ ہزاروں اشعار اُن کے حافظے میں محفوظ تھے۔ جنہیں وہ موقع محل کی مناسبت سے بہترین انداز میں استعمال کرتے۔ وہ فارسی اشعار کا بھی بے دریغ استعمال کرتے ۔ نواب زادہ نصراللہ خاندانی نواب ہونے کے باوجود کسی ظاہری شو شا کے قائل نہیں تھے۔ نکلسن روڈ لاہور کی جس مختصر سی عمارت میں اُن کی رہائش اور دفتر قائم تھا وہ سادگی کا ایک نمونہ تھی۔ وہاں نہ کوئی حفاظتی گارڈ تھا اور نہ پہرے دار۔ ہر شخص کے لیے نواب زادہ کا دروازہ ہر وقت کھلا رہتا تھا۔ علماء اور دینی جماعتوں کے ساتھ نواب زادہ کے بہت گہرے مراسم تھے۔ چنانچہ ملک میں چلنے والی ہر دینی تحریک میں وہ خود سرگرم رہتے اور سیاسی تحریکوں میں دینی جماعتوں کو باآسانی شریک کرتے رہے۔

نواب زادہ کا جاگیردارانہ پس منظر سیاست میں اُن کیلئے بہت مددگار ثابت ہوا۔ اس طرح کا پس منظر رکھنے والے تمام سیاست دانوں کے ساتھ اُن کے خاندانی اور ذاتی مراسم تھے۔ چنانچہ اِن مختلف الخیال عناصر کو اکٹھا کرنا اُن کے لیے مشکل نہیں تھا اپنی تمام وضع داری اور روایتی شرافت کے باوجود نواب زادہ کے اندر کا جاگیردار ہمیشہ زندہ رہا اور انہوں نے اپنی انا پر کبھی آنچ نہیں آنے دی۔

الغرض نوابزادہ نصر اللہ خان خلافت عثمانیہ کی یاد گار،قدیم روایات کے امین، مقامی ثقافت کے مظہر ، اردو اور فارسی ادب کے شناور، پرتغزل شاعر، روایتی جاگیردار، اور انتھک و جرأت مند سیاستدان تھے۔ ان کی شرافت، وضعداری و دینداری بھی مثالی تھی۔ وہ تعلقات کو نبھانے اور اپنی انا کو قائم رکھنے والے شخص تھے۔ ہر سال موسم گرما میں وہ اپنے باغات کے آم دوستوں، سیاستدانوں، صحافیوں، دانشوروں اور علماء و شعرا کو باقاعدگی سے بھجواتے تھے۔ انہیں متضاد سیاسی جماعتوں کو اکٹھا کرنے میں خصوصی مہارت حاصل تھی۔ وہ نچلے بیٹھنے والے سیاستدان نہیں تھے۔ بلکہ نرم دم گفتگواور گرم دم جستجو رہنے والے پرکشش شخصیت کے حامل انسان تھے۔ پاکستان کا ہر سیاستدان ان سے نیاز مندی کو اعزاز سمجھتا تھا مگر وہ خود کسی کی حیثیت، عہدہ اور اختیار سے مرعوب ہونے والے نہیں تھے۔ چنانچہ ان کا دامن ہر طرح کی آلودگی سے ہمیشہ پاک رہا۔ وہ کبھی اپنی پاک دامنی کا دعویٰ نہیں کرتے تھے لیکن ان کی خاموشی کھلی کتاب کی طرح سب کے سامنے تھی۔ وہ جمہوریت ، شہری آزادیوں اور انسانی حقوق کے لیے بے چین رہنے والے سیاستدان تھے۔ ان کے مخالفین کا کہنا تھا کہ وہ مارشل لاء میں جمہوریت کی بحالی اور جمہوریت میں مارشل لاء لگوانے کے لیے سرگرم رہتے ہیں۔ اس الزام میں کوئی زیادہ صداقت نہیں تھی کہ مارشل لائوں میں جمہوریت کے لیے ان کی جدوجہد کو تو سب تسلیم کرتے ہیں جبکہ جمہوری ادوار میں شخصی آمریتوں کو جس طرح انہوں نے چیلنج کیا وہ خود ان کی صفائی کے لیے کافی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں سیاست و جمہوریت کی کوئی تاریخ ’’حقہ ٹوپی‘‘ والے اس شخص کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی جو منظم مارشل لائوں کے علاوہ شخصی اورجماعتی آمریتوں کے خلاف بھی ہمیشہ ڈٹا رہا اور اس کی منظم اور مسلسل جدوجہد اب تاریخ کا حصہ بن گئی ہے کہ ان کا اپنا شعر ہے۔

کب اشک بہانے سے کٹی ہے شب ہجراں

کیا کوئی بلا صرف د عائوں سے ٹلی ہے


ای پیپر